نواز شریف کی پنجاب میں سیاسی پوزیشن اور نیا گورنر سندھ


\"\"

کپتان نے جس طرح حکومت کو آگے لگا رکھا ہے اسے دیکھ کر دلی مسرت ہوتی ہے۔ ہمیں اگر نہیں بھی ہوتی تو اس حکومت کے مخالفین متاثرین اور کپتان کے مداحوں کو ضرور ہوتی ہے۔ حکومت عدالت میں نڈھال پڑی دکھائی دیتی ہے۔ کپتان ہر ہفتے جلسے کر کے اس ٹھنڈے موسم میں حکومت پر ایک ڈرم ٹھنڈا پانی مزید ڈالتا رہتا ہے۔ ایک بات صاف دکھائی دے رہی ہے کہ پنجاب میں کپتان اب مسلم لیگ نون کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔

اگر چیلنج والی بات درست ہے تو ہو نہیں سکتا کہ نوازشریف کو یہ معلوم نہ ہو۔ انہیں بہت ٹھیک معلوم ہو گا کہ پنجاب میں اب ان کی سیاسی طاقت اب اصل میں کتنی ہے۔ فرض کر لیتے ہیں کہ مسلم لیگ نون پنجاب سے کمزور ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اگلے الیکشن میں یہاں سے قومی اسمبلی کی سیٹیں بڑی تعداد میں ہارے گی۔ جب ہارے گی اور حکومت بھی بنانی ہے تو یہ گھاٹا کہیں سے تو پورا کرنا ہے۔

یہ گھاٹا دو ہی جگہ سے پورا ہو سکتا ہے۔ ایک کے پی سے جہاں مسلم لیگ نون دو دھڑے امیر مقام اور پیر صابر شاہ کی قیادت میں گتھم گتھا ہیں۔ دوسری جگہ جہاں سے جیت کر مسلم لیگ نون اپنا متوقع نقصان پورا کر سکتی ہے وہ سندھ ہے۔ سندھ میں مسلم لیگ نون کیا چاہتی ہے؟ وہاں اس کے آئندہ سیاسی عزائم کیا ہیں۔ سرگرم ہونا بھی چاہتی ہے یا نہیں۔ اگر پنجاب سے ہار رہی ہے تو ضرور سرگرم ہو گی کہ یہ پھر اس کی سیاسی مجبوری ہو گی۔

ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ سندھ کا گورنر کون بنتا ہے۔

سیاسی فیصلے کرتے ہوئے جب عہدہ دیا جاتا ہے تو میرٹ بس ایک ہی ہوتا ہے کہ ضرورت کیا ہے اور اس کا زور کتنا ہے جس کو لایا جا رہا۔ زور دکھا کر عہدہ سعید الزماں صدیقی صاحب نے لیا۔ مرحوم نے حکومت کو اتنا عاجز کر دیا تھا کہ انہیں ان کی زندگی کے آخری لمحات میں گورنر بنانا پڑا۔ کہانی پھر کبھی۔

نوازشریف کا یہ ریکارڈ ہے کہ انہوں نے جب بھی گورنر سندھ لگایا وہ کراچی کا تھا اردو بولنے والا تھا۔ اس گورنر کا تعلق زیادہ تر کاروباری طبقے سے تھا۔ کاروباری طبقے کے حوالے سے بھی ایک بات نوٹ کرنے والی ہے۔ کراچی میں نوازشریف اپنی حمایت تاجروں کی بجائے صنعت کاروں میں ڈھونڈتے ہیں۔ صدر البتہ انہوں نے تاجر طبقے سے تعلق رکھنے والے کو بنا رکھا ہے۔

کاروباری حلقوں میں اس وقت متحدہ کا گروپ پس منظر میں جا چکا ہے۔ پی پی جن کاروباری شخصیات کا پر انحصار کرتی تھی وہ سب غیر متعلق ہو چکے ہیں۔ اگر یہ لوگ غیر متعلق نہ بھی ہوتے تو پی پی کے اس کاروباری طبقے کی ساکھ لیاری کی پیپلز امن کمیٹی نے ہی تباہ کر دی تھی۔ پیپلز امن کمیٹی کے نام سے جانے والی بھتے کی ہر پرچی پیپلز پارٹی سے کاروباری لوگوں کے دلوں میں بس پیار ہی جگاتی تھی۔

کراچی میں مسلم لیگ نون کے جو سینکڑوں ووٹر ہیں ان سب کو براہراست مشاہد اللہ خان ہی جانتے ہیں۔ مشاہد اللہ خان مسلم لیگ نون میں کراچی کی حد تک جان ڈالنے کے لئے ایک بہترین شخصیت ہیں۔ ان کا بس ایک منفی پوائنٹ ہے یہ منفی پوائنٹ ہرگز اداروں کی منفی لسٹ میں شامل ہونا نہیں ہے۔ یہ بات کافی حد تک غلط ہے کہ سیکیورٹی کلئرنس نہ ہونے کی وجہ سے مشاہد اللہ کو گورنر نہیں بنایا جا رہا۔ دراصل مشاہد اللہ کا بیک گراؤنڈ ایک یونین لیڈر کا ہے۔ اس بیک گراؤنڈ کے ساتھ وہ مسلم لیگ نون کے صنعت کار دوستوں کے لئے ایک بہت نقصان دہ فرینڈلی فائر ہیں۔

صنعت کاروں کی تمام تنظیموں میں کراچی کا ایس ایم منیر گروپ چھایا ہوا ہے۔ منیر صاحب کو نوازشریف کئی بار اپنا بھائی قرار دے چکے ہیں۔ مفتاح اسماعیل اور محمد زبیر دونوں ہی اس گروپ کی پسندیدہ شخصیات ہیں۔ ان دونوں کو کراچی کے صنعت کار اپنا بندہ سمجھتے ہیں۔ محمد زبیر کو مفتاح اسماعیل پر ایک برتری حاصل ہے۔ محمد زبیر مریم نواز کی گڈ بکس میں شامل ہیں۔ وہ ان کی میڈیا ٹیم کا حصہ ہیں اور ٹی وی پر اپنی پارٹی بھرپور دفاع کرتے ہیں۔

محمد زبیر اکثر اپنے چھوٹے بھائی اسد عمر کے ساتھ بھی ٹی وی پروگراموں میں ٹکراتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسد عمر پی ٹی آئی کے اہم راہنما ہیں۔ دونوں بھائیوں کا تعلق کارپوریٹ سیکٹر سے ہے۔ محمد زبیر کی نامزدگی میں بہت سے سیاسی پیغام ہیں۔ ایک تو کراچی کی صنعت کار برادری کا اپنا بندہ گورنر ہاؤس میں آ جائے گا۔ محمد زبیر اتنے با اثر ہیں کہ وہ صنعت کاروں کے رکے ہوئے کام وفاقی حکومت سے کروا سکیں۔

محمد زبیر کی نامزدگی کا وفاقی حکومت کو ایک فائدہ اور بھی ہو گا۔ کراچی کے صنعت کار اپنے ہر مسئلے کے حل کے لئے ڈی جی رینجرز کی جانب دیکھنے لگ گئے تھے۔ اب ان کا رخ حکومت اپنی جانب واپس موڑنے کی کوشش کرے گی۔ تیسرا فائدہ محمد زبیر کی نامزدگی کا یہ ہو گا کہ وہ پی ٹی آئی کی جانب مائل کراچی کی کاروباری شخصیات کو کپتان سے ہٹا کر مسلم لیگ نون کی جانب متوجہ کریں گے۔

اس تقرری سے ہرگز یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ مسلم لیگ نون کو کراچی میں الیکشن جیتنا ہے۔ کسی طرح بھی نئے گورنر کراچی میں کسی سیاسی کام کے لئے کار آمد نہیں ہیں۔ وہ جس کام کے لئے لائے گئے ہیں وہ البتہ فیصلہ کن ہے۔ کراچی کے صنعت کار ہی وہ لوگ ہیں جو مسلم لیگ نون پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ اور ان کے موڈ بحال رکھنے کے لئے محمد زبیر بہت کارآمد ثابت ہوں گے۔

الیکشن سرمایہ مانگتا ہے۔ کراچی سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ یہ سرمایہ مسلم لیگ نون کو تو صرف الیکشن کے لئے ہی درکار ہے۔ کپتان کو سرمایہ اپنے فلاحی کاموں کے لئے بھی چاہیے ہوتا ہے۔ نئے گورنر کی اس نامزدگی سے کپتان کو سرمائے کی فراہمی میں کتنی کمی آتی ہے، بس یہی دیکھنے والی بات ہے۔ پر آپس کی بات ہے اس کا پتہ ہمیں کیسے لگنا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ آپ کو کبھی پختون لگوں گا تو کبھی پنجابی۔ کہانیاں بس ایسی ہی ہیں کہ سمجھ آئیں یا نہ آئیں مگر شاید پسند ضرور آ جائیں۔

wisi has 236 posts and counting.See all posts by wisi