ٹرمپ کا عروج اور پاپولزم (مقبولیت پسندی ) سے کیا مراد ہے ؟


\"\"پاپولزم ایک سیاسی تحریک یا ہیجان کا نام ہے جس کا مقصد عوامی جذبات میں اشتعال پیدا کر کے سیاسی اقتدار حاصل کرنا ہے۔ اس کی تعریف کو باقاعدہ طور پر سمجھنے کے لئے اس اصطلاح کو تاریخی تناظر میں دیکھتے ہیں۔
اس اصطلاح کا باقاعدہ استعمال 1890 ءمیں شروع ہوا جب امریکہ کی سیاسی پارٹیوں کے درمیان شہری آبادی اور دیہی آبادی کو ترقیاتی عمل میں ترجیح دینے کے معاملے پر ٹھن گئی۔ اسی طرح انیسویں صدی میں ہی روس میں اٹھنے والی تحریک جسے narodnichestvo movement کہتے ہیں ، کے لئے بھی یہ اصطلاح استعمال کی گئی جس میں دیہی آبادی یعنی کسانوں کی زندگی کے رومانس کو بڑھاوا دیا گیا۔ اس اصطلاح کا پرجوش استعمال 1950ءمیں شروع ہوا جب فاشسٹ اور کمیونسٹ تحریکوں کو Populist تحریکیں پکارا جانے لگا ۔ اس کی باقاعدہ تعریف مشکل ہے کیونکہ اس تحریک کا کوئی باقاعدہ منشور یا نظریہ نہیں ہے۔2004ءمیں یونیورسٹی آف جارجیا کے پولیٹیکل سائنٹسٹ Cas Muddle نے اس کی تعریف کی جو عموماً استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے خیال میں ’پاپولزم ایک باریک آئیڈیالوجی (Thin Ideology) ہے جس کے ماننے والے خود کو خالص (Pure) جبکہ اپنے مدمقابل کو کرپٹ سمجھتے ہیں‘۔ اس تحریک میں درج ذیل چیزیں لازم ہیں : انتہا درجے کی سیاسی فرسٹریشن ، کرخت قسم کا قومی غرور (نیشنل ازم ) ، حب الوطنی کا رومانس، ماضی کا رومانس (آؤ ہم امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں ۔ٹرمپ ) ، دیسی شناخت اور اپنی تہذیب پر اصرار (تارکین وطن ہم سے ہماری شناخت چھین رہے ہیں) ، سچائی پر اجارہ داری کا دعویٰ (میڈیا کا کام ہی ہمیں بدنام کرنا ہے )، دلیل کے بجائے غصہ و بے چینی (تارکین وطن ہمارا روزگار چھین رہے ہیں ) ، ہیرو ازم (ہمارا لیڈر ہمارے لئے مسیحا بن کر آیا ہے ) اور قائم نظم (Established order ) سے نفرت ۔
پوری دنیا میں مقبولیت پسند (Populist ) تحریکیں اپنے اپنے ایجنڈے میں مختلف مطالبات رکھتی ہیں مگر درج بالا خصوصیات سب میں پائی جاتی ہیں ۔ مثال کے طور پر :ٹرمپ تارکین وطن کو امریکہ سے بھگانا چاہتا ہے تو سپین میں Podemos تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینا چاہتا ہے۔ نیدر لینڈ میں Geert Wilders نفرت پھیلانے والی تقاریر (Hate speech) کے خلاف قائم قوانین کو ختم کرنا چاہتا ہے تو پولینڈ میں Jaroslaw Kaczynski ایک اصطلاح \” Polish death camps \” کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ بولیویا میں Evo Morales نے دیسی شہریوں کے اس حقوق میں اضافہ کیا ہے کہ وہ coca (کوکین میں استعمال ہونے والا پودا ) زیادہ سے زیادہ کاشت کر سکتے ہیں تو فلپائن کے پاپولسٹ حکمران \” Rodrigo Duterte\” نے حکم جاری کیا ہے کہ جس پر بھی جرائم پیشہ ہونے کا شک ہو اسے گولی مار دی جائے ۔\"\"
مغرب میں تمام ریاستی ادارے لبرل بنیادوں پر قائم ہیں : جیسے پارلیمان ، عدلیہ انتظامیہ وغیرہ ۔ پاپولزم ان سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے۔مثال کے طور پر امریکہ میں 1945ء سے ڈیموکریٹکس اور ری پبلیکنز میں تین چیزوں پر ایک طرح کا اتفاق موجود ہے جس پر دونوں سیاسی گروہ متفق ہیں۔ ایک : امریکہ کا دفاع اس صورت میں مستحکم بنایا جا سکتا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں سے وسیع اور گہرے تعلقات قائم رکھے۔ دوم : اوپن مارکیٹ پوری دنیا کے تمام ممالک کے فائدے میں ہے۔ امریکہ اور پوری دنیا میں خوشحالی اسی صورت میں آئے گی کہ ہم پوری دنیا کے ممالک سے آزاد تجارت کی پالیسی پر قائم رہیں۔ سوم : ہم جمہوریت اور اس کے مفادات پر اتفاق کرتے ہیں اور ملک کے اندر و باہر جمہوری اصولوں کے فروغ میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔
امریکہ میں ٹرمپ ان تینوں اصولوں سے اتفاق نہیں کرتا۔ وہ امریکی عسکری اتحادوں سے بے زاری کا اعلان کر چکا ہے جس میں سر فہرست نیٹو اور یورپی یونین سے اتحاد ختم کرنا ہے ، فری مارکیٹ کی پالیسیوں کے بجائے وہ Protectionist تجارتی پالیسیوں پر قائم ہے جس کی رو سے تجارت میں محض ملکی مفادات کو دیکھا جائے گا اور آزاد تجارت کی پالیسی ختم کر دی جائے گی۔ اسی طرح ملک کے اندر اور باہر جمہوریت اور جمہوری اصولوں سے اسے کوئی سروکار نہیں کہ وہ ایگزیکٹو آرڈر کا بے دردی سے استعمال کر رہا ہے ۔
پاپولسٹ تحریکیں لیفٹ اور رائٹ کی تقسیم سے بے نیاز ہیں۔ اس لئے دونوں طرف کے لوگوں کو کھینچنے کے لئے دونوں طرف کے مقبول مطالبات کو اپنے منشور کا حصہ بنائے ہوئے ہیں ۔ مثال کے طور پر ٹرمپ نے (ڈیموکریٹس کی طرح ) وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ ایام زچگی کی چھٹیوں ( Maternity Leaves) اور مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں اضافہ کرے گا جبکہ ساتھ میں ری پبلیکنز کے ووٹ کھینچنے کے لئے یہ اعلان بھی کیا ہوا ہے کہ وہ کاروباری سرگرمیوں پر ٹیکسز کا بوجھ بھی کم کرے گا۔ اسی طرح اس کے ووٹرز میں بھی رائٹ اور لیفٹ دونوں طرف کے لوگ ہیں ۔ رائٹ کے لوگ اس طرح خوش ہیں کہ وہ نسلی بنیادوں پر گوروں کے حق میں ہے اور اقلیتوں کو دبا کر رکھنا چاہتا ہے تو لیفٹ کے لوگ اس لئے خوش ہیں کہ ٹرمپ بڑی بڑی کارپوریشنز پر اپنی گرفت بڑھا رہا ہے اور ان کے کاروباروں کو ملک میں واپس کھینچ رہا ہے۔
اب آتے ہیں ان دو بنیادی سوالات کی طرف کہ آیا یہ تحریکیں کامیاب ہوں گی یا ناکام ؟ اس سلسلے میں دو باتیں ہیں :
ایک یہ کہ یہ تحریکیں فکری و عملی طور پر بانجھ ہیں ۔ انہیں نہیں معلوم کہ اقتدار کے حصول کے بعد اب آگے کیا کرنا ہے۔ یہ تمام تصورات (رائٹ و لیفٹ) سے بے نیاز ہیں اور انہیں مسائل کی وجہ قرار دیتی ہیں اس لئے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی خواہش ہے کہ سب کچھ اکھاڑ کر پھینک دیا جائے مگر اس سارے آپریشن کے بعد آگے کیا کرنا ہے ان کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ۔ اس لئے ماہرین کا یہ اصرار ہے کہ جلد ہی ان کا زور ٹوٹ جائے گا مگر یہ کتنی خرابی پیدا کر کے جاتی ہیں یہ وقت ہی بتائے گا ۔\"\"
دوم یہ کہ ان تحریکوں کے مخالفین یعنی لبرل ڈیموکریسی کے حامی بھی فکری طور پر کافی کمزور ہو چکے ہیں جس کی ایک وجہ پوسٹ ماڈرن ازم جیسے تصورات ہیں جنہوں نے تصورات و اقدار پر ان کا یقین ختم کر دیا ہے اور یہ انہیں وہم (Illusion) سمجھنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر فریڈم (آزادی ) مغربی تہذیب کی بنیاد سمجھی جاتی ہے ، آزادی ایک قدر ہے اور اس قدر پر سیاسی تحریکوں اور دانشوروں پر اتفاق رائے موجود رہا ۔ یہ کیفیت اب بہت ہی کمزور ہے۔ امریکہ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ٹرمپ نے پورے نظام کو ہلا دیا ہے اور چیزوں کو اکھاڑ کر ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیا ہے مگر پورے امریکہ کے دانشور ششدر ہیں کہ ہو کیا رہا ہے ، کیوںکر اس کی نوبت آئی اور اسے کیسے روکا جائے ؟ چند لوگ یقینا موجود ہیں جو اس ساری صورتحال کا صحیح تجزیہ کرتے رہے اور کر رہے ہیں مگر مقبولیت پسندی کی اس فضا میں ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی طرح ہے ۔
فکری طور پر کمزوری کی دوسری وجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا کی سیاسی تحریکوں اور فکر میں ٹیکنوکریٹک ازم اور سٹیریوٹائپنگ (Stereo typing ) کا غلبہ در آیا ہے۔ جب ٹرمپ، امریکی لبرل اقدار کی دھجیاں بکھیر رہا تھا تو امریکہ میں لبرل اقدار آزادی انصاف اور مساوات کے دفاع میں ہیلری کلنٹن اور اس کے سیاسی حامیوں کی طرف سے انتہائی کمزوری کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ ہیلری کے دلائل میں سیاسی جوش اور اقدار کے معاملے میں عزم دیکھنے کو نہیں ملا بلکہ کام کیسے کرنا ہے کی وضاحتیں ایسی تھیں جیسے ہم ٹیکنو کریٹس میں دیکھتے ہیں۔ جتنا جوش مشال اوباما میں تھا اس کا عشر عشیر بھی ہیلری میں نہیں پایا جاتا تھا ۔ مشال کی آواز اس لئے غیر موثر رہی کیونکہ وہ خود اقتدار کا حصہ تھی اور اس نے بھی خود کو خواتین کے معاملات تک ہی محدود رکھا ۔ اسی طرح خود ری پبلیکنز میں بھی جو ابراہم لنکن اور رونالڈ ریگن کی پارٹی ہے ٹرمپ کا سامنا کرنے کی سکت نہیں تھی۔ امریکہ کی سیاسی تحریکوں میں اس وقت جان ہی نہیں کہ وہ لبرل اقدار کے تحفظ میں کھڑی ہوں اور مقبولیت پسندی کے اس عفریت کا مقابلہ کر سکیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ امریکی شہری رائج سیاسی کلچر سے تنگ آ چکے ہیں جس کی وجہ سیاسی نعروں اور کارکردگی میں فرق ہے۔ یوں عوام نے روایتی سیاست دان ہیلری کلنٹن پر ایک نئے بے باک اور مستقبل کا سنہرا خواب دکھانے والے ٹرمپ کو ترجیح دی۔ یہی صورتحال باقی مغربی ممالک میں ہے ۔ انجیلا مرکل اپنی تیسری ٹرم مکمل کر کے چوتھی ٹرم کے انتخابات لڑنے کی تیاری کر رہی ہیں ، اس فضا میں ان کا مقابلہ بھی ایک پاپولسٹ سیاست دان سے ہے جو سمجھتا ہے کہ مرکل نے سسٹم پر قبضہ کر لیا ہے۔\"\"
امریکہ کے بارے میں مشہور فرانسیسی مفکر Alexis de Tocqueville نے کہا تھا’ امریکہ کی عظمت اس چیز میں نہیں کہ وہ باقی اقوام سے زیادہ روشن خیال ہے بلکہ اس چیز میں ہے کہ امریکی اپنی غلطیوں سے جلدی سیکھتے ہیں‘۔ امریکہ میں جمہوریت ہے ، ادارے موجود ہیں اور یہ ادارے بھی ٹرمپ کو ناپسند کرتے ہیں۔ امید ہے امریکی جلد ان سوالات کا جواب بھی ڈھونڈھ لیں گے کہ ٹرمپ کے عروج کے کیا اسباب ہیں ، آخر ایگزیکٹو آرڈر کی طاقت نے سارے سیاسی ڈھانچہ کو بے بس کیوں کر دیا ہے ، ٹرمپ سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور آئندہ کے لئے ایسا کیا سیاسی بندوبست ہو کہ ٹرمپ جیسے مہم جووں سے سیاست و معیشت اور ثقافت کو محفوظ رکھا جائے۔ امریکیوں کو سیکھنا ہو گا ورنہ ٹرمپ نے ان کے عروج کو زوال میں بدل دینا ہے کیونکہ اب تک کی تاریخ سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ اتھاریٹیرین ازم کا انجام تباہی ہے ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 133 posts and counting.See all posts by zeeshan