مسجد میں عورت- تین مناظر


inam-rana

پہلا منظر
میں اور زوجہ ماجدہ بوڈاپسٹ، ہنگری میں ان کی ایک غیر مسلم دوست کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے کہ مجھے جمعہ پڑھنے کا شوق چڑھا۔ اس بیچاری نے ڈھونڈ دھانڈ کر ایک مسجد کا نمبر نکالا اور رستہ سمجھنے کو فون کیا۔ یک دم اس کا رنگ بدل گیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ مسجد والے صاحب نے کہا تھا کہ تم نہیں آ سکتی ہو، عورتیں منع ہیں۔ خیر وہ مجھے مسجد لے گئی مگر سارا دن کہتی رہیں ’وہ بہت زیادہ بدتمیز تھا‘۔

دوسرا منظر
مراکش کی ایک ویران سی مسجد میں داخل ہوے تو کسی نے آؤٹ آؤٹ کہہ کر میری نومسلم بیگم کو باہر نکلنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، اس نے کہا پھر بھی آؤٹ۔ زوجہ ماجدہ نے اگلے کئی گھنٹے رو رو کر کہا ’تم لوگ کبھی بھی مجھے مسلمان نہیں مانو گے‘۔

تیسرا منظر

استنبول نیلی مسجد میں عورتیں بھری پڑی تھیں۔ ایک چبوترے پہ صرف عورتیں نماز پڑھتی تھیں اور کئی غیر مسلم مرد و عورت ایک مخصوص حصہ کے علاوہ ساری مسجد میں پھرتے تھے۔ ایک کھڑکی پہ لکھا تھا، ’اسلام کے متعلق معلومات حاصل کریں‘۔ کھڑکی پر پانچ چھ عورتیں معلوماتی کتابچے مانگ رہی تھیں۔

BlueMosqueFromAfar


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

One thought on “مسجد میں عورت- تین مناظر

  • 12-02-2016 at 8:33 am
    Permalink

    Exclusive male interpretations have left no place for women in public arena, be it a mosque or society.

Comments are closed.