اقتصادی راہداری اور شکور بھائی چشمے والے


wajahat2012 ءکا موسم گرما اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میمو گیٹ سکینڈل کے شعلے قریب قریب بجھ چکے تھے۔ رینٹل پاور کے قصے عام ہو رہے تھے۔ قومی مفاد کی تجوریوں میں گزشتہ پانچ برس کے دوران جمع کیے گئے اثاثے چمک رہے تھے۔ کہیں این آر او رکھا تھا ، کہیں کیری لوگربل کا کھاتہ دھرا تھا۔ آزاد عدلیہ اپنی بہار دے رہی تھی۔ آزاد میڈیا کے اپنے جلوے تھے۔ کچھ یافت ڈرون حملوں سے ہوئی تھی۔ ایک طاق میں عافیہ صدیقی اور ریمنڈ ڈیوس کی جوڑی دھری تھی۔ یوسف رضا گیلانی ملتان بھیج دیے گئے تھے اور کوئی اولوالعزم راولپنڈی سے دوبئی روانہ ہوا تھا۔ تحریک انصاف کی رونمائی ہو چکی تھی ۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف جگہ جگہ احتجاج کر کے سڑکیں بند کی جا رہی تھیں۔ قوی امید تھی کہ سر دیوں میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کے نام پر یہی مہم جاری رکھی جا سکے گی۔ اضطراب سے بھرے ان دنوں میں ایک شام عزیز دوست امجد ثاقب نے کچھ احباب کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ صحافت اور سیاست کے نمائندہ نام جمع تھے۔ تاہم محفل کی جان ایک فرشتہ صفت بزرگ تھے۔ بوٹا سا قد، کھلتی ہوئی رنگت، نفاست سے تراشی ہوئی داڑھی، قیمتی لباس جامہ زیبی کی داد دے رہا تھا۔ نشست و برخاست میں وہ آسودگی جو اعلیٰ منصب اور سماجی رسوخ کے امتزاج سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک غیر محسوس انداز میں صاحب کی پاٹ دار آواز بلند ہوتی چلی گئی۔ سرگوشیاں کرنے والے بھی چونک کر متوجہ ہو گئے۔ محفل پوری طرح سے صاحب عرفان کی آواز کے جادو میں گرفتار ہو چکی تھی۔ فرما رہے تھے ۔ ’کوئی کتاب اٹھا کے دیکھ لیجئے ۔ستمبر میں تیسری عالمی جنگ کا آغاز طے ہو چکا ہے۔ میری آنکھ دیکھ رہی ہے۔ کون کدھر سے اٹھے گا اور کس کی تباہی مقدر ہو چکی۔ یہ معاملہ صدیوں پہلے طے پا چکا تھا۔ 2012ءکے موسم خزاں میں خلیج بنگال کا پانی لہو رنگ ہو جائے گا۔ سرمایہ داری کا جہاز یہیں غرق ہو گا‘۔صاحب کا ہاتھ اب ایک وارفتہ کیفیت میں اٹھ رہا تھا ۔ انگلیاں بھاﺅ بتا رہی تھیں۔ لہجے کے اعتماد کا یہ عالم تھا گویا تیسری عالمی جنگ کے نادیدہ لشکر ان کے قدموں میں صف بندی کیے ہوئے ہیں۔ ایک چھریرے بدن کے بینکار نے دبے لفظوں میں ایٹمی تصادم کی تباہ کاریوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی۔ صاحب عرفان نے نہایت حقارت سے کہا ۔’ ایٹمی تصادم میں ہمارا کیا نقصان ہے۔ ہم بیس کروڑ اور وہ ایک سو بیس کروڑ۔ ہم بھی مٹ جائیں گے اور ان کے بھی دھوئیں اڑ جائیں گے۔ ہم مٹ گئے تو دنیا بھر میں ہمارے جیسے موجود رہیں گے۔ وہ سب تو ایک ہی جگہ پر ہیں۔ دسمبر تک اس عذاب سے نجات پا لی جائے گی‘۔ ایک سو چالیس کروڑ انسانوں کی موت اور ناقابل تصور تباہی کی خوش خبری دے کر صاحب علم نے مسکراتے ہوئے دائیں بائیں نظر دوڑائی کہ خدا نخواستہ کسی عاقبت نااندیش میں اختلاف کی ہمت تو باقی نہیں۔ سب اپنی اپنی نشستوں پر نیم مردہ ہو چکے تھے۔ جیسا کہ عرض کیا یہ نشست تین برس پرانا قصہ ہے۔ اس دوران ستمبر کا مہینہ تین دفعہ آیا اور گزر گیا۔ ایسی فیض بخش نشستوں کو دستاویز کرنا چاہیے تاکہ موقع ہو تو پوچھا جا سکے کہ صاحب آپ کی پیش گوئی میں حساب کی غلطی تھی یا ستاروں نے تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ صاحب خبر اس زمانے میں قائداعظم کی 11 اگست 1947 ءکی دستور ساز اسمبلی والی تقریر کو کچھ بدباطن عناصر کا من گھڑت افسانہ قرار دیتے تھے۔ آج کل ہمارے ممدوح 11 اگست کی تقریر اور میثاق مدینہ میں کچھ مشترک نکات بیان فرماتے پائے گئے ہیں۔ ہمیں ایسے ہی اصحاب نظر نے ڈبویا ہے۔ اقبال نے کہا تھا ، ’فقیہ و صوفی و ملا کی ناخوش اندیشی‘….
سچ بولنے کا ہمیں بہت لپکا ہے اور ہمیں اصرار ہوتا ہے کہ جو کچھ ہمارے ذہن عالیہ پہ اترتا ہے اور ہمارے دہن مبارک سے جاری ہوتا ہے وہی سچ ہے۔ دیکھئے سچ کا ایک درجہ تو یہ ہے کہ کوئی تیسرا فریق اس کی جانچ کر سکے۔یعنی ہماری باہم گفتگو میں اختلاف ہوا، دلائل دیے گئے اور اپنا اپنا دعویٰ پیش کیا گیا ۔ اب ہم میں سے کسی ایک کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ ’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘۔ دو افراد یا گروہوں کے ادعا کی غیر جانب دار تصدیق ہونی چاہیے۔ ایک فریق نے کہا کہ الماری میں دو درجن کیلے رکھے ہیں۔ دوسرے فریق نے کہا کہ الماری میں آٹھ سیب دھرے ہیں۔ ایک تیسرے صاحب تجویز دیتے ہیں کہ الماری کھول کے دیکھ لی جائے۔ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ لمحہ موجود میں کسی فریق کے لیے پڑتال کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔جولائی 2012 ءمیں ہمارے صاحب نظر دوست نے عالمی جنگ کی پیش گوئی کی تھی تو فوری طور پر تصدیق یا تردید ممکن نہیں تھی۔ البتہ پیش گوئی میں دیا گیا وقت گزرنے کے بعد ان کے دعوے کی قلعی کھولی جا سکتی تھی۔ جیسے کسی صحافی کو اس کے پانچ برس پرانے تجزیے دکھائے جائیں اور نشان دہی کی جائے کہ کہاں قلم نے ٹھوکر کھائی ۔ کہاں دلیل رنجک چاٹ گئی اور کہاں صاحب کی بچھائی ہوئی بساط ہی الٹ گئی۔ سچائی کو پرکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سچائی اپنے تناظر یعنی وقت اور مقام کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے۔ سولہویں صدی میں گلیلیو نے بتایا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ آج اسکول کے ابتدائی درجوں کا طالب علم بھی یہی کہتا ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ چار سو برس قبل گلیلیو کا بیان ایک سچ تھا جسے مسلمہ بیانئے کے خلاف پیش کیا گیا۔ آج سکول کے بچے کے لیے یہی سچ محض ’حرف نصاب‘ ہے۔ وقت کی رفتار نے اس ’سچائی‘ کی قدر میں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ اب مقام کے سوال پر غور کرتے ہیں ۔ نوم چومسکی سرمایہ داری کا سخت نقاد ہے اور وہ امریکا میں بیٹھ کر یہ تنقید کرتا ہے۔ اروندتی رائے بھارت کی سیاست میں فرقہ وارانہ اور انتہا پسند رجحانات کی سخت مخالف ہیں اور وہ بھارت میں بیٹھ کر یہ تنقید کرتی ہیں۔ نوم چونسکی غلط نہیں کہتا ، سوویت یونین پر تنقید کرنے والا سخاروف بھی غلط نہیں تھا۔ ہندوستان کے وہ درجنوں ادیب بھی غلط نہیں جنہوں نے بی جے پی کے فرقہ وارانہ رجحانات پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے سرکاری اعزاز واپس کیے۔ ان سب قابل احترام افراد نے صحیح جگہ پر سچ بولا ہے۔ ہمارے ملک میں سچ کی اپنی صورتیں ہوں گی۔ معلوم ہوا ہے کہ آج کل کچھ احباب کو صحت اور تعلیم کے لیے کم بجٹ پر بہت کوفت ہو رہی ہے اور انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں سڑکوں کی تعمیر کو گویا ہدف طعن بنا لیا ہے۔ 1980 ءمیں ریاست نے عوام کی تعلیم اور صحت سے ہاتھ کھینچ کر ان بنیادی شعبوں کونجی کاروبار کی نذر کیا۔ واللہ! اس دوران راندہ درگاہ عناصر نے جہاں تعلیم اور صحت کے لئے زیادہ بجٹ کا مطالبہ کیا، چنگھاڑ بلند ہوتی تھی کہ ہم ملکی دفاع کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح ملکی دفاع اور بنیادی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا درست ہے اسی طرح یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی ملک کی معیشت انفراسٹرکچر کے بغیر اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ آپ کی یہ فرمائش تو بہرصورت سادہ لوحی ہی کہلائے گی کہ ہمیں اس سڑک سے کیا فائدہ جس پر چل کر ہم ہسپتال اور سکول نہیں پہنچ سکتے۔ سڑک محض آپ کی چہل خرامی کا ذریعہ نہیں ۔ سڑک بندرگاہ ، منڈی اور کارخانے کی تکون کا نام ہے۔ سڑک وہ دریا ہے جو اپنے ارد گرد کی زمینوں کو سیراب کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ تعلیم کے ضمن میں آپ کا اضطراب تسلیم لیکن خیال رہے کہ تعلیم محض کتاب اور کمر ہ جماعت کی مشق نہیں، تعلیم سوال اٹھانے کی تربیت ہے۔ اور اگر آپ سوال اٹھانے کی ثقافت پر متفق ہیں تو سوال اٹھانے دیجئے کہ سرگودھا کے 81 سالہ بزرگ شکور بھائی چشمے والے کو کس جرم میں آٹھ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یقینا اس پر ہمارے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے لیکن خیال رہے کہ سچ کی ایک تصدیق غیر جانب دار فریق سے ہوتی ہے ، سچ کی ایک تصدیق وقت کرتا ہے اورسچ کا ایک مقام ہوتا ہے۔ اگر ہم ناانصافی پر سوال اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے تو ہماری تعلیم، ہماری بصیرت اور ہماری اخلاقی قامت پر سوال اٹھتا رہے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “اقتصادی راہداری اور شکور بھائی چشمے والے

  • 12-01-2016 at 3:16 am
    Permalink

    شکور بھائی چشمے والے
    ان کو لگ بھگ ایک کروڑ لوگ ان کے نام سے جانتے ہیں اور ان کے لیے احترام کے جذبات سے آراستہ دل دعاگو ہیں
    ان سے محبت کرنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں
    اتنے نفیس بزرگ کے ساتھ اس سلوک پر ضرور خدا کی ناراضگی مول لی گئی ہے
    یاد رہے ظالم کے ساتھ خدا کا کوئی وعدہ نہیں البتہ صبر کرنے والے کے ساتھ خدا کی وعید ضرور ہے

  • 12-01-2016 at 4:42 am
    Permalink

    شکور بھائی چشمے والے عرصہ دراز سے کتابیں بیچنے اور عینکوں کی فروخت کا کام کررہے ہیں۔ اچانک انہوں نے کون سی دہشت گردی کردی کہ جہاں پشاور میں معصوم بچوں کو خون میں نہلا دینے والے درندوں کے مقدمہ کو بھئ ایک سال کا عرصہ لگا، وہاں شکور بھائی کو ایک ماہ میں ہی آٹھ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ ناانصافی کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے،خیر ابھی وجاہت مسعود جیسے انصاف پسند صحافی اس ملک میں موجود ہیں جنکی وجہ سے یہ ملک قائم ہے۔

  • 13-01-2016 at 7:05 pm
    Permalink

    شکور بھائی ایک ٹیسٹ کیس ہیں ، ریاست کی سنجیدگی کا ، کیا ریاست واقعی شدت پسندی کا خاتمہ مکمل طور پر چاہتی ہے یا صرف وقتی مفاد پرستی کے تحت کبھی امریکہ کو خوش کرنے کے لئے جیش کے دفاتر پر چھاپے تو کبھی علاقائی شدت پسند ( جو کہ ہمارے عسکری اثاثہ کی سی حیثیت رکھتے ہیں ) لوگوں کو خوش کرنے کے لئے شکور بھائی جیسے شریف النفس انسان پر مقدمہ چلاکر راتو رات اتنی سخت سزا دے دیتی ہے ۔۔

Comments are closed.