کامنی مسعود کے لئے مبارک باد اور کچھ دیگر نکات


\"\" بیٹا کامنی مسعود! یونیورسٹی میں یہ آپ کا تیسرا برس ہے۔ دو برس پہلے آپ نے پنسلوینیا میں تعلیم کے لیے کھلے مقابلے میں وظیفہ حاصل کیا تھا۔ اس تمام عرصے میں آپ اپنے اساتذہ اور ساتھی طالب علموں کے بارے میں بہت پرجوش رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے میں نے آپ کے پیغامات میں کچھ خوف و ہراس، عدم تحفظ اور بے چینی کے آثار دیکھے۔ پھر وہ تصویریں دیکھیں جن میں آپ امریکا کے نومنتخب صدر کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج میں شریک تھیں۔ میں نے پلے کارڈ اٹھائے اس تائیوانی بچی کو پہچان لیا جو آپ کی ہم جماعت ہے۔ آپ نے بتایا ہے کہ آپ کو امریکا کے عام شہریوں کی انصاف پسندی، اساتذہ کی دیانت داری اور ساتھی طالب علموں کی جرات سے بہت حوصلہ ملا ہے۔ اس سے زیادہ خوشی کا مقام یہ ہے کہ آپ میں اپنے ضمیر کی آواز پر کھڑے ہونے کی ہمت موجود ہے۔ میں آپ کے بچپن کے کچھ واقعات یاد دلانا چاہوں گا۔ آپ نے دسمبر 1997ء میں پہلی مرتبہ انسانی حقوق کے لیے کسی جلوس میں شرکت کی تھی۔ ماموں عرفان برکت نے آپ کو گود میں اٹھا رکھا تھا اور آپ کو اصرار تھا کہ آ پ کو ایک جلتی ہوئی مشعل تھما دی جائے۔ 1999ء میں ہندوستان سے نرملا دیش پانڈے امن پسند عورتوں کا وفد لے کر لاہور آئیں تو آپ ایک چھوٹی سی چڑیا کی طرح اس ہجوم میں چہچہا رہی تھیں۔ دلی سے آنے والی نیلما آنٹی کی گود میں آپ کی ایک تصویر محفوظ ہے۔ آپ کے بینر پر لکھا تھا ’جنگ نہیں امن چاہیے‘۔ کچھ برس بعد آپ نے اپنے باپ کی کتاب ’والٹن کیمپ نہیں مکیا ‘دیکھ کر معصومیت سے کہا تھا۔ ’ہم یہ کیمپ ختم کر دیں گے‘۔ مجھے خوشی ہے کہ ایک بالغ نوجوان خاتون کی حیثیت سے تم اپنی مشعل اٹھائے رکھنا چاہتی ہو۔ امن کا مطالبہ کرتی ہو اور تمہارا یہ ارادہ برقرار ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے جلاوطنی ختم ہونی چاہیے۔ آزادی اور جلاوطنی کے اس قصے پر تمہارا باپ کچھ کہنا چاہتا ہے۔

ہمارے آباو اجداد مشرقی پنجاب سے گھر بار چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔ انہیں ان کے مذہب کی بنیاد پر وطن بدر کیا \"\"گیا تھا۔ آپ کے ماں باپ کی نسل نے یہ تلخ تجربہ حاصل کیا کہ آزادی اور جلاوطنی ہمارے دلوں میں کسی کیفیت کا نام ہے۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ جب تم بیرون ملک جا رہی تھی تو میں نے تمہیں گھر والوں سے الگ کر کے کچھ بتایا تھا۔ وہ ذاتی بات اب دہرانے میں ہرج نہیں۔ میں نے کہا تھا۔ علم حاصل کرو، خوش رہو اور دوسروں کی خوشیوں کے لیے کوشش کرو۔ میں تمہارے پاکستان چھوڑنے پر قطعاً اداس نہیں تھا اور میں اب بھی مطمئن ہوں۔ اگر تم کسی مرحلے پر محسوس کرو کہ تمہاری درس گاہ میں حصول تعلیم کا موقع ختم ہو گیا ہے تو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پاکستان واپس چلی آﺅ۔ اس رعونت کے ساتھ واپس مت آنا کہ پاکستان تمہارا وطن ہے۔ اپنے وطن کی ملکیت تحفے میں نہیں ملتی۔ اس کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ یہ جدوجہد امریکا میں رہ کر کی جائے، اسرائیل میں عربوں کے لیے آواز اٹھائی جائے، کشمیری ماں کے آنسو پونچھے جائیں، برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حمایت کی جائے یا پاکستان میں عورتوں، اقلیتوں اور غریبوں کے حقوق کا مطالبہ کیا جائے۔ اس کے لیے گیت لکھنا پڑے، مصوری کرنا پڑے، تحقیق کرنا پڑے، جیل جانا پڑے یا جان دینی پڑے۔ خوشی کا کوئی جزیرہ نہیں ہوتا۔ امن کو قلعہ بند نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی کو محفوظ کرنے کے لئے فصیلیں نہیں اٹھائی جاتیں۔ ہمیں دنیا کے کسی بھی حصے میں اپنی آزادی، خوشی اور معانی کے لیے لڑنا پڑے گا۔ روشن خیالی کی لڑائی ایک پیچیدہ ہنر ہے۔ قدیم روایت یہ تھی کہ ظلم کو ایک نام اور ایک چہرہ دے دیا جائے۔ کہیں ظلم کو فسطائیت کہہ کر اس پر ہٹلر کی تصویر سجا دی جاتی ہے، کہیں ظلم کو کمیونسٹ کہہ کر اس پر سٹالن کا پوسٹر رکھ دیا۔ کہیں ظلم پر چھ کونوں والا ستارہ بنا دیا جاتا ہے۔ کہیں تابوت پر ستاروں اور لکیروں والا پرچم لپیٹ دیا جاتا ہے۔ روشن خیالی کی لڑائی ظلم کو ظالم کی شناخت سے الگ کرنے کا نام ہے۔ ہم کسی انسان کو اس کے مذہب، قومیت، اس کی زبان یا نسل کی بنیاد پر برا نہیں کہتے۔ ہمیں سب انسانوں کے لیے خوشیوں کا ایک باغ بنانا ہے۔ چاول کی ایک پلیٹ سب کو چاہیے۔ محبت کے لفظوں سے لکھی ایک کتاب ہر بچے کا حق ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کا ایسا بندوبست درکار ہے جس میں آزادی کا تحفظ موجود ہو اور اس تحفظ کے ساتھ وسیع تر انصاف کے لیے کوشش کی جا سکے۔

اسی بارے میں: ۔  مہمان نہ کوئی آوے ۔۔۔

آپ کے کچھ ساتھی طالب علم کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے روشن خیال موقف کو شکست ہو گئی ہے۔ اس \"\"پر آپ نے پوچھا ہے کہ کیا دانشورانہ مکالمہ اچھائی اور برائی کے تصورات سے بے نیاز ہو سکتا ہے؟ بیٹا، علم، محبت اور امن کو شکست نہیں ہوا کرتی۔ پیداوار اور تخلیق کا امکان کبھی ختم نہیں ہوتا۔ 1857ء سے ایک رسالہ شائع ہو رہا ہے ’دی اٹلانٹک‘۔ دسمبر 1944ءکے اٹلانٹک میں ژاں پال سارتر نے ایک مضمون لکھا تھا کہ ’نازی قبضے کے دوران فرانس نے آزادی کا وسیع ترین تجربہ حاصل کیا‘۔ گویا ناانصافی کے خلاف مزاحمت کرنے سے زندگی میں معنویت پیدا ہوتی ہے۔ وہ نسلیں خوش نصیب ہوتی ہیں جنہیں کھلے ضمیر کے ساتھ کسی بڑے اصول کے لیے جدوجہد کا موقع ملے۔ ابراہم لنکن نے غلامی ختم کی۔ ہماری آزادی کے رہنماﺅں نے نو آبادیاتی حکمرانی کے اصول کو مات دی۔ نیلسن منڈیلا نے نسل پرستی کو شکست دی۔ ہمیں موجودہ عہد میں تین سوالات کا سامنا ہے۔ ہم نے دنیا کی تباہی کا ایسا سامان جمع کر لیا ہے جس سے پوری نسل انسانی فنا ہو سکتی ہے۔ ہزاروں برس پہلے جنگلوں سے نکلنے کے بعد بنی نوع انسان کو کبھی ایسا خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ دوسرا بڑا مسئلہ ریاست کے اختیار سے تعلق رکھتا ہے۔ قومی ریاست کے تصور کی آڑ میں دنیا کے بہت سے خطوں میں انسانوں کو محکوم بنایا جا رہا ہے۔ جمہوریت کا بنیادی اصول انسانی مساوات ہے۔ جمہوریت کو اکثریت کے جبر میں تبدیل کرنے کی مزاحمت ضروری ہے۔ قوموں کی خودمختاری اپنے شہریوں کے ساتھ ناانصافی کرنے کا اختیار نہیں۔ تیسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ جدید معیشت کو وسیع تر انصاف کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے۔ امریکا ایک بہت بڑی اقتصادی اور فوجی طاقت ہے لیکن امریکا کی اصل قوت آزادی،علم اور انسانی احترام کے اخلاقی اصولوں میں پنہاں رہی ہے۔ امریکا کی نومنتخب قیادت ان اصولوں کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ یہ لڑائی صرف امریکا تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں ریاست نے پیوستہ مفادات تشکیل دیے ہیں۔ نادیدہ حکمرانی نے ہر جگہ اپنی مراعات یافتہ حیثیت کے لیے جواز گھڑ رکھے ہیں۔ دانش ورانہ مکالمے میں فیصلہ کن نکتہ یہ ہے کہ کیا ہمارا موقف ریاست کی توثیق کے تابع ہے؟ اشتراکی استبداد کی مخالفت 1992ءسے پہلے کرنا ہے یا بعد میں۔ سرد جنگ میں مذہب کا ہتھیار استعمال کرنے کی مزاحمت 1989ءسے پہلے کرنا ہے یا بعد میں۔ دانشور کو اپنے سوال کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ سوال کے انتخاب کی ذمہ داری اٹھانے ہی میں آزادی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ ہم انسانی زندگی سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ سقراط سے مسیح تک، حضرت علی سے امام عالی مقام تک اور گاندھی جی سے مارٹن لوتھر کنگ تک جانیں دیتے آئے ہیں۔ انسانوں سے محبت کا اس سے بڑا امتحان ممکن نہیں۔ میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ کو تاریخ کے ایک اہم موڑ پر اپنے سوال کے انتخاب کا موقع ملا ہے۔اور آپ کو پوری آزادی ہے کہ بیرون ملک رہئے یا پاکستان چلی آئیے۔ جدوجہد سے آزادی کی البتہ کوئی ضمانت نہیں۔ اس کشمکش سے نجات تو اس میں حصہ لینے ہی سے مل سکتی ہے۔ معانی کا امکان آپ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ انتخاب آپ کے ہاتھ میں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  گرمیت رام رحیم اور ہمارے سیاسی و مذہبی گرو

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “کامنی مسعود کے لئے مبارک باد اور کچھ دیگر نکات

  • 04-02-2017 at 9:33 am
    Permalink

    زندہ باد۔ کامنی کا پیڑ بہت بڑا نہیں ہوتا۔ پھول بہت نازک ہوتا ہے، پتّیاں چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں، لیکن اسکی لکڑی کمزور نہیں ہوتی۔ انشاٴالله کامنی بیٹی صحیح فیصلہ ہی کریگی۔

Comments are closed.