آزادی ٹرین پر سفر کی روداد- لیاقت پور (4)


\"\"آزادی ٹرین نے ڈیرہ نواب صاحب سے لیاقت پور کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ تو راستے میں چنی گوٹھ بھی آیا۔ ایک صدی قدیم اس ریلوے اسٹیشن کی کہانی اب معکوس رابطوں کی صورت گنبدوں میں اَٹی پڑی ہے۔ جو کبھی کبھار کسی پرانے جھونکے کے اندر آنے پر گونج اٹھتی ہے۔ کہتے ہیں کہ گذشتہ صدی میں یہاں سے گڑ کی بھیلیاں ہندوستان بھر کو جاتی تھیں لیکن اُس دن آزادی ٹرین کا پڑاﺅ چنی گوٹھ کی بجائے اگلا اسٹیشن لیاقت پور تھا۔ وہی لیاقت پور جو 1956ء سے قبل ” چودری “ کے نام سے برِصغیر میں جانا جاتا تھا۔ لیاقت پور ضلع رحیم یار خان کا پہلا ریلوے اسٹیشن ہے۔ جس نے شہر کے وسط میں ہونے کے باعث آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ریلوے اسٹیشن کے دائیں طرف کا علاقہ ” کچی منڈی “ اور بائیں طرف کا علاقہ ” پکی منڈی “ کہلاتا ہے۔

اس علاقے میں ریل کی پٹری بچھانے کا منصوبہ برطانوی راج کے زمانے میں 1883ء میں بنایا گیا اور 6 سال کے قلیل عرصے میں 1889ء میں براڈ گیج اکہری پٹری بچھائی گئی جس کو 1903ء میں دو رویہ کر دیا گیا اور پھر یہاں سے گزرنے والی ریل گاڑیوں کے قیام کے لئے ایک اسٹیشن بھی قائم کر دیا گیا اور یوں چار دروں کی مناسبت سے معنون ” چودری “ کے باسیوں نے پہلی مرتبہ بھاپ اُڑاتے ریلوے انجن کی کُوک سُنی۔ وقت گزرتا رہا برصغیر کا جغرافیہ تبدیل ہوا۔ ہندوستان بھی دو حصوں میں بٹا اور قیام پاکستان کے بعد 1956ءمیں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے نام پر اس شہر کا نام لیاقت پور رکھ دیا گیا۔ لیاقت پور اسٹیشن سے متصل ایک بازار ہے جس میں میڈیکل اسٹور سے لے کر فرنیچر و فوم کی دوکانیں ، خواتین کی ضرورت کی تمام اشیاء سمیت پھل اور سبزیوں کی دکانوں نے اسے گنجان بنا دیا تھا۔ اسی بازار میں پہلی مرتبہ فوم کے گدے لٹکے ہوئے دیکھے جبکہ ریلوے اسٹیشن کی عمارت پر محکمہ ریلوے پولیس کی جانب سے ایک جہازی سائز کا اشتہار چسپاں دیکھا جس میں محکمہ ریلوے پولیس کو انتہائی مطلوب ملزمان واردات سرقہ اُٹھائی گیری “ (ریل گاڑی) کی تصاویر پر مشتمل تھا۔ بہرحال اگست کی چلچلاتی دھوپ میں جب میں اسٹیشن پر قائم ایک صدی قدیم پُل پر کھڑا تھا تو دُور تلک تا حدِ نگاہ ایسا لگتا تھا کہ جیسے صحرا آبادی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ایک طرف ریت ہے جو آنکھوں میں دھنستی چلی جاتی ہے اور دوسری طرف سبزہ ہے جو دل میں اترتا جاتا ہے۔۔۔۔۔(جاری ہے۔)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سے[email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 27 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz