انگریز کی گڈ گورننس


\"\"

سنا ہے انگریز کا دور بہت اچھا تھا۔
جتنے کام انگریز نے سو سال میں کئے اتنا تمام مغل بادشاہ مل کر بھی نہ کر سکے۔ کلکتہ سے پشاور تک پٹری بچھائی، ریلوے اسٹیشن قائم کئے جنکشن بنائے، لاہور کا پُرشکوہ ریلوے اسٹیشن اسی دور کی یادگار ہے، یہ ایسا نظام تھا جو اُس زمانے میں کسی عجوبے سے کم نہیں تھا، چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں ہمیں جو اسٹیشن نظر آتے ہیں وہاں کانٹا بدلنے سے لے کر ریل گاڑی کا ہر ڈبہ کھنگالنے تک، ایسا جامع اور مکمل نظام انگریز بہادر دے گیا جس کے ثمرات ہم آج بھی سمیٹ رہے ہیں۔ اسی طرح ڈاک کا نظام بھی انگریز کا ہی عطا کردہ ہے، پیغام رسانی کے اسی نظام کی بدولت انگریز نے 1857کی جنگ آزادی کو کچل کر رکھ دیا تھا۔ آب پاشی کا نظام بھی انگریز کا تحفہ ہے، پنجاب آج بھی اسی نظام سے مستفید ہو رہا ہے۔ بیوروکریسی جسے کچھ لوگ ایک لعنت سمجھتے ہیں انگریز ہی کی ایجاد ہے اور ہمیں اچھا لگے یا برا اس نظام کی وجہ سے ہی ملک میں انتظامی وحدت قائم ہے، ڈپٹی کمشنر کو انگریز نے ضلع کا حاکم بنایا تھا اور ایس پی کو اس کا ماتحت، پورے ضلع میں امن و امان قائم رکھنا ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری ہوتی تھی اور وہ ایسا امن قائم رکھتا کہ لوگ سونا اچھالتے گزر جاتے اور کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا۔ انگریز نے ہی پہلی مرتبہ باقاعدہ قانون ہمیں بنا کر دیا، انڈین پینل کوڈ، اور پھر اسے نافذ کرکے انصاف کو یقینی بنایا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی بڑے بوڑھوں سے ہم یہ سنتے ہیں کہ انگریز کے زمانے میں انصاف ملتا تھا۔ گویا ایک پورا سسٹم ہمیں انگریز نے بنا کر دیا جس میں درختوں کو شمار کرنے سے لے کر ہر سرکاری حکم نامے کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا قاعدہ تھا، یہ اور بات ہے کہ اُس نے یہ کام اپنی حاکمیت برقرار رکھنے کے لیے کئے، انصاف وہ ضرور کرتا تھا مگر اُس صورت میں جب رعایا میں سے کوئی آپس میں لڑتا تھا وگرنہ 1919تک تو کوئی ہندوستانی کسی انگریز کے خلاف مدعی نہیں بن سکتا تھا اور کوئی کالا مجسٹریٹ کسی گورے کو عدالت میں طلب کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ لیکن ’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے‘‘ اصل حقیقت تو بہرحال اپنی جگہ قائم ہے کہ انگریز نے ایک پرفیکٹ سسٹم ہم جاہل ہندوستانیوں کو بنا کر دیا، ورنہ شاید آج ہم مزید ہزار برس پیچھے ہوتے۔ اس ماڈل میں کوئی مریض اسپتال کے ٹھنڈے فرش پر تڑپ کر جان دیتا تھا اور نہ کسی کو انصاف کے حصول کے لئے مارا مارا پھرنا پڑتا تھا، تھانوں میں بدمعاشی کا رواج تھا اور نہ بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت، دفتروں میں فائلوں کو پہیہ لگانا پڑتا تھا اور نہ کسی جائز کام کے لئے در بدر کے دھکے کھانے پڑتے تھے، سرکاری دفاتر میں سوئی سے لے کر جہاز تک کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا اور ہر بات کے قواعد اور ضوابط موجود تھے جن پر عمل بھی کیا جاتا تھا۔ ایسا بھی نہیں ہوا کہ ریل کی پٹری (اس زمانے کی اورنج ٹرین کہہ لیں) بچھانے کے چکر میں انگریز باقی کام بھول گئے ہوں یا تمام پیسہ کسی ایک پروجیکٹ پر خرچ کر دیا گیا ہو، اکیلے لاہور شہر میں انگریزوں نے گورنمنٹ کالج، لاہور میوزیم، جی پی او، نیشنل کالج آف آرٹس، منٹگمری ہال، پنجاب اسمبلی، لاہور ہائی کورٹ، سینٹ اینتھونی کالج اور نہ جانے کیا کچھ قائم کیا، باقی پورے ہندوستان میں سو سال میں کیا بنا، اس کا اندازہ لاہور کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ گورننس کے ایسے پرفیکٹ ماڈل میں کیا خرابی پیدا ہو گئی کہ ہم نے انگریز سے نجات کی جنگ شروع کر دی؟
اس سوال کا جواب خاصا دلچسپ ہے۔ بظاہر انگریز کے دیئے گئے اُس نظام میں اُن تمام مسائل کا حل موجود تھا جن کے بارے میں ہم آج کڑھتے ہیں، یوں کہہ لیجئے کہ آج اگر انگریز کا راج یہاں ہوتا تو لگ بھگ برطانیہ والا سسٹم پاکستان میں بھی رائج کر دیتا جس میں سوشل ویلفیئر سٹیٹ کی وہ تمام خصوصیات ہوتیں جن کے لئے عوام ترستے ہیں، صحت اور تعلیم کے بجٹ نہ صرف مناسب ہوتے بلکہ صحیح جگہ خرچ بھی کئے جاتے، لوگوں کو علاج معالجے کی باوقار سہولت میسر ہوتی، تھانوں میں بدمعاش ایس ایچ او کی جگہ پڑھے لکھے صاف ستھرے نوجوان تعینات ہوتے، بیوروکریسی کا تمام ڈھانچہ اصول و قواعد کے مطابق ہوتا، پورے ملک میں امن و امان ہوتا، قانون کی بالادستی ہوتی۔ ظاہر ہے کہ انگریز کا سو سال کا ٹریک ریکارڈ دیکھ کر یہ باتیں یقین کے ساتھ کی جا سکتی ہیں کہ وہ ایسے ہی ’’ڈیلیور‘‘ کرتا۔ سو اگر ایسا ہی تھا تو پھر ہمیں مسئلہ کیا تھا، انگریز یا اس کے نظام سے ہمارا جھگڑا کیا تھا، ہمیں گورننس کا وہ مثالی ماڈل منظور کیوں نہیں تھا؟ مسئلہ بے حد سادہ تھا۔ انگریز کے دور میں ہم رعایا تھے اور وہ حاکم، اب ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں جس میں آئین کے مطابق تمام شہریوں کو مساوی حقوق میسر ہیں، ایسا کوئی قانون نہیں کہ کالا مجسٹریٹ گورے کو عدالت میں طلب نہیں کر سکتا۔ بے شمار جگتیں اور فقرے بازی یہاں کی جا سکتی ہے، مثلا ً یہ کہ جسے ہم آزادی سمجھتے ہیں وہ دراصل اب بھی غلامی ہے جس کی شکل بدل گئی ہے، پہلے ہمارے حاکم انگریز تھے اب نئی اشرافیہ ہے وغیرہ وغیرہ، مگر ظاہر ہے کہ اس جملے بازی کو فقط انجوائے کیا جا سکتا ہے، جواب کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جدید ریاست میں شہریوں کو صرف گورننس کا مثالی ماڈل ہی نہیں چاہئے ہوتا بلکہ اُن کی زندگی کی ترجیحات کچھ اور ہوتی ہیں، اگر ہندوستانیوں کی اول و آخر ترجیح گڈ گورننس ہوتی تو پھر انگریز سے اچھی گورننس کوئی نہیں دے سکتا تھا اس کے باوجود اس سے آزادی حاصل کرتے ہی بنی۔سو مثالی طرز حکمرانی اور اس کے نتیجے میں شہریوں کو حاصل ہونے والی سہولیات انسانوں کی ترجیح ضرور ہوتی ہیں مگر اس سے بھی بڑھ کر اُن کی ترجیح آزادی اور جمہوریت میں اپنی مرضی کے حکمران منتخب کرکے ریاست کے معاملات چلانے میں اپنا آئینی حق حاصل کرنا ہوتا ہے، یہ وہ بات تھی جس سے ہندوستانی انگریز کے دور میں محروم تھے۔ آج جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اِس بیمار اور لاغر جمہوریت کو نکال باہر کرنا چاہئے کہ بری طرز حکمرانی کی نحوست اسی کی وجہ سے ہے تو یہ دلیل دینے والے بھول جاتے ہیں انسانوں نے یہ بات کئی سو سال پہلے طے کر لی تھی کہ جمہوریت چاہے لاغر ہو یا بیمار اسے اٹھا کر باہر پھینکنا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ انسانوں کی ترجیح جمہوریت ہے، طرز حکمرانی پر تنقید اس کے بعد آتی ہے۔طرز حکمرانی پر تنقید جمہوریت میں ہی کی جا سکتی ہے اور یہ کہاں تک جائز ہے، یہ بات پھر کبھی !

(بشکریہ جنگ نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 123 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada