میڈیا ٹاک شوز۔۔۔۔ انشا جی اٹھو اب کوچ کرو!


پڑوسی ملک کے میڈیا چینل کامیابی سے بند ہونے کے بعدکل کافی عرصے بعد ٹی وی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔\"\"

خوش قسمتی سے کے الیکٹرک نے موقع بھی فراہم کر ہی دیا۔ ریموٹ ہاتھ میں اٹھائے ایک چینل پر نظریں جمائیں۔ چار کھڑکیاں (ونڈو)بنی ہوئی تھیں جس میں چار حضرات چیخ و پکار میں مصروف تھے۔ سن کوئی نہیں رہا تھا ، سب بول رہے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب اپنا حق سمجھتے ہوئے کچھ زیادہ ہی جوشیلے نظر آرہے تھے اور اس تمام تماشے سے کسی قدر محظوظ بھی ہو رہے تھے۔ غور کیا تو اندازہ ہوا موصوف پرواگرام کے میزبان ہیں اور یقیناً ممکنہ ریٹنگ کی خوشی میں پھولے نہیں سما رہے۔
اس چینل سے دوسری جانب ہجرت کی تو وہاں 3 کھڑکیاں تھیں یعنی سابقہ چینل سے ایک کم، مگر تماشا پیش کرنے میں یہ اس پر سبقت لے گئے۔ ہجرت کی ایک بار پھر ضرورت محسوس ہوئی۔ سوچا اگلا چینل شاید امیدوں پر پورا اتر پائے ۔ یقیناًاس میں ایک اور کھڑکی کم تھی مگر اس دفعہ ’دنگل ‘نظر آیا۔ دونوں حضرات ایک دوسرے سے جنم جنم کے بدلے لینے میں مصروف نظر آئے۔ پھر ہربدلتے چینلز کے ساتھ چہرے تبدیل ہوتے گئے،رویئے اور مزاج وہی رہے۔ آنکھوں میں غصہ،چہرے پر ملال، چڑھی ہوئی تیوریاں،اٹھے ہوئے ہاتھ اورانتہا پر پہنچی بدزبانی، سب کچھ وہی تھا۔ یہ عدالتیں ہر روز’پرائم ٹائم‘میں لگا کرتی ہیں ۔اپنی پسند کے ملزم بٹھاتی ہیں، خود ہی وکیل و جج کے کردار ادا کرتی نظرآتی ہیں اور پھر اختتام پر بات وہیں آ ٹھہرتی ہے جہاں سے پروگرام کا آغا ز ہوا تھاغرض کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بار آنہ۔ایک اور چینل تھا جس پر راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔ سنا ہے وہاں گاندھی کے تین بندروں کی طرح برا سننا، برا بولنا اور برا دیکھنا منع ہے۔
اب ذرا ان پروگراموں کے دلچسپی سے بھرپور موضوعات پر بھی غور کیا جائے۔
’فلاں نے فلاں کہا ، آپ اس بارے میں کیا سمجھتے ہیں‘
’دوسرے چینل کیا کہتے ہیں، کیوں کہتے ہیں‘
’ایک سیاسی رہنما کا یہ بیان ہے، چلیں اب باقیوں سے لیں‘
’بلاول نے کس کو چچا اور تایا کہا‘
’عمران کی کتنی شادیاں ہوں گی اور کس کس سے؟‘
’جلسہ تھا یا جلسی؟
’اگلا جلسہ یا جلسی کب ہو گی؟‘
’’پرویز رشید کی پیش گوئیاں !‘‘

اسی بارے میں: ۔  مظلوم پارلیمان اور قائد ایوان کی آمد

’ٹرمپ اچھا یا اوبامہ‘(اکڑ بکڑبمبے بو)
یہ اور اس جیسے بہت سارے سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لئے ماہرین اور مفکرین کی ایک بڑی تعداد عوام الناس کا وقت برباد کرنے اسکرین پر شان و شوکت سے جلوہ افروز ہوتے ہیں۔اب اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس اس قدر فالتو وقت ہے کہ صحت، تعلیم اورماحولیات جیسے غیر اہم موضوع پر گفتگو کی جائے گی تو یہ آپ کی غلط فہمی بھی ہے اور خوش فہمی بھی۔ تعلیم کے لئے ڈھیروں اسکول، کالج کھلے ہیں ، خود ہی حاصل کر لیں۔
صحت کے حوالے سے یہ عرض ہے کہ ڈینگی، کانگو، چکن گنیا کے نام سنے ہوئے ہیں ۔بہتر یہی ہے مچھر مار ادویہ استعمال کریں یا ہاتھوں پیروں پرلوشن مل لیں۔
اور رہا سوال ماحول کا تو جناب وہ توبہت ہی برا ہے، آپ سب تو جانتے ہی ہیں، کراچی کچراچی بن چکا ہے ۔اب اور کیا کہیں ، کہتے ہوئے آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں۔
ہم سے تو ان پروگراموں کایہ جی سوز منظر نہ دیکھا گیا، ہم نے رختِ سفر باندھا۔ ریموٹ میں ’پاور آف‘ کے بٹن کو عزت و تکریم سے دیکھا اور جھٹ دبادیا۔ یک دم کمرے میں سکون ہی سکون چھا گیا۔ شاید انہی لمحات کے لئے انشا نے کہا تھا۔
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو !


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔