آمریت کی چھتری ، سیٹھ کا الیکشن اور فتنہ صحافی


\"\" ایوب خاں کے صدر منتخب ہونے کے بعد مارچ 1965 میں قومی اسمبلی کا الیکشن ہوا۔ اس الیکشن مین بھی بی ڈی ممبرز کو ووٹ ڈالنا تھے۔ دولت، دھونس دھاندلی کا کاروبار پھر گرم ہو گیا۔ بی ڈی ممبروں کے ووٹ کا بھاﺅ سٹاک مارکیٹ کی طرح روز کھلتا اور بند ہوتا تھا۔ پیسے کا یہ کھیل ایسا تھا کہ اس کا مقابلہ ہر صورت ناممکن تھا کیونکہ یہاں دو افراد کے درمیان مقابلے کا سوال نہیں تھا۔ ہر حلقے میں درجنوں امیدوار تھے اور ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق ووٹ کا بھاﺅ متعین کرتا اور دوسرا اس سے چار ٹکے اور بڑھا دیتا۔ اس انتخابی مہم میں پاکستان کے سب سے بڑے سرمایہ دار سیٹھ احمد داﺅد بھی اسی طرح شریک تھے کہ ان کے چھوٹے بھائی صدیق داﺅد حلقہ نمبر 8 سے الیکشن لڑ رہے تھے۔ سیٹھ احمد داﺅد حکومت کے قریبی حلقوں میں اس لیے شمار کئے جاتے تھے کہ انہوں نے ملک کے مختلف سرمایہ داروں کی مدد سے نیشنل پریس ٹرسٹ قائم کرایا تھا اور پھر یہ تمام ٹرسٹی استعفے دے کر ٹرسٹ حکومت کے حوالے کر کے الگ ہو گئے تھے۔ ان سرمایہ داروں نے اس طرح حکومت کو کروڑوں روپے کی امداد دی تھی اور حکومت کو ان سرمایہ داروں سے نجات مل گئی تھی جو یکے بعد دیگرے پاکستان ٹائمز وغیرہ کو خریدتے، چند مہینے کا نقصان اٹھاتے اور پھر کسی اور کے ہاتھ یہ ادارے فروخت کر کے جان چھڑا لیتے تھے۔
میری نظر اس انتخابی مہم میں صدیق داﺅد پر پڑی۔ ان کے مقابلے میں کراچی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری امیدوار تھے۔ یہ حضرت کراچی کے ایک چھوٹے سے وکیل تھے اور ظاہر ہے کہ ووٹ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ اس بات کو آپ سازش کہہ لیجئے یا شرارت۔ میں نے کسی اور شخص سے بات کئے بغیر پولنگ کے روز چھپنے والے اخبار میں رات گئے سنگل کالم کا ایک باکس آئٹم جڑ دیا۔ خبر اس طرح لکھی گئی تھی کہ ’آخری رات بھاﺅ اترتے اور چڑھتے رہے چنانچہ حلقہ 8 میں ووٹ کا بھاﺅ بیس ہزار فی ووٹ پر بند ہو گیا جبکہ باقی حلقوں میں ووٹ کا بھاﺅ چار پانچ ہزار سے زیادہ نہیں تھا‘۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس حلقے میں کون امیدوار ہے اور ووٹ کی اتنی زیادہ قیمت کیوں مقرر کی گئی ہے۔\"\"
حلقہ نمبر 8 کے بارے میں یہ خبر کیا شائع ہوئی کہ گویا ایک طوفان سا آگیا۔ کہا جاتا ہے کہ صبح سویرے بی ڈی کے ووٹر یکے بعد دیگرے اخبار جنگ بغل میں دبائے سیٹھ داﺅد کے گھر جا پہنچے اور بڑی التجا کے لہجے میں کہا سیٹھ آج تو بیس ہزار کا بھاﺅ ہے۔ سیٹھ نے خبر دیکھی تو تاﺅ چڑھ گیا ۔ میر صاحب کے گھر پر فون گھمایا اور ماں بہن کی کون سی ایسی گالی تھی جو سنا نہ دی ہو۔ سیٹھ نے اعلان کیا کہ میں یہ انتخاب ایمان داری کی بنا پر لڑ رہا ہوں کسی کو پیسہ نہیں دوں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ داﺅد نے میر صاحب کو ایک طرح کا حکم دیا کہ فوراً دفتر جاﺅ اور ضمیمہ شائع کرو کہ ووٹ کے بھاﺅ کی غبر غلط چھپی ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں جب دوپہر میں دفتر پہنچا تو مجھے فوراً میر صاحب نے طلب کیا۔ ویسے ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور شرارت بھی …. ’آپ نے سیٹھ داﺅد کو مروا دیا‘۔ میر صاحب کہنے لگے۔ صبح سے گالیاں کھا رہا ہوں۔ سیٹھ صاحب ہیں کہ خاموش نہیں بیٹھتے۔ اب تک کوئی بیس پچیس مرتبہ فون کر چکے ہیں۔ شام کو نتیجہ نکلا تو مسٹر صدیق داﺅد شکست کھا گئے تھے انہیں اگر کوئی ووٹ ملے تھے تو وہ صرف ان لوگوں کے جو ان کے قریبی دوست یا عزیز تھے۔ حلقہ آٹھ سو ووٹوں کا تھا اور بے چارے کے ووٹوں کی تعداد ایک سو سے بھی کم تھی۔ مسلم لیگ کا جو امیدوار جیتا تھا وہ بعد میں جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں ان کے سینٹ کا رکن بن گیا۔

(سٹاپ پریس سے اقتباس)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔