جبری طور پر گمشدہ ہوتا ہوا پاکستان


\"\"

ہر بار چند ہفتوں کے وقفے سے مجھ تک یہ  اطلاع کسی فون کال یا مسیج کے ذریعہ پہنچتی ہے کہ پھر کوئی صحافی، سیاسی کارکن یا کوئی اور سوشل میڈیا پر بہت ایکٹو شخص غائب ہوگیا ہے۔ میرے ماضی کے تجربے سے مجھے اندازہ ہوجاتا ہے کہ انہیں کسی خفیہ ایجنسی نے اٹھایا ہوگا۔ مجھے یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ جب یہ لوگ واپس گھر کو لوٹیں گے تو کافی مختلف شخصیت کے مالک ہوں گے۔

ایسے لوگ جب غائب ہوتے ہیں، تب یہ سوچنے والے، آواز اٹھانے والا، شور شرابہ کرنے والے ہوتے ہیں، ان کا ایمان ہوتا ہے کہ ان کا آٹھ سو الفاظ پر مشتمل کالم یا ان کی فیس بک کی پوسٹ یا ان کی وائرل ہوجانے والی نظم دنیا کو تبدیل کر دے گی۔ جب یہ لوگ واپس آتے ہیں تو یہ کچھ ایسے قسم کے لوگ بن چکے ہوتے ہیں جو کہیں گے کہ \’آپ سے مل کر خوشی  ہوئی۔۔۔ مگر آپ اپنا منہ بند کر کے ہمارے پاس سے دفع کیوں نہیں ہوجاتے؟\’

یہ ایسے ہوتا ہے جیسے انہیں ریاست نے اغوا کر کے کسی قید خانے یا سیف ہاؤس میں نہیں رکھا،جہاں وہ تفتیش کے کسی مرحلے سے گزرے ہوں جس میں بعض اوقات تشدد بھی کیا جاتا ہے جب کہ دھمکایا تو ہمیشہ ہی جاتا ہے۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں کسی بحالی سنٹر میں رکھا گیا ہو جہاں سے وہ بالکل مرمت پا کر فرمانبردار بن کر لوٹے ہوں۔

ماضی میں کراچی میں سینکڑوں سیاسی کارکنان اٹھائے گئے اور ان میں سے بہت سوں نے گھر واپسی پر اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کر لیں۔ ان میں سے جو ملک چھوڑنے کی سکت رکھتے تھے وہ باہر چلے گئے، باقی کوشش کرتے کہ عوام کالانعام کا حصہ بن جائیں۔ شاید وہ سب ٹھیک ہی کرتے ہیں۔ آخر ریاست کی جانب سے جبری گمشدگی، تشدد اور قید تنہائی کے خلاف بولنے سے آج تک حاصل ہی کیا ہوا ہے؟

ہاں آدمی کے کردار میں کچھ نقائص بھی اسے مسنگ پرسنز کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔ مثلاً آپ نے کشمیر میں جاری ہندوستانی مظالم پر ہندوستان کو اتنا نہ کوسا ہو جتنا کہ حق تھا۔ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کسی مذہبی انتہا پسند گروپ سے تعلق رکھتے ہوں۔ یا شاید آپ کو ملکی معاملات میں فوج کے کردار پر انگشت نمائی کا شوق ہو۔ یا شاید آپ پاک چین اقتصادی راہداری پر سوال اٹھاتے ہوں جس سے پاکستان کے روشن مستقبل کی امیدیں بندھی ہیں۔ اور یہ بھی کہ شاید آپ نے دوسرے مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لئے احتجاج کر کر کے ناک میں دم کر رکھا ہو۔

حال ہی میں پانچ سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنان غائب ہوگئے۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر اپنے چھوٹے سے حلقے سے باہر کم ہی جانے جاتے تھے۔ یہ لوگ تقریباً تین ہفتے غائب رہے، ان کی غیر موجودگی میں ڈھیروں ڈھیر ٹویٹس اور آرمی سے ہمدردی رکھنے والے فیس بک پیجز نے یہ دعوی کیا کہ ان میں سے چند ایسا مواد پوسٹ کرنے کے ذمہ دار ہیں جس سے مذہب کی توہین ہوتی ہے۔

توہین مذہب کا الزام سزائے موت کے مترادف ہے۔ کسی بھی مذہبی گروہ کے جذبات مجروح کرنے والا کوئی بھی عمل یا لفظ بلکہ در حقیقت ایسا کچھ بھی جس سے لگے کہ کسی مقدس ذات کی توہین ہوتی ہے آپ کو مذہبی جنونیوں کا ہدف بنا سکتی ہے۔ کسی کو بھی توہین مذہب کا مرتکب قرار دینا خونی کھیل ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ نے ریکارڈ پر آکر مسنگ سماجی کارکنان کے خلاف ایسے الزامات کی نفی کی۔ مگر ان الزامات سے آگ بھڑک چکی ہے۔ جب ایک دفعہ آپ پر توہین مذہب کا الزام لگ گیا ہے تو اس سے آپ یوں چھٹکارہ نہیں پاسکتے۔ آخر آپ ایسے الزام سے کیسے برات کا اظہار کر سکتے ہیں جسے عوام میں دہرایا بھی نہیں جاسکتا، آخر کیا ہے جو آپ نے نہیں کیا؟

سوچئے آپ کسی تاریک قید خانے سے چند ہفتوں کے بعد چھوٹ کر ایسی دنیا میں آئے ہیں جہاں نیشنل ٹی وی پر آپ کا سر تن سے جدا کرنے کے مطالبے کئے جا رہے ہوں اور مذہبی پارٹیاں گلی کے نکڑ پر آپ کو سنگسار کرنے کے لئے منتظر کھڑی ہوں۔ پہلے تو ریاست نے آپ کو جبری طور پر گمشدہ کیا تھا، اب جب کہ آپ کو چھوڑ دیا گیا ہے تو آپ خود عوامی زندگی سے غائب ہوجانے پر مجبور ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ ریاست صرف اختلاف کا گلا گھونٹ رہی ہے بلکہ ریاست سب کو پل پل یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ کہیں میں اپنی حد سے آگے تو نہیں بڑھ گیا؟ آخر میری حدود ہیں کیا؟ ایسا کیوں ہے کہ فلاں شخص شرافت کی تمام حدود کو پھلانگ گیا مگر پھر بھی ٹی وی پر شو کرتے نظر آتا ہے؟

یہ صرف ریاست اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں نہیں ہیں جو عقل سلیم کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس میں میڈیا اور باقی سول ادارے بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

پاکستان کے صف اول کے ٹی وی مبلغ عامر لیاقت حسین، جنہوں نے اب ایک سیاسی تجزیہ کار کا روپ دھار لیا ہے اور روزانہ شام میں پروگرام کرتے ہیں، انہوں نے ان غائب سماجی کارکنان پر توہین مذہب کا الزام لگایا۔ پھر انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ہندوستان چلے گئے ہیں۔ پھر انہوں نے ان متعدد پاکستانی صحافیوں کی نشاندہی کی جنہوں نے ان غائب سماجی کارکنوں کے لئے آواز اٹھائی، ان صحافیوں پر بھی عامر لیاقت حسین نے توہین مذہب کے الزامات لگائے۔ عامر لیاقت حسین نے تقریباً تمام بڑے ٹی وی چینلز کے لئے کام کر رکھا ہے جن میں عموماً وہ اپنے پروگراموں کے ذریعہ ان چینلز کو سب سے زیادہ کما کر دیتے تھے۔ وہ زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکنے کا ملکہ رکھتے ہیں اور اسی لئے چینل مالکان ان پر پیسہ لگاتے ہیں۔

اے آر وائی نے حال ہی میں لندن میں جیو سے ہرجانے کا مقدمہ ہارا ہے جس کی وجہ اے آر وائی کی جانب سے جیو پر توہین مذہب اور بھارت کی ایجنٹی کرنے کے جھوٹے الزمات تھے۔ ان کا کورٹ میں دفاع یہ تھا کہ ہمارے ٹی وی اینکر کو کوئی بھی سنجیدہ نہیں لیتا۔

اس بات کو تو جانے دیجئے کہ جب بھی کوئی ٹی وی اینکر کسی دوسرے پر توہین مذہب کا الزام لگاتا ہے تو وہ خود پر بھی ایسے الزامات لگنے کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

ایک صحافی دوست نے حال ہی میں مجھے بتایا کہ اسے بزعم خود میں اس کے کام کی ڈی بریفنگ کے لئے اٹھا کر کسی سیف ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا۔ ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے تین اچھے اور محب وطن افسران نے اسے مطلع کیا کہ وہ اس کے بچوں کے سکول، اس کی بیوی کی نوکری اور باپ کے کیرئر کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ اسے بتایا گیا کہ اس ملک میں دو طرح کے موذی لوگ ہیں، بیرونی ایجنٹ اور بے وقوف۔

\”ہم نے تمہارا بینک اکاؤنٹ دیکھ لیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ تم کسی کے ایجنٹ نہیں ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تم بی وقوف ہو\”، انہوں نے اس صحافی کو بتایا۔ پیغام تو صاف تھا، بیوقوفی چھوڑو ورنہ یاد رکھو کہ ہمیں پتہ ہے تمہارے بچے کس سکول میں جاتے ہیں۔

کچھ ہی عرصہ پہلے میں نے ملک کے صف اول کے پبلشر کو اپنے ناول کا اردو ترجمہ پیش کیا تھا۔ ایک باہمی دوست کے توسط سے مجھے کہا گیا کہ چند چیزیں تبدیل کر دیں، جی یوں ہی حفظ ماتقدم کے طور پر۔ کچھ خاص نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ میں نے بہت احترام سے پوچھا کہ کون کون سے حصے ہیں جو مجھے تبدیل کر دینے چاہئے؟ مجھے بتایا گیا کہ آپ سمجھدار ہیں، آپ اس ملک میں رہتے ہیں، آپ خود ہی جانتے ہوں گے۔

یہی بات تو سب سے خوفناک ہے، میں نہیں جانتا کہ میں سمجھدار ہوں یا احمق!

_______

یہ آرٹیکل نیو یارک ٹائمز کے لئے لکھا گیا جسے \’ہم سب\’ کے قارئین کے لئے ملک عمید نے ترجمہ کیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔