حافظ سعید: قومی اثاثہ یا سلامتی کےلئے خطرہ


\"\"اگرچہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی نظر بندی حکومت پاکستان کا پالیسی فیصلہ ہے جو قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ اس سے قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ حکومت کے نمائندے اس بارے میں مزید تفصیل بتانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ حافظ سعید اور جماعت الدعوۃ کے چند رہنماؤں کی نظر بندی کے علاوہ حکومت پنجاب کے اعلان کے مطابق جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو واچ لسٹ اور سیکنڈ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہ آنے کی وجہ سے ملک میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ حکومت نے یہ اچانک فیصلہ کیوں کیا ہے اور کیا واقعی حکومت اب جماعت الدعوۃ اور اسی قسم کے نیم عسکری گروہوں کا خاتمہ کرنے کےلئے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حافظ سعید کے علاوہ مولانا مسعود اظہر کے جیش محمد پر بھارت میں دہشت گردی کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں۔ یہ دونوں گروہ اور اس قسم کے دیگر عسکری گروپ 80 کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر میں جہادی تحریک شروع کرنے کےلئے استعمال کئے گئے تھے۔ اب پاکستان یہ اعلان کرتا ہے کہ اس نے یہ پالیسی ترک کر دی ہے تاہم بھارت مسلسل پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس دوران بھارت کے خلاف سرگرم گروہ بھی پاکستان میں پوری قوت اور توانائی سے موجود رہے ہیں۔

پاکستان کے اعلانات اور عمل میں تضاد کی وجہ سے اسے بھارت کے علاوہ امریکہ کی طرف سے بھی دباؤ اور مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ امریکہ حافظ سعید کو ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھتا ہے اور اس کی گرفتاری پر دس ملین ڈالر کا انعام بھی مقرر کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے حافظ سعید کو آزادی سے رہنے اور جماعت الدعوۃ کے تحت مختلف النوع سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ انہوں نے ملک بھر میں اپنے مراکز بنائے ہوئے ہیں اور ان کی تنظیمیں متعدد فلاحی منصوبے چلاتی ہیں۔ اس کے علاوہ حافظ سعید بھارت کے خلاف بیان بازی اور مباحث میں بھی ملوث رہے ہیں۔ بعض مرحلوں پر تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت یا فوج جو بات اپنے سرکاری ترجمان کے ذریعے نہیں کہہ سکتی، اسے حافظ سعید کے ذریعے کہلوا دیا جاتا ہے۔ انہیں فوج کے اہم ترین اثاثہ کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اب اگر فوج کے ترجمان یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے پالیسی فیصلہ کے تحت حافظ سعید کے خلاف کارروائی کا اقدام کیا ہے تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ اب ملک کی فوج اور حکومت بالآخر یہ سمجھنے میں کامیاب ہو گئی ہیں کہ مذہب کے نام پر متحرک ہونے والے نیم عسکری گروہوں کے ذریعے قومی مفادات کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ بلکہ یہ عناصر دشمن کو چت کرنے کی بجائے پاکستانی معاشرہ میں انتہا پسندی اور مذہبی منافرت کے بیج بونے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ملک میں فرقہ وارانہ رجحانات اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ ملا ہے جو دہشت گرد گروہوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنتی رہی ہے۔ پاک فوج 2014 سے دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ قبائلی علاقوں کو تخریبی عناصر سے پاک کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی اور بلوچستان میں انتہا پسند عناصر کے خلاف کامیاب کارروائی کی گئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جب ریاست جماعت الدعوۃ اور جیش محمد جیسے گروہوں کی سرپرستی کا سلسلہ جاری رکھتی ہے اور انتہا پسند مذہبی گروہ دفاع پاکستان کونسل جیسے پلیٹ فارم بنا کر اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری حکمت عملی میں یہ دو رخی کیوں ہے اور اس سے کیا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس پریشانی کا اظہار قومی سطح پر بھی دیکھنے میں آتا ہے اور متعدد تبصرہ نگار یہ سوال اٹھاتے رہتے ہیں کہ نام نہاد اچھے اور برے طالبان کی تفریق ختم کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود جب مذہب کے نام پر انتہا پسندی اور جنگ جوئی کا فروغ کرنے والے گروہ سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھ رہے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کیوں کر کامیاب ہو سکتی ہے۔ یہی سوال امریکہ اور دیگر مغربی ممالک بھی اٹھاتے ہیں۔ وہ اس بات کا اعتراف کرنے کے باوجود کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں اور کسی حد تک اس میں کامیابی بھی حاصل کی ہے ۔۔۔۔۔ پاکستان پر مسلسل یہ دباؤ بھی ڈالتے رہے ہیں کہ ہر قسم کے دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلاتخصیص کارروائی کی جائے۔ افغانستان اور امریکہ قبائلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی پر انگلی اٹھاتے ہیں تو بھارت اپنے ہاں ہونے والی تخریبی کارروائیوں کا الزام لشکر طیبہ اور جیش محمد پر عائد کرکے پاکستان کو دہشت گردی کا پشت بان قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔\"\"

ان حالات میں حافظ سعید اور جماعت الدعوۃ کے خلاف اچانک کارروائی کے بعد یہ مباحث منظر عام پر آ رہے ہیں کہ پاکستان کو یہ فیصلہ و اقدام کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ہے۔ کیونکہ اس بات کے آثار دکھائی نہیں دیتے کہ پاکستان نے بعض جنگجو اور انتہا پسند گروہوں کے خلاف اپنی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بارے میں سب سے پہلا اندازہ یہ قائم کیا گیا کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے انتہا پسند اور منہ زور صدر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کےلئے یہ اقدام کیا ہے۔ ٹرمپ بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ پاکستان یہ اندزہ کرنے میں کوئی غلطی نہیں کرسکتا کہ اگر اس نے نئی امریکی حکومت سے روابط استوار کرنے ہیں تو اسے بھارت مخالف گروہوں کو لگام دینا ہوگی تاکہ امریکہ یہ نہ کہہ سکے کہ اس کے ہاں بھارت میں دہشت گردی کرنے والے گروہ آزادانہ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ نئی امریکی حکومت کو ابھی پاکستان کے ساتھ اس معاملہ پر بات کرنے کا موقع نہیں ملا ہوگا۔ اس لئے حافظ سعید اور جماعت الدعوۃ کا یہ الزام حقیقت پر مبنی نہیں ہو سکتا کہ پاکستان نے امریکہ کی طرف سے پابندیوں سے بچنے کےلئے ان لیڈروں کو گرفتار کیا ہے۔ البتہ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ صدر اوباما کی حکومت مسلسل پاکستان سے جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی رہی تھی۔ اس بارے میں شنوائی نہ ہونے پر اوباما کے آخری دور میں پاکستان پر یہ واضح کیا گیا تھا کہ اگر اس نے مناسب اقدام نہ کیا تو امریکہ پاکستان کے خلاف پابندیاں لگانے پر مجبور ہوگا۔ پاکستانی حکام کو اندازہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت جب متنازعہ احکامات پر عمل درآمد اور مختلف وزارتوں میں مناسب عملہ متعین کرنے کے مسائل سے فارغ ہوگی تو پاکستان سے سب سے پہلے یہی مطالبہ کیا جائے گا۔ اس لئے حکومت نے پیش بندی کے طور پر حافظ سعید کی گرفتاری اور جماعت الدعوۃ کی نگرانی کا فیصلہ کر لیا۔

اس حوالے سے یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ چین کےلئے بھی ملک میں مذہبی گروہوں کی بڑھتی ہوئی قوت قابل قبول نہیں ہے۔ چین سی پیک منصوبہ کے تحت پاکستان میں 50 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ گوادر سے کاشغر تک بننے والی شاہراہ چینی تجارت کےلئے نہایت اہم ہوگی۔ وہ یہ بات پسند نہیں کرے گا کہ پاکستان میں ایسے گروہ قوی ہوتے رہیں جو کسی بھی موقع پر تجارتی قافلوں کا راستہ روکنے جیسے انتہائی اقدامات کرنے کے قابل ہوں۔ پاکستان کےلئے بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی منظر نامہ میں امریکہ کے علاوہ چین کے ساتھ مراسم کو قائم رکھنا اور اعتماد سازی کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس لئے پاکستان نے جماعت الدعوۃ کے خلاف جو کارروائی امریکہ کے دباؤ اور مطالبہ پر نہیں کی، اسے چین کے تقاضہ پر کرنا ضروری ہو گیا ہوگا۔ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے فوج اور سول حکومت کی قیادت نے امریکہ اور چین کے موقف کی روشنی میں اپنے طور پر اس وقت یہ کارروائی کرنا ضروری خیال کیا ہو۔

تاہم یہ جاننا بے حد اہم ہوگا کہ کیا یہ اقدام حکومت کی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا نتیجہ ہے یا ماضی کی طرح حافظ سعید کو عارضی طور پر نظر بند کرکے براہ راست تنقید سے بچنے کا راستہ نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر حکومت نے یہ کارروائی نیم دلی سے کی ہے اور درپردہ حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کی پیٹھ ٹھونکنے کا کام جاری ہے تو اس سے قومی مفاد کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ بلکہ دوغلے پن پر مبنی یہ پالیسی پاکستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بعض انتہا پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا ڈھونگ نہ کرے اور نہ ہی یہ کام کرتے ہوئے امریکہ و چین یا بھارت کے دباؤ کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ بلکہ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ ملک کی معاشی ترقی اور سفارتی احترام و وقار کےلئے قانون کی عملداری نافذ کرنا ضروری ہے۔ ایسے تمام گروہوں کا خاتمہ قومی مفاد میں ہے جو ملک میں متوازی عسکری قوت کی حیثیت سے ایک طرف داخلی امن و امان کےلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں تو دوسری طرف اپنے انتہا پسندانہ نعروں اور پیغام کے ذریعے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گروہ ہمسایہ ملک اور امریکہ و چین کے ساتھ تعلقات میں دراڑ ڈالنے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔

پاکستان کو یہ ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو بیرونی جہادی عناصر کے تعاون سے مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ گزشتہ برس جولائی میں شروع ہونے والی تحریک کے دوران یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ اس علاقے میں ابھرنے والے عسکری گروہ بھی آزادی کی تحریک کا سہارا بننے کی بجائے، اس کےلئے زہر قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ گروہ اکا دکا حملے کرکے بھارتی حکمرانوں کو امن پسند تحریک کے قائدین اور پاکستان پر الزام تراشی کا موقع دیتے ہیں۔ اس طرح کشمیریوں کی قربانیوں اور بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات نہیں ہوتی بلکہ یہ پروپیگنڈا توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی سرپرستی میں دہشت گرد عناصر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں یا انہیں کاروبار بند کرکے احتجاج کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح آزادی کے راستے میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ پاکستان کو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے بلکہ یہ بات اہم ہے کہ کشمیری خود اپنے مستقبل کا کیا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اب یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ کشمیریوں کی اکثریت بھارت یا پاکستان کسی کے ساتھ بھی الحاق کی حامی نہیں ہے۔

مسلح گروہوں کے ذریعے سرکاری پالیسی کی کامیابی کا خواب دیکھنے کا طریقہ ناکام ہو چکا ہے۔ اس لئے اب مملکت پاکستان کو جماعت الدعوۃ یا اس جیسے دیگر گروہوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اس گروہ نے کئی ہزار نوجوانوں کو جنگی تربیت کے ذریعے مرنے مارنے کےلئے تیار کیا ہوا ہے۔ اس لئے حکومت اگر کوئی سخت اقدام کرتی ہے تو ملک میں ایک نئے فساد کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے اندازے صرف دعوؤں کی بنیاد پر قائم کئے جاتے ہیں۔ اصل صورتحال کا علم یا تو ان گروہوں کی قیادت کو ہوگا یا ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس اس کے درست اعداد و شمار ہونے چاہئیں۔ اگر اس قیاس میں ذرا سی بھی حقیقت ہے کہ جو گروہ دشمن ملک کے خلاف کارروائی کےلئے تیار کئے گئے تھے، وہ اب پاکستان اور اس کے اداروں کے ساتھ نبرد آزما ہونے پر تیار ہو سکتے ہیں تو حکومت کو اندیشوں اور خوف کو ہوا دینے کی بجائے فوری طور سے ٹھوس عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے پاس طاقتور اور منظم فوج ہے اور اس کا حکومتی ڈھانچہ مناسب طریقے سے کام کر رہا ہے۔ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اگر واضح اور دوٹوک پالیسی اختیار کی جائے تو حکومت ان گروہوں کو ان کی عددی قوت اور عسکری صلاحیت کے باوجود کنٹرول کرنے اور انہیں معاشرے کا پرامن حصہ بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں جتنی تاخیر کی جائے گی، صورتحال اتنی ہی مشکل اور پیچیدہ ہوگی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 620 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali