بانو نے ہمیں کوڑے سے اٹھایا اور محل پر چڑھا دیا!


میٹرک میں تھا جب بانو آپا سے خط و کتابت شروع ہوئی۔ وہ ہر خط کا جواب دیتیں۔ صرف ایک خط کا جواب دو مہینے دیر سے ملا ۔ جواب \"\"میں بانو آپا نے لکھا کہ وہ عمرے پر گئیں ہوئیں تھیں جب واپس آئیں تو خط دیکھا اور وہ شرمندہ ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔

میرے حالات کچھ ابتر تھے۔ بانو آپا نے لکھا کہ میں عکسی مفتی سے جا کر مل لوں۔عکسی صاحب افسر آدمی تھے اور میں ان کو ملنے سے کنی کترا رہا تھا۔ انہی دنوں ریڈیو پاکستان نے ایوارڈز کی تقریب منعقد کی اور اشفاق صاحب کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا ۔ لیاقت ہال میں بانو آپا اور اشفاق صاحب بیٹھے تھے ۔ مسلسل باتیں کیے جا رہے تھے ۔ میرا دوست مجھے کہنے لگا کہ ان کو گھر وقت نہیں ملتا باتیں کرنے کا۔ بہت ہی محبت سے ایک دوسرے سے باتیں کیے جا رہے تھے ۔ تبصرے کیے جا رہے تھے ۔ میں جھجکتے جھجکتے پاس گیا ۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ میرے پاس تقریب کا پاس تھا جس پر بانو قدسیہ سے آٹو گراف لینا چاہتا تھا ۔ جب پاس پہنچا تو اشفاق صاحب پہلی نشست پر بیٹھے تھے جبکہ اگلی نشست پر بانو آپا بیٹھی تھیں۔ خان صاحب نے کارڈ دیکھا تو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس پر آٹو گراف لکھنے ہی لگے تھے کہ میں عقل سے پیدل ایک حماقت کر بیٹھا ۔

 میں نے فورا کہا ۔۔\”نئیں نئیں سر بانو آپا سے آٹو گراف لینا ہے\”

اشفاق صاحب کھکھلا کر ہنس دئے اور کارڈ بانو آپا کو دیتے ہوئے کہا ، بھئی یہ آپ کے لیے ہے

میں تھوڑا سا آگے ہوا اور بانو آپا کو اپنا نام بتایا۔ ہال میں شور تھا اور تقریب جاری تھی اس لیے فورا بانو آپا سے کارڈ لے کر واپس اپنی نشست پر آ بیٹھا۔ کارڈ کو دیکھا تو اس پر لکھا تھا،  \” عکسی مفتی سے ضرور مل لیں\”

اس سے اگلے دن سائکل پر ان کے گھر ایف سکس پہنچا۔ عکسی صاحب  غالبا مصروف تھے کہ ان کے سیکرٹری نے کہا کہ انتظار کریں۔\"\" مجھے تھوڑی دیر بعد غصہ آیا اور میں ایک کاغذ پر لکھا کہ ۔۔\’\’آپ افسر ہوں گے تو اپنی جگہ ۔۔وقت میرے پاس بھی نہیں ہے ۔ بانو آپا نے کہا تھا اس لیے ملنے چلا آیا۔ نیچے گھر کا نمبر دیا۔ ۔۔اور نکل گیا\”

گھر پہنچا تو بہن نے کہا کہ کسی عکسی مفتی کا بار بار فون آ رہا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ جیسے ہی گھر آئے اسے کہو کہ مجھ سے بات کرے۔

میں نے نمبر ڈائل کیا دوسری طرف عکسی مفتی صاحب نے اٹھایا۔

جیسے ہی میں نے اپنا نام بتایا تو عکسی صاحب نے قہقہے لگانے شروع کر دیے ۔ پھر خاموش ہوئے اور کہنے لگے، \’\’ وقار کیا لکھ گئے ہو یار ۔۔بندہ خدا میں کیا اور افسری کیا۔۔ میں تو کارندہ ہوں ۔۔ چاکر ہوں۔۔اب کیا سمجھاؤں ۔ کل لوک ورثہ دفتر آ جاؤ اور غصہ تھوک دو\”

دوسرے دن سائیکل لی اور اسلام آباد لوک ورثہ چلا گیا۔لباس دیکھ   کرکافی دیر ان کے سیکرٹری نے بٹھائے رکھا۔ عکسی مفتی کسی سفیر سے ملاقات کر رہے تھے۔ میں کچھ دیر بعد اٹھا اور غصے سے دفتر کے باہر جون جولائی کی دھوپ میں بیٹھ گیا۔ پاس میں سائیکل کھڑی تھی۔ دھوپ میں بیٹھنے کا فقط مقصد یہ تھا کہ جیسے ہی عکسی صاحب باہر نکلیں گے میں ان کو اونچی اونچی گالیاں دے کر سائیکل پر سوار ہوں گا اور بھاگ جاؤں گا۔ اعتماد تھا کہ میری سائیکل کی گرد کو دنیا کی کوئی گاڑی نہیں چھو سکتی۔

میں کیوں گالیاں دینا چاہ رہا تھا اس مذموم خواہش کے پیچھے ایک خاص ذہنی حالت تھی اور اس مخصوص ذہنی حالت کے پس پردہ کچھ حالات تھے جن کی تفصیل پھر کبھی سہی۔ لیکن فی الحال بات بڑھانے کے لیے یوں سمجھ لیجئے جیسے ایسا ہارا ہوا شخص جس کے پاس مزید ہارنے کے لیے کچھ نہیں بچتا ٗ بہترین باغی  ثابت ہوتا ہے۔\"\"

میں پسینے میں ڈوبا ہوا تھا۔ آسمان آگ برسا رہا تھا جب اچانک عکسی مفتی ایک سفیر اور اس کے پروٹوکول کے ہمراہ باہر آئے۔ میں پروٹول اور سفیر دیکھنے میں ایسے مگن ہوا کہ غصہ ہوا ہو گیا۔ عکسی صاحب نے سفیر کو الوداع کہنے کے بعد دفتر کی جانب رخ کیا ہی تھا کہ مجھے اپنی جانب آتے دیکھ کر رک گئے۔ پھرآگے بڑھے اور مجھ سے کہ پسینے سے شرابور تھا بھرپور جپھی ڈالی۔

یہاں سے ایک بہترین مکالمہ یاداشت کا حصہ ہے۔

عکسی مفتی: پروفیسر احمد رفیق اختر سے ملے؟

جی ملا

عکسی مفتی: کیا کہا انہوں نے ٗ نوکری کا کوئی بندوبست کیا؟

نہیں جی ۔ کچھ وظیفے دیے پڑھنے کے لیے!

عکسی مفتی: کیا؟ ۔۔کیا مطلب؟    اچھا میرے ساتھ کمرے میں آؤ

کمرے میں عکسی صاحب اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور مجھے سامنے بٹھایا۔ فرمانے لگے ۔۔

\”یہ تصوف وغیرہ کی باتیں جانے دو ٗ  ذریعہ آمدن سے بڑھ کر کچھ ضروری نہیں۔والدین پریشان ہوں ٗ متعلقین مایوس ہوں تو کون سا تصوف اور کیسے وظیفے؟ اچھا بتاؤ کیا کر سکتے ہو؟

مجھے کچھ نہ سوجھاٗ  پھر کچھ سوچ کر اتنا کہا کہ ۔۔ سب کچھ اور کچھ بھی نہیں!

عکسی مفتی: اس بات کا کیا مطلب ؟  اچھا خیر یہ بتاؤ کتنے پیسے لو گے؟

میں پھر پریشان ۔۔ کہ کیا کہوں  ۔ آخر حلق سے صرف اتنا نکلا۔۔۔دد۔۔دد۔۔دو ہزار!

بس۔۔۔عکسی مفتی بولے۔۔اچھا چلو ۔۔پچیس سو۔۔\"\"

پھر واپس ہوئے اور دیوار کے ساتھ لٹکتے کوٹ سے بٹوہ نکالا۔ ان میں کچھ نوٹ میری طرف بڑھائے اور کہا یہ رکھو ۔۔تنخواہ ایک ماہ بعد ملے گی۔۔

مجھے جیسے کسی نے ہائی وولٹیج کا جھٹکا مارا ہو۔ کود کر کرسی سے اٹھ کر پیچھے کی جانب ہو لیا۔۔ اور ہکلایا۔۔ نہیں نہہں ۔۔ہیں میرے پاس ۔۔یہ جیب میں۔ میں نے جیب کی جانب اشارہ کیا۔

کرسی پر بیٹھو۔ اچانک عکسی صاحب کا لہجہ سردہو گیا۔ میں کرسی پر بیٹھ گیا۔ اے سی لگے کمرے میں دونوں کنپٹیوں سے پسینے کی دھاریں نکل رہی تھیں۔ عکسی مفتی بھی کرسی پر بیٹھ گئے۔مجھے آج بھی ان کے کہے الفاظ کل کی طرح یاد ہیں

 آنکھوں میں آنکھیں ڈالے غصے سے کہنے لگے، \”میں آسانی سے کسی سے تعلق بناتا نہیں ہوں ۔ اگر تعلق بنا لوں اور تعلق والا مجھ سے تکلف برتے تو یہ سامنے کھڑکی کے پار سڑک  دیکھ رہے ہو؟  میں ایسے بندے کو اس سڑک سے نہیں گزرنے دیتا اور تم میرے کمرے میں بیٹھے ہو۔ ایک بات غور سے سنوٗ  زندگی پڑی ہے یاد آئے گی۔ غیرت اچھی چیز ہے لیکن چناؤ کرنا پڑتا ہے۔ غیرت توانائی کھا تی ہے۔ ہمیں چننا پڑتا ہے کہ کونسی جگہ غیرت کی ہے اور کونسی جگہ نہیں۔یہ کمرہ غیرت کی جگہ نہیں ہے\”

میں یہ حالت کہ رو دوں ۔ بس اتنا کہہ سکا کہ ۔۔\”اب میری جیب میں  پیسے ہیں جو۔۔ تو کیا کروں؟\”

عکسی مفتی نے ایک طویل سانس لیا اور اتنا کہا۔۔۔اصولا تو مجھے تمھاری جیب چیک کر نی چاہیے لیکن خیر جاؤ کل گیارہ بجے آ جانا۔

میں دوسرے دن گیارہ بجے گیا۔ مفتی صاحب لوک ورثہ کے میڈیا سینٹر لے اور تعلق کی ایک طویل داستان کا آغا ز ہوتا ہے۔ عکسی مفتی پر لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے ۔ فی الحال تو بانو آپا پر بات ہو رہی تھی۔

مجھے لوک ورثہ کا پلیٹ فارم کیا ملا ایک ہی وقت میں ایم بی اے اور ایم اے انگلش میں داخلہ لے لیا۔ بانو آپا نے ایم بی اے سے منع کیا کہ انگریزی ادب ہی تمھارے لیے بہتر ہے۔

تین سال لوک ورثہ کو پلیٹ فارم کے طور استعمال کیا اور پھر تعلیم مکمل کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ عکسی مفتی کو ملنے کمرے میں گیا تو فرمانے لگے ، \” مجھے پچیس سال ہو گئے ہیں اس  ادارے کے سربراہ کے طور پر کام کرتے ہوئے ۔ میں نے بہت سوں کو یہ پلیٹ فارم دیا کہ تھوڑی دیر رکو اور تعلیم و ہنر وغیرہ حاصل کر کے نکل جاؤ ، لیکن ہمیشہ ہوا یہ کہ جس کو عارضی نوکری دی وہ کچھ عرصے بعد تنظیم میں شامل ہو کر میرے خلاف ہی سرگرم ہو گیا کہ نوکری پکی کرو ۔ لیکن آج تمھیں جاتا دیکھ کر خوش ہوں اب کوئی دل میں ملامت نہیں۔ اور ایک اور بات۔۔۔میرا نام جہاں استعمال کرنا ہو ضرور استعمال کر لینا۔۔\"\"

آنکھ مارتے ہوئے کہنے لگے۔۔بے شک میرے پو چھے بغیر۔۔اعتماد کے ساتھ!

وقت گزرتا گیا۔ بانو آپا کے خیال میں مجھے انگریزی ادب میں ایم اے کے بعد میڈیا میں جانا چاہیے تھا جبکہ ایم بی اے کی فیلڈ اختیار نہیں کرنی چاہیے تھی۔ان کا کہنا تھا لوک ورثہ میں میڈیا کی لت لگنے کے بعد میرے لیے کہیں بھی اور کام کرنا مشکل ہو گا ،ایک دفعہ تالی سننے کی عادت پڑ جائے تو کمبخت ایک نشے کی مانند کبھی نہیں چھوڑتی،۔۔

پھر وہی ہوا ۔۔ آخر 2007 میں لوٹ کے بدھو میڈیا میں آ گئے۔

بہت سی باتیں ہیں۔ کچھ تو ایسی کے پردے میں ہی رہنے دیں۔ کہ اشفاق احمد خان اور بانو قدسیہ کو پردہ  ہی منظور تھا۔ ان  بہت سے کرداروں کا کیا ذکر کرنا جو ۔۔کوڑے سے اٹھے اور بانو نے محل چڑھایا! ۔۔۔اور پھر کرداروں کا پردہ بھی تو لازم ہے۔

جب بھی بانو آپا کے گھر جانا ہوتا تو یہ ایک روح پرور تجربہ ہوتا۔ اگر انٹرویو کے لیے گئے ہیں تو وہ مشفقانہ ڈانٹ سے سب کو بٹھا دیتیں۔ کیمرہ اسسٹنٹ کیمرے کی تاروں کو کھول رہا ہے اور بانو آپا اس کی تاروں کو پکڑ کر کھڑی ہو گئی ہیں کہ پہلے بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔ وہ غریب کا بچہ ایگزیکٹو پروڈیوسر کی جانب دیکھ رہا  ہے اور بانو آپا ڈانٹے جا رہی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اس جنتی عورت نے ہمیشہ غریب دکھنے والے کو اپنے پاس بٹھایا۔ کھانے کے لیے پلیٹ کسی افسر یا وزیر کے آگے کم اور غریب طبقے مثلا ڈرائیور ٗ  اسسٹنٹس وغیرہ کی جانب زیادہ دھرتیں۔ خدا کی قسم کیا یادیں ہیں ۔ جو بانو آپا کے گھر گئے ہیں وہ میری بات کی تائید کریں گے کہ جس طرح ۔۔جس عاجزی سے بانو آپا مہمان کو کھلاتی تھیں ۔۔جس شفقت ۔۔جس محبت سے دیکھتی تھیں  اس کو لفظوں میں کیسے بیان کیا جائے  کہ جیسے ہی یہ منظر میرے خیال میں آیا اور سوچا کہ تحریر میں لاؤں تو مطلوبہ سیکڑوں لفظوں میں چار ہی میسرآئے وہ بھی یوں کہ ہاتھ باندھےکھڑے التجا میں مصروف کہ ہمیں یہیں کھڑا رہنے دیا جائے۔

ایک دفعہ میں بانو آپا کے پاس بیٹھا تھا۔ ایک درخواست کی کہ آپ نے واصف علی واصف صاحب پر کچھ نہیں لکھا جبکہ مختلف روایتوں میں تو یہی آیا ہے کہ آپ دونوں بہت زیادہ معتقد تھے  اور ایک صحافی کے بقول اشفاق صاحب نے تو لکھنے کے لیے بھی ان سے سب \’مال \’ لیا۔ وہ بھی بغیر پوچھے۔۔۔

فرمانے لگیں۔۔\’\’ دیکھو ۔۔میں جانتی نہیں ہوں۔۔میں جسے نہیں جانتی ناں جی اس پر پھر لکھنا بد دیانتی سی لگتی ہے۔ دیکھیں ناں جی خان صاحب کو جانتی ہوں۔۔شہاب صاحب کو جانتی ہوں تو ان پر لکھ بھی دیا۔ لیکن واصف صاحب پر نہیں لکھ سکتی۔ وہ مجھ پر بہت مہربان تھے بہت مشفق تھے ۔ میں جتنا عرصہ اسی کی دہائی میں اسپتال رہی وہ روزانہ پھول لے کر آتے رہے ۔ میری خاطر \’گفتگو\’ کی ایک محفل جمعرات کو میرے گھر منعقد کرتے رہے لیکن میں نہیں جانتی جی ۔۔ میں واصف صاحب پر نہیں لکھ سکتی ۔۔میں مفتی جی پر نہیں لکھ سکتی\”

میں نے کہا ۔۔لیکن خان صاحب نے بھی تو نہیں لکھا؟\"\"

سامنے بیٹھے ہیں آپ خود بات کر لیں۔۔بانو آپا مسکراتے ہوئے کہنے لگیں

میں خان صاحب کے پاس گیا ۔۔ اور یہ پھر اور کہانی ہے۔

بانو آپا اور خان صاحب کا احترام ہر طبقے میں تھا۔ فیض صاحب کی اس گھرانے سے انسیت کچھ چھپی نہیں۔ تارڑ صاحب لاکھ نظریاتی اختلاف کے باوجود پوری زندگی خان صاحب اور بانو آپا کا احترام کرتے رہے۔ انہوں نے اختلافی امور پر بات کرتے ہوئے بھی کبھی خان صاحب کے حوالے سے کمزور فقرہ نہیں کہا۔ تارڑ صاحب خان صاحب سے اختلاف بھی کچھ اس انداز سے کرتے ہیں جیسے کہ۔۔۔ ۔۔۔\”میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اشفاق احمد خان کا ڈرامے کی صنف میں کسی سے کوئی مقابلہ نہیں وہ اس میدان میں تنہا ہیں لیکن یہ جو تصوف  کی ڈیویلپمنٹ ہے بعد میں وہ۔۔۔۔\”

\”دیکھئے میں سمجھتا ہوں کہ اشفاق احمد خان کی سب سے بڑی بد قسمتی گڈریا ہے ۔ گڈریا نے ان کو اپنے وقت کے بہترین کہانی کاروں میں لا کھڑا کیا۔ خان صاحب نے گڈریا جیسے کئی لازوال افسانے تخلیق کیے لیکن سب کو گڈریا کھا گیا لیکن بعد میں اسی کی دہائی میں خان صاحب نے ۔۔۔\”

\”میں سمجھتا ہوں کہ خان صاحب کو ناول لکھنا چاہیے تھا۔ بعد میں وہ جن سرگرمیوں کی نذر ہو گئے اس سے وہ لکھ نہیں پائے ۔ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے وہ چار پانچ معرکتہ الآرا ناول اپنے ساتھ ہی لے گئے\”

فیض صاحب کے نسخہ ہائے وفا  میں اشفاق احمد خان نے جس انداز سے تعریف کی ہے وہ کافی ہٹ کر ہے ۔دوسری طرف فیض صاحب بانو ٗ اشفاق اور ان کے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔

پھر کچھ یوں ہوا کہ بانو آپا ۔۔آخری عمر میں رنجیدہ نظر آئیں۔

وہ جن شاندار روایات کو دیکھتے ہوئے آئی تھیں جہاں اختلاف میں بھی ایک تہذیبی رکھ رکھاؤ لازم تھا  وہ ہوا ہو گیا۔

بغیر سوچے سمجھے اختلاف کو اس انداز سے پیش کرنا کہ ہدف نظریے سے زیادہ دوسرے کی ذات  ہو ۔۔کو سراہا جانے لگا ۔

ایسا کرنے والے کو    سٹریٹ فارورڈ ۔۔لگی لپٹی بغیر کہنے والا ۔۔جیسے القابات ملنے لگے ۔

خان صاحب چلے گئے تھے ۔ بانو آپا کو یہ دور دیکھنا پڑا جب خان صاحب کے نظریات سے زیادہ ان کی ذات کو ہدف تنقید بنایا جانے لگا۔ نقادوں کی اکثریت ۔۔ایک محبت سو افسانے ۔۔تلقین شاہ ۔۔جیسے کارناموں سے واقف ہی نہیں تھی۔۔

یہ وقت بانو آپا پر کٹھن تھا!

میں ان کے آخری دور میں ارادتا ان سے نہیں ملا۔ ایک دفعہ انٹرویو کے لیے گیا کہ اشفاق صاحب پر ایک ڈاکیومنٹری بنا رہا تھا۔ بانو آپا  مشکل سے آئیں ۔ بولنے میں دقت پیش آتی تھیں۔ آخر وقت تک شرمسار کر تی رہیں یہ کہہ کر کہ ۔۔ میں آپ کو ایسے انٹرویو نہیں دے سکی جیسے آپ چاہتے تھے۔ میں شرمندہ ہوں ۔ وغیرہ وغیرہ۔

میں نے ایک آدھ دفعہ کوشش کی کہ ان کو کہوں کہ آج جو کچھ بھی ہوں آپ کی وجہ سے ہوں بانو آپا۔۔لیکن ابھی ابتدائی جملے ہی نکلے تھے کہ ان کے چہرے پر تعریف سننے کے نتیجے میں تکلیف کے آثار دیکھے ۔ پھر کبھی یہ جرات نہیں کی۔

میرے لیے بانو آپا انوکھی تھیں کہ جب ساری دنیا نے چھوڑ دیا تھا تو انہوں نے ہاتھ پکڑا۔

میں بانو آپا کے کے لیے انوکھا نہیں تھا کہ ایسے ہزاروں گلیوں کے کوڑے روڑے انہوں نے محل چڑھائے!

سلام مرشد۔۔ بلند مقامات آپ  کا نصیب ٹھہریں!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 108 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

3 thoughts on “بانو نے ہمیں کوڑے سے اٹھایا اور محل پر چڑھا دیا!

  • 07-02-2017 at 1:35 am
    Permalink

    ملک صاحب ، بہت خوب، تحریر پڑھ کر مزا آیا۔
    ہر آدمی کی زندگی میں کوئی بانو آپا یا عکسی مفتی ہوتے ہیں۔ہماری کہانی بھی آپ جیسی ہے۔
    عامر نوید چودھری
    رپورٹر
    روزنامہ ایکسپریس لاہور

  • 07-02-2017 at 2:36 am
    Permalink

    شکریہ عامر صاحب بجا فرمایا

  • 09-02-2017 at 5:58 pm
    Permalink

    کا ش میں بھئ آپ کی طرح کچھ لمحات ان دونوں کے ساتھ گزار سکتا

Comments are closed.