آرگن ڈونر: روح فرسا اندھیرے میں خوشی کے چراغ


\"\"موبائل فون کی جگمگاتی سکرین پر بابا کے موبائل سے پانچ مس کالز کا پیغام دیکھ کر شیریں پر کچھ گھبراہٹ سی طاری ہوئی، کلاس سے باہر آتے ہی قدم ہاسٹل کی طرف تیزی سے بڑھاتے ہوئے شیریں اب بابا کا نمبر ڈائل کر رہی تھی، اور نمبر کاٹ دیا جا رہا تھا۔ امّاں کی طبیعت بھی چند دن سے ناساز تھی، کچھ دن پہلے فشار خون کے غیر معمولی بڑھ جانے کی وجہ اُنہیں ہسپتال لے جانا پڑا تھا، یہاں سمسٹر اپنے اختتام کو تھا اور مصروفیت کی وجہ سے گھر جانا بہت مشکل تھا۔ گھر میں بابا اور اماں ہی ایک دوسرے کا سہارا تھے۔ دھیرے دھیرے سے پریشانی بڑھنے لگی تھی، لیکن کیا بھی کیا جاسکتا۔ موبائل پھر سے ٹمٹمانے لگا اور اب کی بار ایک سیکنڈ ضائع کئے بغیر اس نے جلدی سے موبائل کان پر لگا دیا۔ بابا کی آواز قدرے مرجھائی ہوئی محسوس ہوئی، وہ تیری ماں کے ناک سے خون بند نہیں ہو رہا تھا، ہسپتال ہوں، یہ ڈر گئی ہے، اس کو تسلی دے۔ بابا نے فون اماں کے کان سے لگایا، خود ہانپتی شیریں بھلا ماں کو کیا تسلی دیتی، معمولی باتوں پر تو اس کے اپنے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ جایا کرتے تھے۔ شیریں آ جا تو واپس۔ اس کے بعد کچھ خاموشی چھا گئی، بابا کی آواز آئی کے اماں غنودگی میں ہے، تو نہ آنا میں دیکھ لوں گا۔

فون بند کرنے کے بعد ماں کی آواز کانوں میں گونجنے لگی۔ تسلی نہیں ہو رہی تھی، بس ہلکا سا سامان باندھا اور اور روم میٹ کو میسج کر کے وہ گھر کے لئے نکل پڑی۔

سارا راستہ ذہن کھویا سا تھا، پچھلے سارے ہفتے میں جب جب بھی اس نے ماں سے بات کرنے کی کوشش کی تھی وہ سوئی ہی ہوتی تھیں یا غنودگی میں رہتی تھیں، حالانکہ آخری دفعہ جب وہ گھر سے آئی تھی تو وہ ٹھیک تھیں۔

\"\"گھر پہنچنے پر پتہ چلا کہ وہ کچھ کھا پی بھی نہیں پا رہیں، سارا دن سوئی رہتی ہیں اور نیند میں بڑبڑاتی رہتی ہیں۔ کچھ ٹیسٹ تھے جو کہ اگلے دن موصول ہونا تھے۔ آج کی رات بہت بھاری تھی، اماں کے پاؤں اور ہاتھ مڑ رہے تھے۔ وہ اچانک بڑبڑاتی چیخ پڑتی تھیں، رنگ کالا پڑ رہا تھا۔ اچانک سے اتنی تکلیف کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی، بلڈپریشر بھی بہت کم ہونے لگا تھا اور جسم ٹھنڈا، رات آنکھوں میں کٹ گئی، بابا سویرے ہی لیبارٹری چلے گئے، اور شیریں اماں کو زبردستی کچھ نہ کچھ کھلانے کی کوشش کرنے لگی۔ اماں شیریں کی ضد پر کچھ نوالے حلق سے بمشکل نیچے اتار رہی تھی۔

بابا نے واپس آتے ہی شیریں کے کان میں کچھ کہا، اس کی دھڑکن جیسے رک سی گئی، وہ اس صدمے کے لئے تیار نہیں تھی، دل بالکل بیٹھ سا گیا تھا۔ اتنے میں اماں نے جو دو چار نوالے نگلے تھے وہ باہر انڈیل دیے، اماں کو فوری ڈائیلیسس کی ضرورت تھی، بلند فشار خون نے اماں کے گردے فیل کر دئے تھے۔

خوف اس اذیت سے تھا جس سے اماں کو ہفتے میں دو بار گزرنا تھا، گردن میں لگی اس موٹے سوراخ والی پائپ سے تھا جو کہ فیسچولہ کے تکلیف دہ آپریشن سے پہلے ان کی گردن کے انفیکشن کے بعد ان کی ٹانگ، سینے یا بازو کے جوڑ میں گھسا کر لٹکتی رہتی، ایک معمولی سوئی کی چبھن بھی کتنی تکلیف دیتی ہے، ہفتے میں دو بار دو انچ لمبی، قدرے چوڑے قطر کی سوئیاں چار گھنٹوں تک جسم کے اندر برداشت کرنی تھیں، چار گھنٹوں تک خون کی صفائی جو کسی بدقسمت لمے میں اذیت ناک موت کا باعث بھی بن سکتی تھی۔

دنیا میں سب سے اذیت ناک احساس اپنے پیاروں کو تکلیف میں دیکھنا ہے، وہ بے بسی کا احساس ہے جو آپ کو اندر سے کاٹتا ہے، کیا میں

\"\"

ماں کی تکلیف بٹا نہیں سکوں گی۔ ماں تو انجیکشن کی سوئی سے بھی ڈرتی تھی۔ اب کیا ہو گا؟

ہسپتال کے ڈائیلیسس وارڈ میں سب مریض ہی بھورے یا کالے رنگ کے ہو چکے تھے، کچھ سوکھ کے کانٹا ہو چکے تھے، کچھ سُوجھے ہوئے تھے، انگلیاں جھڑنے کے باعث ہاتھوں ہر لپیٹی پٹیاں انکی مشکلات میں اضافہ کر رہی تھیں۔ کیا آہستہ آہستہ اماں کا بھی یہ حال ہو گا۔ وہ یہ سوچنا بھی نہیں چاہ رہی تھی، پہلی بار جب اماں کو سوئیاں لگنی تھیں تو وہ دروازے سے باہر نکل گئی تھی۔ لیکن پھر بھی اتنے شور میں وہ ماں کی کرب بھری چیخ پہچان گئی تھی، وقت گزرنے لگا تھا، اماں کی چیخ اب سرد آہ سے بدل گئی تھی۔ وارڈ میں موجود سب مریض ایک ہی سیارے کی مخلوق لگتے تھے۔ انہیں مریضوں میں پندرہ سالہ شہریار بھی تھا جو بیماری کے باعث بمشکل چھ سات سال کا لگتا تھا۔ ہر بار ماں سے چپس کھانے کی ضد کرتا ہوا شہریار۔ اس نے اپنی ماں کو زیادہ عرصہ آزمائش میں نہیں رکھا تھا، چند ماہ بعد ہی اس کی نشست ایک دوسرے مریض کو دے دی گئی تھی۔ شیریں ہر آنے والے دن کے ساتھ خود کو سمیٹتے سمیٹتے تھکنے لگی تھی، بلڈ گروپ مختلف ہونے کی وجہ سے وہ ماں کو گردہ نہیں دے سکتی تھی اور گردہ خرید کر ٹرانسپلانٹ کروانے کی ان میں سکت نہیں تھی۔

\"\"سرکاری ہسپتالوں میں ایڑھیاں رگڑتے گردے کے مریضوں کی علاج کی حالت سے سب واقف ہیں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں یہی علاج اتنا مہنگا ہے کہ خزانے بھی خالی ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک گھر کی کہانی ہے۔ ایسی لاکھوں کہانیاں ہیں جن پہ ہم کان بھی دھرنا نہیں چاہتے، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ کی حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر روز، ہر تین منٹ میں ایک انسان اعضاء کی پیوند کاری نہ ہونے کے باعث وفات پا جاتاہے۔ ہر روز چالیس سے زائد افراد ہارٹ فیلیر، دو سو سے زائد افراد جگر اور سو سے زائد افراد گردے فیل ہونے کے باعث وفات پاتے ہیں۔

یورپی ممالک میں مرنے کے بعد اعضاء عطیات کرنے کا رجحان اسلامی ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ اسلام انسانیت کا سب سے بڑا علمبردار ہے، نہ جانے پھر بھی کیوں لوگ شبہات کا شکار نظر آتے ہیں۔ موت برحق ہے، لیکن آپ مرنے کے بعد کم سے کم سترہ افراد اور ان سے جڑی بہت سی اور زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی لا سکتے ہیں۔ آپ شیریں جیسی کئیں بیٹیوں کی مایوسی اور خدشات دور کر سکتے ہیں۔ کئیں شہریار کی ماؤں کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں روشنی بھر سکتے ہیں۔ آپ ایک چراغ بن سکتے ہیں جو اس دنیا سے انتقال کے بعد بھی صدقہ جاریہ کے طور پر رہے گا۔ افسوس ہوتا ہے جب لوگ موت کے بعد اعضاء کے عطیات سے ہونے والی تکلیف کا ذکر کرتے ہیں اور شک میں پڑتے ہیں حالانکہ خود پر یا اپنے کسی پیارے پر ایسی صورت حال پائیں تو سب جائز سمجھنے لگیں۔

بہرحال مٹی ہونے سے کہیں بہتر اندھیرے میں شمع کی لو کو تیز کرنا اور راستہ دکھانا ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔