چیرمین نیب اپنی خواہشات کے مطابق ملک فروخت کررہے ہیں، سپریم کورٹ


\"\"

سپریم كورٹ میں سابق مشیر خزانہ بلوچستان خالد لانگو كی ضمانت سے متعلق كیس كی سماعت جسٹس دوست محمد خان كی سربراہی میں جسٹس قاضی فائر عیسیٰ اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بنچ نے كی۔ سماعت كے آغاز میں نیب نےعدالتی حكم پر مشتاق رئیسانی كے گھر سے رقوم كی برآمدگی سے متعلق كیس كی تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع كرائی۔ اس موقع پر پراسیكیوٹر جنرل نیب نے عدالت كو بتایا كہ پلی بارگین ریفرنس انكوائری كرنے كا آخری حكم چیرمین نیب دیتے ہیں جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریماركس دیئے كہ كیا چیرمین نیب خود فیصلے كرنے لگے ہیں، جو رقم دراصل مشتاق رئیسانی كی تھی ہی نہیں اس پر كس قانون كے تحت بارگین كی گئی۔

پراسكیوٹر نیب نے عدالت كو بتایا كہ مشتاق رئیسانی كے ساتھ پلی بارگین كی منظوری ڈی جی نیب كوئٹہ كی سفارش پر دی گئی جس كے بعد بورڈ نے بھی منظوری دی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریماركس دیئے كہ نیب سے ایماندار تو وہ شخص ہے جس نے خود تسلیم كیا كہ لوٹی ہوئی رقم واپس كررہا ہوں، نیب نے اپنی اتھارٹی كا غلط استعمال كیا ہے، سركاری ملازمین ٹیكس ادا كرنے والوں كے ٹیكس سے تنخواہیں لیتے ہیں، ٹیكس ادا كرنے والوں كے پیسے كا تحفظ كرنا ہمارا فرض ہے، عدالت اس پلی بارگین كے عمل سے شكوك میں مبتلا ہو گئی ہے یہ پلی بارگین نہیں بارگین ہے۔

جسٹس دوست محمد نے كہا كہ نیب پرعدالت كے شكوك و شہبات ہیں تو نیب ان شكوك كو دور كیوں نہیں كرتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے كہا كہ نیب كو عدالت كے سامنے سچ بولنا مشكل كیوں لگتا ہے، اس مقدمے میں نیب نے خود اپنے قانون اور قوائد كی خلاف ورزی كی ہے۔

دوران سماعت چیرمین نیب نے كہا كہ نیب كے ضابطے میں پلی بارگین كا ضابطہ كار پہلے تیار كیا گیا تھا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے کا کہنا تھا کہ آپ اپنی خواہشات كے مطابق ملك فروخت كررہے ہیں، ضبط شدہ مال میں پلی بارگین نہیں ہوسكتی، چیرمین نیب عدالت كو بتائیں کہ مشتاق رئیسانی سے كتنی رقم برآمد ہوئی جس پر چیرمین نیب نے عدالت كو بتایا كہ 65 كروڑ روپے نقدی، 3 کلوسونا اور كئی گاڑیاں ضبط كی گئیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چیرمین نیب سے استفسار كیا كہ گھر پر چھاپے كے دوران بنائی گئی ویڈیو موجود ہے توعدالت میں پیش كی جائے، عدالت جاننا چاہتی ہے جو رقم برآمد ہوئی وہ پوری ہے یا اب كم ہو گئی ہے۔ اس پر چیرمین نیب نے كہا كہ ہم نے كوئی ویڈیو نہیں بنائی جس پر قاضی فائز عیسی نے كہا كہ میڈیا پر ویڈیو چل رہی تھی جب كہ نیب كے ایك اہلكار نے كہا كہ ویڈیو ڈی وی ڈی كی صورت میں موجود نہیں اور نہ ہی پوری ویڈیو موجود ہے۔

عدالت نے اس پر برہمی كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ نیب كو عدالت كے سامنے سچ بولتے ہوئے دشواری كیوں ہے، پہلے كہتے ہیں ویڈیو نہیں پھر كہتے ہیں نامكمل ویڈیو ہے لیكن ڈی وی ڈی كی صورت میں نہیں، كچھ دیر بعد كہیں گے مكمل ویڈیو موجود ہے۔عدالت نے كیس كی مزید سماعت ملتوی كرتے ہوئے 9 فروری تك نیب كو مشتاق رئیسانی كے گھر مارے گئے چھاپے كا ویڈیو ریكارڈ اور عدالتی سوالات كا تحری جواب جمع كرنے كا حكم دے دیا۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔