بانو قدسیہ یا بانو اشفاق ۔۔۔ کیا قافلہ جاتا ہے!


\"\"  فیس بک استعمال کرنا شروع کیا۔ ٹھیک سے یاد نہیں کتنے برس ہو گئے۔ ادب لطیف کا نام ہمیشہ ذہن میں رہتا تھا۔ صدیقہ آپا کا ایک غائبانہ تعارف اس وسیلے سے تھا۔ وہ فیس بک پر نظر آئیں تو انہیں ایڈ کر لیا۔ ایک دن آپا نے کہا کہ انہیں بک کلب شروع کرنا ہے۔ یہ ایک قسم کا سٹڈی سرکل تھا۔ اس میں بحث کرنے کی بجائے کسی ایک منتخب کتاب پر تمام لوگ باری باری بات کرتے تھے۔ ان سے ممبر شپ کی درخواست گذاری، انہوں نے بہت شفقت سے منظور کر لی۔

اب پہلی ہی کتاب انگریزی کی تھی، اور مارکیز کی گفتگو تھی جو انہوں نے اپنے ایک دوست سے کی تھی۔ طویل گفتگو کی مختصر سی کتاب تھی۔ اس چکر میں دو باتیں پتہ لگیں۔ ایک تو جب کوئی کتاب پڑھنے کا طے کر لیا جائے، وہ نہیں پڑھی جا سکتی۔ دوسرے یہ کہ پڑھ کر اس پر گفتگو کرنا، یہ بھی موڈ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

جو مزے کی بات تھی، یا کہہ لیجیے جو لالچ تھا، وہ یہ تھا کہ بڑے ادیبوں سے ملاقات ہو جانی تھی۔ پہلی نشست بانو آپا کے یہاں ہونی تھی۔ صدیقہ آپا نے تو آنا ہی تھا۔ آمنہ مفتی، حمیدہ شاہین، امجد طفیل، ضیا الحسن سب ہی بڑے نام تھے۔ تو ایک نو سکھیا لکھنے والا بس اس نشے میں کہ ان سب لوگوں کو دیکھے گا، ان سے ملے گا اور کہاں ملے گا، داستان سرائے میں ۔۔۔ تو بس جیسے تیسے کتاب پڑھ گیا۔ کچھ نوٹس بھی لیے لیکن پوری کوشش یہی تھی کہ دیکھا جائے، سنا جائے، بولنا کچھ بھی نہیں۔ انسان بولتا ہے تو پہچانا جاتا ہے۔ اور سینئیر لکھنے والوں کے بیچ مصرعہ اٹھانا ویسے ہی بد تہذیبی ہے۔ بس سنتے جائیے اور سیکھتے جائیے۔

بک کلب کی بات چیت شروع ہوئی۔ اپنی نظریں وہیں گھومتی رہیں۔ دیواروں پر، دروازوں پر، کتابوں پر، تخت پر، کھڑکیوں پر۔ کیا کہا گیا، کیا سنا گیا۔ کچھ بھی یاد نہیں۔ 121 c یاد ہے، یہ مکان کا نمبر تھا۔ نام داستان سرائے، گیٹ کالا، گیٹ کے ساتھ والی دیواریں شاید سرخ۔ اندر ایک دو گاڑیاں کھڑی ہوئی۔ سیدھے ہاتھ پر دروازہ۔ اسے کھولیے تو سامنے وہ کمرہ جہاں ہم لوگ بیٹھے تھے۔ دیواریں اس کمرے کی سفید تھیں شاید۔

اس کمرے میں اشفاق احمد بیٹھا کرتے تھے؟ بانو آپا یہیں ان کے ساتھ بیٹھتی تھیں؟ یہاں کتنے ہی لوگ آئے ہوں گے۔ ابن انشا یہاں آ کر کیا باتیں کرتے ہوں گے، قدرت اللہ شہاب نے کوئی کتاب اشفاق صاحب کو دی ہو گی، جو سامنے کتابوں میں شاید رکھی ہو۔ ممتاز مفتی بھی ادھر آتے ہوں گے؟ کیا کیا باتیں ہوتی ہوں گی؟ وہ جو ایک تصویر تھی، بانو آپا اور اشفاق صاحب کی، جس میں بار بی کیو کا سامان سجائے دونوں بیٹھے ہیں، وہ منظر اس گھر نے بھی دیکھا ہو گا؟ یہاں کیسے کیسے لوگ جمع رہے ہوں گے؟ یعنی جن کرسیوں پر آج ہم لوگ بیٹھے ہیں، نہ جانے کون کون اس کمرے میں، انہی کرسیوں پر آ کر بیٹھا ہو گا۔ اور وقت چوں کہ ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا تو آج ان کرسیوں نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ ایک نیا سا لکھنے والا ان پر آ کے جم جائے۔

اسی بارے میں: ۔  پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ پر ایک نظر۔۔۔(1)

تو وہ نیا لکھنے والا سوچتا تھا کہ باغ جناح میں وہ کافور کا درخت، وہ پیر بابا کا مزار، وہ شامیں جو اس ناول میں ہوتی تھیں، جنہوں نے بچپن کو جوانی میں بدلا اور جوانی میں اسی کے فلسفے سے دامن چھوٹ گیا، وہ سب کچھ شاید اسی کمرے میں بیٹھ کر لکھا گیا ہو۔ وہ ناول جس کے بعد جناح باغ میں جانا اور درختوں کو دیکھتے رہنا عادت ہو گئی، وہ سب لکھنے والی یہاں بیٹھتی ہوں گی۔

اتنی دیر میں آپا وہیل چئیر پر بیٹھی آ گئیں۔ سب کھڑے ہو گئے۔ وہ اثیر بھائی کے ساتھ آئی تھیں۔ انہیں کے ساتھ داستان سرائے میں رہتی تھیں، وہ ان کے چھوٹے بیٹے ہیں۔ آپا کا پورا وجود صرف ایک ماں کا وجود تھا۔ شفقت، مہربانی، پیار، ممتا، اطمینان، محبت، اور سب کچھ جو کسی ماں میں ہو سکتا ہے، وہ ان کے اندر موجود تھا، اور وہ سب کے لیے تھا۔ جتنے لوگ ادھر بیٹھے تھے، سبھی ان سے ملے، سیشن کے بعد باتیں ہوئیں۔ نیا لکھنے والا جو پہلی بار ملتا تھا، وہ بھی ملا۔ آپا نے ایسے سر پہ ہاتھ رکھا جیسے کئی برس کی نیاز مندی ہے۔ یعنی ایسا کوئی تاثر بھی نہیں چہرے پر کہ میاں تم کون ہو، کہاں سے آئے ہو۔ حال چال پوچھا اور عام سی باتیں، بس۔

آپا بات کرتی تھیں، اور بار بار اثیر بھائی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیتی تھیں۔ کبھی ان کے ہاتھ چوم لیتیں۔ ایک ماں کا یہ ایکسپریشن کبھی نہ بھلایا جانے والا ہے۔ جو وہیل چئیر پر ہے۔ سب سے باتیں کر رہی ہے۔ بیٹے کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ کبھی چپ ہوتی ہے تو پیار سے اسے سہلا دیتی ہے۔ بیٹا ویسے ہی ساتھ بیٹھا ہے۔ جب محسوس ہوا کہ آپا بات کرتے کرتے تھک رہی ہیں تو اثیر بھائی انہیں خود ہی اندر لے گئے اور چائے وغیرہ کا وقفہ ہو گیا۔

اسی بارے میں: ۔  راجہ صاحب ظفر محمود کا گھر ڈھونڈتے ہیں

اس کے بعد آپا کو بہت مرتبہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ بہت سی ادبی مجالس میں جہاں قاسمی صاحب بلا لیتے یا صدیقہ آپا کہتیں تو وہ ضرور آ جاتیں۔ مختصر بات کرتیں۔ نہایت جامع بات اور اس کے بعد بس چاروں طرف ممتا کی برسات ہوتی۔ خاموشی سے سٹیج پر بیٹھی رہتیں۔ جانے لگتیں تو پورا ہال ان کے ساتھ تصویر بنانے کے لیے ضد کرنے لگتا۔ جتنی محبت آپا نے زندگی میں بانٹی اور جتنی عقیدت انہیں ملی، اس کی مثال ناممکن ہے۔

مشرقی عورت کی روایات تین رہی تھیں، ستی ہو جانا، شوہر کے بعد کبھی خوشی نہ منانا، شوہر کے ہوتے ہوئے اس سے ہمیشہ دو قدم پیچھے رہنا۔ اب یہ روایات خود قابل بحث ہیں۔ ہمارا علم ہمیں برابری اور یاری دوستی سکھاتا ہے۔ آپا کا علم ہم سے کہیں زیادہ تھا۔ وہ فنا فی الاشفاق تھیں۔ تمام زندگی رہیں۔ جس نظرئیے کا علم پہلے دن انہوں نے تھاما، اسی پر ان کا آخری دن ہوا، اور یہ خود اپنی ذات میں ایک نایاب جوہر ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یوں لیجیے کہ اشفاق صاحب کا ذکر کسی محفل میں ہو گا تو شاید آپا کا ذکر نہ ہو، لیکن آپا کا ذکر جہاں آئے گا وہاں اشفاق صاحب کرسی کے پیچھے موجود دکھائی دیں گے۔

بانو قدسیہ نے صرف نام نہیں بدلا

وہ بانو قدسیہ ہی رہیں

لیکن بانو اشفاق ہو کر

بلکہ شاید اشفاق احمد ہو کر

من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جاں شدی!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 337 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “بانو قدسیہ یا بانو اشفاق ۔۔۔ کیا قافلہ جاتا ہے!

  • 05-02-2017 at 8:44 pm
    Permalink

    Beautiful write up. The most touching part is the motherly feelings and the love she was known for. I am sure it will pain those who hv lost their mothers and make others realise what mothers are all about. Superb.

Comments are closed.