معاونین کی سندھ پر حکمرانی اور جمہوریت کے دعویٰ


\"\"سنده حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت آج کل عدالت عالیہ سے نالاں ہے، کیونکہ سندہ ھائیکورٹ نے ایک آئینی درخواست پرغیرمنتخب معاونین اور مشیروں کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ آئین کے مطابق حکومتی امور چلانا منتخب نمائندوں کا کام ہے۔

سندہ حکومت نے صوبائی کابینہ میں یہاں وہاں سے لاکر کئی من پسند چہیتے بھرتی کیے ہوئے ہیں جن میں سے کچھ نے استعیفیٰ دیا ہے کچھ ابھی تک موجود ہیں۔ جب عدالت کا عبوری حکم آیا تو سندہ حکومت نے اس پر عمل کرنے کے بجائے عدالت میں جھوٹ بول کر جواب دیا کہ انہوں نے تمام معاونین کو ہٹا دیا ہے،لیکن جب چیف سکریٹری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا تب جا کر کچھ معاونین کو ہٹایا گیا لیکن اب بھی سندہ حکومت میں وزرا کی تعداد آئین میں کسی صوبائی کابینہ کے لئے متعین کردہ حد سے تقریباً دوگنی ہے،اور یہ تعداد تو 12 مشیروں اور معاونین کے استعفیٰ کے بعد ہے، ذرا سوچیے اس سے پہلے کیا حال ہوگا۔

آئین پاکستان کی شق نمبر نوے، اکانوے اور بانوے وفاقی حکومت، کابینہ اور وزرا کی تعداد کے بارے میں ہیں۔ وفاقی حکومت کیا ہے، کابینہ کی وصف ، کابینہ میں وزرا کی مقرر کردہ تعداد انہیں شقوں میں دی گئی ہے۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ میں شامل وزرا کی تعداد پارلیامنٹ( مجلس شوریٰ) اراکین کے 11فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی،پاکستان کی قومی اسمبلی 342 اراکین پر مشتمل ہے جبکہ سینیٹ کے 104 اراکین ہیں، یہ کل تعداد 446بنتی ہے،پارلیامنٹ کا ۱۱ فیصد 40بنتا ہے، اس حساب سے وفاقی کابینہ 40وزرا پر مشتمل ہونی چاہیے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی کابینہ میں اس وقت 20 وفاقی وزیرہیں،چھ مملکتی وزیر،چار عدد مشیر اور چھ معاون خصوصی ہیں، یہ تعداد 36 بنتی ہے،کہا جا سکتا ہے کہ وفاقی کابینہ کی یہ ترتیب آئین کے مطابق ہے۔

اسی آئین پاکستان کی 129 سے لیکر 140 تک تمام شقیں صوبائی حکومتوں کے بارے میں ہیں۔صوبائی حکومت، اس کے اختیارات، کام، صوبائی کابینہ سے لیکر تمام امور انہیں شقوں میں واضع ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کشش کس چیز میں ہوتی ہے؟

اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبائی کابینہ میں بھی وفاقی کابینہ کی طرح وزرا کی ایک حد مقرر کر دی گئی کہ صوبائی کابینہ اسمبلی نشستوں کی ۱۱ فیصد سے تجاوز نہیں کرے گی،اور زیادہ سے زیادہ 15 وزرا ہی رکھے جا سکتے ہیں۔

 اگر تمام صوبائی حکومتوں کی کابینہ کا جائزہ لیا جائے توحکومت سندہ ہمیں متعلقہ آئینی شق کی خلاف ورزی میں سب سے آگے نظر آئے گی ۔

آئین کی شق 130کی روشنی میں سب سے پہلے بڑے صوبے پنجاب کا جائزہ لیتے ہیں،پنجاب اسمبلی 371 اراکین پر مشتمل ہے،پنجاب کابینہ میں وزرا کی تعداد 33 ہے، جو کہ 11 فیصد ہی بنتی ہے، پنجاب میں وزرا کی مقرری تو آئین کے عین مطابق ہے، لیکن صوبے میں پانچ معاونین بھی مقرر ہیں، اگریہ معاون حضرات وزیر کے برابر کا عہدہ رکھتے ہیں تو پھر ان کی مقرری آئین سے متصادم ہے، اگران معاونین کا کام کابینہ سے باہر،صرف رابطہ کاری اور معاونت کا ہے تو کوئی قباحت نہیں۔

 خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 126اراکین ہیں، 11 فیصد شرح کے حساب سے صوبائی کابینہ 11 سے 12 وزیروں پر مشتمل ہونی چاہیے لیکن صوبائی کابینہ میں 14 وزیر ہیں، یہاں پر تین وزرا مقررہ آئینی حد سے زیادہ ہیں۔

بلوچستان اسمبلی 65اراکین پر مشتمل ہے، آئینی اعتبار سے اس صوبائی کابینہ میں پانچ سے چھ وزیر ہونے چاہئیں لیکن یہاں وزیروں کی تعداد 12 ہے اور چار مشیر خاص ہیں، اگر کوئی بھی شخص اس کابینہ کو عدالت میں چئنلج کردے تویہاں بھی اتنی بڑی کابینہ سے جان چھوٹ سکتی ہے۔

سندہ حکومت نے کابینہ کے معاملے میں سب صوبوں کو مات دی ہوئی ہے، پسماندگی، بدحالی، خراب حکمرانی اور کرپشن کے تمام رکارڈ توڑتی سندہ حکومت کی کابینہ تمام صوبوں سے بڑی ہے،جس میں 19 صوبائی وزیر،ایک مشیر خاص اور 9 عدد معاونین خصوصی شامل ہیں،آئینی تقاضا ہے کہ سندہ کابینہ میں زیادہ سے زیادی 15 اراکین ہی ہونگے،لیکن اس وقت بھی سندھ میں 29 وزیر، مشیر اور معاونین ہیں۔ہائیکورٹ کے فیصلے سے پہلے کابینہ چالیس اراکین پر مشتمل تھی، جس میں 17 معاونین شامل تھے۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستانی برہمن اور شودر

یہاں یہ بات کرنا بہت ضروری ہے کہ اٹھارویں ترمیم کی خالق پیپلز پارٹی ہے اوریہ اس ترمیم پر تمام جماعتوں کی حمایت حاصل کی گئی۔ سندہ میں اس وقت بھی پیپلز پارٹی کی ہی حکومت ہے، لیکن خود ہی اپنی منظور کردہ ترمیم کو اپنے پاؤں تلے روند رہی ہے۔

 سندہ سرکار نے کئی وزارتوں کو توڑ توڑ کر الگ اور نئی وزارتیں بنائیں ہیں ان وزارتوں میں سے کچھ تو ایسی ہیں جن کے کوئی قواعد بھی نہیں بنے، ایک دن سندھ کے ایک ایڈیشنل سکریٹری سے جب سپریم کورٹ وزارت برائے خصوصی اقدامات کے رولز پڑھنے کا حکم دیا تو سکریٹری صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، کیونکہ اس وزارت کے رولز ہی نہیں بنے،ایسی کئی وزارتیں اور کھاتے ہیں جو بغٖیررولز چل رہے ہیں۔وزارتوں کو توڑ کر نئی وزارتیں بنانے مقصد بھی عوام کو سہولیات پہنچانا بلکل نہیں بلکہ اپنے من پسند لوگوں کو ایڈجسٹ کرنا ہی ہے،اور معاونین کی شکل میں وہ ایڈجسٹمنٹ ہم دیکھ رہے ہیں۔

وزیر اپنی ماتحتی میں چلنے والی وزارت کا کل مختار ہوتا ہے، فیصلے لینے میں بھی اسے کچھ قدر آزادی ہوتی ہے،جبکہ معاونین کے اختیارات محدود اور مشروط ہیں، معاون سندہ کے اقتدار کے الگ الگ قائم شدہ مراکز کو جوابدہ ہوتے ہیں، سندہ حکومت کے اقتدار کے ایک ہی وقت تین مراکزکراچی، نوابشاہ اور دبئی ہیں۔سندہ میں پہلے مقرر کیے گئے 17 معاونین اور باقی بچے 9 معاونین بھی ان تینوں مراکز کو الگ الگ جوابدہ بہی ہیں تو حساب کتاب دینے کے پابند بھی،یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کو صوبائی حکومت اور انتظامی مشینری معاونین کے ذریعے ہی چلانی ہے تو پھر جمھہوریت، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کی حکمرانی کے بلند و بانگ نعرے اور دعوے تو بند ہی کردے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 34 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar