In The Long Run


\"\"

ــ’’In the long run, we all are dead‘‘ برطانوی معیشت دان، جان کینز، 5جون 1883تا 21 اپریل 1946۔
مسمی جان کینز کا یہ زریں قول اُن کی ایک نہایت خشک اور بور قسم کی معاشیات کی کتاب میں درج ہے جس کا فقط نام لینے سے ہی بندے کو نیند کے جھونکے آنے شروع ہو جاتے ہیں اور چونکہ پہلے ہی میری آنکھیں نیند سے بوجھل ہیں سو میں یہ رسک نہیں لے سکتا۔ اِس قول کا اصل مطلب جاننے کے لئے تو کتاب کا مطالعہ کرنا پڑے گا اور مطالعے کے معاملے میں میری حالت یہ ہے کہ ففٹی شیڈز آف گرے جیسا ناول بھی مکمل نہیں کر پایا، سو جان کینز کی کتاب تو اس روز پڑھوں گا جب اکیلے کسی جنگل میں رات بسر کرنی پڑے گی، جہاں میرے پاس کرنے کے لئے کوئی کام نہیں ہو گا اور کوئی بیروزگار ڈاکو کنپٹی پہ پستول رکھ کے کہے گا کہ پڑھو A Tract on Monetary Reform ورنہ گولی مار دوں گا! ویسے میں نے خواہ مخواہ ہی یہ اعترافی بیان ریکارڈ کروا دیا حالانکہ اصولاً مجھے یہاں کالج کے کسی پروفیسر کی طرح اپنی علمیت بگھارنی چاہئے تھی اور بتانا چاہئے تھا کہ جان کینز کون تھا، کہاں پیدا ہوا، بچپن میں اسے کوڑے دان میں ڈال دیا گیا تھا جہاں سے اسے ایک رحم دل بابے نے اٹھا لیا اور اپنے گھر لا کر پرورش شروع کی، پھر اُس میں چند عجیب و غریب عادات پیدا ہو گئیں اور اچانک اُس نے بے تحاشا گاجریں کھانی شروع کر دیں، وہ ایک دن میں کئی کئی کلو گاجریں کھا جاتا، اس کے بستے سے گاجریں برآمد ہوتیں اور یونہی ایک دن اُس کے گاجروں کے خرچے سے تنگ آکے رحم دل بابے نے دوبارہ اسے کوڑے دان میں ڈال دیا جہاں تین راتیں متواتر جاگ کر اُس نے جدید معاشیات کی تھیوری پیش کی جسے چٹ پٹا بنانے کے لئے موصوف نے چند اقوال زریں بھی اُس میں ڈال دیئے سو یہ قول بھی وہیں سے برآمد ہوا ہے۔ لیکن میں چونکہ کسی کالج میں پروفیسر نہیں اس لئے جان کینز کے اِس قول کی شان نزول بتا سکتا ہوں اور نہ ہی اِس کا معاشی مطلب سمجھا سکتا ہوں تاہم یہ قول میرے پسندیدہ اقوال میں سے ضرور ہے اور اِس کی وجہ نہایت سادہ ہے کہ ایک جملے میں پورا فلسفہ زندگی بیان کر دیاگیا ہے۔
تمام عمر ہم زندگی کی منصوبہ بندی ہی کرتے رہتے ہیں اور پھر ایک دن چپ چاپ فوت ہو جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ مسلسل یوگا کرنے والا دائمی زندگی پا لے یا ایک ارب روپیہ جمع کرنے والے کی زندگی میں سو برس کا اضافہ ہو جائے، زندگی کے برسوں میں پانچ دس برس کی کمی بیشی تو ہو جاتی ہے مگر وہی جان کینز والی بات کہ مستقبل بعید میں بالآخر سب مرحوم ہوں گے۔ کبھی کبھی اپنی کم مائیگی کا یہ احساس بڑی شدت سے ہوتا ہے، صحیح معنوں میں اپنی اوقات یاد آ جاتی ہے، بڑے ٹھاٹ سے گاڑی چلاتے ہوئے، بین الاقوامی پروازوں میں سفر کرتے ہوئے، من پسند خاتون سے گفتگو کرتے ہوئے، کسی طاقتور شخص کا کرو فر دیکھتے ہوئے، انسانوں کے سمندر کو روزانہ بازاروں میں خریداری کرتے دیکھ کر، زندگی کی دوڑ میں ایک دوسرے کو روندتے ہوئے، چھوٹی بڑی خواہشوں کے حصول کے لئے اپنے شب و روز جلاتے ہوئے……..ایک دن یہ بھید کھلتا ہے کہ بالآخر تو مرنا ہی تھا، اِس سے کیا فرق پڑتا ہے زندگی میں کون سی کار ڈرائیو کی، کتنی مرتبہ جہاز کا سفر کیا، دنیا میں کتنی شہرت ہوئی، مرنے کے بعد جنازے میں شرکا کی تعداد کتنی تھی (صاحب جنازہ کو اس سے قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا)، کون جنازے میں شریک ہوا اور کون اپنی مصروفیت کی وجہ سے نہ آ سکا کیونکہ اسی روز شام کو دفنانے کے بعد اہل خانہ پورے اہتمام سے کھانا تناول فرماتے ہیں کہ مرنے والے کے ساتھ کوئی نہیں مرتا۔ کسی کی وفات کے بعد دنیا کسے یاد رکھتی ہے اور کس کو بھول جاتی ہے اس سے مرنے والے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کس کی موت کا غم منایا جاتا ہے اور کس کا جشن، یہ تمام باتیں مرنے والے کے ساتھ منوں مٹی تلے دفن ہو جاتی ہیں۔
لیکن انسان مجبور ہے۔ مجبوری یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ نے جتنی سانسیں لکھی ہیں انہیں جئے بغیر چارہ نہیں، اب اس بنیاد پر اپنی زندگی کی جدوجہد تو ترک نہیں کی جا سکتی کہ بالآخر ایک روز مرنا ہے! سو جب بندہ زندگی گزارنا شروع کرتا ہے تو خود بخود رنگینیوں کے سمندر میں بہتا چلا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم اگلے بیس برس کی منصوبہ کرتے ہوئے بیمہ پالیسیاں بھی لیتے ہیں، پلاٹ بھی خریدتے ہیں اور اتنے پیسے بھی کما لیتے ہیں جنہیں ہم اپنی زندگی میں خرچ بھی نہیں کر پاتے اور یوں دنیا کی کشش میں یہ بھول جاتے ہیں کہ in the long run بہرحال ہم سب نے فوت ہونا ہے۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ یہ کالم ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہو گیا ہے، کالم لکھتے وقت مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں تصوف کی طرف مائل ہو رہا ہوں لیکن اب جب کالم ختم کرنے کے قریب ہوں تو تصوف کا رنگ بھی اتر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اِس خود غرض دنیا میں جینے کے لئے مجھے بھی جدوجہد کرنی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ میں لوگوں کو متاثر کر سکوں اور اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ میں فوری طور پر لیپ ٹاپ بند کروں اور جا کر کسی شاپنگ مال سے اپنے لئے ایک برینڈڈ سوٹ خریدوں۔ لیکن جانے سے پہلے ایک سوال چھوڑے جا رہا ہوں کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے انسان موت کی اٹل حقیقت کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس دنیا کی رنگینیوں سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ میری رائے میں تین ایسے عوامل ہیں جو انسان کو مجبور کرتے ہیں، پہلا، حسد کا جذبہ، دوسرا، اولاد کی محبت اور تیسرا دنیا میں بہتری لانے کی خواہش۔ کیسے؟ یہ ذکر پھر کبھی!

(بشکریہ روزنامہ جنگ)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 123 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada