پربتوں کے سائے میں – امب شریف ٹریک (2)۔


\"\"

(پہلا حصہ)۔

یہاں پر ایک بار ٹریکرز کی عظمت پر یقین آ گیا۔ دوستو، ٹریکر ہی آپ کا سچا ساتھی ہوتا ہے۔ یہاں پر عدنان احسن ملک نے اپنے بیک پیک سے مالٹے برآمدکیے اور سب ساتھیوں کو پیشکیے۔ یہ اس کا خلوص تھا کہ وہ تین درجن مالٹے اپنے بیک پیک میں ڈالے پہاڑوں پر چڑھتا اترتا رہا اور کسی مناسب موقع کے انتظار میں رہا کہ جب سب ساتھی تھکے ہوئے ہوں صحیح معنوں میں کسی ریفریش منٹ کی ضرورت ہو تب وہ اپنی لائی ہوئی سوغات پیش کرے تو یہی موقع سب سے زیادہ موزوں تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ سب کو پیاس بھی لگ رہی تھی۔ اس موقع پر مالٹے کھا کر ہم سب تروتازہ ہو گئے۔ یہاں سے ہم مزید نیچے کو اترے۔ اب ہم ایک ایسی تنگ جگہ پر تھے جہاں ہر طرف بلند پہاڑ تھے اور ان کے بیچوں بیچ ایک تنگ درہ سا اسی طرف کو جا رہا تھا جہاں ہم نے جانا تھا۔ چند قدم چلے تو ایک خوشگوار حیرت ہماری منتظر تھی۔ قریبی چٹان سے پانی کا ایک چشمہ بہتا ہوا آ رہا تھا۔ ہم فوراً اس کی طرف لپکے۔ وادی سون میں پانی اتنا کم ہوتا ہے کہ ایسے چشمے دیکھنے کو آنکھیں ترس جاتی ہیں۔ سب نے ہاتھ منہ دھوئے۔ پانی پیا۔ تروتازہ ہوئے اور اسی چشمے کے بہتے پانی کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔

کچھ آگے جا کر ایک اور چشمہ بھی آ ملا۔ اب تو پانی کا شور بھی ہمارے ساتھ چلا۔ یہیں ایک جگہ ہم نے ایک گہری غار دیکھی جس کے اندر کسی جانور کی ہڈیاں بھی دکھائی دے رہی تھیں عدنان بھائی نے خیال ظاہر کیا کہ یہاں کوئی جانور ابھی بھی چھپا ہوا ہو سکتا ہے۔ بہر حال ہم آگے کو چلتے گئے۔ دونوں طرف اونچے پہاڑ تھے گھنی جھاڑیاں اور درخت تھے۔ ہمیں کافی دیر سے کوئی مقامی آدمی بھی دکھائی نہیں دیا تھا ایک جگہ ہم رکے تو نیاز بھائی نے عصر کی نماز ادا کی۔ ہم قدرت کی رنگینیاں دیکھتے رہے۔ وادی سون کا یہ حصہ بہت خوب صورت ہے پانی و سبزے کی بہتات ہے۔ لوگ نہیں ہیں اس لئے پلیوشن بھی نہیں ہے ہر طرف خاموشی ہے جسے ہماری اپنی آوازیں توڑتی ہیں۔ کچھ مزید چلے تو یہاں سے دو رستے نکل رہے تھے۔ عدنان بھائی نے بتایا کہ اگر ہم چاہیں تو بائیں طرف والے مشہور پہاڑ کانجرہ پر چڑ ہ کر دوسری جانب اتر سکتے ہیں یا پھر پانی کے ساتھ ساتھ اسی پگڈنڈی پر اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے ٹریکرز ڈبل مائنڈٖ ہو رہے تھے۔ کانجرہ پہاڑ سکیسر پہاڑ کے بعد وادی سون میں دوسرے نمبر پر بلند ترین پہاڑ ہے اور اس پر چڑھنے کے لئے کافی ہمت درکار ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کامیاب نیوز چینل کے اجزا، ترکیبِ استعمال و ہدایت نامہ

اتنے میں لکڑیاں اٹھائے پیچھے سے ایک مقامی ہم سے آن ملا ہم نے اس سے رائے مانگی تو اس نے بتایا کہ ادھر سے آپ کو رات ہو جائے گی۔ تو ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ کانجرہ پہاڑ کو سر کرنے کی مہم کسی اگلے وقت کے لئے رکھ لی جائے اور اب سیدھے رستے پر چلتے ہوئے امب پہنچا جائے۔ سو ہم ایک بار پھر سے چل نکلے۔ کچھ آگے گئے تو شام کا اندھیرا چھانے لگے۔ اب پانی کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا تھا۔ ہم نے ایک تنگ سی پگڈنڈی کو پکڑا اور اسی پر چل دیے۔ یہ پگڈنڈی پہاڑ کے ساتھ ساتھ اوپر کو اٹھتی چلی جا رہی تھی کچھ اوپر گئے اور ریسٹ کے لئے رکے تو یہ دیکھ کر دل ڈوب گیا کہ ابھی تک سکیسر بیس ویسے کا ویسے سامنے تھا۔ محمود نے بتایا کہ جناب یہ سکیسر بیس کی دوسری سائیڈ ہے ہم ایک بڑا چکر کاٹ کر اب سکیسر بیس کے دوسری طرف آ چکے ہیں۔ دل کو تسلی ہوئی اور سوچا کہ آج تو ہم نے کافی سفر طے کر لیا ہے۔ یہاں بیٹھ کر ہم نے علی بھائی کی لائی ہوئی باقی ماندہ سوغات اڑائی اس دوران امب میں ہمارے میزبانوں کے فون آنے لگے کہ جناب ہم تو کب سے آپ کا انتظار کر رہے ہیں تو آپ لو گ کب پہنچیں گے۔ عدنان بھائی نے بتایا کہ اب تو بس پانچ منٹ کی دیری ہے ہم ابھی پہنچے اور پھر ہم نے یہاں سے سپیڈ پکڑی۔ پہاڑ کے ساتھ ہی گھوم کر آگے کو نکلے تو اونچے نیچے مکان سامنے تھے اور یہاں سڑک بھی تھی اس کے ساتھ ہی ہمارے میزبان ٹارچ لئے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ٹارچ کیوں؟ اس لئے کہ امب جیسے تاریخی گاؤں میں بجلی نہیں ہے۔ اور میں داد دیتا ہوں امب کے رہائشیوں کو جو پچھلے پچاس سالوں سے اپنے گاؤں میں سے گذر کر سکیسر بیس جانے والی بجلی کی تاروں کو دیکھتے رہے ہیں۔

سکیسر بیس پر ہونے والی روشنیوں کو دیکھتے رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی اس لائن میں سے اپنے لئے بجلی نہیں مانگی۔ بہر حال اب واپڈا والے گاؤں میں بجلی کے کھمبے لگا رہے ہیں جلد ہی امب بجلی کی روشنیوں سے منور ہو گا فی الحال تو یہاں کی عوام سولر پینل کے ذریعے اپنے گھروں کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ امب میں داخل ہوتے ہی یہاں کے مشہور بزرگ حضرت ابراہیم ساڑھی کا مزار آتا ہے۔ ہم نے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ مزار کی عمارت بہت خوب صورت ہے اور اس کا گنبد بہت اونچا ہے جو بہت دور سے دکھائی دیتا ہے۔ اور اس پر بہت ہی خوب نقش کاری کا کام کیا گیا ہے۔ یہاں سے ہم اپنے میزبانوں کی رہنمائی میں ان کی بیٹھک پر پہنچے۔ میزبان عدنان عالم اعوان سے رابطے میں تھے ہماری ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔

اسی بارے میں: ۔  سوشل میڈیا اور صحافت کو زنجیر پہنانے کی روایت

میاں الٰہی بخش امب کے ایک نمایاں اور با اثر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ہائی وے میں سب انجینئر ہیں۔ بہت خوش باش اور مہمان نواز ہیں ہم وسیع و عریض کمرے میں داخل ہوئے تو یہاں صوفے اور بستر لگے دیکھ کر نہال ہی ہو گئے۔ فوراً ہی سب نے اپنے اپنے بستر سنبھال لئے۔ یہاں میاں صاحب کے کزن اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ فوراً ہی ہمارے لئے چائے آ گئی۔ چائے کے ساتھ دیگر کافی لوازمات بھی تھے۔ چائے کے بعد گپ شپ لگائی گئی۔ میاں الٰہی بخش صاحب نے امب کا تعارف کرایا۔ امب چھوٹے بڑے پہاڑوں سے گھرا دلکش منظر لئے ایک خوب صورت گاؤں ہے۔ یہ گاؤں وادی سون وہ حصہ ہے جسے وادی سون والے بھول چکے ہیں یہاں سے وادی سون کے بڑے قصبہ اوچھالی جانے والی روڈ بنائی ہی نہیں گئی۔

قریبی میدانی قصبہ قائد آباد کی طرف جانے والی روڈ نصف بنی ہوئی ہے باقی پتھروں پر مشتمل کچا رستہ ہے۔ ہسپتال یا بنیاد ی ہیلتھ سنٹر نام کی کوئی چیز نہیں۔ بچوں کے لئے ایلیمنٹری سکول ہے جبکہ بچیوں کے لئے پانچویں جماعت تک کے لئے پرائمری سکول ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کافی خوش اور مطمئن پایا شاید یہ بزرگوں کی دعا ہے۔ تھوڑی دیر بعد کھانا لگا دیا گیا۔ بہت مدت بعد وادی سون میں ایسا مزیدار کھانا کھایا۔ میاں الٰہی بخش نے کھانے پر کافی محنت کی تھی۔ کھانے سے پوری طرح لطف اندوز ہونے کے بعد واک کو نکلے۔ آسمان تاروں سے بھرا ہوا تھا۔ کچھ دیر ایدھر اودھر گھومنے کے بعد واپس کمرے میں آ گئے۔ کمرے میں سات بستر لگا دیے گئے تھے، کمرہ میاں صاحب کے دل کی طرح وسیع و عریض تھا، سات چارپائیاں لگائے جانے کے باوجود کمرے کی وسعت کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ کافی دیر گپ شپ ہوئی۔ ذاتی تجربات، شادی شدہ اور کنواروں کے درمیان تجربات کا فرق، ٹریکنگ بارے مختلف دلچسپ واقعات، اور بھی ” بہت کچھ ” زیر بحث رہا۔ پھر آہستہ آہستہ نیند غالب آتی گئی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “پربتوں کے سائے میں – امب شریف ٹریک (2)۔

  • 31-01-2017 at 9:59 pm
    Permalink

    ماشااللہ!بہت خوب جناب آپ کی عظمت کو سلام

Comments are closed.