گاندھی جی کا فلسفہ عدم تشدد


\"\"عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ انسان اپنے ساتھ ہونیوالے ظلم، جبر، استبداد و استحصال کو یہ جان کر برداشت و بعد ازاں فراموش کر دیتا ہے کہ یہ سب تو قسمت کا لکھا ہے۔ اس طرح کا ہمارا طرز عمل گویا جابر کے عرصہ جبر کو دراز کرنے کا باعث بنتا ہے جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ انسان نہ تو کسی پر جبر کرے اور نہ ہی خود پر ہونیوالے کسی جبر کو برداشت کرے۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی بھی انسان کے ساتھ جبر و زیادتی کا ایک واقعہ پیش آیا اور اس واقعے کی وجہ سے اس انسان کی زندگی میں یکسر انقلابی تبدیلی آ گئی۔ ایسا ہی ایک واقعہ 1914 میں پیش آیا جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ جنوبی افریقہ میں ایک 45 سالہ بظاہر ناتواں نظر آنے والا شخص ایک ریلوے اسٹیشن سے ٹرین میں سوار ہوتا ہے مگر یہ کیا ٹرین میں پہلے سے سوار دو گوری رنگت والے اس 45 سالہ شخص پر حملہ آور ہوتے ہیں اور تشدد کے بعد اس کو ٹرین سے باہر پھینک دیتے ہیں۔

ان گوری رنگت والوں نے یہ بدتر سلوک اس لیے کیا ہے کہ جنوبی افریقہ میں ان کا ہر شعبے میں غلبہ تھا، دوسرے لوگ محض اس وجہ سے کہ ان کی رنگت کالی ہے ان مٹھی بھر اقلیت کے ہاتھوں ہر قسم کے جبر کا شکار ہیں۔ مگر جس شخص کو بدترین تشدد کے بعد ٹرین سے پھینکا گیا وہ تو کالی رنگت والا افریقی نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق برطانیہ کی سب سے بڑی نو آبادیاتی بھارت سے ہے اور اس کا دوش یہ ہے کہ وہ ایک غلام ملک کا باسی ہے۔ ٹرین سے پھینکے گئے شخص کا نام ہے موہن داس کرم چند گاندھی۔ جنھیں بھارتی عوام مہاتما گاندھی، گاندھی جی اور باپو کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

بھارتی ریاست گجرات کے لوگ جس شخصیت کو بے حد احترام دیتے ہیں اس شخصیت کو پیار سے باپو کا لقب دے دیتے ہیں جیسے کہ ہمارے ہاں پیر و مرشد وغیرہ۔ جب کہ مہاتما کا مطلب عظیم یا عظیم تر ہی ہو سکتا ہے اور گاندھی اس برادری یا خاندان کا نام ہے جس میں انھوں نے 2 اکتوبر 1969 میں جنم لیا۔

گاندھی جی نے پور بندر ریاست گجرات متحدہ بھارت میں جنم لیا تھا۔ ان کے والد کا نام کرم چند گاندھی تھا۔ یہ ایسا خاندان تھا جسے اس دور یعنی انیسویں صدی میں بھی تعلیم کی اہمیت و افادیت سے مکمل آگاہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ موہن داس کو ہوش سنبھالتے ہی ابتدائی طور پر حصول تعلیم کے لیے پور بندر کے مقامی اسکول میں داخل کرا دیا گیا بعد ازاں مزید حصول تعلیم کے لیے راج کوٹ بھیج دیا گیا جہاں انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

اسی بارے میں: ۔  ہمارے لیے نیب گزشتہ روز مرگیا ہے: جسٹس عظمت

موہن داس ایک ہونہار طالب علم ثابت ہوا تھا۔ چنانچہ اس کی ذہانت کو مد نظر رکھتے ہوئے انھیں اعلیٰ ترین تعلیم کے لیے انگلینڈ بھیج دیا گیا یہ ذکر ہے 1888کا جب موہن داس کی عمر تھی 19 برس اور اس سے قبل یعنی 1984 میں موہن داس کی شادی کستربا نام کی لڑکی سے کر دی گئی تھی۔ اس وقت موہن داس اور ان کی دھرم پتنی کی عمر تھی فقط 14 برس انگلینڈ میں موہن داس نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور بیرسٹر کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کر لی۔ مگر اب وہ فقط موہن داس نہ تھا بلکہ بیرسٹر موہن داس کرم چند گاندھی تھا۔ بیرسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعدگاندھی جی بھارت واپس آ گئے اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہو گئے بعد ازاں انھوں نے ملکوں، ملکوں گھومنے کا شوق پورا کیا اور طویل عرصہ جنوبی افریقہ میں رہے جہاں گاندھی جی نے نسلی امتیاز کے خلاف ایک بھرپور تحریک کی قیادت کی۔

جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلانے کا خیال گاندھی جی کو اس لیے آیا کہ وہ خود نسلی تعصب کا شکار ہوئے جیسا کہ گاندھی جی کو گوری رنگت والوں نے شدید تشدد و بد سلوکی کے بعد ٹرین سے نیچے پھینک دیا تھا۔ 1915 میں گاندھی جی واپس بھارت آ گئے جہاں کانگریس سے وابستگی قائم ہو گئی تھی مگر یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ گاندھی جی جنوبی افریقہ کے کالی رنگت والے لوگوں کو نسلی تعصب کے خلاف جد وجہد کے لیے متحرک کر چکے تھے۔ بہرکیف 1920 میں گاندھی جی کانگریس کے صدر بنے اور مختلف انداز میں بھارت کی آزادی کی تحاریک چلائیں جس میں سول نافرمانی کی تحریک 1920 میں چلائی اور عدم تشدد کا فلسفہ پیش کیا۔

یہ عجیب و غریب اس لیے تھا کہ سامراج آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کرتا جب کہ گاندھی جی تو اس وقت کی سب سے بڑی سامراجی قوت کے خلاف آزادی کی تحریک چلارہے تھے۔ درحقیقت گاندھی جی کے عدم تشدد کے فلسفے کا مقصد یہ تھا کہ گاندھی جی کسی بھی احتجاجی تحریک کے اس لیے مخالف تھے کہ گاندھی جی کو یہ خوف لاحق تھا کہ کانگریس میں موجود کمیونسٹ پارٹی کے لوگ کسی بھی جدوجہد کو جو برٹش سرکار کے خلاف شروع کی جائے گی، اس جد وجہد کو عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتے تھے اسی لیے گاندھی جی کسی بھی احتجاجی تحریک کے مخالف تھے۔ ممکن تھا کوئی بھی احتجاجی تحریک انقلابی تحریک بن جاتی اور بھارت میں اشتراکی انقلاب آ جاتا۔

مگر اشتراکی انقلاب گاندھی جی کو کسی صورت گوارا نہ تھا کیوں کہ گاندھی سامراج دشمن نہ تھے بلکہ انقلاب دشمن تھے۔ یہی سبب تھا کہ محنت کش طبقہ گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد سے 1928میں لا تعلق ہو چکا تھا جب کہ 1930 میں گاندھی جی نے بھارت چھوڑو تحریک شروع کی۔ 1940وہ سال تھا جب گاندھی جی نے کانگریسی ارکان کے شدید دباؤ کے باعث ستیہ گرہ تحریک شروع کی وہ بھی انفرادی شکل میں یہ دباؤ کانگریس کے رام گڑہ اجلاس میں ڈالا گیا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  صحافی یا سپاہی

یہاں یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ سامراج سے آزادی جد وجہد کے بغیر ممکن نہیں اور گاندھی جی کسی بھی قسم کے احتجاج کی بجائے اپنے عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا تھے تو پھر بھارت کی آزادی کیوں کر ممکن ہو پائی؟ اس سوال کا عام فہم میں جواب یہ ہے کہ دوسری عالم گیر جنگ کے خاتمے کے بعد جو سیاسی و معاشی حالات تھے ان حالات میں تاج برطانیہ کے لیے ممکن ہی نہ رہا تھا کہ وہ اپنے نوآبادیاتی مقبوضہ جات پر اپنا تسلط برقرار رکھ پاتا۔ بہرکیف 14اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب پاکستان اور بھارت الگ ممالک کے طور پر معرض وجود میں آ گئے۔ برطانوی سامراج سے آزادی مل گئی۔

اس آزادی کا سہرا گاندھی و کانگریس کے سر باندھا جاتا ہے اس موقعے پر بھی گاندھی جی کی سرپرستی میں ان کے دست راست و جانشین جواہر لال بھارت میں انقلابی اقدامات اٹھا سکتے تھے مگر یہ لوگ ایسا نہ کر سکے۔ البتہ بھارت کو ایک سیکولر ریاست بنانے کی کانگریس کے قائدین کوشش کرتے رہے اور آج بھی کانگریس ایک سیکولر جماعت کی پہچان رکھتی ہے۔

دوسری بات کانگریس کے قائدین آزادی کے بعد سے بھارت کو جمہوریت کی راہ پر ڈالنے میں کامیاب رہے گو کہ آج یہ جمہوریت ایک مکمل سرمایہ داری آمریت کا روپ پیش کر رہی ہے بہرکیف گاندھی جی کے طرز سیاست و نظریات سے تمام تر اختلافات کے باوجود بھارت کی تقسیم مخالف RSS کے رکن ناتھو رام کے ہاتھوں 30 جنوری 1948کو گاندھی جی کا قتل ہونا ایک افسوس ناک امر تھا۔ دیہانت کے وقت گاندھی جی کی عمر 78 برس 4 ماہ تھی آج 30 جنوری 2015 کو بھارت کے عظیم سپوت و اپنے وقت کے مہان سیاست کو دنیائے فانی سے کوچ کیے 67 برس بیت چکے ہیں اور بھارت کی سیاست میں گاندھی جی کا اپنا ایک مقام و بھارتیوں کے دلوں میں گاندھی جی کا احترام ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسلم کھوکھر کی دیگر تحریریں
اسلم کھوکھر کی دیگر تحریریں