….اور پاکستان نے بھارت کو شکست فاش دے دی


\"\" میڈیا کے چند نام نہاد اینکرچاہے کچھ بھی کرلیں۔ اس ریاست، جمہوریت، صحافت اورسیاست کی کتنی ہی بھیانک تصویر کیوں نہ دنیا کو دکھائیں، چاہے مجرموں، دشمنوں کو کتنا ہی بڑا ہیرو کیوں نہ بنائیں، ریٹنگ کے چکر میں وطن کے نام پر جتنا مرضی بٹہ لگائیں، نظام اور عوام کی کتنی ہی توہین کیوں نہ کریں، چاہے تو وطن کی بدنامی کے قصے ہر روز سرعام بیان کریں، چاہے تو ہر وقت تصویر کا تاریک، دردناک پہلو ہی کیوں نہ دکھائیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق پڑتا ہے ان لوگوں کی کاوشوں اور کوششوں سے جو اس دور میں بھی روشنی کا استعارہ بنتے ہیں۔ اندھیرے میں چراغ جلاتے ہیں۔ خود بھی روشن ہوتے ہیں اور باقی سب کو بھی منور کرتے ہیں۔

ابھی ابھی دہلی میں موجود پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے چیئر مین اور سابق صدر ورلڈ بلائنڈ کرکٹ کونسل سلطان شاہ صاحب سے بات ہوئی۔ دل طمانیت سے بھر گیا۔ قلب میں روشنی سی ہو گئی۔ اس وقت بھارت میں دوسرا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی بلائنڈ کرکٹ کپ منعقد ہو رہا ہے۔ اس میں دنیا بھر کے دس ممالک شریک ہو رہے ہیں۔ اس سے پہلے دو ہزار بارہ میں پہلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی بلائنڈ کرکٹ کپ ٹورنامنٹ بھی بھارت میں ہی منعقد ہوا تھا ۔ جس کے فائنل میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں پہنچی تھیں۔ فائنل میں بھارت نے پاکستان کو انتیس رنز سے ہرا دیا تھا۔ اب دوہزار سترہ میں دوسرا ورلڈ کپ منعقد کیا جا رہا ہے۔ آل راونڈر محمد جمیل پاکستان کے کپتان اور کوچ عبدالرزاق ہیں۔ پاکستان کی ٹیم نے یکم فروری کو دہلی میں فیروز شاہ کو ٹلہ گراونڈ میں بھارت کو ٹی ٹوئنٹی بلائنڈ ورلڈ کپ کے لیگ میچ میں شکست دی ۔ بھارت کی بلائنڈ ٹیم نے سات وکٹوں کے نقصان پر دو سو چار رن بنائے اور پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے مطلوبہ ھدف صرف پندرہ اورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ پاکستانی بیٹسمین ظفر اقبال نے اٹھاسی رنز بنائے جبکہ نثار علی نے چوالیس رنز سکور کئے۔ بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبد الباسط نے بھی یہ میچ دیکھا اور اپنے کھلاڑیوں کو داد دی۔ ٹورنامنٹ میں یہ پاکستان کی تیسری فتح تھی۔ اس سے پہلے پاکستان انگلینڈ کو اٹھانوے رنز سے اور نیوزی لیند کو دس وکٹوں سے ہرا چکا ہے۔ اس ورلڈ کپ کے سیمی فائنل دس اور گیارہ فروری کو بنگلور اور حیدرآباد دکن میں کھیلے جائیں گے ۔ جبکہ فائنل بارہ فروری کو بنگلور میں ہوگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ فائنل بھارت اور پاکستان کے درمیان ہو گا اور انشاءاللہ اس دفعہ پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ جیت کر پاکستان آئے گی۔

نابینا افراد سے میرا رابطہ اپنی مرحومہ اہلیہ صائمہ عمار کی وجہ سے ہوا۔ وہ خودبھی دو سال کی عمر سے نابینا تھیں او پھر تمام عمر نابینا افراد کی تعلیم کے لئے جدوجہد کرتی رہیں۔ پندرہ سالہ ازدواجی رفاقت میں انہی کے توسط سے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر ہزاروں نابینا افراد سے ملاقات ہوئی۔ بلائنڈ کرکٹ اور اسکے اثبات سے بھی اسی زمانے میں تعارف ہوا۔

معاشرے کا مسلسل تاریک رخ دکھانے والوں کے لئے یہ بات باعث حیرت ہوگی کہ پاکستان بلائنڈ کرکٹ ایسوسی ایشن دنیا کی سب سے زیادہ منظم کرکٹ ایسوسی ایشن ہے۔ یہ دنیا میں نابینا افراد کی وہ واحد کرکٹ تنظیم ہے جس کو سب سے زیادہ سہولتیں حاصل ہیں۔ دنیا بھرمیں بلائنڈ کرکٹ کے سب سے زیادہ ڈومیسٹک میچ پاکستان میں کھیلے جاتے ہیں۔ ہر ڈومیسٹک میچ کھیلنے والے کو پانچ سو روپے ملتے ہیں۔ انٹرنیشنل ون ڈے کھیلنے والے کو دس ہزار اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کو پانچ ہزار روپے ملتے ہیں۔ مالی طور پر پاکستان بلائنڈ کرکٹ ایسوسی ایشن دنیا میں سب سے مستحکم تنظیم ہے۔ کرکٹ بورڈ نے قریبا اٹھارہ بلائنڈ کرکٹر کو ملازمت دی ہے اور ان کا مشاہرہ پی سی بی نے مقرر کیا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم رینکنگ کے اعتبار سے دنیا کی نمبر ون ٹیم ہے۔

ماتم پیشہ اینکرز کے لئے یہ خبر حیرت کا سبب ہو گی کہ پاکستان اور بھارت کے بلائنڈ کرکٹ بورڈ کے تعلقات آپس میں بہت اچھے ہیں۔ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے جب ساری دنیا کی کرکٹ ٹیمیوں نے پاکستان آنے سے انکا رکر دیا تو یہ بھارت کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم ہی تھی جس نے دو دفعہ پاکستان کادورہ کیا۔ دو ہزار گیارہ اور دو ہزار چودہ میں بھارت کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم پاکستان آئی اور کراچی، لاہور اور فیصل آباد میں نہائیت دوستانہ ماحول میں میچ کھیلے گئے۔

ہر وقت تنقید کرنے والوں کو شائد یہ بات بھی پسند نہ آئے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سفری انتظامات کے لئے جو کاغذی کارروائی درکار تھی وہ بھی پاکستان کے اداروں نے کمال سرعت سے پوری کی۔ سپورٹس منسٹری، ایکسٹرنل افیئرز ڈویژن اور ہوم منسٹری کی جانب سے این او سی فوری طور پر فراہم کر دیئے گئے۔ جس قدر جلدی ممکن ہوا کھلاڑیوں کو ویزے دے دیئے گئے۔ البتہ ایک کوتاہی ہو گئی کہ جلدی میں فلائٹ بک نہیں ہو سکی کیونکہ اس طرح کی فلائٹ کے لئے مہینوں پہلے بکنگ کروانا پڑتی ہے۔ ۔ لیکن اس سے ان حوصلہ مند لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ یقین مانیئے پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم اور اس کی انتظامیہ کے پچیس افراد کے قافلے نے پیدل واہگہ بارڈر کراس کیا۔ اپنی پرائیوٹ بس بک کروائی اور کھیل کے میدان میں پہنچ گئے۔ سارے راستے میں پاکستان کی ٹیم کا بہت اچھا استقبال ہوا۔ بھارتی میڈیا نے خوب کوریج دی اور بہت احترام دیا۔ کسی نے کوئی رکیک حملہ نہیں کیا، کسی نے سرحدوں کی بات نہیں کی، کسی نے ایک دوسرے کو دہشت گرد نہیں قرار دیا، ایک دوسرے کے خلاف کوئی نعرے بازی نہیں ہوئی۔ اب ایک اچھے دوستانہ ماحول میں ہماری ٹیم فتوحات پر فتوحات حاصل کر رہی ہے۔ شائد یہ باہمی احترام کا جذبہ ہی تھا کہ اس برس ورلڈ بلائنڈ کرکٹ کونسل کے صدر سلطان شاہ نے رضاکارانہ طور پر اس ذمہ داری کو بھارت کے بلائنڈ کرکٹ بورڈ کے صدر مہنتیش جی کے کے حوالے کر دیا۔

سلطان شاہ بہت مثبت آدمی ہیں لیکن ایک لمحے کے لئے ان کے لہجے میں بھی تاسف آیا کہنے لگے کہ اگر پاکستان کی کوئی اور ٹیم بھارت میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کرتی تومیڈیا نے قیامت اٹھا دی ہوتی، لیکن نہ ہمیں صدر مملکت کی کال آئی، نہ وزیر اعظم نے شاباش دی، نہ کسی گورنر کو ہماری کامیابی خوش آئی، نہ ملک ریاض نے پلاٹوں کا اعلان کیا، نہ نجم سیٹھی نے حوصلہ افزائی کی۔ سوائے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے کسی اور کا تہنیتی پیغام تک موصول نہیں ہوا۔ خیر ہمارا کام کھیلنا ہے اور پاکستان کا نام روشن کرنا ہے، وہ ہم جاری رکھیں گے۔

بات میڈیا کے منفی رویے سے شروع ہوئی تھی۔ کچھ ماتم کناں دانش وروں کا ذکر ہوا تھا۔ پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے حوصلے سے سبق یہی ملتا ہے کہ نفرت، تنقید، تمسخراور تضحیک ہی خود کو نمایاں کرنے کا واحد طریقہ نہیں ہے۔ محنت، محبت، کاوش اور کوشش سے بھی انسان اس ملک کے لئے بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ مان لیں۔ مان لیں آپ نے بھی یہ کالم ہار جیت کے اعلان کے لیئے پڑھا ہے لیکن یاد رکھیں کہ صرف فتح اور شکست کی جنگ ہی انسان کو ممتاز نہیں کرتی، احترام، دوستی اور ہمت کا جذبہ بھی لوگوں کو محترم کرتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 90 posts and counting.See all posts by ammar