بانو آپا چلی گئیں ۔ لاہورسائیں سائیں کرتا ہے


\"\"ویلیم برینٹ نے انیسویں صدی کے کسی ابتدائی عشرے میں فروری کی محبت کا گیت گایا تھا۔ ’فروری کی دھوپ کھڑی شاخوں کو جھکا دیتی ہے۔ کلیاں اپنا روپ بدل لیتی ہیں۔ من میں کونپل پھوٹتے ہیں اورپتے خوشبو نچھاور کرنا شروع کر دیتے ہیں‘۔ یادوں کے دفتر میں فروری مگر ایک ظالم مہینہ ہے۔ پچھلے سال فروری نے ہم سے انتظار حسین چھین لیا تھا۔ انتظار حسین ہماری چھاﺅں تھے۔ ان کو لاہور کی چھاﺅں سے محبت تھی۔ انتظار حسین یاد آئے تو من میں ایک کسک سی اٹھی ۔ دل میں فیض کی یاد چمکی۔ فیض نے غالباً فروری کے بارے میں ہی لکھا ہو گا کہ’ پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں‘۔ دماغ نے ساتھ نہ دیا اور محسوس ہوا کہ شاید فیض بھی فروری میں ہمیں چھوڑ گئے تھے۔ گوگل پر فیض احمد فیض کا نام ٹائپ کیا تو فیض کے نام سے پہلے فیض احمد فیض میٹرو اسٹیشن کا پیج نظر آیا۔ جبر کی بھی کیا کیا صورتیں ہیں۔ انٹرنیٹ کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ فیض کے نام سے پہلے میٹرو اسٹیشن کا نام آنے کے پیچھے کونسا کاروباری ذہن کارفرما رہا ہو گا۔ یاد آیا کہ فیض کو صادقین کی موت کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا ہے۔لاہور ہی میں انارکلی کے کسی تھڑے سے کالج کے زمانے میں کچھ پرانے ناول خریدے تھے۔ان میں ایک ناول کا نام Joy in the Morning تھا۔ مشہور زمانہ P. G. Wodehouse کا ناول۔ کہانی بالکل یاد نہیں لیکن ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے P. G. Wodehouse بھی 14 فروری کو محبت والے دن رخصت ہوئے تھے۔ فروری کی دھوپ میں محبت کی چاشنی ہے مگر فروری کی شام کے سائے منڈیروں پر ایک عجیب سی اداسی چھوڑ جاتے ہیں۔
\"\"
یونیورسٹی کے دن تھے۔ ہم چار دوستوں نے لاہور گھومنے کا فیصلہ کیا۔ جن کو لاہور کی خبر نہیں ہوتی وہ چار مقامات سے ضرور واقف ہوتے ہیں۔ انارکلی، مینار پاکستان، شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد۔ چار و ناچار انہی پر فیصلہ کیا کہ دیکھے جائیں۔ امریکی پاپ گلوکار وارن زیوان کا ایک گانا مشہور تھا ain\’t that pretty at all۔ اس گانے میں ایک مصرعہ تھا، ’ I’ve been to Paris. And it ain’t that pretty at all ‘۔ کچھ ایسی ہی کیفیت ہماری تھی۔ سوچتے رہتے تھے کہ ہم نے کیا دیکھا؟ اس میں بھلا کیا خوبصورتی ہے؟ شام کا سمے تھا۔مسجد میں کچھ سیاح ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ایک دو انگریز خواتین دیواروں پر بنے نقش و نگار کی تصاویر بنا رہی تھیں۔ ان کے آگے ایک بوڑھے گائیڈ چل رہے تھے جو معقول انگزیزی بول رہے تھے۔ میں نے بھی پیچھے چلنا شروع کیا۔ بوڑھا گائیڈ بادشاہی مسجد کی تاریخ بیان کر رہا تھا گویا پورے مغل سلطنت کی تاریخ بیان کر رہا تھا۔ انہی کی زبانی معلوم ہوا کہ بادشاہی مسجد بنانے کا حکم یوں تو اورنگ زیب نے دیا مگر مسجد اصل میں بنائی اورنگ زیب کے رضائی بھائی فدا ئی خان کوکا نے تھی جو لاہور کے امیر تھے۔ بوڑھے بابا جی نے بتایا کہ انگریزوں کے لاہور پر قبضہ کرنے کے بعد یہ مسجد اور قلعہ بہت عرصے تک انگریز چھاﺅنی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ٹور ختم ہوا۔ ویسے ہی بابا جی سے پوچھا کہ آپ یہاں ملازم ہیں؟ بابا جی مسکرا دیئے۔ کہنے لگے نہیں میں ملازم نہیں ہوں۔ مجھے بس اس تاریخی ورثے سے محبت ہے۔ میں اپنی جوانی میں یہاں آیا تھا۔یہاں کے گائیڈ سیاحوں کو غلط معلومات دیتے تھے۔ پھر میں نے سوچا خود ہی گائیڈ بن جاﺅں۔ میں خود ہی گائیڈ بن گیا۔ مشکل یہ تھی کہ مجھے انگریزی نہیں آتی تھی۔ وہ بھلے وقتوں کی بات ہے۔ یہاں بہت سے یورپی سیاح آتے تھے۔ وہ دن کو یہاں آتے اور شام کو داتا دربار چلے جاتے۔ میں نے خود محنت کر کے انگریزی سیکھی۔

کچھ عرصہ پہلے لاہور کی بادشاہی مسجد جانا ہوا تو بابا جی ویسے ہی سیاحوں کے نرغے میں تھے۔ ان کو فراغت ملی تو ایک بار پھر ان سے ہاتھ ملایا۔ یاد دلانے کی کوشش کی کہ ہم ملے تھے۔ وہ ایک میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ تھوڑی دیر دیکھتے رہے۔ پھر کہنے لگے کہ ہاں ہاں یاد آیا۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ ان کو بالکل بھی یاد نہیں تھا کہ ہم ملے تھے مگر وہ میری خوشی کی خاطر مان رہے تھے۔ ایسی بے لوث محبتیں اور ایسے بے لوث جذبے اب کہاں دستیاب ہیں۔ فیس بک پر گھومتے گھومتے آج ان کی تصویر دیکھی۔ معلوم ہوا کہ ان کا نام محمد شامی تھا۔ ان کی تصویر کے ساتھ ان کے انتقال کی خبر تھی۔ دل میں ایک عجیب سی اداسی پھیل گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے فروری نے محبت بھرا ایک اور چہرہ خاک کر دیا۔ انتظار حسین نے کوچ کیا تو لاہور کے شجر ویران تھے۔ شامی بابا کے بعد آج بادشاہی مسجد کی سیڑھیاں اداس ہوں گی۔ اب جانے کون مسجد کے وسیع برآمدوں میں آواز لگا کر بتائے گا کہ دیکھو بیٹا کیسی گونج پیدا ہوتی ہے؟ ایک گمنام گونج ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔ان کو تو کسی میٹرو اسٹیشن کا نام بھی نصیب نہیں ہو گا۔
\"\"
ابھی یہ سطریں لکھ رہا تھا کہ معلوم ہوا فروری بانو قدسیہ سے بھی روٹھ گیا۔ بانو آپا اردو کے افسانوی نثر کی معمار تھیں۔ افسانوی تمثیل لکھنے والے محبت کی داستان لکھ کر دیتے ہیں۔ بانو آپا نے محبت کی داستان لکھ کر بھی دی اور محبت کر کے بھی دکھائی۔ بانو آپا نے نصف صدی اشفاق احمد کی محبت میں بتا دی۔ مجھے یاد ہے ایک بار سہیل وڑائچ نے ان سے پوچھا تھا کہ نصف صدی کی رفاقت کے بعد اشفاق صاحب کے بغیر آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ بانو آپا نے کہا،’ خوشی میں بیتے لمحے چاہے جتنے زیادہ ہوں پر کم محسوس ہوتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے میں اشفاق صاحب کے ساتھ بس ایک ہفتہ رہی ہوں‘۔ بانو آپا نے بہت کچھ لکھا مگر راجہ گدھ کو بے مثال پذیرائی ملی۔ اردو ادب میں راجہ گدھ کا اپنا ایک مقام ہے مگرہر اچھی تخلیق کہیں نہ کہیں متنازع بھی ہوتی ہے۔بانو آپا نے راجہ گدھ میں انحراف کے رویے سے انکار کیا ہے۔ یہ موقع مگر راجہ گدھ پر بحث کا نہیں ہے۔ کوئی سمے آئے گا جب انحراف سے انکار کے رویے پر بحث ہو گی کہ انحراف نہیں ہو گا تو سوال کیسے جنم لے گا۔ سماج میں عموماً ادیب دو رویوں کے ساتھ جوجھتا رہتا ہے۔ ایک راستہ بغاوت کا ہے جو فیض اور جالب کو جنم دیتا ہے۔ ایک رویہ اطاعت کا ہے جو اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کو جنم دیتا ہے۔ بغاوت اور اطاعت کے بیچ میں سماج کی تخلیق ہوتی رہتی ہے۔
ناصر کاظمی نے لکھا تھا
دل تو میرا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 141 posts and counting.See all posts by zafarullah

One thought on “بانو آپا چلی گئیں ۔ لاہورسائیں سائیں کرتا ہے

  • 06-02-2017 at 1:15 pm
    Permalink

    mashallah maza agya parha k

Comments are closed.