ٹرمپ کا انسداد انتہا پسندی پروگرام اسلام کے خلاف مخصوص کرنے پر غور


\"\"

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے انسدادِ انتہا پسندی پروگرام کا نام تبدیل کر کے ’’انسدادِ بنیاد پرست اسلامی انتہا پسندی‘‘ یا ’’انسدادِ اسلامی انتہا پسندی‘‘ پروگرام رکھنے کے لئے اپنے قریبی دوستوں سے مشاورت شروع کردی ہے، یہ حساس اطلاع ایسے 5 افراد نے فراہم کی ہے جو اس خفیہ میٹنگ میں موجود تھے لیکن اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔

نئے مجوزہ پروگرام کے تحت امریکا میں مسلمانوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی تاکہ وہاں اسلامی شدت پسندی کا قلع قمع کیا جا سکے اور داعش یا اس کے ہمدرد کبھی سر نہ اُٹھا سکیں۔

سی وی ای پروگرام میں تبدیلی اور مسلمانوں کے خلاف اس کے مخصوص ہوجانے کے بعد امریکا میں سفید فام نسل پرست گروپوں یا ایسے دوسرے شدت پسند عناصر کو کھلی چھوٹ مل جائے گی جو آئے دن مسلمانوں پر حملے کرتے رہتے ہیں اور مساجد کو آگ لگا کر اپنی نفرت کا کھلم کھلا مظاہرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: امریکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جرائم میں 67 فیصد اضافہ، رپورٹ

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے پہلے ہی اسلام کے خلاف نفرت اور خوف (اسلاموفوبیا) پھیلانے کے لئے سرگرم تنظیموں کو سب سے زیادہ چندہ دینے والے اہم ترین امریکی تاجروں اور صنعتکاروں میں شامل ہو چکے تھے جبکہ اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے متعدد بار کھلے الفاظ میں اسلامی انتہا پسندی اور داعش کو باقاعدہ نام لے کر امریکا کے لئے شدید ترین خطرہ بھی قرار دیا تھا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اسلام دشمنی میں تمام حدیں پار کرگئے

انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ اگر وہ صدر بن گئے تو امریکا میں موجود تمام مسلمانوں کی ’’خصوصی نگرانی‘‘ کا بندوبست کریں گے اور پوری دنیا سے اسلامی شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔