سرسید کی دوویست سالگرہ (1)


\"\"مکتوب بنام الطاف حسین حالی

 (اس سال اکتوبر کی 17 تاریخ کو سید احمد خاں، المعروف بہ سرسید، کی پیدائش پر دو سو سال پورے ہوجائیں گے، اور ان کی یاد کی تیسری صدی شروع ہو گی۔ میں نےارادہ کیا ہے کہ اس سال کے دوران سرسید کی مختلف تحریریں ایک بار پھر پڑھ ڈالوں۔ مکمل نہیں تو منتخب۔ اول سے آخر تک نہیں تو جستہ جستہ۔ کیونکہ،

تازہ خواہی داشتن گر داغ ہاے سینہ را

گاہے گاہے بازخوان این قصّہٴ پارینہ را

یہ بھی نیت ہے کہ وقتاًفوقتاً احباب کو بھی لذت آشنا کرتا رہوں۔ چونکہ سر سید اور حالی لازم و ملزوم ہیں اسلئے ابتدا حالی کے نام (سرسید کے لکھے) ایک یادگار خط سے کی ہے۔)

 جناب مخدوم و مکرم من۔

 عنایت نامجات بمع پانچ جلد ’مسدّس‘ پہنچے۔ جس وقت کتاب ہاتھ میں آئی جب تک ختم نہ ہولی ہاتھ سے نہ چھوٹی اور جب ختم ہولی تو افسوس \"\"ہوا کہ کیوں ختم ہو گئی۔ اگر اس مسدّس کی بدولت فنِ شاعری کی تاریخ جدید قرار دی جاوے تو بالکل بجا ہے۔ کس صفائی اور خوبی اور روانی سے یہ نظم تحریر ہوئی ہے بیان سے باہر ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ ایسا واقعی مضمون جو مبالغہ، جھوٹ، تشبیہاتِ دور از کار سے، جو مایہٴ نازِ شعرا و شاعری ہے، بالکل مبرّا ہے، کیونکر ایسی خوبی و خوش بیانی اور موٴثر طریقہ پر ادا ہوا ہے۔ متعدد بند اس میں ایسے ہیں جو بے چشمِ نم پڑھے نہیں جاسکتے۔ حق ہے، جو دل سے نکلتی ہے دل میں بیٹھتی ہے۔ [دیباچے کی] نثر بھی نہایت عمدہ اور نئے ڈھنگ کی ہے۔ پرانی شاعری کا خاکہ نہایت لطف سے اڑایا ہے یا ادا کیا ہے۔ میری نسبت جو اشارہ اس نثر میں ہے اسکا شکر ادا کرتا ہوں اور آپکی محبت کا اثر سمجھتا ہوں۔ اگر پرانی شاعری کی کچھ بو اس میں پائی جاتی [ہے] تو صرف انھی الفاظ میں ہے جن میں میری طرف اشارہ ہے۔ بےشک میں اس [نظم] کا محرک ہوا اور اسکو میں اپنے ان اعمالِ حسنہ میں سے سمجھتا ہوں کہ جب خدا پوچھےگا کہ توُ کیا لایا، میں کہونگا کہ حالی سے مسدّس لکھوالایا ہوں، اور کچھ نہیں۔ خدا آپکو جزائےخیر دے اور قوم کو اس سے فائدہ بخشے۔ مسجدوں کےاماموں کو چاہیےکہ نمازوں میں اور خطبوں میں اسی کے بند پڑھا کریں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 آپ کے اس خیال کا کہ حقِ تصنیف مدرسةالعلوم کو دیا جاوے اور رجسٹری کرادی جاوے میں دل سے شکر کرتا ہوں۔ مگرمیں نہیں چاہتا کہ اس مسدّس کو، جو قوم کے حال کا آئینہ اور یا انکےماتم کا مرثیہ ہے، کسی قید سے مقیّد کیا جاوے۔ جس قدر چھپے اور جس قدر وہ مشہور ہو اور لڑکے ڈنڈوں پر گاتے پھریں اور رنڈیاں مجلسوں میں طبلےسارنگی پر گاویں، قوال درگاہوں میں گاویں، حال لانے والے اس سچّے حال پر حال لاویں، اسی قدر مجھ کو زیادہ خوشی ہوگی۔ میرا تو دل چاہتا ہے کہ دہلی میں ایک مجلس کروں جس میں تمام اشراف ہوں اور رنڈیاں نچواوٴں، مگر وہ رنڈیاں یہی مسدّس گاتی ہوں۔ میں اس کل مسدّس کو ’تہذیب الاخلاق‘ میں چھاپوں گا۔ ۔ ۔ ۔

\"\"

السلام، خاکسار، آپکا احسان مند تابعدار، سید احمد

شملہ، پارک ہوٹل، 10 جون 1879ء۔

***

سر سید کی خواہش تو ان کے دل ہی میں رہی لیکن رنڈیوں نے مسدّس گائی ضرور۔ غالباً 1937ء میں جب ’حالی صدی‘ منائی گئی تو انکے مسدّس کا ایک شاندار ’صدی ایڈیشن‘ ڈاکٹر عابد حسین کی زیر نگرانی دہلی سے شائع ہوا تھا۔ اس میں اس خط کا فوٹو چھپا تھا۔ میں نےاسی کو استعمال کیا ہے۔ کتاب میں مشاہیر کے مضامین بھی شامل ہیں۔ مولوی عبدالحق صاحب کے مضمون کا پہلا پیراگراف نیچے نقل کیا جاتا ہے:

\” پچاس برس سے زیادہ ہوتے ہیں۔ میرا لڑکپن کا زمانہ تھا۔ میرے ایک ماموں فیروزپور (پنجاب) میں ملازم تھے اور فیروزپور سے قریب ایک گاوٴں میں بس گئے تھے۔ یہ گاوٴں انھیں کا تھا اور وہاں کے سب سے بڑے آدمی یہی تھے۔ انھوں نے اپنے بیٹے کے ختنے کیئے اور اس رسم میں اپنے عزیزواقارب اور دوست احباب کو مدعو کیا۔ یہ جشن بڑی دھوم دھام سے دوتین روز تک رہا۔ دوسرے دن کا ذکر ہے۔ صبح کا \"\"وقت تھا۔ میدان میں بہت بڑا شامیانہ تنا ہوا تھا، اور اس میں لوگ کھچاکھچ بھرے ہوےٴ تھے۔ بلکہ مجمع شامیانے سے باہر دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اس میں زیادہ تر اس گاوٴں اور آس پاس کے گانووں کے کسان اور مزدور تھے۔ اتنے میں ایک طوائف اٹھی۔ یہ لاہور سے بلائی گئی تھی۔ نام میں اس وقت بھول گیا ہوں۔ یہ اچھی پڑھی لکھی عورت تھی۔ شعر بھی کہتی تھی اور اس کی غزلیں لاہور کے اخباروں میں چھپا کرتی تھیں۔ اس نے کھڑے ہوکر مجمع پر ایک نظر ڈالی اور یکبارگی مسدّس گانا شروع کیا:

   کسی نے یہ بقراط سے جاکے پوچھا

   مرض تیرے نزدیک مہلک ہیں کیا کیا

جب تک وہ گاتی رہی، سناٹے کا عالم رہا۔ کچھ لوگ جھوم رہے تھے اور کچھ آبدیدہ تھے۔ وہ سماں اب تک میری نظروں کے سامنے ہے اور وہ گانا اب تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ \”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماٴخذ: الطاف حسین حالی۔ مسدّس حالی (صدی ایڈیشن)۔ حالی پبلشنگ ھاوٴس، دہلی۔ تاریخ ندارد۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔