ہمیں محبت سے ڈر لگتا ہے۔۔۔


 

umar farooqویلنٹائن ڈے منانے پر حکومت کی طرف سے لگائی جانے والی پابندی پر حیرانی نہیں ہوئی اور وہ اس لیے کہ اس ملک میں جاری نفرتوں اور دہشت کے کاروبار کے پھلنے پھولنے کی وجہ ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے ایسے رویے ہی ہیں جو کہ اس کاروبار اور اس کے کرنے والوں کے لیے دلوں میں نرم گوشہ اور محبت بھرے جذبات رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہر طبقے اور شعبہ ہائے زندگی میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ جن کی باتوں، عمل اور کردار سے انہیں بخوبی جانا اور پہچانا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا ہو یا ٹی وی چینلز، اخبارات ہوں یا ہماری روز مرہ کی محفلیں ہر جگہ بس ایک ہی رونا رویا جا رہا ہے کہ یہ ویلنٹائن ڈے منانا حرام ہے اور یہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے تاکہ مسلمان نوجوانوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بے حیائی کی طرف راغب کر کے اپنے مذہب سے دور کر دیا جائے۔ ایسے ایسے عجیب تبصرے اس حوالے سے دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ ان کا تذکرہ کرنا بھی مشکل ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے پاکستانی عوام باقی تمام مسائل سے چھٹکارا حاصل کر چکے ہیں اور اب صرف یہی ایک اہم مسئلہ باقی بچا ہے کہ جس کو حل کرنا بہت ضروری ہے۔ یا باقی تمام مسائل کی وجہ صرف ویلنٹائن ڈے منانا ہے اور اگر اس پر پابندی لگا دی جائے تو شاید باقی تمام مسئلے خود بخود حل ہو جائیں گے۔

جہاں نفرت انگیز تحریر و تقریر کے ذریعے معاشرے کی خوبصورت شکل کو بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہو، جہاں انتہا پسندی کے ذریعے اختلاف رائے کو دشمنی، غداری اور کفر قرار دے دیا جائے، جہاں ستر ہزار سے زائد معصوم لوگ دہشت کے کاروبار کی بھینٹ چڑھا دیے گئے ہوں، جہاں زندہ جلائے جانے، چند ماہ کی بیٹی کے درندگی کی نذر ہونے، کئی سو بچوں کو ہوس کا نشانہ بنانے، مرنے مارنے اور مروانے کی خبریں غمگین میوزک کے ساتھ ہر روز کے خبرناموں کی زینت بن رہی ہوں تو وہاں ایک دن محبت کا منانے میں برا ہی کیا ہے۔

ایک ہوتی ہے انسانیت کہ جس میں بغیر کسی تمیزِ رنگ، نسل، مذہب، عقیدہ، ذات یا برادری کے صرف انسانوں سے محبت کی جاتی ہے۔ انسانیت ہی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ کسی بھی فرد یا گروہ کے کسی بھی اچھے عمل کو نا صرف اچھا سمجھا جاتا ہے بلکہ اس اچھے عمل یا روایت کو اپنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ اچھا عمل، بات یا روایت چاہے مغرب کی ہو یا مشرق کی اس کو اپنانے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب آپ انسانیت کی قدروں سے واقفیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی اچھے کام سے خدا واسطے کا بیر رکھ لینا کوئی اچھی بات نہیں لیکن ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ہم نے ایسا ہی رویہ اپنا رکھا ہے کہ جیسے ساری اچھائیاں صرف مشرق ہی سے سامنے آتی ہیں اور ساری کی ساری خرابیاں مغرب کی پیداوار ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں کچھ اس طرح کا تصور پایا جا تا ہے کہ مغرب میں کچھ اچھا بھی ہو رہا ہو تو وہ اچھا نہیں ہوتا اور اسے اپنایا نہیں جا سکتا جبکہ مشرق میں ہونے والا عمل اچھا ہوتا ہے چاہے وہ معاشرتی اعتبار سے برا ہی کیوں نہ ہو(یہاں مشرق سے مراد اسلامی اور مغرب سے مراد غیر اسلامی معاشرے ہیں)۔ جبکہ انسانیت کی قدریں اس سے با لکل مختلف ہیں اور وہ ہر اچھائی چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، رنگ، نسل، جنس، زبان، عقیدے اور فکر سے ہو کو اچھا ہی سمجھا اور مانا جاتا ہے اور برائی کو چاہے وہ بھی کسی بھی طبقے، گروہ، مذہب و مسلک سے تعلق رکھتی ہو، کو برا ہی سمجھا جائے گا۔

ہم نے تو سنا، پڑھا اور دیکھا ہے کہ حکومت، یعنی تمام سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک نیسنل ایکشن پلان بنایا تھا اور اس میں یہ تہیہ کیا گیا تھا کہ اس ملک سے نفرتوں کے بیوپاریوں کا خاتمہ ہوگا۔ لیکن وہ تو اب بھی کھلے عام اپنے بیوپار میں مصروف ہیں۔ نفرتوں کے سوداگر تو اب بھی دندناتے پھرتے ہیں اور کھلے عام یہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمت ہے تو آؤ ہمیں روک لو۔ یقین نہیں آتا تو دیکھ لو سوشل میڈیا پر ایک قاتل کی تصویر کو اپنی پروفائل پکچر بنائے بہت سارے نظر آئیں گے۔ دیکھ لو اٹھا کے اخبار کہ لاہور کے مال روڈ پر ہزاروں لوگ کس کے حق میں ریلی نکال رہے تھے۔ دیکھ لو روزانہ کے ٹاک شوز۔ دیکھ لو روزانہ کے اخبارات کی خبریں اور انہی اخبارات میں لکھے گئے کالم۔ یہاں تونفرتوں کی بجائے محبتوں پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمیں انتہا پسندی، دہشتگردی اور نفرتوں سے نہیں بلکہ محبت سے ڈر لگتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments