بڑی عدالت بڑا کیس بڑے قہقہے


\"\"پاناما پیپرزکیس کی سماعت جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں ہونے والی سماعت روازنہ کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ صرف ہفتےاوراتوارکو چھٹی ہوتی ہے۔ بڑی عدالت میں لگے اس بڑے کیس کا فیصلہ کب ہونا ہے اس کا تعین بیانات، دلائل، شواہد اور دستاویزات کے دیکھنے کے بعد ہی ہو گا لیکن اہم سماعت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قانون کے طالب علموں اور شہریوں کی معلومات بڑھانےکا بھی باعث ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سنجیدہ نوعیت کےاس کیس میں کئی موقع پر کمرہ عدالت میں دلچسپ صورت حال بھی پیدا ہو جاتی رہی ہے اور قہقہے بلند ہوتے ہیں جس سے کئی سوئےاوراونگھنے والےآنکھیں ملتے ہوئے جاگ جاتے ہیں اور پھٹی پھٹی نگاہوں سے قہقہے بلند ہونے کی وجہ تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعہ 26 جنوری کو اس وقت پیش آیا جب عدالت میں قطری شہزادے کا ایک اورخط پیش کیا گیا تووکلا کی جانب سے دلائل دیے جانے کے بعد سماعت کے آخر میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پاناما کیس سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں بڑے بڑے قابل وکلا نے عدالت کی معاونت کی جن میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد بھی شامل ہیں جس پر کمرہ عدالت میں ایک زوردار قہقہہ بلند ہوگیا۔

23 جنوری کو عدالت لگی تو جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نےاپنے دلائل میں کہا کہ ذاتی وضاحت کے لیے وزیراعظم کو تقریر پیرکو نہیں بلکہ منگل کو کرنی چاہیے تھی جس پر بینچ کے رکن جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ وزیراعظم اس دن تقریر نہیں کرسکتے جس دن گوشت کا ناغہ نہ ہو۔ جج کے اس ریمارکس پر بڑی عدالت میں بڑا قہقہہ بلند ہوا۔ پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس گلزار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حدیبیہ پیپرز مل پاکستان میں ہے تو اس کا مقدمہ لندن میں کیوں کیا گیا؟ جس پر جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ التوفیق والوں نے کیا تھا اس لئے اُن سے ہی پوچھا جائے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل سے کہا کہ اُن کا نام بھی تو توفیق ہے کہیں آپ نے تو وہ مقدمہ دائر نہیں کیا تھا اس پر عدالت میں سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔

اسی بارے میں: ۔  وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی پر کیا اعتراضات ہیں؟

اسی سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر سپریم کورٹ اداکارہ عتیقہ اُوڈھو سے شراب کی بوتل اور ایان علی کے بیرون ملک جانے کے معاملے پر کارروائی کرسکتی ہے تو پاناما کا معاملہ تو اس سے بہت بڑا ہے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے وکیل موصوف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عتیقہ اُوڈھو کے وکیل ہیں یا ماڈل ایان علی کے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے دل کی بات زبان پر آگئی ہے جس پر عدالت میں زوردار قہقہ سنائی دیا۔

گیارہ جنوری کو شیخ رشید احمد نے دلائل دیے۔ عوامی مسلم لیگ کےسربراہ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ وہ اپناکیس خود لڑیں گے ویسے تو شیخ صاحب کو بولنے کے لئے کوئی نہ کوئی پلیٹ فارم چاہیے ہوتاہے وہ خواہ تھڑا ہو، جلسہ ہو یا ٹی وی اسٹوڈیو، بس وہی بولتے ہیں اور دوسرے سنتے ہیں لیکن عدالت میں وہ اس سےزیادہ کچھ خاص نہ بولے کہ قطری شہزادہ نوازشریف کے لئے ریسکیو 1122 ہے اور یہ کہ شہزادہ موصوف پاناما کیس میں مین آف دی میچ ہیں ان کی دلچسپ تشبیہات پر عدالت میں بیٹھے ہر شخص کا چہرہ کھل اٹھا۔ عدالت میں قہقہے بلند ہونے پر جسٹس شیخ عظمت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں موجود افراد سنجیدہ ہوں ورنہ عدالت خود سنجیدہ کرے گی۔

اس سے ایک روز پہلے دس جنوری کو بھی پاناما کیس میں بھاری بھرکم دلائل کے دوران ہلکے پھلکے چٹکلے ہوتے رہے۔ دلائل پر انحصار کی بات پر بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سیعد کھوسہ نے کہاکہ قانون کی ایسی تشریح نہیں چاہتے کہ سبھی زد میں آجائیں ورنہ تو امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے علاوہ کوئی بھی نہیں بچے گا۔ ان ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔ بعد میں جسٹس کھوسہ نے یہ بھی کہا کہ تھکن محسوس ہونے پر ہلکی پھلکی گفتگو کر لیتے ہیں اسے فیصلہ نہ سمجھ لیا جائے۔ ایک موقع پر جسٹس شیخ عظمت کہنے لگے کہ بیل کو سینگوں سے پکڑنا ہے لیکن پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری پانی میں مچھلیاں پکڑ رہے ہیں یا کچھ اور؟ قانونی سوال پوچھا جائے تووہ پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔ جس پر بہت سے افراد زیرلب مسکرا دیے۔

اسی بارے میں: ۔  جنگ جُو کرد عورتوں کا گیت

30 نومبر کو عدالت لگی ہوئی تھی اور نعیم بخاری کے دلائل کے انبار کےدوران جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ قطری خط میں کیا لکھا ہے کہ خط بھیجنے والا شہزادہ ہے؟ آپ نے کیسے مان لیا کہ ہر امیر آدمی شہزادہ ہوتا ہے؟ جس پر نعیم بخاری نے برجستہ جواب دیا کہ جب میں فوج میں ناکام ہوا تو میرا نام شہزادہ نعیم بخاری تھا۔ اس وقت پوچھا گیا کہ کہاں کے شہزادے ہو تو میں نے جواب دیا کہ خوبصورتی کی وجہ سے شہزادہ ہوں۔ نعیم بخاری کی انوکھی دلیل پرعدالت میں قہقہے بلند ہوئے۔ مرنجان مرنج نعیم بخاری ایڈووکیٹ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو نہیں کرتے۔ ایک موقع پر کیس کی سماعت کے باہر باہر نکلے تو کسی نے موبائل پرویڈیو بناتے ہوئے پوچھ ڈالا کہ اتنا اہم کیس زیر سماعت ہے اور آپ مسکراتے رہتے ہیں جس پر جواب آیا کہ ہنستا اس لئے ہوں کہ کوئی مجھ پر نہ ہنسے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔