تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات ۔۔۔۔ جنید جمشید اور دوسرے مشاہیر کا نفسیاتی جائزہ


\"\" دسمبر 2016 میں جُنید جمشید کا اپنی دوسری بیوی نیہا سمیت جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونا بہت سے لوگوں کے لئے شدید صدمے کا باعث بنا۔ اُن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو جُنید جمشید کو اُس کی جوانی کے دنوں میں اُس کے خُوبصورت خد و خال اور میوزک گروپ کی وجہ سے چاہتے تھے۔ وہ بھی تھے جن کا تعلق اُس مذہبی جماعت سے تھا جس نے اُسے ایک \” تبلغی سکالر \” بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کُچھ کا تعلق ایئر فورس سے تھا جنہوں نے اُس کی میت کو پُورے فوجی اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر اُس کی آخری رسومات ادا کیں۔

جُنید جمشید کا سوگ منانے والوں میں اُس کی پہلی بیوی عائشہ اور اُس کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ اور اس ہجوم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے نے آج سے 20 سال پہلے ہی ایک آرٹسٹ جُنید جمشید کا سوگ منا لیا تھا جب اُس نے اپنے خُوبصورت لمبے بال کاٹ کر، لمبی سی داڑھی رکھ کر اور تبلیغی جماعت میں شمُولیت اختیار کر کے اپنا حلُیہ بدل لیا تھا۔

ایک دوپہر میرے سماجی کارکن دوست مُنیر سامی کا فُون آیا اور اُنہوں نے پُوچھا کہ ڈاکٹر خالد سہیل کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ معروف و مقبول لوگ مذہبی شدت پسند کیوں بن جاتے ہیں؟

میں نے کہا کہ فوری طور پہ تو میں یہ ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ اُن کے تحت الشُعور میں پلنے والے خوف اور احساسِ گُناہ کی وجہ سے اُن کا رُوحانی ردِ عمل ہوتا ہے۔ لیکن آپ کا مُختصر سا سوال ایک سنجیدہ جواب کا مُستحق ہے۔ لہٰذا مجھے کچھ وقت دیں تاکہ میں کُچھ تحقیق کر کے آپ کو مُدلل جواب دے سکوں۔

لہٰذا یہ مضمون اُس مسئلے پہ میری سوچ بچار کا نتیجہ ہے۔

جُنید جمشید پہ تبلیغی اثرات:\"\"

جُنید جمشید نے اپنی شہرت و مقبُولیت کی بُلندیوں پہ اس رُوحانی تبدیلی کا تجربہ کیا۔

وہ پاکستان کے ایک کھاتے پیتے گھرانے کا خُوبصورت جوان تھا۔ ایک پاپ سنگر کے طور پہ وہ بہت چاہا جاتا تھا۔ اُس کے گانے ہر وقت ریڈیو اور ٹی وی پہ بجائے جاتے تھے اور سیڈیز دھڑا دھڑ فروخت ہوتی تھیں۔ اُس کا بینڈ \” وائیٹل سائینز \” بے حد پسند کیا جا رہا تھا۔ لیکن کُچھ ایسی کمی تھی جس کی وجہ سے اُسے اپنی زندگی بہت خالی لگتی تھی۔ اور وہ تھی اُس کے دل کی بےسکونی۔

جب میں دُنیا کے اُن نامور آدمیوں کی زندگی کا تجزیہ کرتا ہوں جو دُنیاوی دولت سے مالا مال ہیں۔ شاندار گھروں میں رہتے ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں گُھومتے پھرتے ہیں۔ بھاری بھرکم بینک بیلنس کے مالک ہیں۔ ذاتی جہاز اور کشتیاں تو ہیں مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کہ وہ اکثر ذہنی سکون جیسی نعمت سے محروم ہی رہتے ہیں۔

یہی حال جُنید جمشید کا تھا۔ وہ دُنیاوی نعمتوں سے مالا مال تھا۔ مگر راتوں کو سکون کی نیند نہ سو سکتا تھا۔ وہ بس اپنے جیسے معرُوف لوگوں کی طرح ماضی کے شاندار سپنوں اور مُستقبل کے اندیشوں میں گھرا حال کا ایک لمحہ بھی سکون سے گزارنے سے محروم تھا۔ وہ اپنے لاشعور میں چُھپے اُن خدشوں سے خوف زدہ تھا جو اُسے بتاتے رہتے تھے کہ یہ دُنیا فانی ہے۔\"\"

اپنے اس اندرونی خوف سے نجات پانے کے لئے کُچھ لوگ منشیات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور کچھ مذہب کی چھتری تلے پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔

کُچھ لوگ جو کہ مذہبی گھرانوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اپنے مُختلف مزاج کی وجہ سے اپنے خاندان کے دوسرے افراد سے مُختلف راستہ چُنتے ہیں۔ اپنی محنت اور شوق کی وجہ سے دُنیا میں ناموری حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اُن کے دوست احباب اُنہیں روایتی ترازو میں تولتے اور ہر وقت بتاتے رہتے ہیں کہ وہ گناہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ تنقید بظاہر جتنی بھی نظر انداز کریں، یہ سماجی رویہ ایک تازیانہ بن کر اُن پہ مسلسل وار کرتا رہتا ہے۔ جو کہ اُن کی بے سکونی کا باعث بنتا ہے۔ جُوں جُوں وہ شہرت کی بُلندیوں پہ پہنچتے ہیں۔ تحتِ شعور میں پلنے والا خوف انہیں بے آرام کرتا چلا جاتا ہے۔ جو شدید ڈپریشن اور نااُمیدی کا باعث بنتا ہے۔ اور وہ کسی ایسے نازُک مُقام پہ پہنچ جاتے ہیں جہاں کسی \”چمتکاری\” مذہبی شخصیت سے مُلاقات ہونے پہ وہ خُود کو اُس کے حوالے کر دیتے ہیں۔

 جب میں نے یُو ٹیوب پہ جُنید جمشید کے 90 منٹ دورانیہ پہ مبنی طویل انٹرویو دیکھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ جب اُس کی اپنے ہائی سکول کے دوست کے ذریعے تبلیغی لیڈر مولانا طارق جمیل سے مُلاقات ہوئی تو وہ اُن دِنوں شدید ذہنی دباؤ سے گُزر رہا تھا۔ مولانا صاحب نے اپنے تجربے کی بنا پہ اُس کی ذہنی حالت کا اندازہ لگایا اور اپنے مخصوص انداز سے اُسے اپنے سحر میں گرفتار کر لیا۔ اُنہیں معلوم تھا کہ جُنید جمشید ایک بڑا نام ہے۔ جس کے گانے وہ سُن چکے تھے۔ جس کی ویڈیوز میں اُسے حسین لڑکیوں کے جُھرمٹ میں گھرا دیکھ چکے تھے۔ شہرت اور دولت کی دیویوں کی مہربان چھاؤں میں پھلتے پھولتے جُنید جمشید نے اُنہیں بتایا کہ وہ اپنے آپ کو اندر سے خوفزدہ اور خالی محسوس کرتا ہے تو اُنہوں نے فورا اُسے بتایا کہ چُونکہ یہ سب دولت و شہرت اس مادی جسم تک محدود ہے۔ لہٰذا اُسے روحانی غذا کی سخت ضرورت ہے۔ جمشید کے یہ کہنے پہ کہ موسیقی رُوح کی غذا ہے مولانا صاحب نے اُس سے شدید اختلاف کیا اور کہا کہ موسیقی تو جسم میں جنسی تحریک پیدا کرتی ہے۔ اور یہ عمل خُدا کو بالکل پسند نہیں۔ یہ سُن کر جنید جمشید لرز کر رہ گیا۔

\"\"

طارق جمیل کو خبر تھی کہ لوہا گرم ہے لہٰذا اُنہوں نے اُس پہ بھر پور چوٹ لگائی۔ یہ جُنید جمشید کے تخلیقی ذہن کی موت اور ایک تبلیغی سکالر کے جنم کی گھڑی تھی۔ اگلے کُچھ مہینوں میں جُنید جمشید نے موسیقی سے متعلق ہر مصرُوفیت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے آپ کو دُنیاوی لُطف و مستی سے دُور اور تبلیغی سکالر کا رول ادا کرنے کے لئے تیار کرنے لگا۔

شعیب منصور کا ردِ عمل :

اگرچہ مولانا طارق جمیل مذہبی دُنیا مین جُنید جمشید کو اپنی پناہ میں لے چکے تھے۔ اس سے پہلے جُنید جمشید ایک مشہور و معروف فلم پروڈیوسر، رائٹر اور سکالر سے بہت مُتاثر تھا۔ جنہوں نے اُس کی ایک سنگر اور میوزیشن کی حیثت سے تعلیم و ترقی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

جنہوں نے اُسے میوزک بینڈ \”وائٹل سائنز\” سے متعارف کروایا تھا۔ شعیب منصور اُس کے میوزک چھوڑ دینے اور تبلیغی جماعت جوائن کر لینے پہ شدید دلبرداشتہ تھے۔ انھون نے 2007 میں لکھا؛

\” ایک صبح جب میں اخبار پڑھ رہا تھا۔ تو میں نے اُس میں جُنید کا انٹرویو دیکھا جس میں اُس کی \” نئی تصویر \” بھی چھپی تھی۔ جوں جُوں میں پڑھتا گیا میرے اندر ایک شدید اداسی نے جنم لیا۔ اُس نے یہ اعلان کیا تھا کہ یہ جاننے کے بعد کہ موسیقی حرام ہے۔ وہ میوزک بینڈ چھوڑ رہا ہے ۔ یہ پڑھ کر مجھے شدید صدمہ ہوا۔ میں کبھی یقین نہیں کر سکتا کہ جس خُدا نے خُود انسان کے اندر میوزک اور پینٹنگ جیسی خُداداد صلاحتیں پیدا کی ہیں وہ کبھی اُن کو حرام قرار دے کر اُن سے نفرت کر سکتا ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ جُنید جمشید جیسے کمزور ذہن انسان کا اپنے ہزاروں سُننے والوں کو ہراساں کرنے کا کوئی حق نہیں۔ میں نے اپنی زندگی کے پندرہ سال اُسے دیئے۔ اُس کی ایک پروفیشنل کے طور پہ تربیت کی۔ مُجھ سے مشورہ کئے بغیر وہ کس طرح میری ساری محنت پہ پانی پھیر سکتا ہے۔ مجھے احساس ہو کہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں تبلیغی جماعت کی شکار اس سوسائٹی کو اس شدید شاک سے نکالنے کے لئے اپنا کردار ادا کروں۔\”\"\"

شعیب منصور جُنید جمشید کے اس رویئے سے اس بُری طرح مجروح ہوئے کہ اُنھوں نے ایک بہت خُوبصورت سکرپٹ \”خُدا کے لئے\” لکھا۔ اُنہوں نے جمشید سے کہا کہ وہ اُس میں مرکزی کردار ادا کرے۔ وہ پہلے تو راضی ہو گیا کہ وہ اپنی داڑھی صاف کروا دے گا مگر بعد میں اُس نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ جس کی وجہ سے شعیب منصور کو اندازہ ہوا کہ وہ اتنا دُور جا چُکا ہے کہ اب اُس کا لوٹنا مُشکل ہے۔ اصل میں شدت پسندی کا جو انجیکشن جُنید جمشید کو لگ چکا تھا ۔ اب اس کے سائیڈ ایفیکٹس سے باہر نکلنا ممکن نہیں تھا۔

جُنید جمشید مولانا طارق جمیل سے شدید مُتاثر تھا۔ جو تبلیغی جماعت کے مشہور لیڈر ہیں۔ یہ جماعت بہت سخت مذہبی اصولوں پہ چلنے کی قائل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کو حجاب کرنا اور برقع پہننا چاہئے۔ اور گھروں کے اندر رہنا چاہئے۔ عورتوں کو ڈرایئو کرنے اور نوکری کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ جماعت ہر قسم کے فنُونِ لطیفہ کے خلاف ہے۔ میوزک، ڈانس، پنیٹنگ اور ایکٹنگ ان کے نزدیک شیطانی افعال ہیں۔ یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں کہ تبلیغی جماعت والے کس طرح ایک نفسیاتی مسئلہ کو ایک مذہبی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ وہ ایک لمحے میں انسان کی روزمرہ زندگی کے ایک عام سے فعل کو ایک گُناہِ عظیم میں بدل دیتے ہیں۔ اور پھر لوگوں پہ ذہنی دباؤ ڈالتے ہیں کہ اللہ کی طرف آجاؤ۔ تبلیغی جماعت میں شرکت کرو۔ اور اپنی ابدی زندگی کے بارے میں سوچو۔

ایک سایئکو تھیرپسٹ اور انسان دوست ہونے کی حیثیت سے میرا یہ خیال ہے کہ دُنیاوی معاملات کے بارے میں تبلیغی اور روشن خیال بالکل مُختلف نظریہ رکھتے ہیں۔

تبلیغی جماعت کے مطابق زندگی اچھے بُرے، صحیح غلط، گُناہ و ثواب، اور حلال و حرام کے گرد گھومتی ہے۔\"\"

جبکہ روشن خیال مرنے کے بعد ملنے والی جنت کے خواب دیکھنے کی بجائے جدید سائنسی، طبی اور نفسیاتی طریقوں سے زندگی کو آرام دہ اور پُرسکون بنانے اور گزارنے کی بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے اس خوبصورت سیارے پہ پُرمسرت اور بامعنی زندگی گزارنے کا اہتمام کرتے ہیں۔

جب میں نے مولانا طارق جمیل اور جُنید جمشید کے بیانات پڑھے اور تقریریں سُنیں تو اُن کی دوہری سوچ سے بہت محظوظ ہوا۔ ایک طرف تو وہ جنت میں ملنے والی حوروں کے خُوبصورت جسموں کی بات کرتے اور اُنھیں سراہتے ہیں۔ اور اُن کے لئے کُچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ دُوسری طرف اِس دُنیا میں رہنے والی عورتوں اور اپنی بیویؤں کو بھدی اور بد صورت کہہ کر اُن کی توہین کرتے ہیں۔

اُن کی حوروں کے خد و خال کی تشریح \” روحانی شہوانیت\” کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ اُن کے بیانات کسی بھی ایسے مرد کو جنسی طور پہ برانگیختہ کرنے کو کافی ہیں۔ جو کہ اسلامی معاشرے میں تقریباً جنسی فاقہ کشی کی زندگی گُزار رہا ہوتا ہے۔

کیٹ سٹیونز کا مذہب تبدیل کرنا:

جب میں جُنید جمشید کے بارے میں پڑھ رہا تھا تو مُجھے پاپ میوزک کی دُنیا کا ایک بڑا نام یاد آیا۔ کیٹ سٹیونز نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا اسلامی نام یُوسف اسلام رکھ لیا تھا۔ 1966 میں اُسے ٹی بی ہو گئی اور بمُشکل اُس کی جان بچی۔ وہ بسترِ مرگ پہ پڑا اپنے مذہبی رُجحانات و خیالات کا تجزیہ کرتا رہتا تھا۔ 1976 میں سوئمننگ کرتے ہوئے وہ ایک بھنور میں پھنس گیا اور ڈوبنے لگا۔ اس عالمِ بے چارگی میں اُس کے مُنہ سے بے اختیار نکلا،

\”اے خُدا مجھے بچا لے۔ میں اب صرف تیرے لئے زندہ رہوں گا \”

 اُسی وقت ایک بڑی لہر آئی جس نے اُسے ساحل پہ لاپٹخا۔ اور کیٹ سٹیونز کو یقین ہو گیا کہ یہ اک معجزہ تھا۔ اُنہیں دنوں اُس کے بھائی نے یروشلم جاتے ہوئے اسے قرآن مجید دیا۔ جسے ترجمے کے ساتھ پڑھنے پہ وہ یُوسف علیہ سلام کے کردار سے اتنا مُتاثر ہوا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اُس نے اپنا نام یُوسف اسلام رکھ لیا۔ اُس نے موسیقی کو خیر باد کہہ دیا۔ اور مذہبی فرائض میں مصروف ہوگیا ۔ وہ اس حد تک شدت پسند ہو گیا کہ جب ایران کے شاہ خمینی نے سلمان رُشدی پہ گُستاخِ رسول کا فتوی لگا کر اُسے واجبُ القتل قرار دیا تو اُس نے خمینی کی حمایت کی۔ لیکن بعد میں اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔

تبلیغی جماعتوں کی معروف لوگوں پہ خصوصی توجہ:\"\"

یورپی ممالک میں بھی بہت سی ایسی جماعتیں ہیں جو کہ معروف و مشہور لوگوں پہ اپنی خصوصی نظر رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اُنہیں پتہ ہوتا ہے کہ ایسے ایک شخص کے اُن کی جماعت میں آجانے سے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں لوگ اُن کی طرف مُتوجہ ہوں گے۔ اُنہی مذہبی جماعتوں میں ایک کرسچن جماعت \”چرچ آف سینٹیالوجی \” بھی ہے۔ 1954 میں جب رون ہپوبرڈ نے چرچ جوائن کیا تو اُس نے اپنے چرچ کی مدد سے ایک ایسا پروگرام تیار کیا جس نے اُس کے آس پاس کے مشہور و معروف لوگوں کو اُس کے سحر میں مُبتلا کر دیا۔ جس کی وجہ سے دو مشہور ہالی وُوڈ ایکٹرز ٹام کروز اور جان ٹریولٹا نے چرچ میں شمُولیت اختیار کر لی۔ جب ایک ڈاکیومنٹری \” گوئنگ کلیئر \” میں چرچ  کی اندرونی کہانی سے پردہ اُٹھایا گیا تو پتہ چلا کہ ذہنی مسائل کا شکار جوان ہمیشہ مدد کے خواستگار ہوتے ہیں۔ جب ٹریولٹا نے ہیوبرٹ کی کتاب ’’ڈائیاناسٹک‘‘ پڑھی تو وہ بہت مُتاثر ہوا۔ اور اس جماعت کا اہم رُکن بن گیا۔ مُجھے اس انکشاف پہ بہت صدمہ ہوا کہ جماعت کے کارکن وہاں آنے والوں کے بیانات ریکارڈ کر لیتے جو کہ بعد میں اُنہیں بلیک میل کرنے کے لئے استعمال ہوتے۔ لہٰذا ایک بار \”اعترفِ جُرم\” کے اس عمل سے گزرنے کے بعد کوئی اُن کے چُنگل سے باہر نہ نکل سکتا۔ لیکن اگر چرچ کو کسی ممبر پہ شک ہو جاتا تو وہ ہر ممکن طریقے سے اُن سے چُھٹکارا حاصل کر لیتے۔ یہاں تک کہ تبلیغی جماعت کے لوگ اُن کی ذاتی زندگی میں بھی دخل اندازی کرتے۔ مثال کے طور پہ اُن کی وجہ سے ٹام کروز کو 2001 میں اپنی بیوی نکول کڈمین کو طلاق دینی پڑی۔ ٹام کروز کی اس قربانی کی وجہ سے جماعت نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے اُسے کئی ایوارڈز اور انعامات سے نوازا۔ اُس جماعت کے باقی ممبران کی طرح ٹام کروز بھی سائیکو تھراپی کے شدید خلاف ہے۔ وہ یہی سمجھتا ہے کہ اس میں جو طریقہ علاج اور دوائیں استعمال کی جاتی ہیں وہ انسان کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

 تبلیغی جماعت کے دُنیائے کرکٹ پہ اثرات:

جب میں تبلیغی جماعتوں کے نامور لوگوں پہ اثرات کی بات کر رہا تھا تو میرے دوست، مشہور پینٹر شاہد رسام نے میری توجہ مشہور پاکستانی کرکٹر سعید انور کی طرف دلائی۔ جو ایک ایسے ہی تجربے سے گُزرا اور ایک بالکل مُختلف انسان بن گیا۔

جب میں نے سعید انور کے حالاتِ زندگی پڑھے تو مجھے اندازہ ہوا کہ 1996 میں اپنی کزن ڈاکٹر لُبنیٰ سے شادی کے بعد اُسے فیملی دباؤ سے گزرنا پڑا جب اُس کی بیٹی بسمہ ایک طویل بیماری کے بعد وفات پاگئی۔ اس سانحے نے سعید انور پہ شدید ذہنی دباؤ ڈالا۔ اور وہ سنجیدگی سے اپنی دُنیاوی اور رُوحانی دُنیا کے بارے میں سوچنے لگا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُس نے لمبی داڑھی رکھی اور تبلیغی جماعت میں شمُولیت اختیار کر لی۔ یہ داستان پڑھتے ہوئے مجھے پتہ چلا کہ مشہور کرکٹر یُوسف یوحنا سعید انور سے شدید مُتاثر ہوا تھا جس نے بعد میں اسلام قبول کر کے اپنا نام محمد یُوسف رکھ لیا تھا۔

تبلیغی جماعتوں کے دُنیائے باکسنگ پہ اثرات:\"\"

جب میں نے کرکٹرز کی زندگی پہ تبلیغی جماعت کے اثرات کے بارے میں پڑھا تو مجھے باکسنگ کے میدان کا ’’کلے‘‘ یاد آگیا جو محمد علی جاہ سے بہت مُتاثر تھا۔ اُس نے پہلی بار 1961 میں ’’نیشن آف اسلام‘‘ کی میٹنگ میں شرکت کی جو بلیک مسلمانوں کی مذہبی جماعت ہے۔ اُس نے محمد علی جاہ کی سحر انگیز تقاریر سُنیں۔ اور بہت متاثر ہوا۔ پہلے پہل نیشن آف اسلام اُسے قبول کرنے سے ہچکچا رہی تھی مگر 1964 میں جُونہی اُس نے باکسنگ کی ہیوی ویٹ چیمپئن شپ جیتی تو اُنھوں نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ کیونکہ اُنہیں پتہ تھا کہ اب اُس کا اُن کے ساتھ ہونا ہزاروں لوگوں کو اُن کی طرف مُتوجہ کرے گا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ محمد علی بن گیا۔ محمد علی کلے بن کر اُس نے اعلان کیا کہ اُس نے اپنا دور غُلامی کا نام چھوڑ دیا ہے اب وہ ایک آزاد انسان ’’محمد علی‘‘ ہے۔ وہ کُچھ عرصہ میلکم ایکس سے بھی مُتاثر رہا۔ جب اُسے امریکہ کی طرف سے ویتنام کی جنگ میں حصہ لینے کو کہا گیا تو اُس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اسلام جنگ کے خلاف ہے لہٰذا وہ جنگ میں حصہ نہیں لے سکتا۔ محمد علی تمام زندگی سیاسی طور پہ مُتحرک رہا۔ 1980 میں اُس نے کینیا کا دورہ کیا۔ اور اُن کی حکُومت کو ماسکو کا بایئکاٹ کرنے پہ اس لئے راضی کر لیا کہ روس نے افغانستان پہ حملہ کیا تھا۔ 1998 کے موسم گرما میں محمد علی کو اٹلانٹا، جارجیا میں اولمپکس مشعل جلانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 9/11 کے حادثے کے بعد اُس نے اپنی کئی تقاریر میں اس بات کا تذکرہ کیا کہ اسلام ایک پُر امن مذہب ہے۔ 2002 میں محمد علی نے امن کے نُمائندے کے طور پہ افغانستان کا دورہ کیا۔ جُون 2016 میں جب اُس کی وفات ہوئی تو وہ تمام دُنیا میں امن کا علمبردار بن چکا تھا۔ اپنی عُمر کے آخری دنوں میں وہ اسلام کی صُوفیانہ روایت کے بہت قریب آ گیا تھا۔

مذہب پہ روحانیت کے اثرات:

جہاں کچھ مشہور لوگ مذہبی بُنیاد پرست جماعتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ وہیں کچھ لوگ رُوحانیت کی طرف بھی رجوع کرتے ہیں۔ اُنہی میں سے ایک شاعر جلال الدین رومی بھی تھے۔ آزاد منش صُوفی شمس تبریز سے ملاقات ہونے سے پہلے وہ ایک عام مولوی تھے۔ شمس اور رومی کی ملاقات نے رومی پہ اتنے گہرے اثرات چھوڑے کہ رومی نے ہزاروں اشعار لکھے جو کہ صُوفی ازم کا انمول خزانہ ہیں۔

اک شعر میں رومی اپنی اور شمس کی ملاقات کی اہمیت اس

\"\"

طرح بیان کرتے ہیں۔

مولوی ہرگز نشُد مولائے روم

تا غُلامِ شمسِ تبریزِ نشُد

رومی اور تبریز کی ملاقات صرف 40 دن رہی۔ مگر رومی پہ اُس کے اثرات تمام عمر رہے۔ شمس ایک روز خاموشی سے رُخصت ہو گئے اور تا عمر واپس نہ لوٹے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شمس کو رومی کے بیٹے نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر قتل کر دیا تھا۔ کیونکہ وہ اُن کی رومی کے ساتھ گہری دوستی پہ بہت زیادہ حسد کا شکار ہو گئے تھے۔

مذہبی گُفتگو روحانیت پہ مبنی ہو یا بُنیاد پرستی پر، بہت سحر انگیز ہوتی ہے۔ جو کسی کی بھی ذہنی توڑ پھوڑ یا ذہنی نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم عام لوگوں کی نسبت مشہور و معروف لوگوں پہ تبلیغ کے شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اندر زیادہ توڑ پھوڑ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں جب اُن کی ملاقات کسی سحر انگیز مذہبی شخصیت سے ہو جاتی ہے تو وہ اُس کی ذات میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ جو اُن کے اندرونی احساس گُناہ کو ختم کر کے اُنہیں مذہبی مُبلغ بنا دیتے ہیں۔ اور وہ مذہب کی چھتری تلے پناہ لے کر خود کو محفوظ سمجھنے لگتے ہیں۔

 (ترجمہ: ثمینہ تبسُم)


Comments

FB Login Required - comments

14 thoughts on “تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات ۔۔۔۔ جنید جمشید اور دوسرے مشاہیر کا نفسیاتی جائزہ

  • 08-02-2017 at 9:03 am
    Permalink

    This writer is the kind that qualifies as liberal extremists. Anyone who takes a religious position that is not in line with their position or anyone who takes a religious stance to begin with is deemed an extremist as this writer has done. The modernity, secularism, liberalism and social sciences that you so arrogantly stand on have been devastatingly deconstructed by many. Try getting out of your cocoon once.

    Reply
  • 08-02-2017 at 9:33 am
    Permalink

    sirf aik sawal
    ٹام کروز کی اس قربانی کی وجہ سے جماعت نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے اُسے کئی ایوارڈز اور انعامات سے نوازا۔ ?? can you please mention which awards he got with influence of Scientology??

    Reply
  • 08-02-2017 at 11:36 am
    Permalink

    ڈاکٹر خالد کے اس مضمون کا جو لب لباب میری ناقص سمجھ میں آیا وہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت دراصل انسانی نفسیات پر انتہائی مہارت کے ساتھ کام کرتی ہے اور خاص طور پر فنون لطیفہ سے وابستہ مقبول عوامی شخصیات کو نظر میں رکھتی ہے اور جب ایسی کوئی شخصیت کسی نجی واقعہ کی بنا پر کسی ذہنی الجھن یا دباؤ میں مبتلا ہو اس وقت یہ جماعت انھیں اپنے نفسیاتی حصار میں لاکر انکی ایسی برین واشنگ کردیتی ہے کہ وہ انسان اپنی وجہ شہرت کا سبب اپنے ان سابقہ امور سے تایب ہوجاتا ہے اور اس جماعت سے جڑ جاتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ جماعت اسے چرچ آف scientology یا نیشن آف اسلام کی طرز پر اس طرح سے بلیک میل کرتی ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی اس جماعت کو ترک نہیں کرسکتا اور اس سے جڑے رہنے پر مجبور ہوجاتا ہے .
    حیف صد حیف !!!
    میری ہم سب کی انتظامیہ سے دردمندانہ التماس ہے کہ خدارا اپنے قارئین کو ایسی بے سروپا تحریروں اور احمقانہ ترجموں اور تجزیوں سے ذہنی انتشار میں مبتلا کرنے کی کوششوں سے گریز کریں . والسلام

    Reply
  • 08-02-2017 at 1:43 pm
    Permalink

    From where i can see this writing and a detailed reply from Mr Ayub on it (although I totally condemn the language he used)…i think that both writer and Mr Ayub are correct…they are just giving different examples of different people who are no way compareable to each other..well that’s what I believe

    Reply
  • 08-02-2017 at 4:27 pm
    Permalink

    س مضمون میں اول تو مصنف نے بالکل برہنہ ہو کر یہ بتا دیا ہے کہ لبرلز شدت پسند کسے کہتے ہیں۔ یعنی وہ شدت پسندوں کو ہرگز شدت پسند نہیں کہتے، بلکہ مذہبی لوگوں کو شدت پسند کہتے ہیں۔ معلوم ہے کہ جنید جمشید مذہبی تو تھے، مگر شدت پسند ہر گز نہ تھے۔ ٹی۔وی چینلز پر ہونے والے بے سمار پروگرام جن میں انہوں نے شرکت کی گواہ ہیں۔
    مضمون نگار کی ایک بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ زندگی کو جدید سائنسی، طبی اور نفسیاتی طریقوں سے پرمسرت اور بامعنی بنانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ خدا کا تصور ہی زندگی میں معنویت پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کائنات اور زندگی کو صرف بگ بینگ کا نتیجہ سمجھ لیا جائے، اور خدائے رحمان کا انکار کر دیا جائے تو یہ زندگی محض ایبزرڈ اور لایعنی قرار پاتی ہے۔ اس “سلوک” سے زندگی میں معنی کہاں سے پیدا ہوں گے؟
    تیسری بات یہ کہ اگر اس بات کا تجزیہ کیا جائے کہ لوگ لبرل، منکر اور دہریے کیوں ہو جاتے ہیں، اور سائینٹسزم میں کیوں پناہ تلاش کرتے ہیں، تو اس کی وجوہات چند افراد کو چھوڑ کر، زیادہ تر میں، نفسیاتی ہی نکلیں گی اور معلوم ہو گا کہ خدا کا تصور جو احساس ذمہ داری انسان میں پیدا کرتا ہے، لبرل ازم اس سے فرار کا ایسا طریقہ ہے، جسے لوگوں نے سائینسی سمجھ رکھا ہے۔

    Reply
    • 11-02-2017 at 5:04 am
      Permalink

      Mubashar boht acha tajzia that’ good, ziada tawalat comment main shayd yun nahi thi ke aap shayd dusron ki tarah roshnai bech kar rozi nhi kamatte, wagarna likhne lagen to kam az kam aaj ke dour mein halal to khayen gay.ba nisbat firqa e ilhadia ke.

      Reply
  • 09-02-2017 at 12:03 am
    Permalink

    ملحدین کی تحریریں شائع نہ کی جائیں جو حقائق کو سمجھے بغیر اسے توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں۔
    اسلام ایک حقیقت ہے جس کا سامنا جو کرتا ہے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
    جن لوگوں نے اپنی زندگیاں تبدیل کی ہیں انہوں نے حقیقت دیکھی پھر اس پر ڈٹ گئے اور مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا اور ملحد کبھی حقیقت کی تلاش میں تھے ہی نہیں۔
    اگر خدا کا زندگی سے نکال دیا جائے تو زندگی بے معنیٰ ہوکر رہ جاتی ہے، جس کا کوئی مقصد ہی نہیں ۔
    آخر جس سکون کی جنید جمشید کو تلاش تی اسے اس نے حاصل کیا اسے مذہب میں وہ سکون ملا جا کی طرف اس نے دوسروں کو دعوت دی اور اسی راستے میں اس کی موت آئی۔
    اب اس پر ملحدین اور لبرلز کا واویلا کرنا اور شور مچانا سمجھ سے باہر ہے۔ حقیقت اپنا آپ منواتی ہے اور اسلام ایک حقیقت ہے۔

    Reply
  • 09-02-2017 at 4:32 am
    Permalink

    بہت دکھ ہوا اس تحریر کو اس پلیٹفارم پر دیکھ کے… محترم وجاہت مسعود صاحب آپ کا احترام کرتا تھا… خدارا کہہ دیجیے کہ یہ تحریر آپکی نظر سے گزرے بناء یہاں شایع ہو گئ ہے… لیکن اگر یہ بھی مان لوں تو میرے ذہن میں آپکا جو خاکہ ہے ایک پروفشنل کا، اسے ٹھیس پہنچے گی… میں، ہم سب کا، شروع سے ایک مستقل قاری انتہائی دکھ کے ساتھ یہ دیکھ رہا ہوں کہ معیار زوال پذیر ہے، اور دیانتداری کا جنازہ نکل رہا ہے. کچھ ہی دیر پھلے نورالہدا صاحبہ کی تحریر پڑھ کے آنکھیں نم ہوئ تھیں… ابھی وہ نمی خشک بھی نہیں ہوی تھی کہ اس تحریر نے حلق تک کڑوا کر دیا…
    اس قدر نفرت.. اس قدر بددیانتی… ہم سب کے ادارتی معیار پر انتہائی بدنما داغ ہے یہ تحریر…
    معاف کیجئے گا جذباتی ہو کے کچھ سخت الفاظ لکھ گیا ہوں… محبت اور توقعات کو ٹھیس پہنچے تو ایسا ہو جاتا ہے شاید.

    Reply
  • 09-02-2017 at 5:00 am
    Permalink

    There are millions of people who believe in religion but they don’t have inner peace because they don’t understand the core of their faith . Tabliq is important for social reform and humanity. Any art without meaning does not florish .
    Anyone can change at any point in life but inner peace is not guaranteed

    Reply
  • 09-02-2017 at 10:58 am
    Permalink

    سوال: “ڈاکٹر خالد سہیل کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ معروف و مقبول لوگ مذہبی شدت پسند کیوں بن جاتے ہیں؟”

    جواب: ” فوری طور پہ تو میں یہ ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ اُن کے تحت الشُعور میں پلنے والے خوف اور احساسِ گُناہ کی وجہ سے اُن کا رُوحانی ردِ عمل ہوتا ہے۔”

    سوال کی عمومیت سوال کو بےمعنی کردیتی ہے۔ معروف اور مقبول لوگ یکساں نہیں ہوتے۔ وہ نہ تو یکساں سبب سے مقبول ہوتے ہیں، نہ یکساں عرصے مقبول رہتے ہیں، نہ اپنی مقبولیت کو یکساں طور سے اپنی ذات کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ نہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کوئی ایسا واضح سبب ہے جسکی وجہ سے ایسا نہ ہونا چاہئے تھا۔ اسی طرح جواب کی عمومیت بھی اسے بےمعنی بناتی ہے۔ کیا ہر مقبول شخص کے تحت الشعور میں کوئی نہ کوئی احساس گناہ ضرور ہوتا ہے؟ کیا ہر مقبول شخص کسی نہ کسی انداز کا شدت پسند بن جاتا ہے؟ کیا کسی شخص کی انفرادیت اسکے مقبول ہوتے ہی فنا ہوجاتی ہے اور وہ ایک ’عمومی‘ مقبول شخص بن جاتا ہے؟
    ویسے مجھے خدشہ ہے کہ مترجم نے ترجمہ میں کچھ باتیں چھوڑ تو نہیں دی ہیں، اور الفاظ بدل تو نہیں گئے ہیں۔ یہ خدشہ مجھے اس وجہ سے ہے کہ مترجم نے ’بلیک مسلم‘ لیڈر کا نام محمد علی جاہ لکھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے یہ غلطی نہیں ہوسکتی تھی۔ لیڈر کانام Elijah Muhammad تھا۔ یعنی ’الیاس محمد‘۔

    Reply
  • 09-02-2017 at 12:25 pm
    Permalink

    فرقہ لبریہ تخلیقات کائنات میں دلچسپ ترین شے ہیں۔ اگر کوئی عاقل بالغ شخص شخص مذہب چھوڑ کر، مادیت کے ہاتھ پر بیعت کر کے ان کا گرویدہ ہوجاۓ تو وہ ’’اندھیرے‘‘ سے روشنی میں آجاتا ہے۔ تاہم اگر کوئی دوسرا عاقل بالغ شخص لادینت سے توبہ کر کے، روحانیت کے ہاتھ پر بیعت کر کے مذہب کی آغوش میں آجائے تو ان کے ہاں ماتم شروع ہو جاتا ہے۔

    پہلی صورت ان کے لیے ’’فرد کے انتخاب کی آزادی‘‘ ہے۔ تاہم دوسری صورت میں یہ اپنے نفسیاتی، لاشعوری، واقعاتی، تجزیوں کی پٹاری کھول لیتے ہیں اور پھر طرح طرح کی تشخیصیں پیش کرتے ہیں

    Reply
  • 11-02-2017 at 2:17 pm
    Permalink

    موصّوف کی بے سروپا باتوں سے صرف اتنا ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے کم علمی اور کم عقلی صرف ایک بیماری ہی نہیں بلکے وباہ بھی ہے.
    مذہبی دہشتگردی کی تفصیل تو معلوم نہیں مگر لبرل جو کے خود ایک جنونی نظریہ کے قائل ہیں وہ کیسے خود کو معتدل اور انسان دوست کہتے ہیں………..

    Reply
  • 13-02-2017 at 3:49 pm
    Permalink

    It is not ethical to judge someone without having met them at all. As per the liberal values themselves, everyone must be free to choose. Robin Williams committed suicide. Elvis Presley did in past. Michael Jackson was on drugs, severe depression and unthinkable issues with little children. The list is long of those who make huge name in showbiz and sports and have much difficulty in living normal lives despite the so called advancements in Science. The sole purpose of religion is not to be a psychological panacea or just a little bit more, better and different social set of norms. It is concerned with questions of why life and for what purpose. Quran explains that both matter and mind are Created by Allah. We merely use them without being the original creators of those things. Are we our own creatures? What is the difference between animals and humans? If no difference as per Science and religion is replaced with Scientism, then no wonder, there are more genocides as well as suicides even though we have treasure as compared to our ancestors.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *