ایک کتابی چہرے سے مذہب اور الحاد کے موضوع پر گفتگو


\"\"سوچ ہی رہا تھا کہ ائرپورٹ پر چھ گھنٹے انتظار کی کیفیت میں کیسے گذریں کہ مجھے ایک کتابی چہرہ زانو کے رحل میں کتاب دبائے گردوپیش سے بے خبر مطالعے میں غرق دکھائی دیا۔ میں نے فوراً اپنا سفری بیگ اس کے سامنے والی سیٹ پر رکھا، کوٹ کی جیب سے  ولیم جیمز کی  کتاب Varieties of Religious Experience نکال کر پڑھنے لگا۔ ابھی میں نے ایک آدھ پیرا ہی پڑھا ہوگا کہ مجھے یوں لگا کہ کتابی چہرہ  کتاب سے نظریں ہٹا کر میری کتاب غور سے دیکھ رہا ہے۔ میں نے نظریں اٹھائیں تو اس نے آنکھوں آنکھوں میں مجھے سلام کیا اور پھر مطالعے میں مگن ہوگئی۔ وہ کوئی پینتیس سالہ مغربی خاتون تھی۔ مغرب میں اس عمر میں بھی لوگ ہمارے نوجوانوں کی طرح لگتے ہیں۔

آدھے گھنٹے بعد مجھے سگریٹ کی طلب ہوئی تو میں کتاب ہاتھ میں لئے سموکنگ کے لئے مخصوص شیشے کے دُخانی کمرے میں داخل ہوا جہاں دنیا کے مختلف حصوں کے لوگ دھوئیں کی کلیاں اور غرارے کر رہے تھے۔ ابھی میں نے اپنا سگریٹ جلایا ہی تھا کہ کتابی چہرے والی ہاتھ میں کتاب اٹھائے اور منہ میں سگریٹ دبائے اندر داخل ہوئیں۔ میری نظر کتاب پر پڑی۔ یہ رچرڈز ڈاکنز کی کتاب Roots of All Evils تھی جو مذہب اور مذہبی فکر کو دنیا میں ہر بیماری کی جڑ قرار دیتی ہے۔ کتاب دیکھ کر ہی مجھے پتہ چلا کہ خاتون میری کتاب کو غور سے کیوں دیکھ رہی تھیں۔ ہم دونوں آمنے سامنے بیٹھے دو ایسی کتابیں پڑھ رہے تھے جو ایک دُوسرے تردید کرتی تھیں۔

\"\"

 سگریٹ سلگا کر وہ میرے قریب آئیں اور کتاب اپنی کتاب دکھاتے اور میری کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں:

’آپ نے یہ کتاب پڑھ رکھی ہوتی تو آپ کو یہ کتاب پڑھنے کی ضرورت نہ پڑتی ‘۔

انہیں یہ سن کر حیرت ہوئی کہ میں ڈاکنز کی کتاب پڑھ چکا ہوں لیکن ولیم جیمز کی کتاب شاید پانچویں بار پڑھ رہا ہوں۔ اس نے کتاب بار بار پڑھنے کی وجہ پوچھی تو میں نے پوچھا کیا انہوں نے ایلڈس ہکسلے کے مضمون Education of an Amphibian  کا مطالعہ کیا ہے، خاص طور پر اُس حصے کا جہاں ہکسلے نے ڈیکارٹ کے مشہور قول ’میں سوچتا ہوں، اس لئے میں وجود رکھتا ہوں‘ پر بات کی ہے۔ خاتون نے نفی میں سر ہلادیا اور اپنی ڈائری میں  مضمون اور ہکسلے کا نام نوٹ کیا اور پوچھا:

 ’’ کیا کہا ہے ہکسلے نے‘‘۔

’ ہکسلے نے لکھا کہ اگر ڈیکارٹ کی فکر چند قدم آگے بڑھ پاتی تو وہ یہ کہتا: ’’ کچھ ہے میرے اندر جو سوچتا ہے ‘‘۔

’’آپ کا مطلب ہے خُدا؟ آپ مجھے خُدا کے وجود پر قائل کرنا چاہتے ہیں۔ ناممکن ! ‘‘۔ خاتون کندھے اچکاتے مگر مسکراتے ہوئے کہا۔

’’نہیں میں نہ آپ کو قائل کرنا چاہتا ہوں اور نہ معتقد بنانا چاہتا ہوں۔ میں بس ہکسلے کی مدد سے اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ڈاکنز کی فکر بھی چند قدم آگے بڑھ پاتی تو وہ اس سوال پر ضرور غور کرتے  کہ زمین پر مذہبی یا رُوحانی حیوان صرف انسان ہی ہے۔ لہٰذا اگر مذہب تمام برائیوں کی جڑ ہے تو پھر اس اصول سے انسان بھی نہیں بچ پاتا اور تمام بُرائیوں کی جڑ قرار پاتا ہے۔ میرا خیال ہے پورا انسان نہ سہی مگر وہ سب انسان کے اندر ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ ‘‘۔

\"\"

سگریٹ ختم ہوا تو ہم ایک کافی شاپ پر جا بیٹھے۔ خاتون نے بتایا کہ اُس کے پاس چار گھنٹے ہیں اور وہ اس موضوع پر بات کرنا پسند کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ کافی عرصے سے ڈاکنز کو پڑھ رہی ہیں اور ان کی ہر بات پر یقین رکھتی ہیں۔ پھراس نے سوال کیا۔ آپ کتب کا مطالعہ کیسے کرتے ہیں۔ متفق یا غیر متفق ہونے کے لئے؟‘

’میں اندھا دھند یقین یا شک کرنے کے لئے کتاب نہیں پڑھتا۔ میں دورانِ مطالعہ دانشورانہ ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کتاب بینی کا یہ خوبصورت مشورہ مجھے برٹرینڈرسل نے دیا تھا جنہیں ڈاکنز اپنا استاد قرار دیتے ہیں۔ رسل میرے بھی پہلے استاد ہیں لیکن ڈاکنز اپنے استاد کے بعض اسباق بھول چکے ہیں۔

مثال کے طور پر رسل نے Mysticism & Logic میں لکھا تھا کہ میں اہلِ تصوف کی طرح تصوف پر یقین رکھوں یا نہ رکھوں لیکن مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں دنیا کو بہترین لوگ اسی قبیل سے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی کتاب New Hopes for a Changing World میں لکھتے ہیں کہ انسان کو تین طاقتوں سے تنازعے کا سامنا ہے : فطرت، دُوسرے انسان اور اپنی ذات۔ سائنس فطرت کے ساتھ تنازعے کا، سیاست انسانوں کے ساتھ اور مذہب انسان اور اس کی ذات کے مابین تنازعہ کا حل تلاش کرنے کے لئے مخصوص ہے ‘۔ میں نے جواب دیا۔

’دل چسپ! تو کیا آپ نہیں سمجھتے کہ مذہب تمام برائیوں کی جڑ ہے؟‘۔

\"\"

میرا خیال ہے کہ مذہب بُرائیوں کی جڑ اُس وقت بنتا ہے جب اس کا سیاسی یا عسکری ا ستعمال شروع ہوتا ہے۔ جب اُس سے سیاسی مفادات کے دشمنوں کو شیطان قرار دینے (demonize) یا انہیں انسان کے درجے سے گرانے (dehumanize)  کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ دُوسرے فریق پر تشدد، اس کا قتل یا نسل کشی آسان بنائی جاسکے۔ جب مذہب کی مدد سے قتل کرنے والے کو اس غلط فہمی کا شکار کردیا جاتا ہے کہ وہ کسی کے مفادات کے دشمن کو نہیں بلکہ خُدا کے دشمن کو مار کر خُدائی مشیت پر عمل کررہا ہے۔

بالفاظِ دیگر، مذہب برائی کی جڑ اُس وقت بنتا ہے جب اُسے سیاسی، جنگی یا تزویراتی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس لئے ہم سیکولر جمہوریت کے قائل ہیں۔میں سمجھتا ہوں مذہب کے سیاسی و عسکری استعمال کے وکیل مذہب کے نادان دوست ہیں اور مذہب کو دانا دشمنوں سے زیادہ ان لوگوں سے خطرہ ہے۔

اس کے برعکس اگر مذہب کو انسان اور اس کی ذات کے مابین تنازعات کے حل کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے تو شاید مذہب یا رُوحانیت باطنی سائنس بن سکتی ہے۔ تاہم اگر مذہب کا سیاسی و عسکری استعمال جاری رہا تو مذہب کا یہ منصب بھی اس کے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔

مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ آپ سیکولر جمہوریت کے قائل ہیں۔ مگر آپ کے نزدیک مذہب تشدد کی بنیاد نہیں ہے؟ کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ مذہب کے خاتمے سے زمین تشدد سے پاک ہوجائے گی؟ خاتون نے اپنا سوال دہرایا۔

’تشدد کی بنیاد تشدد ہے۔ ہماری شکاری یاداشتیں ہیں۔ ہمارا ارتقائی حافظہ ہے۔ رسل ڈاکنز کے استاد ہیں اور میں ایک بار پھر رسل کا حوالہ دوں گا۔

 کبھی رسل کا مضمون Psychology & Politics پڑھیں جس میں انہوں نے بتا یا کہ عسکری و تزویراتی اسٹیبلشمنٹ نے سائنسی علوم، نظریات اور ایجادات کو عوامی فوائد سے برعکس کس طرح جنگی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔ وہ نہ صرف مذہب کے ریاستی و عسکری استعمال کے خلاف تھے بلکہ سائنس اور ریاست کے مابین کلاسیکی تعلق کو بھی ناجائز گردانتے تھے۔

 ان کا مضمون Knowledge & Wisdom پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف سائنسی علم کے نہیں حکمت کے بھی پرچارک تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سائنسی علم ہمیں ایٹم کی طاقت سے آگاہ کرتا ہے تو حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نے اس طاقت کا استعمال کیسے کرنا ہے۔ اس سے ان گنت معصوم انسانوں کو قتل کرنا ہے یا پھر  اسے بھوک، بیماری اور جہالت کے خلاف استعمال میں لانا ہے۔

میرا خیال ہے تشدد کا خاتمہ زمین سے مذہب کے مٹ جانے سے نہیں ہوگا۔ اگر انسان تشدد، جنگ اور نسلی کشی کو حل سمجھتا ہے۔ اگر وہ لڑنے مرنے پر مائل ہے تو وہ تشدد کے اور بہانے تراش لے گا۔ آپ نے شاید والٹیر کا ناول Micromegas  پڑھ رکھا ہو جو انہوں نے جانسن سوئفٹ کے ناول Gulliver’s Travels سے متاثر ہوکر لکھا تھا ‘۔

خاتون نے ڈائری نکالی اور اس میں کچھ لکھا۔\"\"

’اس ناول کا کردار پانچ لاکھ فٹ لمبا انسان سائرس ہے جو سمندر سے گزر رہا ہے اور اُسے بحری جہاز دکھائی دیتا ہے جس پر مسلح فوجی موجود ہیں۔ وہ جہاز سے ایک آدمی کو اٹھاتا ہے جو افواج کا فلسفی ہے۔ وہ فلسفی کو اٹھا کر اپنے ناخن پر رکھتا ہے اور اُس سے پوچھتا ہے کہ وہ کس مہم پر جارہے ہیں۔ فلسفی بتاتا ہے کہ اس کی ریاست کا ہر شہری ہیٹ پہنتا ہے۔ اس لئے وہ باقی تمام لوگوں سے عظیم و بلند ہیں۔ اس لئے ہم پر واجب ہے کہ ہم زمین سے ہر اُس انسان کا صفایا کردیں جو پگڑی پہنتا ہے۔ فلسفی اس مہم کے حق میں کئی ارضی و سماوی کتب کے حوالے دیتا ہے۔ ‘

خاتون مسکرادیں اور بتایا۔

’آپ شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انسان لباس، زبان، خوراک اور پانی کے لئے بھی لڑتا رہا ہے۔ لیکن ہم نے کبھی لباس، زبان اور خوراک کو بُرائی کی جڑ نہیں کہا۔ یقیناً بُرائی کی جڑ ہمارا متشدد طرزِ فکر ہے۔ برائی کی جڑ جدال و قتال کو مسائل کا حل سمجھنا ہے۔ انسانوں کو انسانیت کے درجے سے گرانے کی چالاکی ہے جس کے لئے دنیا بھر کے عسکری اذہان نے مذہب کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ شاید اسی لئے دالائی لاما کہہ رہے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو مذاہب کا جواز ختم ہوجائے گا۔ مذاہب انسان میں ہم گذاری (empathy) اور محبت کے جذبات پیدا کرنے میں مدد دے سکتے تھے  لیکن ان کے سیاسی و عسکری استعمال نے انہیں ناکارہ کردیا ہے۔ تاہم انسان ان عظیم انسانی جذبات کی مذہب کی مدد کے بغیر بھی آبیاری کرسکتا ہے ‘۔

 انہوں نے چارلس کیمبل کی کتاب When Religion Becomes Evil کے مطالعے کا مشورہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کتاب کے مصنف نے مذہب کو برائی کی جڑ ماننے سے اس لئے انکار کیا ہے کیونکہ دالائی لاما، گاندھی، ٹالسٹائی، مارٹن لوتھر کنگ جونئیر اور چند دیگر قد آور شخصیات مذہبی ہیں۔ یہ سب عدم تشدد کی تحاریک کے ہیروز ہیں۔

’آپ پاکستانی ہیں۔ کہتے ہیں اسلام کا مطلب ہی امن و سلامتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اسلامی ہیرو عدم تشدد کا درس دینے والوں کی بجائے جنگجو کیوں ہیں؟ میں نے کسی کتاب میں پڑھا کہ کچھ مسلمان علما عدم تشدد کے فلسفے کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ‘

’بہت ہوگیا فلسفیانہ کتب کا تذکرہ۔ آپ نے ڈان براؤن کا سنسنی خیز ناول Angles & Demons پڑھا ہو یا پھر اس پر بننے والی فلم دیکھی ہوتو اس کا جواب بھی مل سکتا ہے۔ ناول کا ولن ایک فساد پسند مذہبی رہنما ہے جو کلیسا اور اہلِ مذہب کے دل میں یہ خوف بٹھا دیتا ہے کہ کلیسا تباہی کی سازش کی زد میں ہے۔ جب اس کا کھیل بے نقاب ہو جاتا ہے تو ایک پادری اُسے کہتا ہے :

’تم ایک فساد پسند جنگجو ہو۔ تم نے ہمیں اس لئے خودساختہ دشمن کے خوف میں مبتلا رکھا ہے تاکہ ہم طاقت اور اختیار تمہارے سپرد کر دیں!‘۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “ایک کتابی چہرے سے مذہب اور الحاد کے موضوع پر گفتگو

  • 03-02-2017 at 3:21 pm
    Permalink

    آپ نے مضمون اچھا لکھا ہے- بہت خوب- درحقیقت سیاست کو جب بھی مذہب کے ساتھ مدغم کرنے کی کوشش کی گئی تبھی تشدد کا مزاج پنپنا شروع ہوا- لیکن جب تک سیاست اور مذہب الگ الگ پیجز پر ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کے مددگار ہوں گے تو تشدد کا مزاج بھی مانند پڑتا جائے گا- سیاست تبھی کامیاب ہوتی ہے جب مذہب کی بتائی ہوئی راہوں پر چلا جائے- مذہب تبھی ناکام ہوتا ہے جب مذہب کو سیاست کی طرح پرکھا جاتا ہے- دونوں اپنی اپنی جگہ انسان کے لئے لازمی جزوینفک ہیں- لیکن دونوں کو مدغم کرنا درست عمل نہیں ہے – بہرحال آپ نے مضمون اچھا تحریر کیاہے

  • 04-02-2017 at 6:30 pm
    Permalink

    بہت خوب تحریر۔ آپ تو ہمارے ہی قبیلے کے آدمی نکلے

  • 04-02-2017 at 7:58 pm
    Permalink

    بھائی تنویر افضال، آپ کے قبیلے میں بہت وسعت ہے۔ اب کچھ اقربا نوازی ہو جائے۔۔۔۔ کچھ لکھیئے

Comments are closed.