ایک امریکی کی نظر سے ۔۔۔ لوڈ شیڈنگ کے فضائل


\"\" ملک عمید نے لوڈ شیڈنگ پر لکھے اپنے بلاگ کے آخر میں پوچھے گئے سوال سے ایک سلسلے کا آغاز کیا ہے۔ وہ جاننا یہ چاہتے ہیں کہ پڑھنے والے لوڈشیڈنگ کے اوقات کیسے گزارتے ہیں اور ان کی کیا مصروفیت رہتی ہے۔ عمید صاحب، پہلی بات تو یہ ہے کہ دس ہزار کلومیٹر دور امریکہ جیسے \”لوڈشیڈنگ فری ملک\” میں بیٹھ کر اس کے فضائل پر روشنی ڈالنا بہت ہی حسین خیال ہے مگر یہاں رہتے ہوئے اس ڈر کے ساتھ لکھنا کہ یار موبائل کی بیٹری کم ہے، کہیں لکھتے لکھتے بند ہی نا ہوجائے کیونکہ بجلی غائب ہے، یہ تھوڑا مشکل ہو جائے گا۔۔۔۔

گرمیوں کی دوپہر میں پنکھا بند ہو اور اولیاء کی سرزمین ملتان میں سورج آگ برسا رہا ہو تو آفتاب کے بجائے اپنی جان سوا نیزے پر آ جاتی ہے۔ ایسے میں اماں حضور اور محلے کے لوگوں کے ساتھ آم کے درخت کی چھاؤں میں سڑک کنارے بیٹھ کر بھی اکثر دیوانے چائے پیتے ہیں کیونکہ جہاں ہمارا گھر ہے اسے \”ٹھنڈی سڑک\” کہا جاتا ہے۔بلاشبہ پڑوسیوں سے بات چیت کرنے کا یہ ایک سنہرا موقع واپڈا کی بدولت ہی ہمیں فراہم ہوتا ہے مگر کیا کہیں کہ۔۔۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔۔۔۔

رات کے وقت اندھیری سڑک پر چہل قدمی ایک اہم جزو ہے بند بجلی کی وجہ سے۔۔۔ گھر سے نکلنے یا نکالے جانے کے بعد۔ معلوم نہیں لوڈشیڈنگ ہماری زندگی کا حصہ بن گئی ہے یا ہم نے اس حوالے سے خود کو منا لیا ہے کہ اب اس کے ساتھ ہی گزارہ کرنا ہے۔۔۔۔

ویسے مجھے لگتا ہی کہ ہمارا اس بجلی (اور گیس) کی بندش سے رشتہ زبردستی کی شادی کا ہے جسے نا چاہتے ہوئے بھی مجبوری میں نبھانا پڑتا ہے۔ ہر سال ایک نئی ڈیڈ لائن مل جاتی ہے کہ اندھیرے مٹا دیئے جائیں گے اور ہم مزے سے اس لولی پاپ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے انہی ہرجائیوں پر اعتماد کر لیتے ہیں جنہیں اپنی کہی بات پر بھی بھروسہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ معصوم پاکستانی۔۔۔۔۔

بہرحال بلاگ میں جن گانوں کا ذکر ہوا ان میں سے کچھ گیتوں کا رس کانوں میں ضرور گُھلا ہے مگر باقی گیتوں کو سُن کر محظوظ ہونے کا ارادہ پختہ ہے کیونکہ جناب یہاں تو یہ اندھیرے اور ٹھنڈے چولہے بہت عرصے تک ایسے ہی رہنے والے ہیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔