چند عناصر حساس معاملات پر قیاس آرائیاں کرکے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ترجمان پاک فوج


\"\"

راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان دی، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر کارروائی کی ہے، فاٹا میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے، زیادہ تر دہشت گرد مارے گئے ہیں یا افغانستان میں روپوش ہوگئے، ٹی ٹی پی کی قیادت بھی افغانستان میں ہے، دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ہم امن و امان کے بہتر ماحول میں سانس لے رہے ہیں، امن کی فضا وقت کے ساتھ بہتر ہورہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں میں تمام اداروں کا حصہ ہے۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے 84 فیصد شہری اپنے علاقوں میں واپس جاچکے ہیں، کومبنگ آپریشنز جاری رہیں گے تاکہ بچے کچے دہشت گردوں کا بھی صفایا کیا جاسکے۔

افغانستان کی صورتحال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش ہے اور ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں جلد امن قائم ہو تاکہ افغان مہاجرین واپس جاسکیں۔ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، پاک افغان سرحد پر ایف سی کے مزید 29 ونگز بنائے گئے ہیں ، ہمیں اپنی طرف کا کام کرنا ہے اور افغانستان کو اپنی طرف کا کام کرنا ہے، افغانستان کی طرف سے بارڈر مینجمنٹ کمزور ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے، ہم بھارت سے تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل چاہتے ہیں، جنگ مسائل کا حل نہیں، ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے لیکن جنگ نہ کرنے کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ کلبھوشن یادیو سے متعلق حکومت پاکستان نے بھارت سے رابطہ کیا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ قومی مفاد ہرچیز پرمقدم ہے، قومی یکجہتی میں ہی سب کی بھلائی ہے، پاکستان ہم سب کا ہے، پاکستان کا ہر شہری اپنے اپنے مورچے کا سپاہی ہے، ہم قوم کو متحد کرنےاور دہشت گردوں کا بیانیہ رد کرنے میں میڈیا کا کردار سراہتے ہیں لیکن کچھ لوگ حساس معاملات میں قیاس آرائیاں کرکے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ڈان لیکس کے معاملے پرانکوائری ہورہی ہے۔ تحقیقات جلد مکمل ہوجائے گی ، اس وقت تک کوئی قیاس آرائی نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلاگرز کی گمشدگی سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں۔

کراچی میں جاری آپریشن سے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں سے کراچی میں رینجرز نے 9 ہزار آپریشن کئے ہیں، ان آپریشن میں پولیس اور دیگر اداروں کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں کمی آئی ہے تاہم اسٹریٹ کرائم جاری ہیں، اس سلسلے میں شہریوں کے تعاون سے کام جاری رکھیں گے۔

حافظ سعید کی نظر بندی پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آزاد اور خود مختار ریاستیں ہر فیصلہ اپنے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے لیتی ہیں، حافظ سعید کی نظر بندی کا فیصلہ پالیسی فیصلہ ہے جو ریاستی اداروں نے مل کر کیا ہے، اس میں مختلف اداروں کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہے، ان کی نظر بندی سے متعلق آئندہ ایک دو روز میں وضاحت ہوجائے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔