کچھ بات لبرل ازم کی


 zeeshan hashimخاکسار اس سے پہلے ایک کالم میں لبرل ازم کا مختصر تعارف لکھ چکا ہے۔ لبرل ازم سیاسی، سماجی، اور معاشی تصورات کا ایسا مجموعہ ہے جس کی بنیاد شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات پر قائم ہے۔ اس کا دائرہ کار محض سیاسی سماجی اور معاشی پہلوؤں پر محیط ہے۔ مذہب یا الحاد لبرل ازم کا موضوع نہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ مابعدالطبیعاتی بحثوں سے اسے کوئی سروکار نہیں۔ ان مباحث کو وہ آزاد افراد کے سپرد کر دیتا ہے کہ وہ خود تلاش کریں کہ مابعدالطبیعات یا طبیعات کے معاملے میں کون سا موقف یا رائے بہتر ہے …اس کا اصل مسئلہ سماجی سیاسی و معاشی بندوبست قائم کرنا ہے، یوں ایک ملحد بھی لبرل ہو سکتا ہے اور ایک مذہبی بھی۔ مثال کے طور پر جان لاک (سترہویں صدی کا فلسفی ) جدید لبرل ازم کا بانی ہے، اسی نے اسے سیاست، معیشت، اور سماجی تصورات میں مرکزی موضوع بنایا۔ لاک ملحد نہیں تھا بلکہ وہ ایک راسخ العقیدہ مسیحی تھا۔

ذیل میں لبرل ازم کی کچھ اہم شاخوں کا تعارف دیا گیا ہے۔ جان لاک اور جان سٹارٹ مل لبرل ازم کے اول و اہم شارحین میں سے ہیں۔ یہ شاخیں بنیادی طور پر ان کی فکر سے ہی پھوٹتی ہیں جنہیں بعد میں مختلف اصطلاحات سے پکارا جانے لگا جیسا کہ سیکولر اور سیکولرازم کی اصطلاح پہلی مرتبہ 18ویں صدی کے ایک انگریز مفکر اور دانشور ’ جارج جیکب ہولی اوک‘ نے وضع کی جبکہ اس کے بنیادی خدوخال (یعنی ریاست کو مذہبی معاملات سے اور مذہب کو ریاستی معاملات سے علیحدہ رکھنا چاہئے ) لاک اور مل واضح کر چکے تھے۔ دراصل فلسفہ میں اصطلاحات کا رواج اس وقت ہوا جب درس گاہوں میں فلسفہ کی درسی کتب کا رواج عام ہوا۔ ذیل میں دی گئی شاخیں دراصل ایک ہی تصور کی مختلف جہتیں ہیں۔ وہ تصور کیا ہے ؟ وہ تصور شخصی آزادی ہے۔ فرد کی آزادی کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور رجحانات کی جستجو (Pursue ) کر سکے اور اپنے لئے جو منزل پسند کرے اس کی راہ کا مسافر بن سکے۔

مل کے نزدیک ایک بہترین زندگی سے یہ مراد ہے کہ ایک فرد اول اپنی صلاحیتوں، اور رجحانات کو پہچان سکے۔ پھر ان کی تربیت کرے، اور بالاخر اپنی تخلیقی قابلیت کو محنت اور ذہانت سے پا لے۔ فرد کے لئے راستہ اس کا ذاتی رجحان یعنی اس کی آرزو ہے، اور اس کی منزل مسرت ہے۔ مل کے نزدیک فرد کو اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے ایک آزادی پسند سماج کی ضرورت ہے۔ یہ آزادی پسند سماج فرد کے معاملے میں انفرادیت پسند اور معروضیت پسند ہو گا۔ آزاد معاشرہ وہ ہے جس میں تنوع پسندی، سیکولرازم، اور جمہوریت ہو۔ معیشت انسانی زندگی میں بہت اہم ہے، معاشی طور پر آزاد انسان ہی شخصی و سیاسی آزادی سے مستفید ہو سکتا ہے۔ آئیے ان کا مختصرا مطالعہ کرتے ہیں۔

ا. انفرادیت پسندی : انفرادیت پسندی سے مراد یہ ہے کہ فرد کو ایک مکمل وجود سمجھا جائے جو اپنی سوچ و فکر اور شخصیت کے جملہ عوامل میں ہر دوسرے فرد سے منفرد ہے۔ اس کی ایک مخصوص شناخت ہے۔ انسان ایک اینٹ نہیں جسے کوئی بیرونی اتھارٹی (جیسے ریاست ) ترتیب دیتی پھرے۔ اس میں خرد مندی اور دلیل پسندی ہے اور بقول مل ہر فرد اپنے بارے میں بہتر فیصلہ کر سکتا ہے کہ کیا اس کے لئے بہتر ہے اور کیا نہیں۔ ضروری نہیں کہ اس کا یہ فیصلہ ہر وقت پرفیکٹ ہو مگر عموماً یہ پرفیکٹ ہوتا ہے کیونکہ ہر فرد کو خود بہتر معلوم ہوتا ہے کہ کیا چیز اس کے لئے کتنی بہتر ہے اور کتنی نقصان دہ۔ کسی بھی اتھارٹی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس پر یہ کہہ کر آمریت نافذ کرے کہ میں فیصلہ کروں گی کہ ایک فرد کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔

بنیادی حقوق سے مراد ایسے لازمی حقوق ہیں جو روئے زمین پر بسنے والے ہر فرد کو حاصل ہونا بے حد ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی صنفی، مذہبی، جغرافیائی، نسلی، لسانی اور رنگ کی تفریق باطل ہے۔

zeeفرد کی آزادی کی کوئی حدود نہیں بشرطیہ کہ ایک فرد کی آزادی دوسرے فرد کی آزادی کو مجروح نہ کرے۔ مثال کے طور پر اگر میں بلند آواز میں موسیقی سنتا ہوں اور میرے ہمسایہ کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔ دونوں کا آزادی و مسرت لازم ہے۔ اس صورت میں ہمیں اول تو باہم کسی حل پر متفق ہونا چاہئے جس سے میری موسیقی کا شوق بھی پورا ہو جائے اور میرا ہمسایہ بھی سکون سے رہ سکے۔ اگر بالفرض ایسا نہیں ہو پاتا تو پھر انتظامیہ دونوں کے درمیان ایسے حل پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہو گی جس پر دونوں فریقین کی آزادی و فلاح قائم رہے۔

انفرادیت یا شخصی آزادی کا تصور سمجھے بغیر لبرل ازم کے پورے ڈھانچہ کو سمجھنا ناممکن ہے۔ اسی طرح مختلف نظریات، عقائد، پیشے، اور سیاسی قیادت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا ہر فرد کو حق حاصل ہے۔ حق انتخاب میں ہی آزادی ہے۔ اور حق انتخاب تب عملی صورت اختیار کرتا ہے جب آپ کے پاس ایک سے زیادہ متبادل (options) ہوں۔ وہ معاشرے جن میں ایک سے زیادہ متبادل نہ پائے جاتے ہوں دراصل آمریت کی ہی ایک شکل ہوتے ہیں۔

(انفرادی ) معروضیت پسندی : یہ ایک حساس پہلو ہے۔ مابعدالطبیعاتی طور پر کیا درست ہے اور کیا غلط ؟ تمام موجود مذاہب اور نظریات میں سے کون ٹھیک ہے اور کون غلط ؟ الحاد ٹھیک ہے یا نہیں ؟…یہ اور اس طرز کے سارے فیصلے دراصل فرد کے حق انتخاب، خرد افروزی، دلیل پسندی اور بصیرت پر انحصار کرتے ہیں۔ کوئی کسی دوسرے فرد پر اپنے سچ کا جبر قائم نہیں کر سکتا۔ سچائی ہر فرد کا ذاتی رجحان اور فہم ہے۔ میں کسی کو مجبور نہیں کر سکتا کہ جیسا اور جس مذہب کو میں مانتا ہوں تم ویسا اور اسی مذہب کو مانو۔ ملحدین اہل مذہب کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ اپنا مذہب چھوڑ دیں اور نہ اہل مذاہب کسی طرح کا مذہبی جبر ملحدین پر نافذ کر سکتے ہیں۔

جیسا کہ کہا گیا کہ حق انتخاب کے بغیر لبرل ازل مکمل نہیں ہوتا اسی طرح ہر فرد میں بہتر انتخاب کی صلاحیت اور قابلیت کا اقرار کئے بغیر بھی بات نہیں بننے والی۔ (اس سلسلے میں خاکسار کی “ہم سب” میں شائع ہونے والی تحریر بعنوان “لبرل ازم انسانی آزادی کا نغمہ ہے “ آپ کے فہم میں آپ کی مددگار ثابت ہو سکتی ہے )

تنوع پسندی : ایک سماج میں ان گنت رجحانات کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ کچھ کم مذہبی ہوتے ہیں اور کچھ زیادہ۔ پھر مذاہب بھی ایک سے زیادہ ہیں اور ہر مذہب میں فرقوں یا مکاتب فکر کی تعداد بھی کم نہیں۔ کچھ لوگ ملحد ہوتے ہیں اور کچھ مذہب و الحاد کے سلسلے میں ابہام کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف مذہب و الحاد میں ہی نہیں نظریات میں بھی ہے۔ سیاسی بندوبست میں بھی ایک سے زیادہ سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں جن کا اپنا اپنا منشور ہوتا ہے۔ سیاسی، سماجی اور معاشی تنظیم میں بھی بہت سارے نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں کچھ مارکسسٹ ہوتے ہیں کچھ سرمایہ دار، کچھ درمیان کے سوشلسٹ۔ پھر مارکسزم میں بھی کم مکاتب فکر نہیں اور کیپٹل ازم و سوشلزم میں بھی یہی صورتحال ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ہماری سیاسی سماجی اور معاشی زندگی ان گنت رنگوں سے رنگین ہے۔ یہی معاشرہ کا حقیقی حسن ہے۔ اگر ایک متنوع معاشرہ میں برداشت رواداری اور مکالمہ کی ثقافت نہ ہو تو یہی رنگینی فسادات اور تنازعات کا سبب بن جاتی ہے اور معاشرہ برباد ہو جاتا ہے۔

لبرل ازم تنوع (diversity ) کو پسند کرتا ہے۔ اسے ناگزیر سمجھتا ہے۔ اس کا احترام کرتا ہے اور ایسے سیاسی، سماجی اور معاشی بندوبست کا آرزو مند ہے جس میں تمام اکائیوں کو نہ صرف شناخت ملے بلکہ ترقی خوشحالی اور مسرتوں کے امکانات کی کھوج اور تسخیر میں مواقع کی مساوات قائم ہو۔

سیکولرازم : تنوع پسندی کو جب ریاستی پالیسی کا درجہ ملتا ہے تو وہ سیکولرازم کہلاتی ہے۔ اس میں ریاست کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ اجتماعی زندگی میں تمام سماجی، سیاسی اور معاشی اکائیوں کو ساتھ لے کر چلا جائے، اور کوئی ایسی ریاستی پالیسی نہ بننے پائے جس کی بنیاد کسی بھی قسم کی مذہبی نظریاتی سیاسی سماجی معاشی لسانی صنفی یا نسلی تعصب پر ہو۔ سیکولر ازم صرف مذہب کو ریاستی پالیسی میں دخل اندازی سے نہیں روکتا، بلکہ ہر قسم کے تعصب سے ممکن حد تک پرہیز کرتا ہے۔

یاد رہے کہ تنوع پسندی محض ریاستی سطح پر سیکولرازم قائم کرنے سے نہیں قائم ہو جاتی۔ اس سلسلے میں سماجی رویوں اور شخصی رجحانات کا عمل دخل بھی ازحد ضروری ہے۔ ایسے معاشرے جہاں عدم برداشت کا چال چلن ہو وہاں محض ریاستی سطح پر قانون سازی اور انتظامی بنیادوں پر انصاف پرور بندوبست سے تنوع پسندی قائم نہیں ہو سکتی۔ بطور فرد ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر دوسرے فرد کی آزادی کا تحفظ کریں۔ معاشرتی سطح پر ہمارا فرض ہے کہ ہم برداشت رواداری اور مکالمہ کی ثقافت قائم کریں۔ اور ریاستی سطح پر ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسا بندوبست قائم کرے کہ سب اکائیاں آزادی انصاف اور مساوات سے مستفیض ہوں۔

جمہوریت: جمہوریت کی بنیاد شہریت کی مساوات پر قائم ہے۔ ایک ملک میں رہنے والے تمام افراد نسل رنگ مذہب زبان اور صنفی تفریق سے قطع نظر برابر کے شہری ہیں۔ ان میں کسی ایک کی کسی دوسرے پر شہریت کی بنیاد پر کمتر یا بالاتر حیثیت نہیں۔ ہر فرد کا ایک ہی ووٹ ہے اور سب برابر ہیں۔ جمہوریت خالصتا ایک سیکولر تصور ہے جو شہریت کی مساوات کو مذہبی تفریق سے بالاتر کر دیتی ہے۔ اس پر تنوع پسندی کی کڑی نگرانی ہے کہ کہیں اکثریت بھی کوئی ایسی قانون سازی نہ کر بیٹھے جس سے اقلیت کے حقوق مجروح ہوں۔ اس کی بنیادوں میں انفرادیت پسندی ہے، ہر فرد خاندان قبیلے رسم و رواج سے بالاتر ہو کر جس پارٹی کو پسند کرتا ہے اسے ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے۔ اس میں مقابلہ کی ثقافت ہے، جو فرد اپنے کسی منشور کو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے اہم سمجھتا ہے، آئے شہریوں کو قائل کرے، الیکشن لڑے اور اگر جیت جائے تو بنیادی انسانی حقوق اور آزادی پسندی کی اقدار میں اپنا منشور رائج کرے۔ اگر نتائج توقع کے برعکس نکلتے ہیں تو میدان چھوڑ دے اور شہریوں کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ نہ بنے۔

آزاد مارکیٹ کی معیشت : دیکھئے ہم نے معیشت جیسے پیچیدہ سائنسی موضوع کو بازیچہ اطفال بنا دیا ہے اور اس میں جذبات و لفاظی سے تماشہ گرم کر رکھا ہے۔ ہمارے پاس معاشی بندوبست کے تین نظام ہیں۔ جاگیرداری : جس میں کسان اپنی محنت جاگیر دار کے سپرد کر دیتا ہے اور جاگیردار کسان کی ضروریات (روٹی کپڑا مکان ) کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ کمیونزم : اس میں آپ جاگیر دار کی جگہ ریاست کو دے دیتے ہیں۔ ساری محنت ریاست کے سپرد، جس کے بدلے ریاست آپ کی ضروریات کی ذمہ داری اٹھا لیتی ہے۔ ان دونوں قسم کے نظاموں میں عملی نتائج کی بنیاد پر تین چیزیں یہاں قابل تبصرہ ہیں :

1.باوجود ضروریات کی فراہمی کے وعدے کے تمام ضروریات پوری نہیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں سوویت یونین میں خوراک کے بحران اور ماوزے تنگ کے چین میں پے درپے قحط بطور کیس سٹڈی مطالعہ کئے جا سکتے ہیں۔

  1. روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ بھی انسان کی ضروریات ہوتی ہیں۔ ان گنت خواہشات ہیں جن کی جستجو انسانی فطرت ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ان دونوں نظاموں میں انسان کو بنیادی ضروریات کی چکی میں پیس دیا گیا۔
  1. سب سے اہم بات جو آزادی پسندی کے حوالے سے کی جانا ضروری ہے وہ یہ کہ تمام انسانی آزادیاں جیسا کہ شخصی آزادی، سماجی و سیاسی آزادی یہ سب معاشی آزادی سے جڑی ہیں۔ وہ معاشرے جو معاشی طور پر آزاد نہیں، سماجی، سیاسی، اور شخصی آزادی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ دور جاگیرداری کی غلامی سے تو ہم واقف ہیں ہی، اسی طرح انیس سو بیس کے بعد وجود میں آنے والی کمیونسٹ ریاستوں میں جن کی تعداد تقریبا 46 تھی، ہم نے بالآخر سیاسی سماجی اور شخصی آزادیوں کی سانسیں بند ہوتے دیکھیں۔

اب تک کی انسانی تاریخ ایک تیسرا متبادل متعارف کروا چکی ہے جسے آزاد مارکیٹ کا نظام کہتے ہیں۔ جو اپنی جدید شکل میں صنعتی انقلاب کے بعد پیدا ہوا۔ اسی سے ہی بقول جان سٹارٹ مل شخصی سیاسی اور سماجی آزادیوں کے باب کھلے۔ آزاد فرد پیدا ہی صنعتی تمدن میں ہوا ہے۔ اس کی بنیاد حق انتخاب پر ہے۔ اس میں ارتقا کا انحصار ذہانت، محنت، تخلیقی قابلیت، اور اختراعات پر ہے۔ مغرب کا ساری دنیا پر اقتدار اسی کی بدولت ہے۔ مغرب آج دنیا میں سب سے بڑا فلاحی معاشرہ قائم کر سکا ہے تو اسی نظام کی بدولت۔

لبرل معیشت میں کسی کی اجارہ داری نہیں ہوتی۔ ہر فرد آزاد ہے جو چاہے بیچے اور جو چاہے، خریدے۔ جہاں محنت و سرمایہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ مواقع کی مساوات کا چال چلن ہے۔ اور صحت مند مقابلہ کی ثقافت پائی جاتی ہے جس میں محنت ذہانت تخلیقی صلاحیت دریافت و ایجاد نیا آئیڈیا اور علم کی دولت ہے وہی مقابلہ میں آگے ہے۔ ریاست صرف اشیا و خدمات کی کوالٹی کی نگرانی کرتی ہے اور اگر دو فریقین کے درمیان کوئی تنازعہ جنم لیتا ہے تو اسے حل کرتی ہے۔ ٹیکسز اکٹھا کرتی ہے اور لوگوں پر خرچ کرتی ہے۔ جو لوگ کسی معذوری کا شکار ہوں ان کی کفالت کرتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

5 thoughts on “کچھ بات لبرل ازم کی

  • 11-02-2016 at 5:54 pm
    Permalink

    Mohtarm Zeeshan Sahib, bhot acha likhtay hain ap, main nay Wajahat sb k Secularism pe saray articles parhay. mujhay thori si confusion ye hai k jo batien Liberalism krta hai wohi secularism krta hai, agar samjhanay k liye hm in dono m farq krna chaien to kaisay kren gy. Umeed hai shafqat farmain gy.
    Regards

  • 11-02-2016 at 8:55 pm
    Permalink

    ذیشان صاحب کی طویل تحریر کا مختصر جواب
    اس کائنات کا ایک خالق ہے وہ اپنے رسولوں کے ذریئعے انسانوں کی فلاح کے لیئے اپنے احکامات نازل کرتا رہا ہے یہ بات کروڑوں اربوں لوگ ہمیشہ سے مانتے رہے ہیں .محمد رسول اللہ اللہ کے آخری رسول ہیں ان کے ماننے والے اس وقت سیاسی،اقتصادی،علمی اور اخلاقی زوال کاشکار ہیں .اس سب کے باوجود اس کرہ ارض پر غالب شیطانی قوت ان سے خوف زدہ ہے اس خوف کے تحت اس نے مسلمانوں ہی میں کچھ لوگوں کو ہائر کیا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سیکولرازم اور لبرل ازم کے فروغ کے لیئے کام کریں. یہ ہے لبرل ازم اور سیکولر ازم کی کل داستان ہے.ذیشان صاحب بھی اسی مہم کاشکار ہوئے ہیں. اگر اسلام آباد میں رہتے ہیں تو ملاقات کے لیئے تشریف لائیں تاکہ اس ذہنی خلجان کے بارے میں آپ کو مزید سمجھایا جاسکے. ایک مسلمان کبھی بھی سیکولر یا لبرل نہیں ہوسکتا .

    • 12-02-2016 at 9:43 am
      Permalink

      Dear Shafique Hilary, I agree with you to the extent that Islam is not compatible with any ism, but your “hiring” theory is highly unfair. Could you plz provide any copy of this “hiring agreement” . Had you had faith in the power and strength of Islamic tradition and concepts, you wouldn’t have to blame others with such baseless conspiracy theories. Plz consider that people may have different views with honesty and genuine concerns, it doesn’t mean that they are hired or are agents.

  • 21-04-2016 at 12:46 pm
    Permalink

    محمد شفیق ہجازی صاحب کی مختصر تحریر جو خدا کے آفا قی تصور سے جوڑتی ہے وہ بھی صحیح معنوں میں امت مسلمہ کےمسائل کا مداوہ نہیں کرسکتی ،سماجی سائنسی معاشی اور روحانی ارتقاء کی تاریخ میں ہم مسلمان یا خدا کے بندے بہت کچھ پیچھے چھوڑ گئے ہیں ان مسائل کو محنت سے وابستہ طبقاتی سماج نے سمجھ کر انتہائی ترقی کے زینے پر پہنچا دیا ہے اب بات رہ گئی ہے دنیا میں سماجی انصاف کی جو ترقی یافتہ طبقاتی سماج مل بانٹ کر دینا نہیں چاہتا بلکہ غیر ترقی یافتہ سماجوں کے زمین سے جڑے معاشی سائنسی ارتقاء کو روک کر عالمی منڈی کی معیشت کا ملازم بنا کر رکھنا چاہتا ہے جو قانون فطرف کے خلاف انتہائی مکرو عمل ہے رہی بات ذیشان ہاشم کی سوچ کی وہ پسماندہ سماج کے پڑھے لکھے استادوں کی طرح ستارویں اٹھارویں صدی کے یورپ کے اندر معاشی سائنسی سماجی ارتقاء کے پیدا شدہ مسائل جنہوں نے بادشاہی جاگیر داری نظام کو سماجی سائنسی ارتقاء کے عمل کے درمیان شکست دے دی اور بتدریج قومی ریاست کا فطری تصور قائم کرکے ریاست پر قابض ہوگئے اس کے بعد محنت کرنے والے اور محنت کروانے والے کے درمیان تضاد پیدا ہوا جس نے ترقی کے اہداف عبور کرنے والی قومی ریاستوں کے درمیان منافع کی دوڑ کو پیدا کیا اور دوسری طرف محنت کشوں نے قومی ریاست کے اندر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی شروع کردی جس کی وجہ سے قومی سرمایہ داریوں نے باہمی اتقاق پیدا کر کے پسماندہ سماجوں کو ایک طرف منڈیاں بنا لیا دوسری طرف ان کے معاشی سماجی ارتقاء کو روکنے کے لیے ان کے وسائل پر قبضہ کرلیا خود کو اپنے اندر ویلفئیر ریاستوں کا تصور قائم کرکے محنت کش اور مالک کے درمیان سماجی مساوات قائم کرلیں مگر زمین کے اجتماعی احساس اور سماجی معاشی ارتقاء کو انتہائی نا قابل تلافی نقصان پہنچایا آج پسماندہ اقوام اپنے روحانی سماجی معاشی قومی ارتقاء کی بھیک معاشی بالادست قوتوں سے مانگ رہے ہیں جو ان کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اپنے دلالوں کے زریعے کارپوریٹ کلچر کا حصہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں یہ فطرت کے نظام کے خلاف بہت بڑی جنگ ہے جو ادب آرٹ مذہب ثقافتوں کے تشخص کی بحالی کے لیے لری جارہی ہے اور اس جنگ میں اگر پسماندہ سماجوں کے انسان اگر بے بس ہوگئے تو جدلیاتی سائنس کے اعلیٰ ارفع قوانین خود اگے آکر محاصبہ شروع کر دیتے ہیں اب ان ترقی یافتہ سماجوں کے اندر ہی نئی سوچ جنم لے رہی ہے جو کائنات کے باہمی جدوجہد کے نظام کو آگے بڑھنے کا سبب بنے گی، طبقاتی سماج کی قباہتیں غیر سائنسی عمل کو مصنوعی جدوجہد کا حصہ بنانے پر تلی ہوئی ہے جن سے یورپ کا سماج بیزاری محسوس کررہا ہے۔

Comments are closed.