آل سعود کی امت مسلمہ پر مہربانیاں، ڈونلڈ ٹرمپ اور چوہدری نثار



\"\"نائن الیون کے بعد امریکہ کے اندورنی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ سعودی عرب میں سکولوں میں ایسی نصابی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جو باقی اقوام سے نفرت انگیز مواد پر مبنی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بحث بھی شروع ہو گئی کہ دنیا کے اکثر مسلم ممالک میں سعود ی عرب نہ صرف سلفی اسلام کے لئے مدارس بنا رہاہے بلکہ اکثر مسلم ممالک میں ان مدارس اور اداروں کی مدد کر رہا ہے جو دہشت گردی میں شامل رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی تھنک ٹینک Center for Religious Freedom Hudson Institute نے 2008 میں ایک رپورٹ ( Saudi Arabia Curriculum of Intolerance) شائع کی جس میں سعودی نصابی کتب سے ایسے اسباق چنے گئے تھے جو دوسرے مذاہب سے نفرت کا درس دیتے تھے۔ان اعتراضات کے جواب میں امریکہ کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ مختلف مراحل پر یہ کہتا رہا (دیکھئے 2015 annual report the State Department ) کہ امریکہ نے سعودی عرب کو اس بات پر قائل کیا ہے کہ وہ اپنی نصابی کتابوں سے نفرت انگیز مواد ہٹا دے اور دنیا بھر میں ایسے اداروں کی امداد سے دور رہیں جو دہشت گردی میں ملوث رہے ہوں۔ اس رپورٹ کے جواب میں واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک Institute for Gulf Affairs کے ڈاکٹر علی الاحمد نے 2017 میں شائع شدہ سعودی نصابی کتابوں سے حوالے پیش کر دیئے کہ سعودی عرب اب بھی اپنے سکولوں اور دنیا بھر میں قائم اپنے مراکز میں ایسا مواد بھیج رہا ہے جو یہودیوں اور عیسائیوں سے نفرت سکھاتا ہے۔اس تناظر میں امریکہ کے مختلف تھنک ٹینکس میں ایک بار پھر یہ بحث شروع ہو گئی کہ کیا نئے آنے والے صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر نظرثانی کریں گے؟سعودی عرب کے حوالے سے یہ بحث صرف امریکہ میں نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں تشدد کے حوالے سے جہاں بھی اس طرح کے مباحث ہوئے ہیں ان میں سعودی عرب کا نام شامل رہا ہے۔ خود پاکستان میں سعودی عرب کا کردار اس حوالے سے زیر بحث رہا ہے اور کئی حلقے تواتر سے سعودی کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔آل سعود کی ایک تاریخ رہی ہے اور یہ تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ آئیے تاریخ کے کچھ پنے پلٹتے ہیں۔\"\"

نومبر1947  میں فلسطین جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے پر جنگ کا آغاز فلسطین، جزیرہ نماسینا اور جنوبی لبنان میں ہوتا ہے۔ ایک جانب عرب میں آباد یہودیوں کی تنظیم یشو(Yishuv) ہے اور دوسری جانب فلسطین کی غیرمنظم فورس ’ جیش الجہاد مقدس‘ اور خودمختار جنگجوﺅں پر مشتمل عرب لبریشن آرمی ہے۔اس وقت David Ben-Gurion عرب میں آباد یہودیوں کی تنظیم World Zionist Organization کے ایگزیکٹیو ہیڈ اور Jewish Agency for Israel کے چیئرمین تھے ۔David Ben-Gurion نے 14 مئی 1948 کو اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے اگلے دن ہی فلسطین جنگ میں ایک جانب اسرائیل تھا اور دوسری جانب سے مصر، عراق، اردن، شام اور لبنان شامل ہو گئے۔ 20 جولائی 1949 کو اس جنگ کاخاتمہ عرب ممالک کی شکست کی صورت میں ہوا۔ ایک سال سات ماہ چلنے والی اس جنگ میں سعودی سلطنت خاموش تھی۔

اکتوبر 1956 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان نہر سویز کے معاملے پر جنگ سینا ہوئی۔اس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ برطانیہ اور فرانس بھی شامل تھے۔ نو دن جاری رہنے والی اس جنگ میں اسرائیل نے سینا پر قبضہ کر لیا۔ تین ہزار مصری فوجی مارے گئے۔ دس ہزار سے زیادہ سویلین مارے گئے اور تقریباََ بیس ہزار فوجی یا نیم فوجی قید ہوئے جبکہ اسرائیل، فرانس اور برطانیہ کے مجموعی طور پر 257 فوجی مارے گئے۔ اس جنگ میں بھی سعودی سلطنت خاموش تھی۔ پانچ جون 1967 کو عرب اسرائیل جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک جانب اسرائیل ہے دوسرے جانب مصر، شام، اردن، عراق اور لبنان ہیں جن کو سوڈان، الجیریا، کویت، لیبیا، مراکش اور تیونس کی حمایت ہے۔ اس جنگ میں مسلم ممالک کے 21500 کے قریب فوجی مارے گئے جبکہ اسرائیل کے ایک ہزار سے کم فوجی مارے گئے۔جنگ کے خاتمہ پر اسرائیل غزہ کی پٹی اور ویسٹ بینک پر قابض ہو جاتا ہے۔ اس جنگ میں بھی سعودی سلطنت خاموش ہے۔6 اکتوبر 1973کو اسرائیل، مصر اور شام میں ایک اور جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ جنگ کے خاتمے پر اسرائیل نہر سویز کے جنوب مغربی ساحل میں 1600مربع کلومیٹر پر قابض ہو چکا تھا۔مصر کے گولان مرتفعات میں500 مربع کلومیٹر پر قابض ہو چکا تھا۔ اس جنگ میں اسلامی ممالک کے 18300 کے قریب فوجی مارے گئے۔ اسرائیل کے2800 فوجی مارے گئے۔ اس جنگ میں بھی سعودی عرب کے 3000 فوجی غیر رسمی طور پر شامل تھے مگر تاریخی دستاویزات میں ان کے محاذ یا ان کے نقصان کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔\"\"
دوسری جانب مسلمان ممالک میں لڑی جنگوں میں سعودی عرب کا بھرپور کردار شامل رہا ہے۔ ستمبر 1980 سے اگست 1988 تک جاری رہنے والی ایران، عراق جنگ میں دونوں جانب سے ایک ایک لاکھ سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ایک لاکھ سے زائد سویلین دونوں اطراف میں مارے گئے۔اس جنگ میں سعودی عرب نے عراق کو  25 بلین امریکی ڈالر فراہم کئے۔ پندرہ سال جاری رہنے والی لبنان کی سول وار ہو، خلیج جنگ ہو، افغانستان جنگ ہو، یمن جنگ ہو، سعودی عرب ہر وقت ان میں شامل رہا ہے۔افغانستان کے ساتھ دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ جب امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں جنگ شروع کی تو جنگ کو مذہبی جواز بخشنے میں سعودی عرب نے اپنا بہترین کردار ادا کیا۔ یادش بخیر کہ اسامہ بن لادن سعودی شہری تھے۔ پھر نائن الیون کے بعد جب ا مریکہ نے القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو سعودی عرب امریکہ کے ساتھ کھڑا تھا۔
دونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر سے شام، ایران، عراق، سوڈان، صومالیہ اور یمن پر سفری پابندی عائد کر دی مگر سعودی عرب اس میں شامل نہیں ہے۔ ٹرمپ کا الیکشن سے پہلے تک یہی موقف تھا کہ مسلمان امریکہ میں دہشت گردی اور تشدد میں ملوث رہے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ نائن الیون کے 19 حملہ آوروں میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا ۔سوال یہ ہے کہ امریکہ ان تمام چیزوں کے بعد بھی سعودی شاہوں کی مدد پر کیوں کمربستہ ہے؟ اس کا جواب امریکی تھنک ٹینک Foundation for Defense of Democracies کے David Andrew Weinberg دیتے ہیں جنہوں نے اسی موضوع پر ایک ریسرچ پیپر ’Textbook Diplomacy‘ کے نام سے لکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’ امریکی انتظامیہ سعودی عرب کے بڑے پیمانے پر تیل کی پیداوار اور عرب خطے میں طویل المدتی امریکی مفادات کے پیش نظر ایسی ’indoctrination‘ کو قالین کے نیچے دبا لیتی ہے‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ، ’ 2010 سے امریکہ نے سعودی عرب کو قریباً سوبلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ہے۔ سعودی عرب پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سب سے زیادہ الزامات امریکہ سے آتے رہے ہیں۔ مسلم ممالک میں پراکسی وار لڑنے کے ثبوت بھی امریکی تھنک ٹینک شائع کرتے رہے ہیں مگر امریکی آشیرباد بھی ان کو ہی حاصل رہی ہے۔لہٰذا جب تک سعودی عرب، امریکہ بھائی بھائی ہیں تب تک یہ کھیل جاری رہے گا۔\"\"

ادھر پاکستان میں معاملہ مگر یہ ہے سعودی عرب پر تنقید سے ہمارے ہاں موجود چند ’ قومی دانشور‘ اور کچھ مخصوص لوگ بدک جاتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو گزشتہ ستر سال سے فلسطین کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کو پاکستان میں صاف و شفاف جمہوریت درکار ہے۔ یہ ووٹ دیتے ہیں۔ حکمرانوں پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کو ریاست کی جانب سے لباس کی کوئی پابندی قبول نہیں۔ ان کو خواتین کی گاڑی چلانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کو ریاست کے اندر شدت پسندوں کی سرگرمیوں پر بھی اعتراضات ہیں۔ مگر انہی مباحث میں سعودی عرب کا نام آجائے تو یہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ ایک ماورائی امت مسلمہ، جس کا سرخیل سعودی عرب ہو گا ،کا غم ستانے لگتا ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور ایران 1990  سے پاکستانی سرزمین پر ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وار لڑ رہے ہیں جس میں ہزاروں پاکستانی کھیت رہے۔ سعودی عرب کا فلسطین ، اسرائیل معاملے پر خاموش کردار سب پر عیاں ہے۔ پاکستان نے فلسطین کے معاملے پر آج تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا مگرمسلم ممالک میں سعودی عرب کے تعلقات اسرائیل سے سب سے زیادہ اچھے ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب نے پاکستان کی عالمی سطح پر کبھی مدد نہیں کی۔ بھارت کے نریندرا مودی جن پر گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام کا الزام ہے مگر ا ن کو سعودی عرب اعلیٰ ترین سول اعزاز شاہ سلمان دیتا ہے۔ پاکستان میں بھٹو کے خلاف سیاسی تحریک اٹھے تو اس کے ثالث سعودی سفیر قرار پاتے ہیں جبکہ ان کے ہاں حزب اختلاف نامی چڑیا پر نہیں مار سکتی۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے مالی مدد اسامہ بن لادن کرتے ہیں۔ یہ وہی اسامہ بن لادن ہیں جو 1989 تک سعودی عرب کے مجاہد اول تھے اور جن کو سعودی عرب نے ہی افغانستان کا راستہ دکھایا تھا۔نوازشریف اور پرویز مشرف کے درمیان ثالثی کا فریضہ بھی سعودی انجام دیتے ہیں ۔\"\"

سوال یہ ہے کہ ایسے موقع پر جب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سعودی عرب سے صرف نظر کیا، ہمیں سعودی طوطا چشمی کیوں یاد آئی ؟ اس سے پہلے کہ ’قومی دانشور‘ اس میں سے ’مخصوص مقاصد‘ برآمد کریں ہم خود ہی ذکر کئے دیتے ہیں۔سانحہ کوئٹہ پر کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں کالعدم و شدت پسندتنظیموں کا بھی کچھ ذکر تھا۔ ان میں سے کچھ تنظیمیں وہی ہیں جن پر سعودی پراکسی یا سعودی امداد کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ کمیشن رپورٹ میںاہل سنت و الجماعت کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دینے اور وزیر داخلہ کے اہل سنت والجماعت کے سربراہ سے ملاقات کا بھی ذکر تھا۔ اس کے جواب میں ہمارے شعلہ بیان وزیر داخلہ کے وکیل نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ، ’ جس ملاقات کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں دفاع پاکستان کونسل کے علما سے ملاقات تھی جو کہ کالعدم جماعت نہیں ہے اور وزیر داخلہ کے علم میں نہیں تھا کہ مولانا سمیع الحق کے ساتھ احمد لدھیانوی بھی ہوں گے‘۔ ہمارے وزیر داخلہ ایک معصوم آدمی ہیں۔ ان کوکسی سے ملاقات کے وقت یہ علم نہیں ہوتا کہ ان سے ملنے کے لئے آنے والے کون ہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ ایسا ہی تھا۔ ان کی اس معصومیت پر کیا کہا جائے کہ وزیر داخلہ ہوتے ہوئے بھی ان کو علم نہیں کہ دفاع پاکستان کونسل میں کون کون سی جماعتیں شامل ہیں؟ \"\"

ہم عقیدتوں کے مارے سادہ لوگ ہیں۔ نواز شریف سعودی ڈپلومیسی کے نتیجے میں جدہ عازم ہوئے تو مسلم لیگی فرمایا کرتے کہ مدینے کا بلاوا آ گیا۔ ہم عقیدت مند داد کے ڈونگرے اس بات پر برسا تے رہے کہ شاہ سلمان نے نماز کے لئے امریکی صدر باراک اوباما کو ریڈ کارپٹ پر اکیلا چھوڑ دیا۔ ہمارے وزیر داخلہ سمجھتے ہیں کہ قوم انہی کی طرح سادہ ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہم ان کی طرح سادہ ہونے کے ساتھ ساتھ عقیدت مند بھی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 154 posts and counting.See all posts by zafarullah

One thought on “آل سعود کی امت مسلمہ پر مہربانیاں، ڈونلڈ ٹرمپ اور چوہدری نثار

  • 05-02-2017 at 11:14 pm
    Permalink

    . ماشاءاللہ. عمدہ تحریر. بہترین انداز. اخبار میں شائع ہو تو انشاءاللہ بہت ہی پزیرائی ہو گی

Comments are closed.