عمران خان ایک مانا ہوا عظیم کرکٹر تھا


\"\"

(ظہیر تاج)

اکثر اوقات ہم تعصب میں یا جانبداری میں کسی بھی شخص کی وہ خوبیاں بھی بیان کرنے سے گریز کر جاتے ہیں جو اظہر من الشمس ہوتی ہیں۔ میں ظفر اللہ خان کے کل کے اس کالم کا ذکر کر رہا ہوں جس میں انہوں نے عمران خان کو ایک اوسط درجے کا کرکٹر بیان کیا ہے۔

پہلے میں بیان کروں گا کہ دنیائے کرکٹ عمران کے بارے میں کیا کہتی ہے پھر اعداد و شمار کی بات ہو گی۔

کرکٹ کی سب سے مشہور ویب سائیٹ cricinfo. com عمران کو کرکٹ آل راؤنڈرز کپل دیو، سر ریچرڈ ہیڈلی اور آئن بوتھم سے اوپر رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ویوین رچرڈ، مائکل ہولڈنگ، ایلن بارڈر، ریچرڈ ہیڈلی، گواسکر، ٹنڈولکر، وسیم اکرم جو سب کرکٹ کےبڑے نام ہیں عمران کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہترین کپتان مانتے ہیں۔ مائکل ہولڈنگ کے مطابق پاکستان میں انفرادی طور پر کھلاڑی بہت آئے لیکن ٹیم کے اندر جیت کا یقین اور جیت حاصل کرنا عمران کی دین ہے۔ یہی بات وسیم اکرم بھی کرتے ہیں کہ ٹیم کو جیت کے ٹریک پر ڈالنا عمران کا کارنامہ ہے۔ عمران خان آئی سی سی ہال آف فیم کے 84 کھلاڑیوں میں شامل ہیں، کوئی بھی اوسط درجے کا کھلاڑی اس لسٹ میں شامل نہیں ہوسکتا۔ اگر ظفر اللہ خان کی پہنچ آئی سی سی میں ہے تو ان کو نام اس لسٹ میں سے نکلوا دیں۔

اب ہم ظفر اللہ خان کے عجیب و غریب اعداد و شمار کی بات کرتے ہیں ۔ ان کا اعداد وشمار مرتب کرنے کا پیمانہ عجیب و غریب ہے کہ عمران میں آف دی میچ میں پہلے پچاس کھلاڑیوں میں شامل نہیں تھا، وہ تیز ترین سو وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل نہیں تھے، وہ یہ نہیں تھے وہ نہیں تھے۔

\"\"

ان کا دیا ہوا ایک موازنہ کہ ٹنڈولکر سب سے ذیادہ 62 میچوں میں میں آف دی میچ رہا جبکہ عمران پچاسویں نمبر پر بھی نہیں، ٹنڈولکر 463 میچ کھیلا ہے جو کرکٹ کی تاریخ میں سب سے ذیادہ ہیں جبکہ عمران 175 ون ڈے میچ کھیلا ہے۔ اب اس سے ذیادہ غیرمنطقی موازنہ کیا ہو سکتا ہے۔

عمران خان کو بالنگ آل راؤنڈر کی کیٹگری میں شامل کیا جاتا ہے یعنی ایک ایسا بالر جو بیٹنگ کر سکتا ہے۔ عمران کی ٹیسٹ میں بالنگ ایوریج 22.81 ہے اور بیٹنگ 37.69 ہے۔ اگر آپ دنیا کے بہترین بالرز کا جائزہ لیں جس بالر کی ایوریج 25 سے نیچے ہے اس کو بہترین سمجھا جائے گا۔ ریچرڈ ہیڈلی، ایمروز، وقار یونس، مائکل ہولڈنگ ، ڈینس للی سب کے بالنگ اوسط 22 سے 23 رنز کے اردگرد ہیں۔ یعنی عمران خان کسی بھی طرح ان سے کم نہیں بلکہ ان کے ہم پلہ ہی ہے۔

عمران خان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے بہترین آل راؤنڈر ہے، صرف سر ریچرڈ ہیڈلی کی بالنگ اوسط ان سے اعشاریہ اکسٹھ ذیادہ ہے جبکہ باقی سب ہیڈلی، بوتھم، کپل دیو کی بیٹنگ اوسط عمران خان سے کم ہے۔

1980 سے 1988 تک عمران خان کی وکٹیں سب سے ذیادہ 236 ہیں اس لسٹ میں ہیڈلی، مارشل، للی، مائکل ہولڈنگ سب ان سے پیچھے ہیں۔ عمراں خان اپنے کیرئیر کی عروج پر کندھے کی تکلیف میں مبتلا ہوئے اور بالنگ کمزور ہونے کے بعد اپنی بیٹنگ پر زور دیا اس میں مزید نکھار آگیا۔ 1987 سے 1992 کے درمیان میں صرف مارٹن کرو کی بیٹنگ اوسط عمران خان سے ذیادہ تھی ۔ مارٹن کرو کی اوسط 60.72 اور عمران کی اوسط 59.69۔ کپتان کے طور پر عمران خان پہلے پاکستانی کپتان تھے جنہوں نے انگلینڈ کو انگلینڈ اور ہندوستان کو ہندوستان میں ہرایا ۔ وہ اپنے دور کے شاید وہ واحد کپتان ہیں جنہوں نے ویسٹ انڈیز کے ساتھ تین سیریز برابر کیں۔ یاد رہے ویسٹ انڈیز کی وہ ٹیم ناقابل شکست تصور کی جاتی تھی۔

پھر جناب آئی سی سی ہال آف فیم میں پر بھی سوال اٹھائے، جی ہاں شروعات میں آئی سی سی ہال آف فیم میں بہت سے نکھٹو فرنگی شامل کیے گئے لیکن بعد میں ان کا معیار کڑا ہو گیا۔ پاکستان سے عمران کے علاوہ جاوید میانداد، وسیم اکرم، حنیف محمد، وقار یونس اس میں شامل ہیں، کیا ان ناموں کے بعد کسی کو شک ہے کہ عمران ان کے مامے کے پتر ہیں اس لیے ان کو آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کر لیا ۔

جناب ظفر اللہ خان فرماتے ہیں کہ چونکہ آئی سی سی امبنگوا جیسے کمنٹیر سے بھی کمنٹری کرواتی ہے اس لیے عمران کی عزت کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، جناب جب امبنگوا گراؤنڈ میں بیٹھا ہوتا ہے تو اس کے کو کوئی گریٹ امبنگوا نہیں کہتا ہے۔ جبکہ عمران لارڈز میں تماشیوں میں بیٹھا ہوتا ہے تو فرنگی کرکٹر اس کو گریٹ عمران کہتے ہیں کیونکہ فرنگی کس سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔

ورلڈ کپ 1992 کرکٹ سے میری پہلی شناسائی تھی، رمضان المبارک میں ایک ایک میچ سحری کے وقت اٹھ کر دیکھا۔ آپ کی بات درست ہے کہ پاکستان کی ٹیم لولی لنگڑی تھی اور ساڑھے تین بالرز کے ساتھ ورلڈکپ میں اتری تھی لیکن میں یہ یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر اس ٹیم کا کپتان عمران نہ ہوتا تو ٹیم جیت نہیں سکتی تھی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم جو اس ورلڈ کپ میں ناقابل شکست تھی، ان کو لیگ میچ میں پاکستان نے 150 پر ڈھیر کر دیا، وسیم اکرم کے بقول عمران نے ان کو کہا کہ بس ان کو آؤٹ کرو ہر صورت، چاہے نو بال کرو، وائڈ مارو بس جان مارو۔ اس میچ میں گریٹ بیچ اور مارٹن کرو سب ڈھیر ہو گئے۔ پھر فائنل میں خود اوپر کے نمبر پر آکے عمران نے بہترین اننگز کھیلی اور جیت کے لئے پلیٹ فارم سیٹ کر دیا۔

عمران خان میں کوئی تو ایسی بات ہو گی کہ صدر پاکستان ان سے درخواست کرتا ہے کہ آپ اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے لیں۔ آپ سیاسی اختلافات رکھیں لیکن یہ نہ بھولیں عمران نے اپنے ملک کے لئے عزت کمائی ہے اور وہ عزت آپ اس سے چھین نہیں سکتے۔

عمران خان۔ کہاں کے عظیم کرکٹر؟

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “عمران خان ایک مانا ہوا عظیم کرکٹر تھا

Comments are closed.