ایک پاکیزہ، گھریلو مکالمہ


سلام\"\"

وعلیکم السلام

آپ کو کافی ٹائم سے فالو کر رہی ہوں

بہت عنایت

آپ کیا کرتے ہیں؟

ملازمت پیشہ بندہ ہوں ۔اسلام آباد میں پایا جاتا ہوں ۔

کبھی محبت کی؟

محبتیں کی ہیں، تعداد نہ پوچھ لیجیئے گا، گنتی کا وقت نہیں ہے۔ نادرا سے کروانی پڑ جائے گی۔

پھر شادی ہوئی کسی محبت سے۔؟

اتنی تو عقل بچا لایا ہوں کہ جس سے محبت ہوجائے اس سے شادی نہیں کرتا

محبت ایک بار ہوتی ہے۔؟

بار بار ہوتی ہے۔

تو یعنی آپ دوسری محبت پہ یقین رکھتے ہیں۔

دوسری کا کسی اور سے پوچھئیے۔ میں تو اب اگر کوئی یقین رکھوں گا تو یہ کم وبیش ایک سو گیارہواں یقین ہوگا۔

ویسے میرا خیال بھی یہی ہے۔

واہ۔ ہمارے خیالات کتنے سیم ہیں نا؟

ہاں رئیلی۔! جب آپ کو پڑھتی ہوں لگتا ہے میں ہی لکھ رہی ہوں۔

واہ۔ یعنی کہ تیرا غم میرا غم ایک جیسا صنم؟

جی جی۔ ویسے آپ کا مجھے صنم کہنا اچھا لگا۔

جی مجھے کہتے ہوئے بھی بہت اچھا لگا۔

آئی ایم سو ہیپی۔

آئی ایم دو سو ہیپی۔۔۔

ایک پرسنل سوال پوچھوں؟

ارشاد ۔۔۔ارشاد۔۔۔!! سوال نہیں، سوالات پوچھیئے

آپ میریڈ ہیں؟

جی ہوں۔

میں بھی میریڈ ہوں ۔چار بچے ہیں۔

گڈ ہوگیا۔ شوہرِ نامدار کیا کرتے ہیں؟

ڈاکٹر ہیں۔

اچھا۔

ایک بات بتائیں

جی

اگر انسان کو محبت ہوجائے کسی سے، تو اس میں انسان کا قصور ہوتا ہے کیا؟

نہیں نہیں بالکل بھی نہیں۔

اگر محبت ہوجائے، تو اس کا اظہار کر دینا چاہیئے؟

جی جی کیوں نہیں۔ ہر صورت کردینا چاہیئے ورنہ دل پہ ورم آ جاتا ہے۔

میں مذاق نہیں کر رہی؟

میں بھی نہایت سنجیدہ ہوں اس وقت۔

تو اظہار کر دینا چاہیئے؟

بالکل کردینا چاہیئے۔ پیار ہوتا ہی اسی لئے ہے۔

سیریسلی؟

ہاں ہاں، جو اظہار نہ کرے اسے شہید کردینا چاہیئے (میرے سوا)

مم مم ۔۔۔

ایک بات کہنی تھی

جی بولیں

بول دوں؟

جی جی بول دیں۔ (بول بھی دے ظالم کیوں سولی پہ لٹکایا ہوا ہے)

ناراض تو نہیں ہوں گے؟

نہیں نہیں بالکل بھی نہیں۔ (جرمن شیفرڈ نے ہی کاٹا ہوگا جو ناراض ہوں ؂گا۔ ہاں نہیں تو)

مجھے نہیں پتہ یہ سب کیوں ہوا اور کب ہوا۔ لیکن۔۔!!

مطلب، میں سمجھا نہیں۔کیا ہوا ؟ (کیوں بات لمبی کر رہی ہے یار)

پلیز برا مت منایئے گا

ارے آپ بولیں۔ برا منانے کی کیا بات (کون کافر برا منائے گا یار)۔

میں آپ کے پیار میں مبتلا ہوچکی ہوں۔

ہم مم مم۔۔۔

پلیز مجھے غلط مت سمجھنا۔ میرا صبر جواب دے گیا۔۔۔!!

ارے نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔

بس جو دل میں تھا کہہ دیا۔

اچھا کیا۔

سچ؟

ہاں

مجھے یقین نہیں آرہا

آ تو مجھے بھی نہیں رہا۔

وہ کیوں۔؟

کیونکہ میں خود عرصے سے تمہارے عشق میں مبتلا تھا۔

ہیں۔؟؟؟ رئیلی؟

ہاں قسم سے۔ لیکن کبھی اظہار نہیں کیا۔

اوہ مائی گاڈ۔۔۔

میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ میری محبت خود میرے پاس چلی آئی۔

واؤ ۔۔۔ امیزنگ یار۔ مطلب اسے کہتے ہیں پیار۔

بالکل درست کہا۔

تھینکس گاڈ۔

ویسے اس پیار کا انجام کیا ہوگا؟

شادی۔

لیکن تم چار بچوں کی ماں ہو۔

تو کیا ہوا۔

کیا کروگی؟

خلع لے لوں گی۔

ہینڈ سم پڑھا لکھا باشعور شوہر ہے، کیوں نباہ نہیں کیا؟

اس سے میری شادی زبردستی ہوئی ہے۔

میرے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہوگیا۔ مجھے تو جیسے آپ کی تلاش تھی

اور مجھے آپ کی۔

اچھا، گھر والوں کو کیا جواب دو گی؟

گھر والوں کو جواب دینے کی کیا ضرورت ہے؟

کیا مطلب؟

انہیں کبھی میری پرواہ نہیں رہی۔

تو؟

جب انہیں پرواہ نہیں، تو میں کیوں پرواہ کروں۔ مجھے تو انہوں اللہ کے حوالے کر رکھا ہے

مگر تمہارے اماں ابا نے اتنے احسانات کئے تم پر شادی سے پہلے۔

کیا کئے؟

پڑھا لکھا کر بڑا کیا۔ پالا پوسا۔

یہ تو انہوں نے اپنا فرض نبھایا۔ کون اپنی اولاد کو نہیں پڑھاتا۔

لیکن احسان تو ہے نا؟

کوئی نہیں، صرف مجبوری میں پالنا نہیں ہوتا بلکہ اپنائیت کا بے پناہ احساس بھی دینا ہوتا ہے۔

تو انہوں نے کیا ظلم کر دیا تمہارے ساتھ؟

بس کیا بتاؤں۔ میں ٹی وی ریموٹ کو ہاتھ نہیں لگا سکتی تھی۔ مووی ڈرامے دوست کے ہاں دیکھتی۔ اپنے سارے دکھ درد ایک دوسری سہیلی کے پاس لے کر جاتی۔ ہر سوال کا جواب باہر جا کر ڈھونڈنا پڑتا۔ بس چھوڑیں نا ۔۔۔کیا کیا بتاؤں۔

اچھا چھوڑ دیا۔

کس کو؟

بات کو

ہائے اللہ میں ڈر گئی کہ مجھے چھوڑ دیا

ارے ؟ یہ سوچ بھی کیسے لیا؟

اچھا سوری

محبت میں نوتھینکس، نو سوری

ہاؤ سویٹ

اچھا سنو

جی سن رہی ہوں

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تم گھر والوں کی پرواہ کئے بغیر شادی کر لو گی؟

اور کیا؟

اور شوہر؟

شوہر اپنی ان چنیوں منیوں کے ساتھ خوش رہے، جن سے لگا رہتا ہے۔

یہ بھی ٹھیک ہے۔

ویسے آپ کرلیں گے شادی؟

ہاں کیوں نہیں۔

آپ تو کہہ رہے تھے محبت سے شادی نہیں کرتا

ہاہا وہ تو بس ڈائیلاگ تھا یار

اچھا، بیگم کو کیا کہو گے؟

بیگم عورت ذات ہے، وہ کس شمار قطار میں آتی ہے۔

پوچھے گی نہیں؟

پوچھنے کا اختیار کس نے دیا۔؟ پوچھتی پھرے۔

اچھا وہ نوروز اور فاطمہ والا سین دیکھا؟

ہاں

so sad تھا نا؟

ہاں یار مجھے بہت دکھ ہوا۔

مجھے تو رات بھر نیند نہیں آئی۔

ویسے تمہیں کیا لگتا ہے ایسا کیوں ہوا؟

یہ انڈین موویز کی وجہ سے

مم مم۔۔۔

آپ کو کیا لگتا ہے؟

مخلوط نظام تعلیم کی وجہ سے۔

ہے نا؟

ہاں نا۔!!

اور کیا

یہی تو

بس اللہ ہدایت دے۔

آمین

لوگ والدین کو دوش دے رہے ہیں۔ دیکھو ذرا

ان کا دماغ چل گیا ہے۔ والدین اور کیا کریں ان پاکھنڈیوں کی خاطر۔۔۔

ہاں نا۔

اور نہیں تو کیا

لوگ دین سے دور ہوگئے.

بالکل۔

یہ بھی بھول گئے کہ والدین کے آگے اف تک نہیں کرنا چاہیے۔

سولہ آنے درست بات کہی یار.

افسوس ہوتا ہے لوگوں کی عقلوں پہ

مجھے بھی۔

بہت منافق معاشرہ ہے ویسے یہ۔

بہت زیادہ۔۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ایک پاکیزہ، گھریلو مکالمہ

  • 09-02-2017 at 6:04 pm
    Permalink

    ہم سب پر کبھی کبھی اچھی تحریریں بھی چھپ جاتی ہیں۔۔۔ سیلیوٹ۔

Comments are closed.