کراچی میں رینجرز کی کارروائی میں بابا لاڈلا 2 ساتھیوں سمیت ہلاک


\"\"

کراچی کے علاقے لیاری پھول پتی لین میں رینجرز اور گینگ وار ملزموں کے درمیان مقابلہ ہوا، اسی دوران رینجرز کی جانب سے فائرنگ میں بابا لاڈلا سمیت اس کے 2 ساتھی سکندرعرف سکو اور یاسین بلوچ بھی مارے گئے۔ فائرنگ کا تبادلہ ملزموں کے خلاف چھاپے پر ہوا جس کے بعد رینجرز نے کارروائی شروع کردی جبکہ رینجرز اور گینگ وار ملزمان میں مقابلے کے دوران 3 ملزمان رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش کے لئے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

لیاری میں خوف کی علامت سمجھا جانے والا نور محمد عرف بابا لاڈلا گینگ وار سے سربراہ عزیر بلوچ سے اختلافات اور لیاری آپریشن کے باعث بابا لاڈلا عمان چلا گیا تھا، بابا لاڈلا 100 سے زائد قتل کی وارداتوں میں مطلوب اور پولیس کی ریڈ بک  میں شامل تھا۔ لیاری گینگ وار کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد سربراہ کی کرسی عزیر بلوچ نے سنبھالی اور بابا لاڈلہ کو کرمنلز کا ہیڈ مقرر کیا لیکن 2013 میں رینجرز نے لیاری میں آُپریشن شروع کیا تو عزیربلوچ ملک سے فرار ہو گیا۔

آپریشن کی شدت بڑھنے پر بابا لاڈلا نے عزیر بلوچ سے مطالبہ کیا تھا کہ لیاری میں جاری آپریشن سیاسی مداخلت سے ختم کروایا جائے لیکن عزیر بلوچ ایسا نہیں کرواسکا جس پر بابا لاڈلا نے پیپلز امن کمیٹٰی کے ترجمان اور عزیر بلوچ کے دست راز ظفر بلوچ کو لیاری میں قتل کر دیا، ظفر بلوچ کے قتل کے بعد بابا لاڈلا اور عزیر بلوچ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے اور لیاری آُپریشن کے دوران ہی بابا لاڈلا پاکستان چھوڑ کر عمان چلا گیا تھا، رینجرز سے مقابلے میں مارا جانے والا بابا لاڈلا ابتدائی زندگی میں بس کلیئنر کا کام کرتا تھا۔

واضح رہے کہ کراچی اور بلوچستان میں خوف کی علامت سمجھا جانے والے بابا لاڈلا کے گینگ وار گروپ میں تقریباً 250 افراد شامل تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔