عوام کسے کہتے ہیں؟


ایک صاحب تشریف لاتے ہیں، ساتھ اُن کا بھائی ہے، باریش اور نیکو کار، کسی ہسپتال میں ہاؤس جاب کرنے کا \"\"خواہاں ہے۔ مجھ سے  مدد کے طالب ہیں کہ میں اُس ہسپتال کے ایم ایس کو کہہ دوں کہ حافظ صاحب کو رکھ لیں  کیونکہ ایم ایس صاحب میرے ’’واقف‘‘ ہیں۔ اب وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک میں اُن کے سامنے ایم ایس کو فون نہیں کروں گا، چار و ناچار فون ملایا جاتا  ہے، ایم ایس بتاتا ہے کہ ہسپتال میں ہاؤس جاب حاصل کرنے کے لئے شفافیت پر مبنی چند اصول وضع کر دئیے گئے ہیں جن میں ایم بی بی ایس وغیرہ کے نمبر کو مد نظر رکھ کر میرٹ ترتیب دیا جاتا ہے، جن صاحب کی آپ بات کر رہیں وہ اُس میرٹ پر پورا نہیں اترتے، باقی ’’جیسے آپ کہیں‘‘۔ میں محترم ایم ایس کو میرٹ پر کاربند رہنے پر مبارکباد دیتا ہوں اور شکریہ کہہ کر فون بند کر دیتا ہوں۔ اب میرا خیال ہے کہ یہ صاحبان مجھے داد دیں گے کہ میں نے اُن کے سامنے بات کی اور چونکہ میرٹ کا ایک نظام ہسپتال میں رائج ہے اس لئے وہ بخوشی میرے ہاتھ چومتے ہوئے اس دعا کے ساتھ رخصت ہو جائیں گے کہ یا اللہ ملک کے دیگر اداروں میں بھی اسی طرح شفافیت ہو جائے تو ملک کا نقشہ بدل جائے۔ لیکن الٹا وہ مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ جناب آپ کو کام کہا تھا جبکہ  آپ ہمیں سسٹم کی درستی کی کہانی سنا کر ٹرخا رہے ہیں، اس پر میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ قبلہ آ پ کے بھائی کو اگر رکھا جائے گا تو لا محالہ  اس سے پہلے کسی مستحق کو نکالا جائے گا، کیا آپ یہ چاہتے ہیں! تو اِس کا جواب کچھ اس قسم کا آئے گا ’’بس رہنے دیں جناب،یہاں کوئی میرٹ نہیں، آپ چاہتے تو یہ کام ہو جاتا، السلام و علیکم ! ‘ ‘

ہمار ی خواہش ہے کہ ہماری گلیاں محلے صاف ستھرے ہوں، وہاں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر نہ ہوں،اس ضمن میں ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ اپنے گھر کا کوڑا ایک بڑے سے بیگ میں بند کرکے دروازے کے سامنے رکھ دیں، کوڑا اٹھانے والی گاڑی آئے اور اٹھا لے جائے، مگر ہم یہ نہیں کرتے، ہمارا جہاں دل کرتا ہے کوڑے کے ڈھیر لگا دیتے ہیں، اب یہ حکومت کا کام ہے کہ گلیاں ہر وقت چمچماتی رہیں، ہمارا کام فقط  گند ڈالنا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ سرکاری دفاتر میں لوگ ذلیل  نہ ہوں، وہاں ایک طریقہ کار کے مطابق کام ہو، انہیں قدم قدم پر خوار نہ ہونا پڑے، مگر اِن دفاتر میں جو لوگ تعینات ہیں وہ بھی ہمارے ہی طرح پیٹی بند بھائی ہیں، کرسی کے اِس طرف بیٹھنے والا کلرک بھی عوام ہے اور دوسری طرف سائل بھی عوام ہے، اب جس کے پاس طاقت ہے وہ دوسرے کو زچ کرکے دم لے گا۔ وہی کلرک یہاں اٹھ کر کسی دوسرے محکمے میں سائل بن کر جائے گا تو عوام ہی میں سے کوئی دوسرا اہلکار اب اُسے چکر پہ چکر لگوائے گا تاوقتیکہ اُس کی مٹھی نہ گرم کی جائے۔ یہی عوام جب سرکاری  ہسپتال کا چکر لگائیں گے تو عوام میں سے ہی موجود کوئی ڈاکٹر انہیں جانوروں کی طرح ٹریٹ کرے گا، یہی ڈاکٹر جب تھانے میں کسی کام سے جائیں گے تو عوام میں سے ہی تھانیدار انہیں بتائے گا کہ ایم بی بی ایس کی اوقات ایس ایچ او کی وردی میں لگی بیلٹ سے زیادہ نہیں، یہی تھانیدار جب میڈیا کے کسی نمائندے کے ہتھے چڑھے گا تو وہ اسے ادھیڑ کے رکھ دیں گے، میڈیا والے بھی عوام ہی ہیں کوئی مریخ سے نہیں اترے، اُن کےمیڈیا ہاؤسز کے باہر کھڑی گاڑیوں نے آدھی سڑک گھیر رکھی ہوگی اور وہ خود تمام دن حکومتی نااہلی کے خلاف چنگھاڑتے رہیں گےاور طعنہ دیں گے کہ  شہر میں ناجائز تجاوزات کی بھرمار ہے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے، ادھر انتظامیہ جب ناجائز تجاوزات ہٹانے کی کوشش کرے گی تو لوگ جلاس نکالیں گے کہ غریب عوام کا روزگار چھینا جا رہا ہے۔۔۔۔۔قصہ مختصر کہ عوام کے ہاتھوں عوام کے ذلیل ہونے کا گھن چکر یونہی چلتا رہے گا۔

ہم سب لوگ عوام میں شامل ہیں اور بظاہر ہم سب کی یہ خواہش ہے کہ نظام درست ہو، قانون کی عملداری ہو اور انصاف کا بو ل بالا ہو، مگر ہم میں سے شاید ہی کوئی اپنے آپ  پر  اِن اصولوں کا اطلاق  پسند کرتا ہے۔ باریش ہو یا کلین شیو، اگر اسے یہ کہہ دیا جائے کہ تمہارا بھائی میرٹ پر نہیں چنانچہ اسے ہسپتال میں ہاؤس جاب نہیں دی جا سکتی تو وہ دل میں آپ کو لعنت ملامت کرتا ہوا ہی رخصت ہوگا۔ اپنے چاروں طرف ہمیں جو ابتری نظر آتی ہے اس میں کس کا قصور ہے؟ کیا ٹریفک سگنل کی پاسداری کروانے کے لئے ہر چوراہے پر ایک مسلح فوجی تعنیات  کیا جائے تب ٹریفک درست ہوگی یا پھر ہر گلی کی نکڑ پر ایک پولیس وین موجود ہو جو کوڑا پھیلانے والوں کو موقع پر پولیس مقابلے میں مار دے تاکہ ملک میں صفائی ستھرائی رہے،، جی نہیں، دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کسی صورت ممکن ہے۔ ہم عوام نے ایک عادت بنا لی ہے کہ خود کو مظلوم اور مجبور پینٹ کرو اور تمام تر برائیوں اور خرابیوں کا ذمہ دار حکومت وقت کو قرار دو، ہماری خود کی کوئی ذمہ داری نہیں، ہم پر میرٹ کا اطلاق نہ ہو، ہمارا جہاں دل چاہے ہم کوڑا پھینک دیں، ہمارا جہاں دل چاہے گاڑیاں کھڑی کرکے سڑک گھیر لیں، ہمارا جو دل چاہے ہم ٹی وی پر مغلظات بکتے رہیں کیونکہ ہم عوام ہیں۔ اگر ہم کوئی غلط یا خلاف قانون کام کررہے ہیں تو حکومت قانون کے مطابق کاروائی کرکے ہمیں پکڑے تاہم ہماری اپنی کوئی ذمہ داری نہیں کہ ہم قانون کی ازخود پاسداری کریں۔ یہ وہ فارمولاہے  جو ہمیں اپنے تمام ناجائز کاموں کا جواز فراہم کرتا ہے تاہم پھر بھی اگر کسی کے ضمیر میں کوئی خلش باقی رہ جائے تو اُس کی تفنن طبع کے لئے ہمارے تجزیہ نگار موجود ہیں جو ہمیں  یقین دلانے میں مشغول ہیں کہ عوام مظلوم ہیں! یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اس عوام کی تعریف کیا ہے، کیا ہمارے ارد گرد ہر قسم کی غلاظت پھیلانے کے ذمہ دار ہم عوام نہیں ؟یا پھر یہ کوئی مریخ کی مخلوق ہے  جو سرکاری دفاتر میں سائلوں کو خوار کرتی ہے، جو ہسپتالوں میں مریضوں کو جانوروں کی طرح ٹریٹ کرتی ہے، جو تھانے میں تشدد کرتی ہے اور جو ویگنوں کو ریلوے پھاٹک سے گذارنے کے چکر میں ٹرین سے ٹکرا دیتی ہے؟ اس آدم خور عوام کی تعریف آخر ہے  کیا؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 155 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada