ہاں ہم سب کالے ہیں!


\"\"ہم جس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ گرم آب و ہوا والا ہے۔ گرمیاں آئیں گی، جانے کا نام نہیں لیں گی۔ لو چلے گی، سورج سوا نیزے پر آئے گا۔ سوکھی مٹی ہر جگہ اڑتی پھرے گی۔ پھر ایک دم بارش ہو گی اور بچے قمیصیں اتار کر نہانا شروع کر دیں گے، گرمی دانوں سے نجات مل جائے گی۔ لیکن ایسی سخت گرمی میں، ایسی ہواؤں میں، ایسے ماحول میں کہ جب زمین بھی توا بن چکی ہو، سورج بھی بھوننے کو تیار کھڑا ہو، ہوا چلے تو ایسا لگے کہ جب نہیں چلتی تھی تو بہتر تھا، تو اس سب میں اگر کوئی پچھلے دو تین سو برس سے رہ رہا ہو، اس کا رنگ جھلسے بغیر کیسے رہ سکتا ہے؟

بات چیت میں بڑے فخر سے کہا جاتا ہے، فلاں تو جی سن آف دا سوائل ہے (دھرتی ماں کا بیٹا ہے)، لیکن دھرتی ماں اگر کالے بچے پیدا کرے تو انہیں معاشرے میں کئی سوالیہ نشان دیکھنے پڑتے ہیں۔ ہمارا خطہ ہو، آسٹریلیا کے اصل باشندے ہوں، افریقی ہوں، ایفرو عرب ہوں، دنیا کے ہر خطے میں جہاں کالے لوگ پائے جاتے ہیں، ان کے حسن کا پیمانہ بھی اسی کالے رنگ میں ہوتا ہے۔ وہ بھی ایک دوسرے کو چاہتے ہیں، وہاں کی ماں بھی اپنے کالے بچوں سے محبت کرتی ہے، وہاں محبوبہ بھی کالی ہوتی ہے بلکہ وہاں تو وہ بت جو پوجنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، وہ بھی کالے ہوتے ہیں۔ یعنی دیوی، دیوتا، راجہ، پرجا، ہم ہوئے کہ تم ہوئے کہ میر ہوئے سبھی کے سب کالے ہوتے ہیں اور پھر بھی جیے جاتے ہیں۔ تو رنگ حسن کا معیار کیسے ٹھہرا، یہ سمجھ سے باہر ہے۔

ہمارے خطے میں جو باہر سے آتے تھے وہی گورے ہوا کرتے تھے۔ پٹھان تھے – گورے تھے، کشمیری تھے – گورے تھے، انگریز آ گئے، وہ بھی گورے تھے، ان میں شادیاں ہو گئیں، دیسی لوگوں کے ساتھ مل گئے تو سانولے، کالے، گورے سبھی رنگ موجود نظر آنے لگے، گورا پن حسن کا معیار کب ہوا، کیسے ہوا یہ معاملہ سوچنے والا ہے۔\"\"

گورے چمڑے اور خوب صورتی کا براہ راست تعلق ہمیں دیا گیا ہے، ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔ سیدھی بات ہے، جلتی تپتی ہوئی زمین کے باسی کتنا عرصہ گورے رہ سکتے ہیں۔ جو باہر سے آتے تھے وہ بھی کچھ عرصے میں جھلس کر ایسے ہی ہو جاتے، جینز والے معاملات جو رہ جاتے ان کی وجہ سے مقامی لوگوں میں شادیوں کے بعد چار چھ میں سے ایک دو بچے گورے نکل آتے، باقی سب گندمی۔ یا پھر وہ جو نیلی آنکھیں ہیں، یا سبز آنکھیں ہیں، جن پر شاعریاں ہوئیں، قصیدے پڑھے گئے، وہ بھی ایسے ہی وجود میں آئیں۔

ہر وہ ملک جس پر کبھی دوسری قومیں باہر سے آ کر مسلط رہی ہوں، اس کے کچھ اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ بات آقا یا غلام کی نہیں، بات سیدھی یہ ہے کہ جو طاقت میں ہے، جمالیات کے اصول تک اس کی مرضی سے ڈیزائن ہوں گے۔ وہ ہمیں کہیں کہ چمپا، موتیا، گلاب، چنبیلی، موگرا، رات کی رانی وغیرہ پرانے ہو گئے، ہم صاد کریں گے، ہمیں موسمی پنیریاں عطا ہو جائیں گی۔ ہم ڈیہلیا، کارنیشن، پینزی، اور نہ جانے کون کون سے ایسے پھول اگانا شروع کر دیں گے جو صرف دو مہینے کو پھول دے کر نہ صرف مکمل ختم ہو جائیں گے بلکہ ان میں خوشبو بھی نہیں ہو گی۔ پھول ہو، خوشبو نہ ہو، ہمارا خطہ ہمیں ایسا کچھ دکھاتا ہے؟ خوب صورتی ہو، نمک نہ ہو؟ ہمارا خطہ بہرحال ایسے جمالیاتی ذوق کی بھی آبیاری نہیں کرتا۔

\"\"ہمیں کہا گیا کہ حکیموں کے بنے شربت ہمارے لیے نقصان دہ ہیں، لسی جام جہالت قرار پائی، گڑ کا شربت پینے والے پینڈو ہوئے اور بنانے والے، خدا انہیں زندگی دے، ہزاروں میں کوئی ایک آدھ دکھائی دیتا ہے۔ بادام کا شربت، املی کا شربت، فالسے کا شربت سب غارت ہوا اور ہمیں چائے دے دی گئی۔ چائے جو گرمیوں میں ٹھنڈک اور سردیوں میں گرمی پہنچاتی ہے۔ ہمیں کولا مشروبات دئیے گئے جو گرمیوں اور سردی میں یکساں ستیاناس کرتے ہیں۔ ہمیں انرجی ڈرنک دیا گیا، جو کام دو چمچ چینی پھانکنے سے ہو سکتا ہے اس کے لیے ہمارے بچوں نے ڈھائی سو روپے کے ڈرنک کو فخریہ پینا شروع کیا۔ تو جہاں چاٹی کی لسی آج بھی پی جاتی ہو، وہاں گورے رنگ کا ذوق عجم ۔۔۔ چہ معنی؟

ہمیں دیسی گھی سے باقاعدہ نفرت دلائی گئی، اسے دل کی بیماریوں کا سبب کہا گیا، پھر بناسپتی گھی آیا، پھر کھانا پکانے کا تیل آیا، پھر زیتون کا تیل صحت کا معیار قرار دیا گیا، مطلب وہ زیتون جو ہمارے یہاں آج تک تمیز سے پیدا ہی نہیں کر سکے، سوائے تجرباتی بنیادوں یا زبردستی کی فارمنگ کے، ہم وہ کھائیں تو ہم ٹھیک اور ہمارے جانوروں کا دودھ اور اس سے بنایا گیا گھی غلط۔ اور سب کے بعد اچھے اور برے طالبان کی طرح ہمیں گڈ فیٹس اور بیڈ فیٹس کی تھیوری پتہ لگی۔ ہمیں معلوم ہوا کہ دیسی گھی اگر صحیح والا دیسی ہی ہو تو وہ بے چارہ باقی مصنوعی چکنائیوں سے کم ہی نقصان دیتا ہے۔ اسی طرح مکھن کا جو پیڑا ماں نکال کر دے، چاہے ماں کا رنگ کالا ہی ہو، وہ پیڑا کیسے نقصان دے سکتا ہے؟

مارٹن لوتھر کنگ، منڈیلا، فری مین، اور اب بارک اوباما، یہ سب کالے اگر بدصورت تھے، تو خوبصورتی کے تماشے کا دور بس شروع ہوا چاہتا ہے، چار برس بعد بات ہو گی!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 285 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “ہاں ہم سب کالے ہیں!

  • 05-02-2017 at 1:13 am
    Permalink

    agree mohammad ali BOXER was very handsome

Comments are closed.