بوسے کو پوچھتا ہوں میں….


Tasneefمیرا ایک دوست ہے، بہت پیارا ، دفتر میں ہم ساتھ کام کرتے ہیں، اس نے ایک روز مجھے بتایا کہ ایک دفعہ وہ دہلی میٹرو میں سفر کررہا تھا تو ایک لڑکا اور لڑکی ہونٹوں میں ہونٹ ڈالے، بدن سے بدن لگائے اپنی ہی کسی دنیا میں مگن تھے۔ لڑکے کا ہاتھ چونکہ لڑکی کی کمر پر سختی سے جما ہوا تھا، اس لیے لڑکی کی ٹی شرٹ تھوڑی اٹھ گئی تھی، اور اس کی گوری چٹی پیٹھ نمایاں ہورہی تھی، ایسے میں میٹرو میں سفر کرنے والے شریف خاندانوں کے لوگ بغلیں جھانکنے لگے، منہ چھپانے لگے، بچوں کا دھیان بٹانے لگے، اسے یہ سب اچھا محسوس نہیں ہوا اور اس نے ان دونوں کو یوں سر عام بوسہ دینے پر ٹوک دیا۔ اس کے کمنٹ کرنے کی دیر تھی کہ وہ دونوں اگلے میٹرو اسٹیشن پر اتر گئے، وہ بحث بھی کیسے کرتے کہ ہمارے دوست کے اچھے خاصے حامی پہلے ہی اس ڈبے میں موجود تھے۔ بس دیر تھی تو کسی کے آغاز کرنے کی، یہ اسی طرح کی قوم ہے، جسے اللہ اکبر کہنے کے لیے پہلے کسی کے نعرہ تکبیر کہنے کا انتظار ضرور رہتا ہے۔

میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ بھئی، یہ بات سمجھ میں نہیں آئی، وہ دونوں ٹکٹ لے کر سفر کررہے تھے۔ لڑکا لڑکی کے ساتھ زبردستی نہیں کررہا تھا، وہ ایک دوسرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ لیکن پھر باہر کے سارے منظر میں موجود لوگ اپنا کام کاج چھوڑ کر ان میں کیوں ڈوب گئے۔ اگر وہ برے تھے، تو کیا برائی میں اتنی طاقت ہے کہ وہ انسان کی ساری توجہ کھینچ لے، پھر برائی تو تب ہو، جب کوئی نیت باندھ کر لوگوں کو لڑنے جھگڑنے، گالی گلوچ کرنے، پتھر مارنے، برا بھلا کہنے کی ترغیب دے رہا ہو، وہ دونوں تو آپسی رضامندی سے ایک دوسرے کو چوم رہے تھے، انہوں نے نہ کسی دوسرے کو ستایا نہ وہ کسی کی ذاتی زندگی میں دخیل ہوئے، پھر وہ برے کس طرح ہوگئے اور آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ آپ ان کی ذاتی زندگی میں گھس جائیں، ان دو بہتے ہوئے خوبصورت دریاﺅں کے ملن کو یوں روکنے کا کام آپ نے اپنے سر کیوں لیا۔

ان کا جواز تھا کہ شریف خاندان کے لوگ شرما رہے تھے، اور یہ سب اچھا نہیں معلوم ہوتا، میں نے عرض کیا کہ اچھا معلوم ہونا یا نہ ہونا انسان کی اپنی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یوں تو جب راتوں رات میرے کسی دوست کی ترقی ہوجاتی ہے تو اچانک میرے لیے اپنی پسندیدہ اور سکون کی لگی لگائی نوکری بھی یکدم غیر پسندیدہ ہوسکتی ہے۔ پھر ہمیں جو اچھا نہیں لگ رہا ہے، وہ تو ہمارے لیے برا ہوا نا، پھر ہم اپنے برے پن کو ختم کرکے اسے اچھا بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے اور جہاں تک رہا شریف خاندان کے مرد اور عورتوں کا سوال ، تو انہیں اس منظر پر اول تو اتنی توجہ نہیں دینی چاہیے اور یہ نہایت معمولی سا جنسی رویہ اگر ان کی سانسیں پھلادیتا ہے، سینے سخت کردیتا ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ بھی یہ عمل کرتے ہیں، اور کسی سے عشق کا مظاہرہ کرنا غلط اور غیر سماجی رویہ کہاں سے بن جائے گا۔ جبکہ ہم کبھی بھی سماج دشمن چیز کو روکنے کی زیادہ کوشش نہیں کرتے، مجھے بتائیے، بہتی ہوئی نالیوں کے پاس سے گزرتے ہوئے ہم ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں، مگر کیا کبھی خود کھڑے ہوکر انہیں صاف کرنے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں؟، کچرے کے ڈھیر کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہے، پڑوس میں لڑائی ہورہی ہو تو گالیوں کے شور کو روزانہ کی پھیکی زندگی میں پڑجانے والے نمک کی طرح کون ذائقہ لے لے کر سنتا ہے۔ اسی طرح اچانک پکڑے جانے والے چور پر ہاتھ صاف کرنے کی دھن، کسی غریب کے ایک وقت کے کھانے کے سوال کو محض پانچ روپے کے نوٹ کی کھنک سے خاموش کرانے کے ہمارے رویے کیا ایک بہتر سماج بنارہے ہیں۔ بڑی عجیب سی بات ہے، جو بات غیر سماجی ہونی چاہیے ، وہ سماجی ہے، جو سماجی ہونی چاہیے وہ غیر سماجی ہے۔ عقل ہم نے بیچ کھائی اور مذہبی اور تہذیبی تعلیمات کا بازار گرم کر لیا۔ اچھا دو لوگ سر عام ایک دوسرے کو چوم رہے ہیں، آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگتی، ہوسکتاہے اس کا آپ پر برا نفسیاتی اثر ہو، اس کا علاج یہ ہے کہ آپ وہاں مت دیکھیے۔ میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ سڑک پر پیشاب کرنے والوں کو کوئی شخص جا کر جھنجھوڑے یا ان سے لڑائی کرے کہ بھیا! دیوار کیوں گندی کررہے ہو، یہ تمہارا شہر ہے، موتنے کی جگہ نہیں ہے۔ لیکن اگر دو لوگ کسی کا کچھ بگاڑے بغیر ایک دوسرے کو چومنے لگ جائیں تو اچانک سے یہ سماجی مسئلہ بن جاتا ہے۔

آپ کو کیا ڈر ہے، یہی نا کہ آپ کے بچے غیر تہذیب یافتہ ہوجائیں گے۔ کون سی تہذیب سکھاتے ہیں آپ اپنے بچوں کو؟ اٹھارہ سال کے بعد یا اب تو اس سے بہت چھوٹی عمر میں بچے نہ صرف بوسے سے آشنا ہوجاتے ہیں بلکہ انٹرنیٹ کی مہربانی نے اس کے مختلف طریق کار سے بھی بچوں کو کئیوں کا باپ بنادیا ہے، تو ایسے میں جب آپ اس سچ سے نہیں بھاگ سکتے کہ بوسہ آپ کے بیڈروم، آپ کے باتھ روم تک میں گھس آیا ہے تو اسے بھگانے، مارنے یا پبلک پلیس میں اس کا نظارہ کرتے ہوئے اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اسے آپ اپنی تہذیب میں شامل کیوں نہیں کرلیتے، اپنی تہذیب کا حصہ کیوں نہیں بنا لیتے، کیونکہ تہذیب میں شامل ہوتے ہی کوئی بات بری نہیں رہتی، یقین جانیے، بڑوں کے سامنے ادب سے پیش آنا، ان کی غلط باتوں پر سر تسلیم خم کرنا، ان کی جھوٹی تعریف کرنا، گالیاں کھاکر ہنستے رہنا یہ سب جدید گھریلو سرمایہ دارانہ تہذیب کی دین ہے، آپ نے ان سب کو اپنا لیا ہے تو بوسے نے کیا قصور کیا ہے، آپ کی اولاد کل کو سڑک پر کھڑے ہوکر کسی کو چومے گی یہ بات زیادہ مناسب ہے یا پھر وہ آپ ہی کی طرح جدید ذہنی رویوں کی راہ میں رکاوٹ بن جائے، یہ بات ؟

اب جب آپ تہذیب کے حوالے سے اس مسئلے کو پوری طرح سلجھا نہیں پاتے، تو بھاگ کر مذہب کی راہ لیتے ہیں۔ یعنی مذہب نے فلاں چیز کا حکم دیا ہے، فلاں چیز کا نہیں۔ اول تو اسی بات پر غور کیجئے کہ انسانی ذہن اب بلوغت کی کن منزلوں پر ہے۔ انسان اب اس قابل ہوگیا ہے کہ اپنی زندگی کو اپنے اعتبار سے خوبصورت یا بد صورت بنا سکتا ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا بڑا واقعہ ہے کہ رہنما کی ضرورت ایک حد تک ہے، منزل تک پہنچنے کے لیے آپ کو اپنے شعور سے کام لینا ہوگا۔ دنیا میں جس چیز کے شاید سب سے زیادہ منفی اثرات ہوسکتے ہیں، وہ آپ کی شدت پسندی ہے۔ وہ شدت پسندی ، جو کہ آپ کو اس غیر منطقی مذہبی فکر نے عطا کی ہے، جس کے آگے آپ کچھ سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں رہ گئے۔ اور جن ہاتھوں میں پھول ہونے چاہیے تھے، وہاں آپ نے بندوقیں پکڑوا دیں۔ بوسہ انسانی زندگی کی سب سے بہتر دریافت ہے، جنسیات کے ماہرین تو اب اس بات پر حیران ہیں کہ آخر دنیا کی تمام مخلوقات میں انسان نے بوسے کی حیرت انگیز لذت کو کس طرح دریافت کیا ہوگا، اسے کیسے معلوم ہوا ہوگا کہ کسی کے لعاب دہن کو لذت کشید کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بنایا جاسکتا ہے، نفسیاتی اعتبار سے بوسہ اس لیے بھی ضروری تسلیم کر لیا گیا ہے کہ اسی میں اپنے ساتھی کی وفا اور بے وفائی والی سرشت کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ بوسے پر کسی بھی قسم کا قدغن دراصل اپنی ذہنی شدت پسندی کو ہوا دینے اور انسان کو زبردستی زندگی کی مزید اعلیٰ دریافتوں سے محروم کردینے کے مترادف ہے۔ ہم سماج کی گندگی پر بات کریں، ان لوگوں کی گندگی پر، جن سے خون، کیچڑ، لعنت، ذات پرستی اور بیہودگیاں پھیلتی ہیں، بوسہ بے حیائی نہیں ہے، کسی سے اپنے عشق کا اظہار بے حیائی نہیں ہوسکتا اور جو معاشرہ اسے بے حیائی سمجھتا ہے وہ ابھی تک محبت کے عظیم طرز اظہار سے واقف ہی نہیں، تو سوچیے ترقی یافتہ اقوام عالم کی نسبت اس کی عمر کتنی کم اور قد کتنا چھوٹا ہوگا؟


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “بوسے کو پوچھتا ہوں میں….

  • 11-02-2016 at 9:58 pm
    Permalink

    ایسا کمزور استدلال ہے کہ اسے نظرانداز کرنا ہی مناسب ہے۔ ویسے مجھے حیرت ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں تشکیک پسند بلکہ صاف لفظوں میں مذہب بیزار اور خدا بیزار لوگ یہاں کیسے جمع ہوگئے ہیں۔ ان کی تحریر یہاں شائع ہوسکتی ہے ، اس لئے یا پھر اس لئے کہ یہ سوچ بہت زیادہ پھیل چکی ہے؟ مجھے تو پہلی بار زیادہ قرین قیاس لگتی ہے۔

  • 12-02-2016 at 2:17 pm
    Permalink

    سر آپ اپنی تحریر ارسال کریں اور اس تحریر کا رد لکھ ڈالیں۔ ہم سب پر تو سب ہی شائع ہوتے ہیں، خواہ ان کا موقف کچھ بھی ہو۔ یہاں جماعتی بھائی بھی ہیں، اور جمعیت علمائے اسلام کے لوگ بھی۔ ابھی پچھلے دنوں وسی بابا کے مضمون پر سپاہ صحابہ کے ہمدروں کا جواب بھی شائع کیا گیا تھا۔

    اب اگر رائٹ کے لوگ سست پڑے ہوئے ہیں، اور زیادہ تحریریں لیفٹ کی طرف سے آ رہی ہیں، تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم تو مکالمے کے قائل ہیں۔ تصنیف حیدر صاحب نے اپنا مضمون لکھا، اس کے خلاف اگر مہذب زبان میں لکھا گیا مضمون آیا، تو وہ بھی شائع کیا جائے گا۔

    اب رائٹ کی سستی، کوتاہی اور کم ہمتی کا الزام ہمیں تو نہ دیں۔ یا پھر ممکن ہے کہ رائٹ والے ویسے ہی ہمیں تحریر بھیجنا مناسب نہ جانتے ہوں، اور انکشاف وغیرہ جیسی موقر ویب سائٹوں پر ہی جاتے ہوں۔

    اب یہ تو قسمت کی بات ہے کہ کون سی ویب سائٹ عوام میں مقبول ہوتی ہے۔ ہماری دعائیں تو فاروقی صاحب کے ساتھ ہیں۔ ان کا نصیب ان کے ساتھ، ہم سب کا ہمارے ساتھ۔

Comments are closed.