دوزخی۔ ۔ عظیم بیگ چغتائی کا شہرہ آفاق خاکہ


\"\"

جب تک کالج سر پر سوار رہا پڑھنے لکھنے سے فرصت ہی نہ ملی جو ادب کی طرف توجہ کی جاتی اور کالج سے نکل کر بس دل میں یہی بات بیٹھ گئی کہ ہر چیز جو دو سال پہلے لکھی گئی بوسیدہ، بد مذاق اور جھوٹی ہے۔ نیا ادب صرف آج اور کل میں ملے گا۔ اس نئے ادب نے اس قدر گڑبڑایا کہ نہ جانے کتنی کتابیں صرف نام دیکھ کر ہی واہیات سمجھ کر پھینک دیں اور سب سے زیادہ بیکار کتابیں جو نظر آئیں وہ عظیم بیگ چغتائی کی تھیں۔ گھر کی مرغی دال برابر والا مضمون۔ گھر کے ہر کونے میں ان کی کتابیں رلتی پھرتیں۔ مگر سوائے اماں اور دو ایک پرانے فیشن کی بھابیوں کے کسی نے اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ یہی خیال ہوتا بھلا ان میں ہوگا ہی کیا۔ یہ ادب نہیں پھکڑ، مذاق، پرانے عشق کے سڑیل قصے اور جی جلانے والی باتیں ہوں گی۔ یعنی بے پڑھے رائے قائم، مجھے خود یقین نہیں آیا کہ میں نے عظیم بھائی کی کتابیں کیوں نہ پڑھیں۔ شاید اس میں تھوڑا سا غرور بھی شامل تھا اور خود ستائی بھی۔ یہ خیال ہوتا تھا یہ پرانے ہیں ہم نئے۔

ایک دن یونہی لیٹے لیٹے ان کا ایک مضمون یکہ نظر آیا میں اور رحیم پڑھنے لگے۔ نہ جانے کس دھن میں تھے کہ ہنسی آنے لگی اور اس قدر آئی کہ پڑھنا دشوار ہو گیا ہم پڑھ ہی رہے تھے کہ عظیم بھائی آگئے اور اپنی کتاب پڑھتے دیکھ کر کھل گئے مگر ہم جیسے چڑ گئے اور منہ بنانے لگے وہ ایک ہوشیار تھے بولے لاؤ میں تمہیں سناؤں۔ اوریہ کہہ کر دو ایک مضمون جو ہمیں سنائے تو صحیح معنوں میں ہم زمین پر لوٹنے لگے۔ ساری بناوٹ غائب ہو گئی۔ ایک تو ان کے مضمون اور پھر ان کی زبانی۔ معلوم ہوتا تھا ہنسی کی چنگاریاں اڑ رہی ہیں۔ جب وہ خوب احمق بنا چکے تو بولے۔
تم لوگ تو کہتے ہو میرے مضمونوں میں کچھ نہیں۔ اور انہوں نے چھیڑا۔ لو ہمارے منہ اتر کر ذرا ذرا سے نکل آئے اور بے طرح چڑ گئے۔ جھنجلا کر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے۔ جی جل گیا اور پھر اس کے بعد اور بھی ان کی کتابوں سے نفرت ہو گئی۔

میں نے ان کے مضامین کی ان کی زندگی میں کبھی تعریف نہ کی۔ حالانکہ وہ میرے مضمون دیکھ کر ایسے خوش ہوتے تھے کہ بیان نہیں۔ اس قدر پیار سے تعریف کرتے تھےمگر یہاں تو ان کی ہر بات سے چڑنے کی عادت تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ وہ میرا مذاق اڑاتے ہیں اور بخدا وہ شخص جب کسی کا مذاق اڑاتا تھا تو جی چاہتا تھا بچوں کی طرح زمین پر مچل جائیں اور روئیں۔ کس قدر طنز، کیسی کڑوی مسکراہٹ اور کٹتے ہوئے جملے۔ میں تو ہر وقت ڈرتی تھی کہ میرا مذاق اڑایا اور میں نے بدزبانی کی۔

کبھی کہتے تھے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم مجھ سے اچھا نہ لکھنے لگو۔ اور میں نے صرف چند مضمون لکھے تھے اس لیے جی جلتا تھا کہ یہ میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔

ان کے انتقال کے بعد نہ جانے کیوں مرنے والے کی چیزیں پیاری ہو گئیں۔ ان کا ایک ایک لفظ چبھنے لگا اور میں نے عمر میں پہلی دفعہ ان کی کتابیں دل لگا کر پڑھیں۔ دل لگا کر پڑھنے کی بھی خوب رہی۔ گویا دل لگانے کی بھی ضرورت تھی! دل خود بخود کھنچنے لگا۔ افوہ! تو یہ کچھ لکھا ہے ان کی رلنے والی کتابوں میں۔ ایک ایک لفظ پر ان کی تصویر آنکھوں میں کھنچ جاتی اور پل بھر میں وہ غم اور دکھ میں ڈوبی ہوئی مسکرانے کی کوشش کرتی ہوئی آنکھیں وہ اندوہناک سیاہ گھٹاؤں کی طرح مرجھائے ہوئے چہرے پر پڑے ہوئے گھنے بال، وہ پیلی نیلاہٹ لیے ہوئے بلند پیشانی، پژمردہ اودے ہونٹ جن کے اندر قبل از وقت توڑے ہوئے ناہمواردانت اور لاغر سوکھے سوکھے ہاتھ اور عورتوں جیسے نازک، دواؤں میں بسی ہوئی لمبی انگلیوں والے ہاتھ اور پھر ان ہاتھوں پر ورم آگیا تھا۔ پتلی پتلی کھیچی جیسی ٹانگیں جن کے سر پر ورم جیسے سوجے ہوئے بد وضع پیر جن کے دیکھنے کے ڈر کی وجہ سے ہم لوگ ان کے سرہانے ہی کی طرف جایا کرتے تھے اور سوکھے ہوئے پنجرے جیسے سینے پر دھونکنی کا شبہ ہوتا تھا۔ کلیجے پر ہزاروں، کپڑوں، بنیانوں کی تہیں اور اس سینے میں ایسا پھڑکتا ہوا چلبلا دل! یااللہ یہ شخص کیوں کر ہنستا تھا، معلوم ہوتا تھا کوئی بھوت ہے یا جن جو ہر خدائی طاقت سے کشتی لڑ رہا ہے، نہیں مانتا مسکرائے جاتا ہے خدا جبار و قہار چڑھ چڑھ کر کھانسی اور دمہ کا عذاب نازل کر رہا ہے اور یہ دل قہقہے نہیں چھوڑتا۔ کون سا دنیا و دین کا دکھ تھا جو قدرت نے بچا رکھا تھا مگر پھر بھی نہ رلا سکا۔ اس دکھ میں جلن، ہنستے نہیں ہنساتے رہنا، کسی انسان کا کام نہیں۔ ماموں کہتے تھے: زندہ لاش، خدا یا اگر لاشیں بھی اس قدر جان دار، بے چیں اور پھڑکنے والی ہوتی ہیں تو پھر دنیا ایک لاش کیوں نہیں بن جاتی۔ میں ایک بہن کی حیثیت سے نہیں ایک عورت بن کر ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی تو دل لرز اٹھتا تھا۔ کس قدر ڈھیٹ تھا ان کا دل۔ اس میں کتنی جان تھی۔ منہ پر گوشت نام کو نہ تھا۔ مگر کچھ دن پہلے چہرے پر ورم آجانے سے چہرہ خوبصورت ہوگیا تھا۔ کنپٹیاں بھر گئی تھیں۔ پچکے ہوئے گال دبیز ہو گئے تھے۔ ۔ ایک موت کی سی جلا چہرہ پر آئی تھی اور رنگت میں کچھ عجیب طلسمی سبزی سی آگئی تھی۔ جیسے حنوط کی ہوئی ممی، مگر آنکھیں معلوم ہوتا تھا کسی بچے کی شریر آنکھیں جو ذرا سی بات پر ناچ اٹھتی تھیں اور پھر کبھی ان میں نوجوان لڑکوں کی سی شوخی جاگ اٹھتی تھی اور یہی آنکھیں کبھی دورے کی شدت سے گھبرا کرچیخ اٹھتیں۔ ان کی صاف شفاف نیلی سطح گدلی زرد ہوجاتی اور بے کس ہاتھ لرزنے لگتے۔ سینہ پھٹنے پر آجاتا۔ دورہ ختم ہوا کہ پھر وہی روشنی، پھر وہی رقص پھر وہی چمک۔

ابھی چند دن ہوئے میں نے پہلی مرتبہ خانم پڑھی، ہیرو وہ خودنہیں۔ ان میں اتنی جانہی کب تھی مگر وہ ہیرو ان کے تخیل کا ہیرو ہے۔ وہ ان کے دبے ہوئے جذبات کا تخیلی مجسمہ ہے جیسے ایک لنگڑا خوابوں میں ناچتا کودتا، دوڑتا ہوا دیکھتا ہے ایسے ہی وہ مرض میں گرفتار نڈھال پڑے اپنے ہمزاد کو شرارتیں کرتا دیکھتے تھے۔ کاش ایک دفعہ اور صرف ایک دفعہ ان کی خانم اس ہیرو کو دیکھ لیتی۔

شاید اوروں کے لیے خانم کچھ بھی نہیں۔ لیکن سوائے لکھنے والے کے اور باقی سارے کیرکٹر درست اور زندہ ہیں بھائی صاحب، بھائی جان، نانی اماں، شیخانی، والد صاحب، بھتیجے، بھنگی بہشتی یہ سب کے سب ہیں اور رہیں گے۔ یہی ہوتا تھا بالکل یہی اور اب بھی سب گھروں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کم از کم میرے گھر میں تو تھا اور ایک ایک لفط گھر کی سچی تصویر ہے۔ جب عظیم بیگ لکھتے تھے تو سارا گھر اور ہم ان کے لیے ایکٹنگ کیا کرتے تھے۔ ہم ہلتے جلتے کھلونے تھے اور وہ ایک نقاش جس نے بالکل اصل کی نقل کر دی۔ جتنی دفعہ خانم کو پڑھتی ہوں یہی معلوم ہوتا ہے کہ خاندان کا گروپ دیکھتی ہوں۔ وہ بھابھی جان اور خانم جھگڑ رہی ہیں۔ وہ بھائی صاحب شرارتیں ایجاد کر رہے ہیں اور مصنف خود؟ سر جھکائے خاموش تصویر کشی میں مشغول ہے۔

کھرپا بہادر جس کا پہلا ٹکڑا روح لطافت میں چھپا ہے یہ سب تخیلی ہے لاچارو مجبور انسان اپنے ہمزاد سے دنیا جہان کی شرارتیں کروا لیتا ہے۔ وہ خود تو دو قدم نہیں چل سکتا۔ لیکن ہمزاد چوریاں کرتا، شرارتیں کرتا ہے۔ خود تو ایک انگلی کا بوجھ نہیں سہار سکتا، مگر ہمزاد جی بھر کر مار کھاتا ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ مصنف کو ارمان تھاکہ کاش وہ بھی اتنا مضبوط ہوتا کہ دوسرے بھائیوں کی طرح ڈیڑھ ڈیڑھ سو جوتے کھا کر کمر جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا۔ تندرست لوگ کیا جانیں ایک بیمار کے دل میں کیا کیا ارمان ہوتے ہیں۔ پرکٹا پرندہ ویسے نہیں تو خوابوں میں تو دنیا بھر کی سیر کرآتا ہے۔ یہی حال ان کا تھا۔ وہ جو کچھ نہ تھے افسانہ میں وہی بن کر دل کی آگ بجھا لیتے تھے۔ کچھ تو چاہیے نا جینے کے لیے!

شروع ہی سے روتے دھوتے پیدا ہوئے۔ روئی کے گالوں پر رکھ کر پالے گئے۔ کمزور دیکھ کر ہر ایک معاف کر دیتا۔ قوی ہیکل بھائی سر جھکا کر پٹ لیتے۔ کچھ بھی کریں والد صاحب کمزور جان کر معاف کر دیتے۔ ہر ایک دل جوئی میں لگا رہتا۔ مگر بیمار کو بیمار کہو تو اسے خوشی کب ہوگی؟ ان مہربانیوں سے احساس کمزوری اور بڑھتا۔ بغاوت اور بڑھتی۔ غصہ بڑھتا مگر بے بس، سب نے ان کے ساتھ گاندھی جی والی نان وائلنس شروع کر دی تھی۔ وہ چاہتے تھے کوئی تو انہیں بھی انسان سمجھے۔ انہیں بھی کوئی ڈانٹے انہیں بھی کوئی زندہ لوگوں میں شمار کرے۔ لہذا ایک ترکیب نکالی اور وہ یہ کہ فسادی بن گئے۔ جہاں چاہا دو آدمیوں کو لڑا دیا۔ اللہ نے دماغ دیا تھا اور پھر اس کے ساتھ بلا کا تخیل اور تیز زبان، چٹخارے لے لے کر کچھ ایسی ترکیبیں چلتے کہ جھگڑا ضرور ہوتا۔ بہن بھائی، ماں باپ سب کو نفرت ہو گئی۔ اچھا خاصا گھر میدان جنگ بن گیا۔ اور سب مصیبتوں کے ذمہ دار خود، بس ساری خود پرستی کے جذبات مطمئن ہو گئے اور کمزور و لاچار، ہر دم کاروگی، تھیٹر کا ولین ہیرو بن گیا۔ اور کیا چاہیے؟ ساری کمزوریاں ہتھیار بن گئیں زبان بد سے بدتر ہو گئی۔ دنیا میں ہر کوئی نفرت کرنے لگا۔ صورت سے جی متلانے لگا۔ ہنستے بولتے لوگوں کو دم بھر میں دشمن بنا لینا بائیں ہاتھ کا کام ہوگیا۔

لیکن مقصد تو یہ نہ تھا کہ واقعی دنیاانہیں چھوڑ دے۔ گھر والوں نے جتنا ان سے کھنچنا شروع کیا اتنا ہی وہ لپٹے۔ آخر میں خدا معاف کرے ان کی صورت دیکھ کر نفرت آتی تھی۔ وہ لاکھ کہتے مگر دشمن نظر آتے تھے۔ بیوی شوہر نہ سمجھتی بچے باپ نہ سمجھتے، بہن نے کہہ دیا تم میرے بھائی نہیں اور بھائی آوازسن کر نفرت سے منہ موڑ لیتے۔ ماں کہتی سانپ جنا تھا میں نے!
مرنے سے پہلے قابل رحم حالت تھی بہن ہو کر نہیں انسان بن کر کہتی ہوں جی چاہتا تھا کہ جلدی سے مر چکیں۔ آنکھوں میں دم ہے مگر دل دکھانے سے نہیں چوکتے۔ عذاب دوزخ بن گئے۔ ہزاروں کہانیوں اور افسانوں کا ہیرو ایک ولین بن کر مطمئن ہو چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا اب بھی اسے کوئی پیار کرے، بیوی پوجا کرے، بچے محبت سے دیکھیں، بہنیں واری جائیں اور ماں کلیجہ سے لگائے۔

ماں تو واقعی کلیجہ سے لگا لیا۔ بھولا بھٹکا راستہ پر آن لگا۔ آخر کو ماں تھی۔ مگر اوروں کے دل سے نفرت نہ گئی۔ یہاں تک کہ پھیپھڑے ختم ہوگئے۔ ورم بڑھ گیا۔ آنکھیں چندھیا گئیں اور اندھوں کی طرح ٹٹولنے پر بھی راستہ نہ ملا۔ ہیرو بن کر بھی ہار ان کی ہی رہی۔ جو چاہا نہ ملا۔ اس کے بدلے نفرت، حقارت، کراہت ملی، انسان کس قدر پر ہوس ہوتا ہے۔ اتنی شہرت اور نام ہونے کے باوجود حقارت کی ٹھوکریں کھا کر جان دی۔ صبح چار بجے، آج سے 42 برس پہلے جو ننھا سا کمزور بچہ پیدا ہوا تھا۔ وہ زندگی کا ناٹک کھیل چکا تھا۔ 20 اگست کو صبح شمیم نے آ کر کہا۔ منے بھائی ختم ہو رہے ہیں اٹھو۔

وہ کبھی ختم نہ ہوں گے۔ بیکار مجھے جگا رہے ہو۔ میں نے بگڑ کر صبح کی ٹھنڈی ہوا میں پھر سوجانے کا ارادہ کیا۔
ارے کمبخت تجھے یاد کر رہے ہیں۔ شمیم نے کچھ پریشان ہو کر ہلایا۔
ان سے کہہ دو اب حشر کے دن ملیں گے۔ ارے شمیم وہ کبھی نہیں مر سکتے۔ میں نے وثوق سے کہا۔

مگر جب میں نیچے آئی تو ان کی زبان بند ہو چکی تھی۔ کمرہ سامان سے خالی کر دیا گیا تھا۔ سارا کوڑا کرکٹ، کتابیں ہٹا دی گئی تھیں۔ دوا کی بوتلیں، لاچاری کی تصویر بنی لڑھک رہی تھیں۔ دوننھے بچے پریشان ہو ہو کر دروازے کو تک رہے تھے۔ بھابھی انہیں زبردستی چائے پلا رہی تھیں۔ ماں پلنگ کی چادر بدل رہی تھی۔ سوکھی سوکھی آہیں ان کے کلیجہ سے نکل رہی تھیں۔ آنسو بند تھے۔
منے بھائی میں نے ان پر جھک کر کہا۔ ایک لمحہ کو آنکھیں اپنے محور پر رکیں، ہونٹ سکڑے اور پھر وہی نزع کی حالت طاری ہو گڑی۔ ہم سب باہر بیٹھ کر چار گھنٹے تک سوکھے بےجاں ہاتھوں کی جنگ دیکھتے رہے۔ معلوم ہوتا تھا عزرائیل بھی پست ہو رہے ہیں۔ جنگ تھی کہ ختم ہی نہ ہوتی تھی۔

ختم ہو گئے منے بھائی۔ نہ جانے کس نے کہا:
وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ مجھے خیال آیا۔

اور آج میں ان کی کتابیں دیکھ کر کہتی ہوں ناممکن وہ کبھی نہیں مر سکتے۔ ان کی جنگ اب بھیجاری ہے مرنے سے کیا ہوتا ہے میرے لیے تو وہ مر کر ہی جیے اور نہ جانے کتنوں کے لیے وہ مرنے کے بعد پیدا ہوں گے۔ اور برابر پیدا ہوتے رہیں گے۔ ان کا پیغام دکھ سے لڑو، نفرت سے لڑو، اور مر کر بھی لڑتے رہو، یہ کبھی نہ مر سکے گا۔ ان کی باغیانہ روح کو کوئی نہیں مار سکتا۔ وہ نیک نہیں تھے۔ پارسا نہ ہوتے اگر ان کی صحت اچھی ہوتی۔ وہ جھوٹے تھے۔ ان کی زندگی جھوٹی تھی۔ سب سے بڑا جھوٹ تھی ان کا رونا جھوٹا، ہنسنا جھوٹا، لوگ کہتے ہیں ماں باپ کو دکھ دیا، بچوں کو دکھ دیا، اور سارے جگ کو دکھ دیا۔ وہ ایک عفریت تھے جو عذاب دنیا بن کر نازل ہوئے اور اب دوزخ کے سوا ان کا کہیں ٹھکانہ نہیں۔ اگر دوزخ ایسے لوگوں کا ٹھکانا ہے تو ایک بار ضرور دوزخ میں جانا پڑے گا۔ صرف یہ دیکھنے کہ جس شخص نے دنیا کی دوزخ میں یوں ہنس ہنس کر تیر کھائے اور تیر اندازوں کو کڑوے تیل میں تلا وہ دوزخ میں عذاب نازل کرنے والوں کو کیا کچھ نہ چڑا چڑا کر ہنس رہاہوگا۔ بس میں وہ تلخ طنز بھری ہنسی دیکھنا چاہتی ہوں جسے دیکھ کر دوزخ کا داروغہ بھی جل اٹھتا ہوگا۔

مجھے یقین ہے وہ اب بھی ہنس رہا ہوگا۔ کیڑے اس کی کھال کو کھا رہے ہوں گے۔ ہڈیاں مٹی میں مل رہی ہوں گی۔ ملاؤں کے فتووں سے اس کی گردن دب رہی ہوگی۔ آروں سے اس کا جسم چیرہ جا رہا ہوگا۔ مگر وہ ہنس رہا ہو گا۔ آنکھیں شرارت سے ناچ رہی ہوں گی۔ نیلے مردہ ہونٹ تلخی سے ہل رہے ہوں گے۔ مگر کوئی اسے رلا نہیں سکتا۔

وہ شخص جس کے پھیپھڑوں میں ناسور، ٹانگیں عرصہ سے اکڑی ہوئی۔ باہیں انجکشنوں سے گدی ہوئی کولھے میں امرود برابر پھوڑا، آخری دم اور چیونٹیاں جسم میں لگنا شروع ہو گئیں۔ کیا ہنس کر کہتا ہے یہ چیونٹی صاحبہ بھی کس قدر بے صبر ہیں۔ یعنی قبل از وقت اپنا حصہ لینے آن پہنچیں۔ یہ مرنے سے دو دن پہلے کہا۔ دل چاہیے، پتھر کا کلیجہ ہو مرتے وقت جملے کسنے کے لیے۔
ان کا ایک جملہ ہو تو لکھا جائے۔ ایک لفظ ہو جو یاد آئے۔ پوری کی پوری کتابیں ایسے ایسے چٹکلوں سے بھری پڑی ہیں دماغ تھا کہ انجن بنا آگ پانی کے ہر وقت چلتا رہتا تھا اور زبان کی قینچی اس قدر نپے تلے چملے نکالتی تھی کہ جم کر رہ جاتے تھے۔

نئے لکھنے والوں کے آگے ان کی گاڑی نہیں چلی۔ دنیا بدل گئی ہے خیالات بدل گئے ہیں ہم لوگ بدزبان ہیں اور منہ پھٹ ہمارا دل دکھتا ہےتو رودیتے ہیں سرمایہ داری سوشلزم اور بیکاری نے ہم لوگوں کو جھلسا دیا ہے۔ ہم جو کچھ لکھتے ہیں دانت پیس پیس کر لکھتے ہیں۔ اپنے پوشیدہ دکھوں، کچلے ہوئے جذبات کو زہر بنا کر اگلتے ہیں۔ وہ بھی دکھی تھے۔ نادار، بیمار اور مفلس تھے۔ سرمایہ داری سے عاجز، مگر پھر بھی اتنی ہمت تھی کہ زندگی کا منہ چڑا دیتے تھے۔ دکھ میں ٹھٹھا لگا لیتے تھے۔ وہ افسانوں ہی میں نہیں ہنستے تھے زندگی کے ہر معاملے میں دکھ کر ہنس کر نیچا کر دیتے تھے۔

باتوں کے اس قدر شوقین کہ دنیا کا کوئی انسان ہو اس سے دوستی، کھرپا بہادر میں جو شاہ لنکران کے حالات ہیں وہ ایک میراثن سے معلوم ہوئے۔ اس سے ایسی دوستی تھی کہ بس بیٹھے ہیں اور گھنٹوں بکواس ہو رہی ہے۔ لوگ متحیر ہیں کہ یا اللہ یہ بڑھیا میراثن سے کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ مگر جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اسی میراثن نے بتایا ہے۔

اور تو اور بھنگن، بہشتن، راہ چلتوں کو روک کر باتیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ کچھ دن ہسپتال میں رہے وہاں رات کو جب خاموشی ہو جاتی آپ چپکے سے سارے مریضوں کو سمیٹ کر گپیں اڑایا کرتے۔ ہزاورں قصے سنتے اور سناتے، وہی قصے ”سوانہ کی روحیں“ مہارانی کا خواب، چمکی اور یریڑے بن گئے۔ وہ ہر چیز زندگی سے لیتے تھے اور زندگی میں کتنے جھوٹے ہیں۔ یہی بات ہے کہ ان کی کہانیوں میں بہت سی، بعید از قیاس معلوم ہوتی ہیں۔ چوں کہ ان کا شاعرانہ تخیل ہر بات کو یقین کرتا تھا۔

ان کی ناولیں بعض جگہ واہیات ہیں۔ فضول سی خصوصا کولتار تو بالکل ردی ہے مگر اس میں بھی حقیقت کو اصلی رنگ میں گڑ بڑ کر کے لکھ دیا ہے۔ شریر بیوی تو بالکل فضول ہے مگر اپنے زمانے میں بڑی چلتی ہوئی چیز تھی۔

چمکی ایک دہکتا ہوا شعلہ ہے یقین نہیں آتا کہ اس قدر سوکھا مارا انسان جس نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا، تخیل میں کس قدر عیاش بن جاتا ہے۔ افوہ! وہ چمکی کی خاموش نگاہوں کے پیغام۔ وہ ہیرو کا ان کی حرکتوں سے مسحور ہو جانا اور پھر خود مصنف کی زندگی۔ کس قدر مکمل جھوٹ۔ یہ عظیم بھائی نہیں ان کے ہمزاد ہوتا تھا جو ان کے جسم سے دور ہو کر حسن و عشق کی عیاشیاں کراتا ہے۔ عظیم بھائی کی مقبولیت یوں بھی موجودہ ادب میں یعنی بالکل نئے ادب میں نہ تھی کہ وہ کھلی باتیں نہ لکھتے تھے۔ وہ عورت کا حسن دیکھتے تھے مگر اس کا جسم بہت کم دیکھتے تھے۔ جسم کی بناوٹ کی داستانیں پرانی مثنویوں گل بکاؤلی زہرہ عشق وغیرہ میں بہت نمایاں تھیں اور پھر انہیں پرانی کہہ دیا گیا۔ لیکن اب یہ فیشن نکلا ہے کہ وہی پرانا سینہ کا اتار چڑھاؤ پنڈلیوں کی گاودی، رانوں کا گداز نیا ادب بن گیا ہے۔ وہ اسے عریانی سمجھتے تھے اور عریانی سے ڈرتے تھے گو جذبات کی عریانی ان کے یہاں عام ہے۔ اور بہت غلیظ باتیں بھی لکھنے میں نہیں جھجکتے تھے وہ عورت کے جذبات تو عریاں دیکھتے تھے مگر خود اسے کپڑے پہنے دیکھتے تھے وہ زیادہ بے تکلفی سے مجھ سے بات نہیں کرتے تھے اور بہت بچہ سمجھتے تھے کبھی کسی جنسی مسئلہ پر تو وہ کسی سے بحث کرتے ہی نہ تھے۔ ایک دوست سے صرف اتنا کہا کہ نئے ادیب بڑے جوشیلے ہیں لیکن بھوکے ہیں اور اوپر سے ان پر جنسی اثر بہت ہے جو کچھ لکھتے ہیں اماں کھانا معلوم ہوتا ہے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ہندوستانی ادب میں ہر زمانہ میں جنس بہت نمایاں رہتی ہے یہاں کے لوگ جنس سے بہت متاثر ہیں۔ ہماری شاعری، مصوری، قدیم پرستش سے بھی جنسی بھوک کا پتہ چلتا ہے۔ اگر ذرا دیر عشق و محبت کو بھول جائیں تو مقبول عام نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت جلد ادب میں ان کا رنگ غائب ہو کر وہی الف لیلہ کا رنگ غالب آگیا۔

انہیں حجاب امتیاز علی سے خاص لگاؤ تھا۔ ( میں محترمہ سے معافی مانگ کر کہوں گی کہ مرنے والے کا راز ہے) کہا کرتے تھے۔ یہ عورت بہت پیارے جھوٹ بولتی ہے۔ انہیں شکایت تھی کہ میں بہت الٹے سیدھے جھوٹ بولتی ہوں۔ میرے جھوٹ بھوکے کی پکار ہیں! اور ان کے جھوٹ بھوکے کی مسکراہٹیں۔ اللہ جانے ان کا کیا مطلب ہوتا تھا۔

ہم ان کے افسانوں کو عموما جھوٹ کہا کرتے تھے۔ جہاں انہوں نے کوئی بات شروع کی اور والد صاحب مرحوم ہنسے، پھر قصر صحرا لکھنے لگے۔ وہ ان کی گپوں کو قصر صحرا کہتے تھے۔ عظیم بھائی کہتے۔ سرکار دنیا میں جھوٹ بغیر کوئی رنگینی نہیں! بات کو دلچسپ بنانا چاہو تو جھوٹ اس میں ملا دو۔

وہ یہ بھی کہتے کہ جنت اور دوزخ کا بیان بھی تو قصر صحرا ہے۔
اس پر ماموں کہتے:
ارے زندہ لاشوں کو منع کرو یہ کفر ہے۔ اس پر وہ ماموں کے توہم پرست سسرال والوں کا تمسخر اڑاتے تھے۔
انہیں پیری مریدی ڈھونگ معلوم ہوتا تھا۔ لیکن کہتے تھے دنیا کا ہر ڈھونگ ایک مزیدار جھوٹ ہے اور جھوٹ ہی مزیدار ہے۔
کہتے تھے میری صحت اجازت دیتی تو میں اپنے باپ کی قبر پجوا دیتا۔ بس دو سال قوالی کرا دیتا اور چادر چڑھاتا۔ مزے سے آدمنی ہوتی۔
انہیں دھوکہ باز اور مکار آدمی سے مل کر بڑی خوشی ہوتی تھی۔ کہتے تھے دھوکہ اور مکاری مذاق نہیں عقل چاہیے ان چیزوں کے لیے۔

انہیں ناچ گانے سے بڑا شوق تھا مگر کس ناچ سے؟ یہ جو فقیر بچے آتے ہیں ان کا عموما پیسے دے کر ڈھول میں ناچتے ہوئے فقیروں کو اس شوق سے دیکھا کرتے تھے کہ ان کا انہماک دیکھ کر رشک آتا تھا۔ نہ جانے انہیں اس ننگے بھوکے ناچ میں کیا کچھ نظر آتا تھا۔

میں نے انہیں کبھی نماز پڑھتے نہ دیکھا۔ قرآن شریف لیٹ کر پڑھتے تھے اور بے ادبی سے، اس کے ساتھ ساتھ سو جاتے تھے۔ لوگوں نے ملامت کی تو اس پر گاغذ چڑھا کر کہہ دیا کرتے تھے کچھ نہیں قانونی کتاب ہے۔ جھوٹ تو خوب نبھاتے تھے۔

حدیث بہت پڑھتے تھے اور لوگوں سے بحث کرنے کے لیے عجیب عجیب حدیثین ڈھونڈ کر حفظ کر لیتے تھے اور سنا کر لڑا کرتے تھے۔ ان کی حدیثوں سے لوگ بڑے عاجز تھے۔ قرآن کی آیات بھی یاد تھیں اور بے تکان حوالہ دیتے تھے۔ شک کرو تو سرہانے سے قرآن نکال کر دکھا دیتے تھے۔

یزید کے بڑے مداح تھے اور امام حسینؑ کی شان میں بکواس کیا کرتے تھے۔ لوگوں سے گھنٹوں بحث ہوتی تھی۔ کہتے تھے ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت امام حسینؑ کھڑے ہیں، ادھر سے یزید لعین آیا، آپ کے پیر پکڑ لیے، گڑ گڑایا، ہاتھ جوڑے تو آپ کا خون جوش مارنے لگا اور اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ بس میں نے بھی اس دن سے یزید کی عزت شروع کر دی۔ جنت میں تو ان کا ملاپ بھی ہو گیا، پھر ہم کیوں لڑیں۔ ‘‘

سیاست سے کم دلچسپی تھی۔ کہتے تھے ’’بابا ہم لیڈر بن نہیں سکتے تو پھر کیا کہیں، لوگ کہیں گے تم ہی کچھ کر کے دکھاؤ اور یہاں کمبخت کھانسی اور دمہ نہیں چھوڑتا۔ ‘‘بہت سال ہوئے کچھ مضامین ’’ریاست‘‘ میں سیاسیات اوراکنامکس پر لکھے تھے وہ نہ جانے کیا ہوئے۔ مذہب کا جنون سا تھا۔ مگر آخر میں بحث کم کر دی تھی اور کہتے تھے:۔

’’بھئی تم لوگ تو ہٹے کٹے ہو اور میں مرنے والا ہوں اور جو کہیں دوزخ جنت سب نکل آئیں تو کیا کروں گا۔ لہٰذا چپ ہی رہو۔ ‘‘ پردہ کے خلاف تو کبھی سے تھے مگر آخر میں کہتے تھے۔ ’’یہ پرانی بات ہو گئی اب پردہ رو کے نہیں رک سکتا۔ اس معاملہ میں ہم کر چکے۔ اب تو نئی پریشانیاں ہیں۔ ‘‘ لوگ کہتے تھے دوزخ میں جاؤ گے، تو فرماتے، ’’ یہاں کون سی اللہ میاں نے جنت دے دی جو وہاں دوزخ کی دھمکیاں ہیں۔ کچھ پرواہ نہیں ہم تو عادی ہیں۔ اللہ میاں اگر ہمیں دوزخ میں جلائیں گے تو ان کی لکڑی اور کوئلہ بیکار جائے گا۔ کیونکہ ہم تو ہر عذاب کے عادی ہیں۔ ‘‘کبھی کہتے ’’اگر دوزخ میں رہے تو ہمارے جراثیم تو مر جائیں گے۔ جنت میں تو ہم سارے مولویوں کو دق میں لپیٹ لیں گے۔ ‘‘

یہی وجہ ہے کہ سب انہیںباغی اور دوذخی کہتے ہیں۔ وہ کہیں پر بھی جائیں۔ میں یہ دیکھنا چاہتی ہوں کیا وہاں بھی ان ان کی وہی قینچی جیسی زبان چل رہی ہے؟ کیا وہاں وہ حوروں سے عشق لڑا رہے ہیں یا دوزخ کے فرشتوں کو جلا کر مسکرا رہے ہیں۔ مولویوں سے الجھ رہے ہیں یا دوزخ کے بھڑکتے شعلوں میں ان کی کھانسی گونج رہی ہے۔ پھیپھڑے پھول رہے ہیں اور فرشتے ان کے انجکشن گھونپ رہے ہیں۔ فرق ہی کیا ایک دوزخ سے دوسری دوزخ میں۔ ’’ دوزخی‘‘ کا کیا ٹھکانہ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔