لارڈ میکالے: سرزمین ہند کا دشمن یا دوست


\"\" جب سے شعور نے آنکھ وا کی، بڑوں سے اکبر الہٰ آبادی اور علامہ اقبال کے اشعار سنے، نوائے وقت گھر میں آتا تھا، پرائمری سکول سے اس کو پڑھنا شروع کیا، ہائی سکول میں اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ شروع ہوا، گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تو کالج کے اندر اور باہر بڑے جید پروفیسروں اور دانش وروں کے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع ملا، سب کی تان ایک ہی بات پر آ کر ٹوٹتی تھی کہ میکالے نام کا ایک بدبخت انگریز تھا جو ہمارے تمام تعلیمی، تہذیبی اورمعاشرتی مسائل کا ذمہ دار ہے۔ وہ ہمیں اپنی تاریخی اور ثقافتی جڑوں سے کاٹ کر یہاں کالے انگریزوں کا ایک طبقہ پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس کے ثبوت میں اس کا یہ مقولہ ہر جگہ پڑھنے کو ملتا تھا: ”ہماری بہترین کوششیں ایک ایسا طبقہ معرض وجود میں لانے کے لیے وقف ہونی چاہییں جو ایسے افراد پر مشتمل ہو جو رنگ و نسل کے لحاظ سے تو ہندوستانی ہو لیکن ذوق، ذہن، اخلاق اور فہم و فراست کے اعتبار سے انگریز“۔

تعلیم سے فارغ ہو کر پڑھانا شروع کیا اور تین دہائیوں سے زیادہ اس فریضے کو انجام دیا مگر میکالے کے ساتھ اس سے زیادہ واقفیت بڑھانے کی کبھی امنگ پیدا نہ ہوئی۔ کچھ عرصہ قبل میکالے کے نام سے زیر گردش ایک اقتباس نظر سے گزرا تو کچھ تجسس پیدا ہوا۔ اس اقتباس کو ایک نظر دیکھنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ در ست نہیں ہو سکتا۔ اس کی جعل سازی کو بہت سے لکھاری واضح کر چکے ہیں اس لیے میں اس پر وقت ضائع نہیں کروں گا۔

خدا ڈاکٹر طارق رحمان صاحب کا بھلا کرے کہ انہوں نے اہم ترین تعلیمی دستاویزات کو یک جا کرکے شائع کر دیا ہے ( Language and Education: Selected Documents (1780-2003)) اس میں میکالے کی وہ ”رسوائے زمانہ “ یادداشت [ Minute on Education]بھی شامل ہے۔

اردو دان طبقہ کو علامہ شبیر بخاری صاحب کا ممنون ہونا چاہیے کہ انہوں نے بڑی کد و کاوش سے اس کا متن برطانوی لائبریری سے حاصل کیا؛ اصل متن کو اردو ترجمہ اور تعلیقات و حواشی کے ساتھ شائع کیا۔ میکالے کا سوانحی خاکہ بھی بہت ایجاز و اختصار کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ اس یادداشت کے بارے میں علامہ شبیر بخاری صاحب کا فرمانا ہے کہ ”یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ برعظیم پاک و ہند میں انگریزی دور اقتدار کی جس یادداشت کی مذمت میں ہندو، مسلمان، سکھ، پارسی سب متفق ہیں وہ ”مقالہء میکالے“ ہے۔ علامہ بخاری صاحب نے اس یادداشت کی جو تاریخ اشاعت درج کی ہے اس سے یہ بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ بہت کم لوگوں نے اس کے مکمل متن کا مطالعہ کیا تھا۔ زیادہ تر لکھنے اور بولنے والوں کا انحصار صرف مندرجہ بالا جملے پر ہی رہا ہے۔

اولاً ڈاکٹر طارق رحمان صاحب کی کتاب اور بعد ازاں علامہ شبیر بخاری صاحب کے ترجمہ اور حواشی کو پڑھنے کے بعد اگرچہ مجھے

\"\"

ایک شدید صدمے سے دوچار ہونا پڑا مگر میرے اس مستقل رویے کو مزید تقویت ملی کہ مشہور اور مقبول عام باتوں کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اصل دستاویز کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کے مندرجہ بالا جملے کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اس کی مرضی اور منشا کے برعکس معنی پہنائے جارہے ہیں۔

 اس سے پیشتر کہ ہم اس کی تعلیمی پالیسی کا جائزہ لیں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کی شخصیت کا مختصر سا تعارف پیش کر دیا جائے اور اس الزام کا بھی جائزہ لے لیا جائے کہ وہ ایک متعصب انگریز تھا جو ہندوستانیوں اور بالخصوص مسلمانوں سے بغض و عناد رکھتا تھا۔

ٹامس بیبنگٹن میکالے انیسویں صدی کے انگریزی سماج کا ایک گل سرسبد تھا۔ وہ ایک کلاسیکی سکالر، شاعر، مضمون نگار، اعلیٰ پائے کا پارلیمانی مقرر اور سب سے بڑھ کر مورخ تھا۔ اس کی تاریخ انگلستان کو ایک شاہکار قرار دیا گیا ہے۔ وہ 1830ء سے 1834ء تک برطانوی دارالعوام کا رکن رہا۔ 8 جنوری 1834ء کو اس نے ہندوستان کی سپریم کونسل میں بطور ممبر قانون حلف اٹھایا ۔ 4 فروری کو اس نے دارالعوام کی سیٹ سے استعفا دیا اور پندرہ تاریخ کو بحری جہاز کے ذریعے ہندوستان روانہ ہوا۔ اس نے تین برس ہندوستان میں قیام کیا اور 17 جنوری 1838 کو واپس انگلستان روانہ ہوا۔ ہندوستان میں قیام کے دوران میں اس نے تن تنہا انڈین پینل کوڈ مرتب کیا۔ (اس کام کے لیے اگرچہ سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، مگرباقی دونوں ممبر بیماری کی وجہ سے کوئی کام نہ کر سکے تھے۔) اس کا دوسرا بڑا کارنامہ اس تعلیمی یادداشت کی تصنیف تھا۔ انگلستان میں وہ پھر پارلیمنٹ کا رکن رہا۔ اسی دور میں اس نے تاریخ انگلستان کی دو جلدیں شائع کیں اور شہرت کی بلندیوں سے سرفراز ہوا۔ 1859ء کو اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اگرچہ وہ چار سال سے کچھ کم عرصہ ہندوستان میں مقیم رہا مگر اسٹینلے والپرٹ کے بقول انیسویں صدی کے ایسٹ انڈیا کمپنی کے کسی بھی برطانوی اہل کار سے زیادہ اس نے ہندوستان کے تعلیمی مستقبل اور اس کے قانونی نظام پر اپنے اثرات مرتب کیے۔

علامہ شبیر بخاری صاحب نے میکالے پر مندرجہ ذیل اعتراضات وارد کیے ہیں:

1۔ میکالے ایک مغرور اور متعصب انگریز تھا جو ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی روایات سے بے بہرہ تھا۔اس کے برعکس مستشرقین مسلمانوں اورہندوؤں کے ہم درد اور ان کی علمی اورتہذیبی روایات کی حفاظت اور پاسداری کرنا چاہتے تھے۔

2۔ میکالے کا یہ مقالہ اس کی ”ملوکانہ ذہنیت کا غماز“ ہے اور وہ ”انگریزی استبداد اور انتداب کا خطرناک طلسم“ باندھنا چاہتا تھا۔

3۔ میکالے پر بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس کی پالیسی کے نتیجے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا صدیوں پرانا تعلیمی نظام برباد ہو گیا۔ علامہ بخاری صاحب نے رش بروک ولیمز کا یہ تبصرہ نقل کیا ہے کہ” انگریزی دور میں ان قومی مدارس کی حوصلہ افزائی نہ ہوئی، مکاتب اور پاٹھ شالے بند ہو گئے اور ہندوستان جہالت کی تاریکیوں میں ڈوب گیا“۔

جہاں تک میکالے پر متعصب ہونے کے الزام کا تعلق ہے تو اس سے شاید انکار ممکن نہ ہو۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات تھی کہ انیسویں صدی کے مغربی اور شمالی یورپ میں نسل پرستی کا نظریہ پروان چڑھنا شروع ہو گیا تھا۔ گزشتہ دو صدیوں کی مسلسل علمی ترقی، معاشی خوش حالی اور عسکری برتری نے اس خیال کو پروان چڑھایا کہ اس کا سبب ایک مخصوص نسل ہے۔ مگر کیا میکالے پہلا شخص تھا جو اپنی مفتوح قوم کے بارے میں تحقیر آمیز خیالات کا حامل تھا؟ جب مسلمان غالب تھے تو وہ دوسری اقوام و مذاہب کے بارے میں ایسے ہی متعصبانہ خیالات رکھتے تھے۔ صلیبی جنگوں کے زمانے میں جب یورپین لوگوں سے واسطہ پڑا تو ان کے اخلاق، رسم و رواج اور طب میں ان کی مہارت کا اسی طرح مذاق اڑایا جاتا تھا۔ ہندوستان کے مسلمان مورخین نے ہندوؤں کے بارے میں کس قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہوا ہے؟ تعصب کی وکالت مقصود نہیں بلکہ اس افسوس ناک تاریخی حقیقت کا تذکرہ کرنا مقصود ہے کہ فاتحین کا مفتوحین کے بارے میں عموماً ایک سا ہی رویہ رہا ہے۔ اس تعصب کا ہدف غیر یورپی اقوام ہی نہیں تھیں بلکہ مشرقی اور جنوبی یورپ کے باشندوں اور یہودیوں کو بھی کم عقل اور غیر متمدن قرارد یا جاتا تھا کیونکہ ترقی کی اس دوڑ میں وہ بھی مغربی اور شمالی یورپ سے پیچھے رہ گئے تھے۔

تاہم میکالے کا یہ وصف بھی تھا کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر رائے کا اظہار کر سکتا تھا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت اس کی برطانوی دارالعوام میں 1833 کی وہ تقریر ہے جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور ہندوستان کی حکومت پر اس نے اپنے نقطہ نظر کو بیان کیا ہے۔ وہ کمپنی کی حکومت کی خامیوں اور خرابیوں کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ ہندوستان میں ایک مستحکم حکومت قائم کرنے پر بجا طور پر فخر کا اظہار بھی کرتا ہے مگر اسے احساس ہے کہ ابھی بہت سا کام باقی ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ہماری حکومت کا تقابل اکبر کے ہندوستان سے نہ کیا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ ہمارے حکومت سنبھالنے سے پہلے ہندوستان کی کیا حالت تھی۔

میکالے نے اپنا یہ موقف بھی پرزور انداز سے پیش کیا کہ” مقامی اور یورپی لوگوں کے لیے مساوی قانون ہونا چاہیے۔ وہ مراعات جن سے محض چند افراد مستفید ہو رہے ہوں اور عوام کی کثیر تعداد ان سے محروم ہو تو اسے آزادی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ نرا استبداد ہے۔۔۔ ہندوستان پہلے ہی ذات پات کے مصائب سے دوچارہے؛ وہاں برہمنوں اور شودروں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہیں۔ ہمیں ذات پات کے ایک نئے نظام کی لعنت کو مسلط کرنے سے احتراز کرنا چاہیے جہاں کمپنی کے ملازمین برہمن اور مقامی لوگ شودر کا درجہ رکھتے ہوں“۔ اسی بنا پر آج بھارت میں دلت کمیونٹی میکالے کی بہت تعریف و توصیف کر رہی ہے۔

اگرچہ وہ اس بات کا قائل نہیں تھا کہ اس وقت ہندوستان میں نمائندہ اداروں کا قیام ممکن تھا مگر اسے احساس تھا کہ ”ہو سکتا ہے کہ ایک دن ہندوستان کی حکومت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے“ کیونکہ برطانوی تعلیم پانے کے بعد وہاں ایسی قوم وجود میں آ سکتی ہے جو امور مملکت کو چلانے اور سنبھالنے کہ مکمل اہلیت رکھتی ہو گی۔ اس کے یہ الفاظ قابل داد ہیں: ”ہم اچھی تعلیم کے ذریعے اپنی رعایا میں یہ استعداد پیدا کر سکتے ہیں کہ وہ اچھی حکومت قائم کرنے کے قابل ہو سکیں؛ یورپی علوم کی تعلیم کے بعد وہ کسی دن یورپی اداروں کا مطالبہ بھی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ایسا دن کبھی آئے گا۔ تاہم اس دن کو ٹالنے یا اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا کبھی پسند نہیں کروں گا۔ جب کبھی ایسا دن طلوع ہوا تو انگلش تاریخ کا سب سے لائق فخر لمحہ ہو گا۔ ایک عظیم قوم کو غلامی اور توہمات کے درجہ اسفل سے ان پر عمدہ حکمرانی کے ذریعے ان کے اندر شہری مراعات کا داعیہ پیدا کرنا ہمارا شایان شان کارنامہ ہو گا۔“

جہاں تک میکالے کے مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا معاملہ ہے تو میکالے سے منسوب جعلی قول پر دھمال ڈالنے والے دانش وروں کو اس کی ( 9مارچ 1843) کی برطانوی دارلعوام میں کی گئی تقریر کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے جس کا عنوان سومنات کے دروازے ہے۔ اس وقت ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ایلن برو نے غزنی میں سلطان محمود غزنوی کے مزار سے دروازے اکھاڑ کر ہندوستان لا کر انہیں سومنات کے مندر میں نصب کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے اس اقدام پر برطانوی دارالعوام کے رکن مسٹر ورنون اسمتھ نے تحریک پیش کی کہ لارڈ ایلن برو کا یہ فیصلہ غیر دانشمندانہ، غیر شایان شان اور قابل مذمت ہے۔ یہ تحریک اگرچہ کثرت رائے سے رد کر دی گئی مگر اس موقع پر میکالے کی تقریر یقینا لائق مطالعہ ہے۔ اس تقریر میں اس نے اگرچہ ہندو مذہب کے بارے بہت نازیبا خیالات کا اظہار کیا ہے مگر ہندووں کے مقابلے پر مسلمانوں کی حمایت کی ہے۔ اس کی اس تقریر کے چند نکات پیش خدمت ہیں:

”مسلمان اگر چہ ایک اقلیت میں ہیں لیکن ان کی اہمیت ان کی تعداد کے مقابلے پر بہت زیادہ ہے کیونکہ وہ متحد، پرجوش، حوصلہ مند اور جنگجو جماعت ہیں۔ بطور حکمران ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم تمام مذہبی مسائل پر سخت غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں۔ ۔۔۔ گورنر جنرل کو یہ واضح ہدایت تھی کہ” ہندوستان میں برطانوی ارباب اختیار مقامی لوگوں کے مندروں سے کوئی واسطہ نہیں رکھیں گے، نہ ان کو نذرانے دیں گے، نہ ان کی تزئین و آرائش کریں گے اور نہ ان کو فوجی سلامی دیں گے۔ “ مگروہ اس حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ ۔۔لارڈ ایلن برو کا یہ فریضہ منصبی تھا کہ وہ نہ کسی مذہب کو دوسرے پر ترجیح دے نہ کسی کی توہین کا مرتکب ہو۔ مگر اس نے نادانستگی میں ایک مذہب کے لیے عقیدت کا مظاہرہ کیا ہے اور دوسرے کی شدید توہین کی ہے؛ اس نے اظہار عقیدت کے لیے اس مذہب کا انتخاب کیا ہے جو بدترین ہے اور اس مذہب کی طرف توہین آمیز برتاؤ کیا ہے جو ان میں بہترین اور منزہ ترین ہے۔۔۔ وہ مذہب جو شرک کے مقابل خدا کی وحدانیت کی تعلیم دیتا ہے، جو بت پرستی کے برعکس اصنام کی پوجا کو رد کرتا ہے۔۔۔اگرچہ گورنر کا فریضہ یہی ہے کو مسلمانوں اور صنم پرستوں کے مابین مکمل طور پر غیر جانب دار رہے، مگر ہماری گورنمنٹ اگر ترجیح دینے کا فیصلہ کر ہی لے تو مسلمان اس کے زیادہ حق دار ہیں۔۔۔ لارڈا یلن برو ایک مسجد کے دروازے اکھاڑ کر ایک مندر کو تحفہ دے رہا ہے۔ یہ اقدا م مسلمانوں کو بہت برافروختہ کر سکتا ہے۔“

اس تقریر کو پڑھنے کے بعد مجھے امید ہے کہ ہمارے مصنفین میکالے کے بارے میں اپنے خیالات کوشاید کچھ تبدیل کرنے پر آمادہ ہو جائیں کیونکہ وہ انہیں اتنا مسلمان دشمن دکھائی نہیں دے گا جتنا انہوں نے فرض کر رکھا تھا۔

آج سے ٹھیک 182 برس پہلے2  فروری 1835ء کو میکالے نے کلکتہ میں گورنر جنرل کو اپنی تعلیمی سفارشات پیش کی تھیں جنہیں ”رسوائے زمانہ یادداشت“ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ اس کی سفارشات نے ہندوستان کے مستقبل پر گہرے اور انمٹ اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہندوستان کی تقریباً سبھی اقوام نے اس کی سفارشات پر منفی رد عمل کا اظہار کیا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سبھی میکالے کے تجویز کردہ راستے پر ہی گامزن ہیں۔ ان سفارشات کا منشا اور مقصود کیا تھا ؟ کیا میکالے واقعتا غلامانہ ذہنیت والا ایک ایسا طبقہ پیدا کرکے علامہ بخاری کے بقول ”انگریزی استبداد اور انتداب کا خطرناک طلسم“ باندھنا چاہتا تھا اور ہندوستان پر برطانوی راج کو دوام بخشنا چاہتا تھا؟ یا وہ اہل ہند کو جدید تعلیم سے روشناس کرکے اہل یورپ کے برابر لانا چاہتا تھا؟

ان سوالات سے اس مضمون کی آئندہ قسط میں تعرض کریں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “لارڈ میکالے: سرزمین ہند کا دشمن یا دوست

  • 04-02-2017 at 9:49 pm
    Permalink

    It is a nice piece of writing. Please also discuss Iqbal’s view on Western education in this regard. especially:
    “Aur ye ehl-e-Kalisa ka nizam e taleem
    Aik sazish hai faqat Din o Murawwat ke khilaf”

Comments are closed.