ہمیں حافظ سعید کی حمایت کرنی ہی ہو گی


\"\"

جب ہم بیرون ملک اور اندرون ملک کے دہشت گردوں سے بہت تنگ آ جاتے ہیں تو اکثر جذباتی ہو کر یہی سوچتے ہیں کہ آخر پاکستان پراکسی جنگیں ختم کیوں نہیں کر دیتا۔ اگر پاکستان افغانستان میں تزویراتی گہرائی نہ ڈھونڈے، خالصتان یا کشمیر وغیرہ میں سینگ نہ پھنسائے تو افغانستان اور بھارت وغیرہ سے بھی دہشت گردوں کا نزول نہیں ہو گا۔ وہ بھی پاکستان میں یہ آگ نہیں بھڑکائیں گے۔ مگر بدقسمتی سے بین الاقوامی معاملات ایسے نہیں چلتے کہ ایک ملک مہاتما بدھ کا پیروکار بن کر جیو ہتیا کو پاپ قرار دے دے اور اس کے پڑوسی اس کے اعلی اخلاق سے متاثر ہو کر اس کی آرتی اتارنے لگیں۔

سولہویں صدی کی بات ہے۔ اکبر اپنی سلطنت کی سرحدیں وسیع کر رہا تھا۔ مگر وسط ہند میں مالوہ پر باز بہادر تخت نشین تھا جس کی تلوار کی دھاک ارد گرد بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ ارد گرد کی ریاستوں سے جنگیں جیتتا جیتتا روپ متی نامی ایک حسینہ سے دل ہار بیٹھا۔ جس جنگجو کے دل میں کبھی سب دشمنوں کو مار ڈالنے کی چاہ ہوا کرتی تھی، اب وہ جنگ و جدل کو برا سمجھ کر پیار محبت کے راگ الاپنے لگا۔ تلوار کی آب مدھم ہوئی اور ستار کے سر بلند ہوئے۔ وہ کہنے لگا کہ فوج وغیرہ مضبوط کرنے کی بجائے بھائی چارے کو مضبوط کرنا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہے اس کی صلح کل پالیسی اور فوج سے عدم توجہ کو دیکھتے ہوئے اکبر نے مالوہ پر فوج کشی کی۔ باز بہادر جنگ ہار گیا۔ روپ متی نے اکبر کے دودھ شریک بھائی ادھم خان سے عزت بچانے کی خاطر خودکشی کر لی۔ مالوہ اکبر کی سلطنت کا ایک صوبہ بن گیا۔ لٹے پٹے باز بہادر نے ایک بار پلٹ کر اکبر کو شکست دی، مگر اگلے اکبری لشکر سے ہار گیا اور پھر چند سال مفرور رہنے کے بعد اس نے اکبر کی ملازمت اختیار کر لی۔

تو عرض یہ ہے کہ پیار محبت کی باتیں سب کو اچھی لگتی ہیں۔ ہمیشہ سچ بولنا، کسی سے دھوکہ نہ کرنا، ہمسایوں کو تنگ کرنا وغیرہ جیسے اسباق دوسری جماعت کے طلبہ کے لئے تو اچھے ہوتے ہیں مگر جن لوگوں کو ملک چلانا پڑتا ہے، ان کو دوسری جماعت کی اخلاقیات کی کتاب کی بجائے چانکیہ کی ارتھ شاستر ہی راس آتی ہے۔ تاریخ یہی سبق دیتی ہے۔

\"\"

ہم بھارت کو تنگ نہیں کریں گے تو وہ پھر بھی ہمیں تنگ کرے گا۔ افغانستان سے ہم بہت پیار محبت کریں گے تو وہ پھر بھی ڈیورنڈ لائن کو نہ مانتے ہوئے اٹک تک کا علاقہ مانگے گا اور پختونستان جیسے شوشے دوبارہ چھوڑنے لگے گا۔ ہاں ایک صورت میں یہ دونوں ملک ایسی حرکتیں کرنے سے باز رہ سکتے ہیں، وہ یہ کہ ان کے معاشی مفادات پاکستان سے وابستہ ہو جائیں۔ معاشی مفادات تو ایسی ظالم شے ہوتے ہیں کہ ہمسائے چھوڑیں، سمندر پار کے برادر اسلامی ملک بھی بلوچستان میں شورش کو ہوا دینے آ جاتے ہیں کہ گوادر کی بندرگاہ کہیں ان کی معیشت سے پیسہ کھینچ کر پاکستان نہ لے آئے۔

حافظ سعید بھی ہماری ریاست کی ایسی ہی ایک چانکیائی مجبوری ہیں۔ سوویت افغان جنگ ہماری ایک بڑی غلطی تھی۔ اگر ہم بھٹو کی پالیسی جاری رکھتے، اور احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمت یار جیسے افغان جوانوں کو ہی تربیت دے دے کر لڑنے کے لئے افغانستان بھیجتے رہتے، جیسا کہ افغان اس سے پہلے ہمارے ساتھ بھی کر رہے تھے، تو بھی مناسب تھا۔ یہی طرز عمل سوویت افغان جنگ میں ایران نے اختیار کیا اور نتیجے میں وہ دہشت گردی سے محفوظ رہا۔ مگر ہم نے تو اپنے نوجوانوں کو گوریلا جنگ کی تربیت دے دی اور لڑنے بھیج دیا۔ گلی گلی ریکروٹنگ سینٹر کھول دیے گئے جہاں جہادی تربیت دی جانے لگی اور انہیں یہ فکری بنیاد دی گئی کہ ساری دنیا سے جنگ لڑنی ہے اور ہر جگہ کو اسلام کے نام پر فتح کرنا ہے۔ ہمارا پورا ملک ہی جنگ زدہ ہو گیا۔

اسی بارے میں: ۔  ٹرمپ کا ڈر تھا۔ ٹرمپ تو ہو گا

جب سوویت افغان جنگ کے بعد یہ نوجوان فارغ ہوئے تو گلوبل اسلام کی نظریاتی تعلیم کے تحت اپنے لئے نئے محاذ تلاش کرنے لگے۔ دنیا بھر میں کہیں بھِی دہشت گردی کی واردات ہوتی تو خبر یہی نکلتی کہ دہشت گردوں کو تربیت پاکستان میں موجود کیمپ سے ملی تھی۔ نائن الیون کو امریکہ پر حملے کے بعد پاکستان کو بندوق کی نال پر امریکی اتحادی بنایا گیا، تو اسی دلیل کے تحت ان میں سے بہت سے لڑاکے پاکستانی فوج اور حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے دکھائی دیے جس دلیل کے تحت ان کو سوویت یونین کی حامی افغان حکومتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر قائل کیا گیا تھا اور یوں پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ جنگ شروع ہو گئی۔

ایسے میں حافظ سعید کی لشکر طیبہ وہ سب سے بڑی اور نمایاں تنظیم تھی جس نے پاکستان میں ایک پٹاخہ تک نہ پھوڑا۔ اس کا زور ویسے ہی انڈیا پر رہا جیسے انڈیا کا زور فاٹا اور بلوچستان پر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ بمبئی حملے میں اس کا ہاتھ ہو، ممکن ہے کہ پٹھان کوٹ اور اڑی کے حالیہ حملوں میں بھی اس کا ہاتھ ہو، اور ہم یہ بھِی مانتے ہیں کہ ان حملوں نے مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں کی پرزور اور پرامن جد و جہد آزادی کو بھی حالیہ برس میں نقصان پہنچا کر بھارتی حکومت پر سے بین الاقوامی برادری کا اخلاقی دباؤ کم کیا ہے، لیکن ہمارے پاس باز بہادر بننے کی آپشن نہیں ہے۔ ہم اپنے ہتھیار اتنی آسانی سے نہیں ڈال سکتے ہیں۔ کشمیریوں نے گزشتہ چار چھے ماہ میں ثابت کر دیا ہے کہ ان کی اپنی پرامن جد و جہد، کسی بھی ہتھیار سے بڑھ کر بھارت کے لئے پریشان کن ہے۔ اس وقت کشمیر میں اگر پاکستانی تنظیموں کی طرف سے مزید حملے نہ ہوں تو یہی کشمیریوں کے لئے سب سے بڑی مدد ہو گی۔ بھارت میں مزید حملے نہ کرنا ہماری اپنی مجبوری بن چکا ہے۔ لیکن ہم امریکی حکم پر حافظ سعید کو احمقانہ انداز میں قربان کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ حافظ سعید کے بیان کے مطابق، جس پر یقین کرنے کی معقول وجہ بھی ہے، حافظ سعید کی تنظیم کے ممبران کی تعداد پچاس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اتنے اعلی تربیت یافتہ لڑاکے ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود کامیاب کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ لڑاکے افغانستان میں داعش اور ٹی ٹی پی جیسی سخت جان تنظیموں کے خلاف بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کے نظم و ضبط کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے کبھی پاکستان میں ایک پٹاخہ تک نہیں پھوڑا ہے۔ کیا ہماری ریاست یہ برداشت کر سکتی ہے کہ ان پچاس ہزار اعلی ترین تربیت یافتہ اور جنگ آزمودہ لڑاکوں کے نظم و ضبط کو ختم کر دے، ان کو بے روزگار چھوڑ دے، جہاں سے ان کو داعش یا دوسری دہشت گرد تنظیمیں اٹھا کر اپنی صفوں میں شامل کر لیں؟ ان لڑاکوں کو تنظیمی نظم و ضبط میں رکھنے کی خاطر ہمیں حافظ سعید کی حمایت کرنی ہی ہو گی۔ یہ ہماری چانکیائی ریاستی مجبوری ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ایک سیمینارموہن جودڑو بنے سندھ کے شہروں پر بھی

ہم جماعت الدعوہ کے اپنی عدالتیں لگانے کی خبروں کو شدید تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں اس کے ہتھیار بند افراد گھومتے اچھے نہیں لگتے۔ ہم ایک ہتھیاروں سے پاک پاکستان چاہتے ہیں۔ مگر اس وقت زمینی حقیقت یہی ہے کہ جیسے مولانا فضل الرحمان دیوبندی جماعت کے بے شمار نوجوانوں کو دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ہونے سے بچائے ہوئے ہیں، ویسے ہی حافظ سعید بھی ہماری تحفظ کے لئے اہم ہیں۔

نائن الیون کے بعد کے دور میں اور خاص طور پر یورپ اور امریکہ میں حالیہ حملوں کے بعد، دنیا میں پراکسی وار لڑنے والی تنظیموں کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔ پاکستان خاص طور پر دنیا کی نگاہوں میں ہے۔ پاکستان کو بھی اولین فرصت میں یہ تنظیمیں ختم کرنی ہیں۔ مگر ان پچاس ہزار لڑاکوں کا ہم کیا کریں؟ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق صورت حال سے آگاہی رکھنے والوں کی طرف سے تجویز دی گئی تھی کہ ان کو سرکاری یا نیم سرکاری ملازمتوں میں کھپا دیا جائے مگر حکومت نے اس پر توجہ نہ دی۔ منطق غالباً یہ تھی کہ پانچ دس سال سرکاری ملازمت کرنے کے بعد ان میں سے کون اس قابل ہو گا کہ لڑ مر سکے، کہ سرکاری اہلکار تو ہل کر پانی بھی پینے سے پہلے خوب غور و فکر کرتے ہیں اور چار فائلیں گھماتے ہیں۔ یوں یہ فورس خود بخود ختم ہو کر معاشرے میں ضم ہو جائے گی۔ جب تک یہ لڑاکے پرامن طور پر قومی دھارے میں ضم نہیں ہو جاتے، حافظ سعید ہمارے لئے اہم ہیں۔

اب غالباً نئے امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر حافظ سعید کو نظر بند کیا گیا ہے۔ مگر کیا ان کے خلاف پاکستان میں کوئی جرم کرنے کا ثبوت موجود ہے؟ کیا وہ عدالت سے رہائی نہیں پا لیں گے؟

پاکستانی ریاست کو پراکسی وار لڑنے والی تنظیموں سے جان چھڑانی ہو گی۔ موجودہ دور بندوق کا نہیں بلکہ معیشت کا دور ہے۔ مودی سرکار کے بھارت کی امریکہ سے لے کر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب تک اس لئے آؤ بھگت نہیں ہو رہی ہے کہ وہ ایک بڑی فوجی طاقت ہے، بلکہ برادر اسلامی ممالک سے لے کر امریکہ تک سب بھارت پر اس لئے نثار ہوئے جا رہے ہیں کہ وہ ایک بڑی معاشی طاقت ہے۔

پاکستان کے چانکیائی پالیسی سازوں کو بھی اب عملیت پسندی سے کام لیتے ہوئے عسکری تنظیموں کی بجائے کاروباری تنظیموں کو ترقی دینا ہو گی ورنہ بھارت ایک طاقت ور تر اور پاکستان ایک کمزور تر ملک بنتا چلا جائے گا۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 733 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar