جاویدغامدی۔۔۔ سلیم صافی کے جرگے میں 


\"\"دیارغیر میں سر کھجانے کی فرصت نہیں ہوتی اس لئے ویک اینڈ پر اکٹھے ہی کچھ ٹاک شوز دیکھ لیا کرتا ہوں- کوشش ہوتی ہے کہ سلیم صافی کا \”جرگہ\” ضرور دیکھوں کہ ان کے اکثر مہمان \”فرشتوں\” کے فرستادہ ہوا کرتے ہیں (چاہے خود کش بمبار کا انٹرویو ہو یا احمد شاہ محسود کے بھائی کا) تاہم اندازہ ہوتا ہے کہ صافی صاحب کے سوالات،\” پلانٹڈ\” نہیں ہوا کرتے- جرگہ میں 16 جنوری کواستاد  جاوید غامدی صاحب کا انٹرویو سنا، جس پر کچھ معروضات پیش کرنا ہیں-

ہمارے ہاں ںیکٹا کا ادارہ بنا- (کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی) جس کے ڈائریکٹر جنرل، میرے ایک محترم ہیں- پچھلے دنوں جب انہوں نے غامدی صاحب کی خدمت میں ایوارڈ پیش کیا، تب سے ہی امید تھی کہ\” فرشتے\” اب غامدی صاحب کی پروجیکشن پہ مامور ہو جائیں گے (شاید وقت کا تقاضا ہے کہ مختلف النوع فکری چہروں کی کھچڑی پروموٹ کرکے ،اب  قوم کی نفسیاتی چولیں بھی ہلائی جائیں)-

واضح رہے کہ غامدی صاحب سے فکری اختلاف کے باوجود، ان کو ایک عالم دین سمجھتا ہوں اور ان کا احترام کرنا ضروری گردانتا ہوں- باقی جرح و نقد تو علمی تقاضا ہے ہی- ( اور غامدی صاحب کا پڑھایا پہلا سبق ہی یہی ہے)-

غامدی صاحب ، جمہوریت کے شیدائی ہیں اور اس لئے میرے ممدوح ہیں- مگر اس انٹرویو میں انہوں نے فرمایا کہ وہ مودودی صاحب سے متاثر ہیں اور آج بھی جماعت اسلامی کے کارکنان سے محبت کرتے ہیں- یا للعجب- مودودی صاحب نے خلافت وملوکیت کتاب لکھی اور وقت کے جلالتہ الملک کے ہاتھوں ایوارڈ موصول کیا- وہ غامدی جیسے جمہوریت پسند آدمی کے کیسے آیڈئیل ہو سکتے ہیں؟ پھر جماعت اسلامی سے محبت؟ کیا غامدی صاحب جیسے علمی آدمی کو اب اپنے مداحین بڑھانے ، سیاسی بیان بازیوں کی ضرورت پڑ گئی؟

خیر، یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا- اصل میں، ان کے ایک خاص جملے پر اپنا موقف پیش کرنا تھا کیونکہ، اس میں فکری مغالطے کا اندیشہ ہے-

\"\"

سلیم صافی نے سوال کیا\” افغانستان میں مسلمانوں پہ امریکہ ظلم کرے یا فلسطین میں اسرائیل- آپ کو کبھی امریکہ ، اسرائیل کو برا کہتے نہیں دیکھا بلکہ الٹا مسلمانوں کی غلطیاں اور قصور نکالتے دیکھا-وجہ کیا ہے؟\”

اس پہ جواب دیا کہ میں قرآن کی روشنی میں چلتا ہوں- بنی اسرائیل پہ جو ظلم ہوئے تو خدا نے بنی اسرائیل کی غلطیاں گنوائی ہیں- ظالموں کا اپنا \” آلہ\” کہا ہے- خدا نے بھی بنی اسرائیل کے قصور بیان کئے اور اس لئے میں بھی مسلمانوں کا قصور بیان کرتا ہوں کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک مسلمان صحیح دین پر ہو اور اس پہ کوئی ظلم کرے- صحیح مسلمان تو اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے- اگر مسلمان پہ ظلم ہو تو اسے اپنے اندر کا جائزہ لینا چاہئے کہ کہیں نہ کہیں کوئی خرابی ہے-

ماشاء اللہ اچھا جواب ہے-

مگر عرض یہ ہے کہ غامدی صاحب پر جو حالات آئے ہیں جن کی بنا پر ملائیشیا جانے پہ مجبور ہوئے ہیں تو کیا خیال ہے ان کو اپنا جائزہ نہیں لینا چاہیئے کہ کہیں ان کے اندر تو کوئ خرابی نہیں؟ کیونکہ اگر وہ صحیح مسلمان ہیں تو ان کے مطابق وہ اللہ کی پناہ میں ہیں- اگر ان پہ کچھ زیادتی ہوتی ہے تو ان کو طالبان کو برا نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ طالبان تو خدا کا \”آلہ \” ہیں- خود غامدی صاحب میں کہیں نہ کہیں کوئ خرابی ہو گی-

جہاں تک خاکسار کا تعلق ہے تو میں اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتا– جیسے پغمبروں پہ فردی ابتلا آئی، ویسے ہی قوموں پہ بھی آیا کرتی ہے- اس کی کئی وجوہات ہوا کرتی ہیں۔ غامدی صاحب کی بات آدھی ٹھیک ہے- یہ کئی میں سے ایک وجہ تو ہوسکتی ہے مگر یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے-

 دوسرے اگر ہر ظالم کو خدا کا\” آلہ\” سمجھ کر کچھ نہ کہا جائے تو میرا خیال ہے غامدی صاحب کے لئے بہتر یہ ہوگا کہ تبلیغی جماعت میں چار ماہ لگا لیں کیونکہ وہاں کب سے یہی یہ تھیوری مبتدین کو پڑھائی جاتی ہے تاکہ ان کے دل کا ابتدائی رخ مڑ جائے- (مگر ان کویہ بھی بتایا جاتا ہے کہ علما  سے تعلق رکھیں ، بس اسی کا ان حضرات کو موقع نہیں ملتا تو یہی ہونا ہے جو ملک میں ہو رہا ہے)-

بہرحال، ہوسکتا ہے کہ غامدی صاحب وقت کی کمی کی وجہ سے اپنا موقف واضح نہ کرپائے ہوں مگر اس فکری مغالطے کی نشاندہی کرنا فرض سمجھتا ہوں-

لگے ہاتھوں، غامدی صاحب کی شخصیت کے بارے میں اپنا تاثر بھی ریکارڈ کروا  دوں-

غامدی صاحب، زیادہ ذہین آدمی نہیں ہیں مگر انکے محنتی ( یعنی ہارڈ ورکر) ہونے میں کوئی کلام نہیں- انہوں نے فقہہ اسلامی اور تاریخ کو بہت تفصیل سے کھنگالا ہے- مولوی صاحبان، ان کی  \”دینی اخترعات\” پہ منقبض رہتے ہیں حالانکہ ان کی 70 فیصد باتیں فقہی لحاظ سے درست ہوتی ہیں ہیں- دراصل، مولوی صاحبان کا اپنا مطالعہ کمزور ہے ورنہ انکو معلوم ہوتا کہ غامدی صاحب، کوئ نئ بات کم ہی پیش کرتے ہیں، وہ دراصل پرانی کتابوں میں قدیم علماء کے وہی تفردات پیش کرتے ہیں جنہیں اس وقت کے جمہور علماء نے زمانے کے  لحاظ سے ریجیکٹ کردیا تھا-

اس بات کو میں ایک مثال سے واضح کروں-

مثلاً تحریک پاکستان کے دنوں میں مسلم لیگی زعماء کی اندرونی میٹنگ میں نئے ملک کی پالیسی بنانے پر بیٹھک ہو-اس میں مثلاً شبیر احمد عثمانی جیسے لوگ اسلامی نظام اور مثلاً سہروردی جیسے سیکولر نظام کی حمایت میں دلائل دیں-عثمانی صاحب کے دلائل سے زیادہ، اس وقت کے معروضی حالات کی بناپر، اکثریت انکی بات مان لیتی ہے،  قررداد مقاصد کے خدوخال بن جاتے ہیں اور یہی مسلم لیگ کا فیصلہ قرار پاتا ہے- کئی عشروں بعد، حالات بدل جاتے ہیں اور سہروردی صاحب کا نقطہ نظر موزوں معلوم ہوتا ہے- اب جاوید غامدی صاحب کی طرح ایک آدمی کتابی کیڑا ہے اور اس کو اس زمانے کی اس اندرونی بحث کا پتہ ہے- آج وہ سہروردی صاحب والے دلائل منظر عام پہ لاتا ہے توعام لوگ  اس کی ذاتی ذہانت سمجھ کر متاثر ہوتے ہیں جبکہ بے خبرے مسلم لیگی، اسے مسلم لیگ دشمنی سمجھتے ہیں-

بالکل ایسے ہی، فقہائے اسلام کی بحثوں میں تفردات موجود ہیں یعنی بعض فقہاء نے  اکثریت کے مخالف رائے دی تھی جو اس وقت کے حالات میں اکثریت نے ریجکٹ کردی تھی-اگر نئے مولوی صاحبان محنت کرکے ان تفردات کو تلاش کریں تو انکو وہی باتیں مل جائیں گی جو غامدی صاحب کہتے رہتے ہیں-

مگر گستاخی معاف، غامدی صاحب کی علمی خیانت یہ ہے کہ وہ ان تفردات کا کریڈٹ خود لیتے ہیں گویا یہ انکی اپنی ذہنی رسائ کا شاخصانہ ہے-انکو صاف کہہ دینا چاہیئے تھا کہ یہ بات فلاں فقیہہ نے فلاں کتاب میں لکھی ہے-جو چند ایک باتیں، غامدی صاحب خود اپنے ذہن سے وضع کرتے ہیں، انکا فورا\” پتہ چل جاتا ہے کیونکہ وہ بہت کمزور اور غیر منطقی ہوا کرتی ہیں-

غامدی صاحب نے مولانا مودودی کی تعریف کی-ان میں اور مولانا مودودی میں ایک بڑا فرق اور بھی ہے- کہتے ہیں پہلوان وہ ہوتا ہے جسکو دیگر پہلوان بھی پہلوان قرار دیں-مولانا مودودی نے جب اپنے افکار پیش کئے تھے تو اس وقت کے جید علماء بھی انکے حلقہ بگوش ہوگئے تھے جیسے مولانا ابوالحسن علی ندوی یا منظور نعمانی وغیرہ- دیکھئے علم ایک قوت تسخیر رکھتا ہے-حتی کہ مرزا غلام احمد صاحب سے بھی کئ  علماء متاثر ہوگئے تھے-

مگر غامدی صاحب کا حال یہ کہ سوائے مدارس کے چند نوجوان علماء کے، کوئ بھاری بھرکم علمی شخصیت انکے ساتھ نہیں-ان کا حال بھی ہمارے ایک ایسے نوآموز سیاستدان جیسا ہے جواپنے گرد لڑکے بالے تو جمع کرلیتا ہے مگر کسی سنجیدہ سیاستدان کو متاثر نہیں کرسکتا-

اس کی کیا وجہ ہے؟ غامدی صاحب کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے- کیاانکی  دلیل کمزور ہے یا خوئے دلنوازی کم ہے؟-جنرل مشرف نے غامدی صاحب کو اسلامی نظریاتی کونسل کا چیرمین بنایا تھا-اگرچہ اس کونسل میں مخلتف الخیال مکاتب فکر کے علماء ہوتے ہیں مگرہوتے سرکاری مولوی ہی ہیں-غامدی صاحب تو انکو بھی اپنا ہمنوا نہیں بنا سکے تو جید معروف علماء کو کیا متاثر کریں گے؟-

ویسے غامدی صاحب خود کو طالب علم کہتے ہیں اور یہ بات سچ ہے-

ہم جیسے لوگ، انکو استاد محترم کہتے ہیں اور یہ بات بھی سچ ہے-

استادوں کے ساتھ کھل کر اختلاف کرنا، خود غامدی صاحب کا پڑھایا سبق ہے اور اسی کو خاکسار نے دہرایا ہے-


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “جاویدغامدی۔۔۔ سلیم صافی کے جرگے میں 

  • 01-02-2017 at 2:03 am
    Permalink

    Very average, the writer failed to gave examples of Mr. Ghamdi’s cheatingI am not a fan or follower of Mr. Ghamdi.

Comments are closed.