بانو (قدسیہ) آپا کی آخری خواہش


\"\"میرے پہنچنے سے پہلے ہی دائیں طرف رکھے ہوئے صوفے پر پنجاب یونیورسٹی کی چند لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کی افسانوی باتوں، شاعرانہ انداز، ادبی گفتگو ، پرنم آنکھوں، محبت اور عشق سے متعلق سوالات سے لگ رہا تھا کہ کوئی گہری چوٹ کھا چکی ہیں۔ مجھے بانو آپا سے ملنے کی شدید خواہش تھی اور ہمارے صحافی ساتھی تنویر شہزاد مجھےماڈل ٹاؤن میں واقع داستاں سرائے لے کر گئے تھے۔ بانو آپا کے ہاتھوں پر لگی مہندی کا رنگ مسکرا رہا تھا اور وہ سب سے یہی پوچھ رہی تھیں کہ عید کیسی گزری؟ ان میں سے ایک لڑکی پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ ایک دن راجہ گدھ کا ترجمہ انگریزی میں کرے گی۔ اسی دوران اس لڑکی نے کہا کہ عید تو اچھی گزری لیکن اسے قربانی کا گوشت اچھا نہیں لگتا، اسے اس میں سے بوُ آتی ہے۔ بانو آپا یہ سن کر کچھ دیر خاموش ہو گئیں۔ پھر کہنے لگیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک جاندار آپ کے لیے اپنی جان تک قربان کر دے اور آپ کو اس میں سے بھی بُو آئے؟

وہ دو برس پہلے بھی علیل تھیں بات کرتے کرتے کچھ دیر کے لیے خاموش ہو جاتیں اور پھر بات کا سلسلہ شروع کر دیتیں۔ لیکن درمیان میں باقاعدگی سے کہتی رہیں، قدوسی جی کھانے کا کچھ بندوبست ہوا، یہ سبھی لوگ ادھر ہی کھانا کھائیں گے۔

درمیان میں کسی نے سوال کیا کہ لکھنے کے لیے مناسب وقت کونسا ہوتا ہے تو بانو آپا نے ماضی کی وہ یادیں دہرانا شروع کر دیں، جب بابا اشفاق احمد نے انہیں باقاعدہ طور پر لکھنے کے لیے کہا تھا۔ وہ بتانے لگیں کہ وہ گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی تھیں۔ ایک دن وہ ہنڈیا پکا رہی تھیں، اشفاق احمد آئے اور کہنے لگے، یہ ہنڈیا تو کوئی نوکر بھی پکا سکتا ہے، تم وہ کام کرو، جو وہ نہیں کر سکتے، تم لکھا کرو، زیادہ وقت لکھنے پر صرف کیا کرو۔

جس نے سوال کیا تھا وہ اس کی طرف متوجہ ہوئیں، دیکھو بیٹا خیالات مچھلیاں ہوتے ہیں۔ تم جب بھی کنڈی پھینکو گے وہ تیرتی چلی آئیں گی۔ آپ ایک وقت مقرر کر لیں اور پھر اس وقت کاپی پینسل لے کر بیٹھ جایا کریں۔ ہاں اشفاق صاحب اکثر رات دس بجے کے بعد لکھا کرتے تھے۔ اچھا لکھنا ہے تو آپ اپنا مشاہدہ بڑھائیں، اپنے پر کم اور دوسرے پر زیادہ توجہ دیں۔ کم بولیں زیادہ سنیں۔ بولنے کا مطلب دوسرے کو تعلیم دینا ہے، بندہ خود کو برتر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ جس طرح میں بول رہی ہوں تو مجھ میں یہ خیال بھی آ سکتا ہے کہ میں تم سے بہتر ہوں۔ لیکن اب اشفاق صاحب نہیں ہیں تو بول رہی ہوں، جب وہ تھے تو میں سننے کے مقام پر تھی، میں سنتی تھی، میں سیکھتی تھی۔ جب آپ زیادہ بولنا شروع کر دیتے ہیں تو سیکھنا کم کر دیتے ہیں۔\"\"

اسی دوران ایک لڑکی نے سوال کیا کہ آپ نے راجہ گدھ کیوں لکھا، خیال کیسے آیا ؟

وہ تھکاوٹ سے پہلو بدل رہی تھیں لیکن یہ سوال سن کر ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی پیدا ہو گئی۔

دیکھو بیٹی ایک ایکسچینج پروگرام ہوا کرتا تھا۔ یہ پروگرام امریکہ کی تجویز تھی۔ امریکی سفارت کار یہ سمجھتے تھے کہ ان کا کلچر، تہذیب، ثقافت سب اچھا ہے لیکن یہاں کے رسم و رواج معمولی ہیں۔ امریکیوں کا خیال تھا کہ اگر وہ پاکستان کے دانشوروں کو متاثر کر لیں گے یا بدل لیں گی تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ اشفاق صاحب اسی پروگرام کے تحت امریکہ گئے اور پھر وہ جن کے گھر ٹھہرے، اس امریکی خاتون کا بیٹا پاکستان آیا۔

اس وقت ہم نے یہ ساتھ والے کمرے کا نام کاسنی کمرہ رکھا ہوا تھا۔ ہمارے گھر قدرت اللہ شہاب آیا کرتے تھے اور انہیں کاسنی رنگ بہت پسند تھا۔ اس کمرے کے صوفے، پردے، قالین سبھی کاسنی رنگ کے تھے۔ قدرت اللہ شہاب اسی کمرے میں رہتے تھے۔ اس امریکی لڑکے کو بھی ہم نے اسی کمرے میں ٹھہرایا تھا۔

اچھا اب وہ ہر روز صبح کا ناشتہ میرے ساتھ کرتا تھا، بہت سوال کرتا تھا اسلام کے بارے میں  اور بہت خود سر لڑکا تھا وہ۔ ایک دن اس نے سوال کیا کہ اسلام دوسرے مذاہب سے کیسے مختلف ہے؟ میں نے کہا کہ یہ ایک خدا پر یقین رکھتا ہے، اس نے کہا ایسا تو دوسرے مذاہب میں بھی ہے، ایسا ہی سلسلہ چلتا رہا۔

ایک دن عصر کے وقت میں نے کہا اللہ میاں یہ بندہ میرے پیچھے پڑ گیا ہے تو مجھے کوئی جواب تو دے کہ اسلام کیوں بہتر ہے؟

ہمارے لان میں ایک سندری کا درخت ہوتا تھا، تم نے شاید نہ دیکھا ہو، اس میں سے سرنگی کی سی آواز پیدا ہوتی ہے۔ میں یہاں سندری کے درخت کے پاس کھڑی تھی کہ مجھے یوں لگا جیسے اس میں سے رزق حلال، رزق حلال ، رزق حلال کی آواز آ رہی ہے۔

اگلے دن میں نے اس لڑکے کو ناشتے کی میز پر کہا کہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں رزق حلال کا فرق ہے۔ رزق حلال کھائیں گے تو آپ کی اولاد بھی بے نقص ہو گی۔ اس تھیوری نے اسے اتنا متاثر کیا کہ وہ ساتھ والی مسجد چلا گیا اور چند گھنٹوں بعد واپس آ کر کہنے لگا کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے۔

اس کے بعد میں چھت پر گئی تو ایک کاپی پر لفظ راجہ گدھ لکھا ہوا تھا۔ یقین جانیے میں نے پینسل لی اور راجہ گدھ لکھنا شروع کر دیا اور اس طرح وہاں بیٹھے بیٹھے میں نے پھر یہ ناول لکھا۔

اسی دوران وہاں نور الحسن داخل ہوئے تو فورا ان کی طرف متوجہ ہو گئیں، کیا صائمہ آئی ہے، کہاں تھے تم اتنے دنوں سے؟

کچھ ہی دیر میں صائمہ کمرے میں داخل ہوئیں تو ان کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہنے لگیں اتنے دن غائب نہ رہا کرو اور عید کیسی گزری ہے تمہاری ؟

اسی دوران انہوں نے دوبارہ پوچھا، قدسی جی کھانا لگا دیا آپ نے ؟

جی لگ رہا ہے،

اچھا جلدی کرو، ان کو بھوک لگی ہو گی۔

اس دوران وہ یہ الفاظ بھی تواتر سے دہراتی رہیں، محبت کرنا عشق نہ کرنا، عشق تم لوگوں کے بس کی بات نہیں، یہ صرف انبیاء کرتے ہیں۔

ہمارے صحافی دوست تنویر شہزاد نے پوچھا کہ اب آپ آگے کیا کرنا چاہتی ہیں، ایسی خواہش جو آپ اب بھی پورا کرنا چاہتی ہیں؟

دیکھو بیٹا، اللہ مجھے عزت سے لے جائے، یہ میری آخری خواہش ہے۔ جس اللہ نے اتنی عزت دی ہے، وہ بے عزتی سے بھی لے جا سکتا ہے، وہ عزت سے لے جائے تو میں اس کی مشکور ہوں گی، اللہ کی مہربانی ہوگی۔

محفل جاری تھی، شام کے سات بج چکے تھے، میں نے سات بجے ایک شادی پر جانا تھا، میں نے ان سے اجازت مانگی تو کہنے لگیں کہ نہیں چپ کر کے بیٹھے رہو، کھانے کے بغیر نہیں جا سکتے۔ نورالحسن بولے شاید انہوں نے کسی ضروری جگہ جانا ہو، میں نے بھی بتایا کہ شادی پر جانا ہے۔

میں ان کے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا تو میرے کندھے پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگیں اگلی مرتبہ یہ پھول مت لانا۔ دو گھنٹوں کے دوران یہ بات وہ مجھے شاید دس سے بھی زائد مرتبہ کہہ چکی تھیں۔ میں ان کو مسکرا کے کہتا رہا کہ یہ میں اپنی خوشی اور آپ کی محبت میں لایا ہوں لیکن وہ کہتی رہیں کہ نہیں یہ فضول خرچی ہے۔ خیر اس دن کی یہ ملاقات ادھوری رہی اور میں داستان سرائے کی وہ محفل چھوڑ کر شادی کی تقریب میں چلا گیا۔ دل میں ایک کسک تھی کہ اس ادھوری ملاقات کو مکمل کیا جائے۔

میں چند ماہ پہلے پاکستان گیا تو میں نے دوبارہ بانو آپا اور مستنصر حسین تارڑ صاحب سے ملاقات کی کوشش کی۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب لاہور میں نہیں تھے اور بانو آپا بیمار تھیں۔

چند روز پہلے دوبارہ پاکستان جانے کا سوچ رہا تھا تو یہ ارادہ کیا کہ اس مرتبہ ادھوری ملاقات کو ضرور مکمل کیا جائے گا لیکن اب یہ خواہش تاعمر دل میں ہی رہے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔