طلبا کوتعلیم و تربیت کے ساتھ، رہنمائی کی بھی ضرورت ہے


\"\"میں تو اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بناوں گی، میاں بولے نہیں نہیں، میرا بیٹا تو انجینئر بنے گا۔ میاں بیوی، اپنے بیٹے کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے۔ بچے کے مستقبل کے بارے میں بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ دادی صاحبہ نے فرمایا، بھئی ڈاکٹر، انجینئر تو کسی بھی عمر میں بن جائے گا۔ میں تو کہتی ہوں، پہلے بچے کو قرآن مجید حفظ کرا لو۔ بچے کے مستقبل کے حوالے سے، یہ بحث عمومی طور پر ہر گھر میں دیکھنے میں آتی ہے۔ بنیادی وجہ اس کی یہی ہے کہ والدین اور بزرگ، بچوں کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ، اپنی ذاتی خواہشات، پسند نا پسند کے تابع ہو کر کرتے ہیں۔اس وجہ سے مشاہدہ یہی ہے کہ بچہ، ماں باپ کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے تعلیم تو حاصل کرلیتا ہے لیکن اپنے پیشے سے انصاف نہیں کرپاتا اور جو فطری و خداداد صلاحیت اس میں ہوتی ہے اس سے ناواقف رہتا ہے۔
والدین کی اکثریت بچوں کو ابتدا سے سائنس اور انگریزی پڑھانے کے درپے رہتی ہے۔ بڑی تعداد میں ہر سال طالب علم ڈاکٹر اور انجینئر بن کر نکلتے ہیں۔ ان کی اکثریت مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ بچپن سے ہی بچوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد اچھا روزگار اور پیسہ کمانا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں طلبا کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے حکیم سعید مرحوم، اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ہمدرد سکول کی تقریب میں انگریز خاتون ماہر تعلیم کو مدعو کیا گیا اور بتایا گیاکہ سکول میں ابتدائی تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے۔ وہ یہ سن کر حیرت میں مبتلا ہو گئیں اور کہا کہ اگر برطانیہ میں کوئی ایساکرے تو اس کو احمق گردانا جائے گا۔ انگریزی زبان کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں لیکن ابتدائی تعلیم طلبا کو مادری زبان میں دینا ہی ترجیح ہونی چاہیے۔ میرے جماعت دہم کے چند طالب علم استادوں کی نظر میں نالائق تھے مگر آج وہ فن کی دنیامیں اپنا اور ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اگر مناسب وقت پر ان کی رہنمائی کی جاتی تو زندگی میں جو مقام ان کو آج حاصل ہے وہ اس سے قبل حاصل کرچکے ہوتے۔ تعلیم گو کہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور ایک سطح تک اس کا حاصل کرنا بھی ضروری ہے تاکہ بچے کو شعور کی وہ منازل طے کرنے میں آسانی ہو جو کامیاب اور بامقصد زندگی گزارنے میں اس کی معاون ہوں۔ ہمارا معاشرہ اسی وجہ سے ڈگر سے ہٹا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ معاشرے کی اکثریت اپنے فطری رجحان و میلان اور صلاحیت سے قطع نظر معاشرے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔
جو بچے پڑھائی میں کمزور نظر آتے ہیں والدین کی ترجیح ہوتی ہے کہ ان کو دینی مدرسے میں ڈال دیں اور عموماً ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دینی تعلیم کے لیے بھی بچے کا رجحان اور ذہنی صلاحیت کو پرکھنا لازم ہے۔ جو طلبا دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کی اکثریت کا مطمع نظر مسجد کی امامت اور اپنے مسلک کا تحفظ ہوتا ہے۔ اسی لیے معاشرے میں مذہبی و مسلکی منافرت عروج پر ہے۔ والدین معاشی ناہمواری کی وجہ سے بھی بچوں کو دینی مدارس بھیج دیتے ہیں۔ جہاں زکوٰة و خیرات سے ان کے تعلیمی اور کھانے پینے کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ معاشی کمزوری کی وجہ سے بھی بچوں کوکم عمری میں کسی بھی ورک شاپ یا گھریلو ملازمت پر لگا دیا جاتا ہے جہاں پل پل ان کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے اور ہر قسم کاا ستحصال ان بچوں کے نصیب میں آتا ہے۔
بچے کسی بھی قوم کا اثاثہ اور مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی نشوونما اور تربیت کی بنیادی ذمہ داری والدین کی ہوتی ہے لیکن ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ بچے کو تعلیمی اداروں اور معاشرے میں وہ بنیادی سہولیات مہیا کرے جس سے والدین پر ذمہ داری کا بوجھ کم ہو۔ وفاقی اور صوبائی محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ باہمی مشاورت سے ایسا نصاب تعلیم تشکیل دیں جو ریاست میں یکساں طور پر نافذ ہو اور دور جدیدکے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے ساتھ ایسے ماہرین تعلیم بھی ہوں جو بچوں کی نفسیات سے واقف ہوں۔ ان کی فطری صلاحیتوں اور رجحان کو پرکھنے کا علم رکھتے ہوں اور طلبا کو ان کے رجحان و میلان کو دیکھتے ہوئے تعلیمی مشورے دیں تاکہ مستقبل میں بچے معاشرے کے کار آمد شہری بن سکیں۔
تعلیمی اداروں میں تعلیم کے ساتھ طلبا کی تربیت اور ذہنی استعداد بڑھانے کے لیے تقریری مقابلے اورکوئز شو ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ، ادارہ سماجی بہبود او رشہری دفاع کو بھی تعلیمی اداروں میں طلبا کی آگاہی کے لیے مستقل بنیادوں پر پروگراموں کا انعقاد کرنا چاہیے۔ اس طرح بچے کسی بھی آفت یا ناگہانی صورتحال میں معاشرے میں، اپنا کردار بہتر طور پر انجام دینے کے قابل ہو سکیں گے۔ بچوں کی ذہنی نشو ونما کے ساتھ جسمانی نشوونما بھی ضروری ہے۔ جسمانی نشوونما میں کھیل کود کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ فی زمانہ تعلیمی اداروں میں اس طرف توجہ کم ہے۔ اس پر بھی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ قوم کے بچے جسمانی طور پر صحت مند ہوں۔
آج کل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سہولت قریباً ہر گھر میں دستیاب ہے۔ یہاں تک کہ ان پڑھ افرادا ور بچے بھی دھڑلے سے، اس کا استعمال کررہے ہیں۔ بچوں کو ان سہولیات کے منفی استعمال سے روکنے کی ذمہ داری، جہاں والدین پر ہے وہیں اساتذہ کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ طلبا میں، ان سہولیات کے منفی استعمال سے ہونے والے نقصانات کا شعور بیدار کریں۔ والدین کے ساتھ، اساتذہ کرام اور ماہرین تعلیم، اگر بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ طلبا کے مستقبل کے حوالے سے بھی رہنمائی کریں اور طلبا کو تعلیمی میدان میں ان کے رجحان کے مطابق آزادی دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وطن عزیز ترقی کی منازل جلد طے کرے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔