مجھے تو میری تلاش کا جواب مل گیا



\"\"تمہیں کیوں سمجھ نہیں آتی کہ اس دنیا میں کسی کو سکون نہیں ہے۔ ہر طرف افراتفری، انتشار اور بے چینی ہے۔ کسی کو پیسہ چاہیے تو کسی کو عزت، کسی کو شہرت کی خواہش ہے تو کسی کو اچھی نوکری چاہیے۔ بس یہ خواہشات کا حصول انسان کو بے چین کیے رکھتا ہے۔ وہ اور زیادہ کے پیچھے بھاگتا ہے۔
تم ٹھیک کہہ رہے ہو حامد لیکن میں پھر بھی پرامید ہوں۔ میرے خیال سے ایسے لوگ ہیں جو پرسکون زندگی گزار رہے ہیں اور ان میں افراتفری کی رمق بھی موجود نہیں ہوتی کیونکہ ان کو ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔
حامد میرا کولیگ ہے اور ہمارے درمیان ’بے سکونی‘ کے موضوع پر بحث چھڑ گئی۔ اور میری اس سے ایک شرط لگ گئی۔ حامد نے مجھے چیلنج دیا کہ میں اس کے لیے ایک ایسا شخص ڈھونڈوں گی جو اپنی زندگی سے خوش ہو۔ میں نے یہ چیلنج قبول کیا اور اپنی تلاش شروع کی۔
سب سے پہلے میں شہر کے مشہور ڈاکٹر کے پاس گئی۔ تعارف کے بعد میں نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا۔’ڈاکٹر صاحب کیا آپ اپنی زندگی سے خوش ہیں؟‘۔ میرے سوال پر وہ تھوڑے ششدر ہوئے لیکن پھر انہوں نے جواب دیا۔’جی الحمدللہ، میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے، دولت، شہرت، عزت۔ پھر انہوں نے آہ بھری اور کہا کہ مجھے ایک چیز کی خواہش ہے کہ میں اپنا ذاتی ہسپتال بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے۔
پھر میں ایک امام مسجد کے پاس اس یقین کے ساتھ گئی کہ یہاں مجھے میرے سوال کا جواب ملے گا کیونکہ ایک عالم دین کو بے سکونی نہیں ہو سکتی۔ میں نے ان سے وہی سوال دہرایا تو امام صاحب نے فرمایا ۔’اللہ کے فضل سے میں بہت خوش ہوں۔ دین کے علم سے بڑھ کر اور کیا چاہیے‘۔ ان کے جواب سے میں بہت خوش تھی لیکن پھر امام صاحب نے بتایا کہ ان کو ایک بات کافی پریشان کرتی ہے۔ دوسرے محلے کے امام مسجد کی تنخواہ مجھ سے زیادہ ہے اور محلے کے سارے لوگ دعا کے لیے بھی ان کو ہی بلاتے ہیں۔ بس تھوڑی سی تنخواہ اور بڑھ جائے۔
مجھے امام صاحب بھی میرا جواب نہ دے سکے لیکن میری تلاش جاری تھی۔ اس کے بعد میں ایک گاﺅں میں گئی کیونکہ دیہاتی زندگی بہت سادہ ہوتی ہے اور یہاں کے لوگ معصوم ،تو میں کافی پرامید تھی۔ میں نے ایک کسان کو کھیت میں کام کرتے دیکھا۔ میں اس کے پاس گئی اور بات کرنے کی کوشش کی اور اپنا سوال دہرایا۔’ کیا آپ اپنی زندگی سے خوش ہیں ؟‘۔ کسان نے جواب دیا کہ میرے پاس سب کچھ ہے سواے اپنی زمین کے۔ بس اپنی زمین مل جائے۔
میں کافی مایوس تھی اور مجھے حامد کی بات پر یقین آ گیا کہ اس دنیا میں ایسا شخص نہیں ہے۔ واپس آنے کے لیے میں بس سٹاپ کی طرف جا رہی تھی کہ راستے میں ایک خستہ حال سی جھونپڑی دیکھی۔ میں اس کے قریب گئی اور دیکھا کہ وہاں ایک شخص ٹوٹی پھوٹی کاٹھ پر بیٹھا تھا۔ اس کے شانوں پر ایک بوسیدہ سی شال تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور یہاں کیوں بیٹھا ہے ؟ اس نے بتایا کہ وہ ایک درزی ہے اور یہ جھونپڑی اس کا گھر۔ وہ دونوں ٹانگوں سے معذور تھا اور گاﺅں والوں کے کپڑے سی کے وہ اپنی گزر بسر کر رہا تھا۔ مجھے اس کی حالت پہ کافی دکھ ہوا۔ میں نے اس سے بھی وہی سوال کیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ مجھے اس سے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ بے چارہ ان حالات میں کیسے خوش ہو سکتا ہے ؟
اس نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں۔ میں کسی کا محتاج نہیں ہوں۔ خود محنت کرتا ہوں۔ مجھے زندگی سے کوئی شکایت نہیں۔ اپنی تمام گفتگو کے دوران وہ اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔ وہ محض الفاظ ادا نہیں کر رہا تھا۔ میں اس کے چہرے پہ اطمنانیت کے آثار دیکھ سکتی تھی۔اس کی سرشاری نے مجھے حیرت میں ڈال دیا کہ کیسے وہ ٹانگوں کے بغیر اور مفلسی کی زندگی پر اتنا مطمئن تھا۔ ہم تو مکمل صحت یاب ہیں پھر بھی اللہ سے شکوے کرتے ہیں۔ ہماری سرکشیوں کے باوجود وہ ہمیں چاہتا ہے اور ہم ہر وقت اس کی ناشکری کرتے ہیں۔
مجھے تو میری تلاش کا جواب مل گیا۔ آپ بھی کوشش کیجیے گا….

اسی بارے میں: ۔  این اے 120 کی انتخابی اہمیت کیا ہے؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔