گاندھی اور جناح۔۔۔ موازنہ اور تاریخ کا فیصلہ


\"\"برادرم حاشر بن ارشاد کا جواب پڑھنے کا موقع ملا۔ میری کم عقلی سمجھ لیجیے مگر ان کی تحریر کا لب لباب یہ تھا کہ گاندھی کو تمام دنیا جانتی ہے جناح کو کون جانتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مجھے اس کوئی غرض نہیں کہ جناح کو کون جانتا ہے اور کون نہیں۔ کیا ایک ہندوستانی دلت کو آج اس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ بابا صاحب امبیدکر کو ہندوستان کے باہر کوئی نہیں جانتا۔ اس کے لئے بہرحال امبیدکر گاندھی سے بڑا لیڈر ہے۔  آپ ہمیں پاکستانی دلت سمجھ لیں۔ میرے لئے بہرحال جناح گاندھی سے بڑے لیڈر رہیں گے۔

دوسری بات یہ کہ گاندھی اور جناح کا موازنہ میں نہیں کرتا۔ اس پر  البتہ کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن میں سے کوئی بھی کسی پاکستانی کی تحریر نہیں۔ ابھی کچھ عرصے پہلے ہی راڈرک میتھیوز کی کتاب جناح ورسز گاندھی منظر عام پر آئی۔ میری درسگاہ رٹگرز یونیورسٹی کی لائبریری میں لاتعداد کتب گاندھی اور جناح کے موازنے پر تھیں۔ ان میں سر فہرست ایلن ہیز میریم کی کتاب گاندھی اینڈ جناح ہے۔ علاوہ ازیں گاندھی کی کوئی بھی سوانح عمری اٹھا کر دیکھ لیں آپ جناح کا تفصیل سے ذکر پائیں گے۔ کم از کم جہاں تک تاریخ دانوں کا تعلق ہے وہ تو اب ان باتوں پر متفق ہیں جن کا ذکر میں نے اپنی پچھلی تحریر میں کیا تھا۔  گاندھی جی نے برصغیر ہند  میں مذہب کو سیاست میں داخل کیا اور بالآخر اسی سوچ کا تسلسل تھا کہ ملک تقسیم ہوا اور پاکستان بنانا پڑا۔ یہ ایک اور بحث ہے کہ پاکستان پر وہ ہی مولوی اور احراری قابض ہو گئے جن کو گاندھی نے سیاست کی زینت بنایا تھا۔ یہ ملک پاکستان کے لئے ایک المیہ ہے کہ ہم نے ملک جناح کے سب بڑے دشمنوں کے حوالے کردیا ہے۔ یہ بھی اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جناح نے گاندھی کو تحریک خلافت کے آغاز پر تنبیہ کی تھی ناکہ بعد میں۔ گاندھی جی کا اصل مقصد جناح جیسے سیکولر مسلمانوں کو پس پشت ڈالنا تھا۔ وہ ایک مذہبی آدمی تھے اور اس لئے ان کے نزدیک مسلمانوں کی قیادت بھی مذہبی عناصر کے پاس ہونی چاہیئے تھی۔ پھر دوسرا یہ کہ جناح جیسے لوگ سیاست میں اپنا مقام رکھتے تھے اور نہ صرف مسلمانوں پر ہندوؤں کی قیادت کا عزم رکھتے تھے۔ اسی لئے اپنی کتاب \”جناح آفن کیم ٹو آور ہاوس\” میں کرن دوشی لکھتے ہیں کہ دراصل گاندھی کو جناح کھٹکتے تھے اس لئے کہ جناح ہی تھے جنہوں نے لکھنو پیکٹ کے ذریعہ ہندو مسلم اتحاد کو یقینی بنایا تھا۔ گاندھی کو اپنی قیادت کے بارے میں خطرہ لاحق تھا تو صرف جناح سے کیونکہ \"\"یہ نام کا مسلمان ہی تھا جس میں ہمت تھی کہ گاندھی کو مہاتما کی بجائے مسٹر کہتا تھا اور جس نے ثابت کیا تھا کہ وہ تمام ہندوستانی لوگوں کا راہنما بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔ یہ میں نہیں، کرن دوشی لکھتے ہیں جو کہ جناح کے ناقدین میں سے ہیں۔  بہرحال وجہ جو کچھ بھی تھی گاندھی جی کو مولانا محمد علی جوہر اور مولانا آزاد قبول تھے پر  انڈین، فرسٹ، سیکنڈ اینڈ لاسٹ جناح کو کانگرس سے نکالنا ان کا مشن بن چکا تھا۔  اس میں بہرحال گاندھی جی بہت کامیاب رہے۔ اس کے دور رس نتائج کا سہرا بھی ان کے سر ہے۔

اب جہاں تک بات ہے بین الاقوامی پذیرائی کی تو انگریزی میں اس کے لئے لفظ fickle استعمال ہوتا ہے۔ آج سے چار سو پہلے دنیا کی اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ دنیا گول نہیں ہے بلکہ گیلیلئو جیسے سر پھروں کو پاگل گردانتی تھی۔  اب جہاں تک سوال گاندھی کی بین الاقوامی پذیرائی کی ہے تو اب تو ان کے بارے میں بہت کچھ ایسا بھی لکھا جاچکا ہے جو ان کے تاریخی کردار کے بارے میں اور خاص کر ان کی نسل پرستی کے بارے میں سوال اٹھاتا نظر آتا ہے۔ اب ہی حال ہی میں جنوبی افریقہ اور گھانا میں گاندھی مسٹ فال کی تحریک چلتی نظر آئی۔ آج کا افریقی نوجوان حیران ہے کہ اس کے ممالک میں ایک ایسے شخص کے مجسمے لگ رہے ہیں جو سیاہ فام لوگوں کو نسلی طور پر کم تر گردانتا تھا۔ اسی طرح آج ہندوستان کے کسی دلت سے بات کر کے دیکھ لیں۔ وہ آپ کے سامنے گاندھی کا وہ رخ پیش کرے گا جس پر ظفر علی خان کا شعر آپ کو معمولی لگے گا۔ اسی طرح آپ پیری اینڈرسن اور بائیں بازو کے باقی دانشوروں کے افکار بھی بڑے آرام سے انٹرنیٹ سے حاصل کر سکتے ہیں

میرے فاضل برادر کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ میں نے جن باتوں کا ذکر کیا اس کا شاید  موقع نہیں تھا۔ اول تو یہ کہ میں موقع پرست نہیں اور دوئم یہ کہ میرے عزیز برادر ہی تھے جو بیچ میں راست اقدام کا ذکر اٹھا لائے۔ گاندھی اور جناح کا موازنہ تو انہوں نے خود شروع کیا تھا۔ میں نے صرف چند تاریخی حقائق ان کے سامنے رکھے ہیں۔ اب چونکہ موازنہ ہو ہی گیا ہے تو بات پوری کر دیتے ہیں۔ مایہ ناز تاریخ دان ڈاکٹر فیصل دیو جی جو کہ پاکستانی نہیں ہیں اور آکسفورڈ کے پروفیسر ہیں حال ہی میں ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان کی تاریخ کا واحد indispensable کردار گاندھی یا نہرو نہیں بلکہ جناح ہے۔ وہ اس کی وجوہات بھی بیان کرتے ہیں۔ قاری کے لئے میں لنک دینا کافی سمجھتا ہوں۔

 http://www.wionews.com/ south-asia/ma-jinnah-the- founder-of-muslim-politics-as- a-modern-phenomenon-10540

بہرحال یہ جناح ہی ہیں جو اپنی وفات کے 70 سال بعد بھی ہندوستان کی سیاست میں ہل چل پیدا کردیتے ہیں یہاں تک کہ وہاں کی حکمران جماعت کے دو چوٹی کے عہدیداروں کو مستعفی ہونا پڑتا ہے۔

واقعی تاریخ ایک بے رحم ناقد ہے جو وقت کے ساتھ قامت کا تعین خود کر لیتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “گاندھی اور جناح۔۔۔ موازنہ اور تاریخ کا فیصلہ

  • 06-02-2017 at 3:25 pm
    Permalink

    Sir I fully respect your opinion,it is full enthusiasm but for from reality. Gandhi and its philosophy are true reality and prevail all over the world. We do not need to be jealous from this. It

Comments are closed.