وفاقی کابینہ نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے پالیسی کی منظوری دیدی


\"\"

وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 33 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران نارووال اور سیالکوٹ میں بھارتی فائرنگ کے متاثرین کے لیے پنجاب حکومت کی امداد ناکافی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے بھی امداد کی منظوری دی گئی۔ جس کے تحت ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کے خاندان کو5  لاکھ جب کہ شدید زخمیوں کو ڈیڑھ لاکھ روپے فی کس دیئے جائیں گے۔

اجلاس میں کابینہ نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے پالیسی کے علاوہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تجاویز کی بھی منظوری دے دی۔ جس میں عام انتخابات میں خواتین کے5 فیصد کوٹہ کی منظوری کی تجویز بھی شامل تھی۔ اس سلسلے میں قانون سازی کے بعد تمام سیاسی جماعتیں 5 فیصد نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ دینے کی پابند ہوں گی اور عام انتخابات میں ہرایک کلومیٹر بعد پولنگ اسٹیشن قائم کیا جائے گا۔

اجلاس میں ملک بھر میں 100 سے 500 بستروں تک کے اسپتالوں کی تعمیر کا منصوبہ زیر غور آیا، وفاقی کابینہ نے غیرملکی کمرشل قرضوں، ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے لئے 38 کروڑ روپے سمیت ٹی ڈی اے پی اور ای پی بی بنگلا دیش کے مابین مفاہمتی یادداشت کی منظوری دینے پر بھی غور کیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں روس کے فوجیوں کو پاکستان میں تربیت کے معاہدے پر بات چیت سمیت پاکستان اور چین کے آڈٹ اداروں میں تعاون کی یادداشت کے علاوہ  ایران، بیلارس، آذربائیجان، سینی گال اور کرغزستان سمیت فرانس کے ساتھ باہمی تعاون کے سمجھوتوں کو بھی منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کمیٹی برائے توانائی، ای سی سی، کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے فیصلوں اور اسٹیٹ بینک سمیت ایرانی بینک کے مابین ادائیگیوں کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔