معاشی استحکام: پاکستان کی مڈل کلاس میں حیرت انگیز اضافہ


سعید شاہ – وال سٹریٹ جرنل

\"\"غربت اور دہشت گردی میں کمی اور جمہوریت کی مضبوطی سے صارفین کے خرچ میں خطیر اضافہ ہوا ہے

اسلام آباد: عالمی میڈیا میں پاکستان کا ذکر اکثر صرف بری خبروں جیسے دہشت گردی، فوجی مارشل لا یا شدید غربت کے حوالے سے ہی آتا ہے مگر چند سالوں میں پاکستان میں ایک اور طرح کی ترقی ہوئی ہے، یعنی ابھرتی ہوئی مڈل کلاس جو معاشی ترقی کے انجن کو ایندھن دینے اور کمزور جمہوری نظام کو طاقت دینے کا باعث بن رہی ہے۔

نیسلے پاکستان کے سی ای او برونو اولیر ہوئیک کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان ایک ہاٹ زون میں داخل ہو رہا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں صارفین کی جانب سے طلب اس قدر بڑھ چکی ہے کہ یہ جلد ہی قابو سے باہر ہوجائے گی۔ نیسلے کی سیل پچھلے پانچ سال میں دوگنی ہو کر ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان اپنے عظیم ہمساؤں چین اور ہندوستان کی وجہ سے ہمیشہ نظر انداز ہوجاتا ہے اگرچہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جس کی آبادی بیس کروڑ سے بڑھ چکی ہے۔ اب جب کہ ملک میں امن و امان کے حالات بہت بہتر ہوچکے ہیں تو ملک کے مستحکم معاشی اور سیاسی حالات نے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کو توانائی بخشی ہے۔

پچھلے سال آفتاب ایسوسی ایٹ فرم کی ایک غیر شائع شدہ ریسرچ جس کا موضوع پاکستان میں معیار زندگی کی پیمائش تھی کے مطابق پاکستان میں قریب 38 فیصد آبادی مڈل کلاس پر مشتمل ہے جب کہ اپر کلاس یا امرا کی تعداد 4 فیصد کے قریب ہے۔ یہ مل کر کل آٹھ کروڑ چالیس لاکھ افراد بن جاتے ہیں، یعنی جرمنی یا ترکی کی آبادی سے بھی زیادہ۔

\"\"اس ریسرچ کے مطابق ایسے گھرانوں کے پاس عموماً موٹر سائکل، کلر ٹی وی، فریج، واشنگ مشین ہوگی اور کم از کم گھر کے ایک فرد نے سولہ سال کی تعلیم مکمل کر رکھی ہوگی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایسے گھرانے جن کے پاس موٹر سائکل ہے ان کی تعداد 2014 میں 34 فی صد تک پہنچ گئی ہے جب کہ یہی تعداد 1991 میں محض 4 فی صد تھی۔ اسی عرصے میں واشنگ مشین رکھنے والے گھرانوں کی تعداد 13 فی صد سے بڑھ کر 47 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی سرمایہ داروں کے لئے کشش کا باعث بن رہے ہیں۔

دسمبر 2016 میں ہالینڈ کی ڈیری مصنوعات پیدا کرنے والی کمپنی Royal FrieslandCampina NV نے اینگرو فوڈز کو خریدنے کے لئے 461 ملین ڈالر کی رقم خرچ کی ہے۔ اگرچہ ابھی بھی پاکستان میں زیادہ تر دودھ پسچرایز کئے بغیر ہی فروخت کیا جاتا ہے۔

پچھلے سال ہی چین کی شہنگائی الیکٹرک پاور کمپنی نے ایک ارب اسی کروڑ ڈالر کی خطیر رقم سے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اکثر حصص خرید لئے ہیں۔ ترکی کی الیکٹرک مصنوعات ساز کمپنی Arçelik  نے پچیس کروڑ اسی لاکھ ڈالر میں ڈاؤلنس کو خریدا ہے، کمپنی کا کہنا تھا کہ \”یہاں کی ورکنگ اور مڈل کلاس تیزی سے بڑھ رہی ہے\”۔ اسی سال فرنچ کار ساز کمپنی Renault SA  نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں گاڑیوں کا پلانٹ لگانے لگی ہے۔

پچھلے تین سالوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اموات میں دو تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔ معاشی ترقی بڑھ کر آٹھ سال میں سب سے زیادہ 5 فی صد تک آچکی ہے اور چین نے اربوں ڈالر کی لاگت سے سی پیک پر کام بھی شروع کر دیا ہے ایسے میں صرف پچھلے سال کراچی سٹاک ایکسچینج کا کاروبار 46 فی صد تک بڑھا۔

ورلڈ بینک کے مطابق 2002 سے 2014 کے دوران پاکستان میں غربت میں حیرت انگیز طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔ غربت کی شرح آدھی ہو کر کل آبادی کی 29 فی صد تک آگئی ہے۔ اس عرصے کی شروعات میں معاشی ترقی کی رفتار بہت تیز رہی، اس دوران پراپرٹی کی قیمتیں بڑھ گئیں، بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں پیسہ بھیجنے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا، امسال بیس ارب ڈالر بھیجے گئے ہیں، جب کہ اس دوران حکومت کی جانب سے بھی غریبوں کی امداد کے لئے پروگرام چلائے گئے۔

مگر ابھی بھی کروڑوں پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، غذائیت کی کمی بچوں کی نامکمل نمو کا باعث بن رہی ہے۔

کراچی سکول آف بزنس اینڈ لیڈر شپ کے پروفیسر جواد غنی کی ریسرچ کے مطابق اسی عرصے میں قومی کھپت میں 90 فیصد اضافہ مڈل کلاس کی جانب سے ہوا۔

پاکستان کی مڈل کلاس کا معیار زندگی مغربی معیار کے مطابق تو بہت معمولی ہے اور اس کی کوئی متفقہ اور سٹینڈرڈ تعریف بھی نہیں کی گئی۔

معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے مطابق 2030 تک مڈل کلاس کی نمو میں زیادہ دو تہائی ایشائی ممالک میں ہوگی۔

ترقی پزیر دنیا میں موٹر سائکل جیسی دیرپا مصنوعات کا خریدنا مڈل کلاس انداز زندگی کی نشانی گنا جاتا ہے، ایسی مصنوعات روزگار کے مواقع بھی بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ پاکستان میں موٹر سائکل کی خرید جو 2000 میں محض 95 ہزار فی سال تھی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس سال یہ تعداد بیس لاکھ موٹر سائکلوں سے بڑھ چکی ہے۔ ملک کی بڑی موٹر سائکل ساز کمپنی ہونڈا موٹر اپنی پیداواری صلاحیت کو دوگنا کرنے لگی ہے۔ ہونڈا کی سستی ترین موٹر سائکل کو خریدنے والے عموماً بیس سے تیس ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ مغرب میں ایسے لوگ غریب شمار ہوں گے مگر یہاں ایسے لوگ قوت خرید رکھتے ہیں۔

ہونڈا پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ثاقب شیرازی کا کہنا ہے کہ، \”تمام بڑی عالمی کمپنیاں، اگر ابھی تک پاکستان کی جانب متوجہ نہیں ہوئیں تو اب انہیں ہوجانا چاہئے کیوں کہ پاکستان قوت خرید رکھنے والی بڑی معیشت کے طور پر ابھر رہا ہے۔\”

__________________

یہ رپورٹ امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے لئے سعید شاہ نے لکھی اور ہم سب کے قارئین کے لئے ملک عمید نے ترجمہ کیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔