گنہ کلاں ۔۔۔۔ جاٹ فقیر کب ہوتا ہے؟


\"\" سیالکوٹ کی خوبصورت داستان کے بعد ٹرین چونڈہ کا رخ کرتی ہے۔ راستے میں دو گمنام سے اسٹیشن ہیں۔ گنہ کلاں اور الہڑ۔ سفید چونے کی عمارت، لائن کے اطراف کھیلتے بچے، دور کھیت اور کہیں کہیں کھمبے، ایک نظر ڈالنے سے لگتا ہے کہ پلیٹ فارم کی طرح گنہ کا دامن بھی تاریخ سے خالی ہے۔ ٹرین یہاں سے کبھی کبھار گزرتی ہے اور رکنے سے تو بالکل ہی گریزاں ہے۔ ریل کی پٹڑی پہ ایک خط پڑا ملا۔ آزادی کے فورا بعد کا یہ خط کسی طالب حسین باجوہ نے اپنے دوست گرودیال سنگھ باجوہ کو لکھا ہے ۔ بسم اللہ کے بھی اوپر لکھا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں سلامت رہیں۔ اس کے بعد اس بات کا شکر ادا کیا گیا ہے کہ اس کا دوست گرودیال بخیر و عافیت ہندوستان پہنچ کر اپنے نئے گھر میں آباد ہو گیا ہے۔ خط کا متن جتنا معمولی ہے تحریر کے پیچھے چھپے جذبے اتنے ہی غیر معمولی ہیں۔ طالب حسین نے اپنے دوست کو آگاہ کیا ہے کہ اس کی حویلی بالکل محفوظ ہے اور وہاں آ کر آباد ہونے والے سید لوگ اس کو احتیاط سے برت رہے ہیں۔ سامان کی بابت بھی بتایا ہے کہ اسے ان تمام مہاجرین میں تقسیم کر دیا گیا ہے جو گورداس پور اور پٹیالہ سے آئے ہیں۔ کنویں اور کھتریوں کی دوکانوں کا احوال بھی ہے۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ اب گاﺅں ویسا گاﺅں نہیں رہا اور وہ دعا گو ہے کہ دونوں ملک اب سمجھوتہ کر لیں تا کہ حالات پھر سے معمول کی سطح پر آ جائیں۔ اس کے بعد گرودیال کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ آپ دلیر بنیں۔ اگر اللہ اور واہگورو نے چاہا تو وقت ضرور بدلے گا۔ آخر میں ایک طویل فہرست ہے جو اس طرف کے لوگ سلام کی مد میں اس طرف کے لوگوں کو بھجوا رہے ہیں۔ ایک کونے میں تعلیم کو جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

ڈھلتی ہوئی شام میں اس خط کے الفاظ کب اڑے اور کہیں سے کچھ اور ورق لے آئے، ٹھیک سے یاد نہیں۔ کینیڈا سے کسی نے اگست 1967 کی سترہ تاریخ لفظوں میں باندھ کے بھیجی تھی۔ یہ بلکار سنگھ کی ہجرت کی کہانی تھی۔ میں تحریر پڑھتا جا رہا تھا اور گنہ کلاں میرے \"\"سامنے رنگ بدلتا جا رہا تھا۔ کھیتوں کی ہریالی، بستی کے نیلے رنگ کے پلاسٹک کی ٹینکیاں اور اسٹیشن کے کونے میں پڑا ہوا خاکستری
ڈرم، سب کا سب سفید اور سیاہ ہو گیا۔ جنگ عظیم دوم کے آنریری کیپٹن ساون سنگھ باجوہ اپنے بیٹوں گرودیال ، بلکار اور پرم جیت کے ساتھ سامان لاد کر چلنے کی تیاری کر رہے تھے۔ سکھ جاٹ، بچوں کی طرح پالے ہوئے جانوروں کو آزاد کرتے جاتے تھے اور روتے جا تے تھے۔ جانور بھی کئی دن سے بھوکے تھے مگر آنگن چھوڑنے سے انکاری تھے۔ اس سال گرمیوں میں بہت کچھ نیا تھا جو پہلی بار ہوا تھا۔۔۔اور شاید آخری بار۔ گاﺅں کا سب سے پرانا پیڑ جس کے نیچے سارے سکھ اور مسلمان باجوے بیٹھ کے باتیں کرتے تھے، اس بار لو چلنے پہ بالکل اکیلا تھا۔ بچے نے باپ سے پوچھا کہ جاٹ فقیر کب ہوتا ہے۔۔۔بابا بولے، جاٹ ساون میں فقیر ہو جاتا ہے۔۔۔مگر سن 47 میں یہ ساون اگست کے مہینے میں آیا تھا۔

سیالکوٹ سے اٹھنے والے شعلے ساون سنگھ کے مکان سے صاف نظر آتے تھے کیونکہ یہ گنہ کلاں کا ممٹی والا پہلا گھر تھا۔ ساون سنگھ نے گاﺅں واپس آنے اور ہمیشہ ہمیشہ یہاں رہنے کے خیال سے اس گھر کو تعمیر کیا تھا۔ لال قلعے پہ ترنگا لہرا چکا تھا اور منٹو پارک میں سبز ہلالی پرچم، مگر لاہور اور دلی سے دور ان چھوٹے چھوٹے قصبوں کے لوگ ابھی تک اس تقسیم کے لئے تیار نہیں تھے۔ بارشوں کی \"\"
کثرت سے باسمتی مونجی بھی مرجھا رہی تھی ۔ مونجی اچھی ہوتی بھی تو کاٹتا کون۔ اس سال ویسے بھی لوہاروں نے درانتی اور رنبے بنانے کی بجائے گنڈاسے اور بلم بنائے تھے۔ بھیگتی مسوں والے لڑکوں سے سفید داڑھیوں والے مردوں تک ہر شخص ہتھیار باندھ کر پھر رہا تھا اور سپاہی کے کاندھے سے ذیلدار کی گھوڑی تک ہر جگہ بندوقیں اور کارتوس لٹک رہے تھے۔ بری خبریں بڑھیں تو گنہ کلاں میں ٹھیکری پہرے شروع ہو گئے۔ پہلے پہل سکھوں نے ساتھ کے گاﺅں بھروکے جانے کا ارادہ بنایا ۔ پھر دونوں طرف کے بڑے بوڑھوں نے کمیٹی بنائی جو فساد کی آگ سے گنہ کلاں کو بچا لے اور آخر کار ایک دن گاﺅں کے مسلمانوں نے اپنے باجوہ بھائیوں کو اکٹھا کیا اور اپنی مجبوری بیان کر دی۔ ” بلوائی اب جتھوں کی صورت آس پاس کے گاﺅں پہ حملہ کر رہے ہیں“ ، مولوی صاحب بولے، ”بچاﺅ اب مشکل ہوتا جا رہا ہے، آپ جی کوئی کارا کر لیں“۔ آخری فقرے کے ساتھ ہی غنی کے چاچا جی رو پڑے۔

آنریری کیپٹن ساون سنگھ نے کاشن بولا اور گرودوارے میں سب کو اکٹھا کر کے صلاح کی۔ اگلے دن حوالدار پورن سنگھ کے ساتھ ساون سنگھ سیالکوٹ چھاﺅنی سے ٹرک لے کر آیا، گاﺅں تک آنے والے راستے پہ مسلسل بارشوں کی وجہ سے بہت کیچڑ تھا سو لوگ رات کی رات میں بڑی سڑک تک پہنچے۔ عورتیں سامان کو اور مرد زمین کو رو رہے تھے۔ بادلوں کے سبب دن میں بھی اندھیرا تھا۔ خدا خدا کر کے دن ڈھلا اور ٹرک چلا۔ مسافت تو چھ میل کی تھی مگر صاف معلوم پڑتا تھا کہ یہ سفر واپسی کا نہیں ہو گا۔ کیمپ میں نئی کہانیاں تھیں، نئی باتیں اور نئے اندیشے۔ کوئی کہتا تھا کہ گاڑی جونہی شہر سے نکلے گی لوگ لوٹ لیں گے اور کوئی کیمپ میں موت دکھاتا تھا۔ ایک ریڈیو، آکاش وانی کی سماچار میں باپو کے \"\"شرنارتھیوں سے ملنے کا قصہ بتا رہا تھا اور دوسرا ریڈیو قائداعظم کی مہاجرین کی مدد کی اپیل سنا رہا تھا۔ ساون سنگھ نے دو براعظموں پہ جنگ دیکھی تھی، محاذ پہ لاشیں اٹھاتے وقت اور جنرل صاحب سے برما سٹار لیتے وقت اس نے غمی اور خوشی پہ قابو پانا سیکھ لیا تھا۔ مگر نہرو، گاندھی، جناح اور ماسٹر تارا سنگھ کی اس جنگ نے اس کے اعصاب کو بھی چٹخا دیا تھا۔ کیمپ میں رہ کر موت کا انتظار تھا یا کیمپ سے نکل کر موت سے ملاقات ۔ مجبور کا فیصلہ بھی مجبوری ہی ہوتا ہے سو سفر کی تیاری شروع ہوئی۔

ریل چلی تو لوگوں کی دبی دبی سسکیاں بھی چلنا شروع ہو گئیں۔ واپسی کے راستے پہ گنہ کلاں کے اسٹیشن سے گاڑی گزری تو سب سرداروں نے منہ دوسری طرف کر لئے اور سب عورتوں نے پلو منہ میں چھپا لئے، گویا کسی کو آخری بار دیکھ رہے ہوں۔ جو بچے اس وقت سہمے بیٹھے تھے وہ اب گاﺅں کو یاد کر کے روتے ہیں۔ انجن کی ہر شوکاٹ کوئی آرا تھا جو مسافروں کے وجود کو رگیدتا چلا جا رہا تھا۔ بارش کے بعد گاﺅں دھل کر اور بھی نکھر گیا تھا۔ ٹرین کو جھنڈی دکھانے والا بارو عیسائی تھا۔ گاڑی کے اندر سب اس کے یار بیلی تھے مگر آج کوئی اسے ملنے نیچے نہ اترا تھا۔ گاﺅں کے باہر طالب حسین ہمیشہ سکول جانے کے لئے باجوے بھائیوں کا انتظار کرتا تھا، جب تک سب پورے نہ ہو جاتے وہ ٹھٹھے مذاق سے سب کا دل بہلاتا ۔ طالب آج بھی اپنی مخصوص جگہ پہ کھڑا تھا مگر چپ چاپ اور اداس۔۔۔خدا حافظ کہنے آیا تھا مگر ہاتھ ہلانے کا حوصلہ نہیں کر پایا۔\"\"

کھڑکی کے چوکھٹے سے گرودوارہ بابے دی بیری، خالصہ سکول، مرے کالج اور کانگڑہ پارک ایک ایک کر کے گزر گئے۔ اب نہ بابے کی بیری میں چوداں چیت کا میلہ ہو گا نہ کانگڑہ پارک میں سکھ نوجوانوں کے زور۔ کوئی وقت تھا کہ لوگ آدھی رات کو تاروں کی روشنی میں یہ میلہ اور یہ زور دیکھنے چل پڑتے تھے۔ اب شائد ایسا ممکن نہیں۔ پتہ نہیں وہ آزادی تھی یا یہ آزادی ہے۔ الہڑ، قلعہ سوبھا سنگھ کے بعد نارووال پہنچ کر گاڑی رک گئی۔ گارڈ نے آگے جانے سے انکار کیا تو کسی نے گارڈ کے سر پہ پستول دھری اور موت کی دھمکی دی جو اثر کر گئی۔ جسڑ سے آگے دوہرا پل تھا اور پل پار کرتے ہی ہندوستان ۔ ڈیرہ بابا نانک کے پاس گاڑی رک گئی۔ اترتے ہی کسی نے کہا گرودوارے چلے چلو وہاں لنگر ہے۔ پیدل چلنے ، جوھڑوں کا پانی پینے اور راستے میں گری لاشوں کو دےکھنے کے بعد گرودوارے پہنچے۔ کےپٹن ساون سنگھ نے پھر آواز لگائی، اب تم آزاد ہو، پورے کے پورے آزاد۔ آزاد ہندوستان میں ہو تمہارا کوئی گھر ، جگہ، تھاﺅں ٹھکانہ نہیں رہا۔ سب لوٹا گیا ہے، سب مصیبتوں سے جان چھوٹ گئی ہے۔ اب آزادی مناﺅ۔ اس کے ساتھ ہی کیپٹن ساون سنگھ باجوہ، سردار بہادر، آرڈر آف برٹش ایمپائر کی وہ آواز، جس پہ پوری پلٹن اپنے قدموں میں جم جاتی تھی، رندھ گئی اور ہاتھ خودبخود چہرے پہ چھا گئے۔

بھرے پرے گھروں سے تین کپڑوں میں نکلنے والوں کو یہ دن بھولتا ہی نہیں۔ آج کینیڈا میں آباد ان باجووں کے گھروں میں جونہی گھڑی پہر \"\"بجاتی ہے اور عورتیں چولہا سنبھالتی ہیں، اگست کی سترہ تاریخ کا وہ چولہا جو جلنا تھا اور نہیں جل سکا ، ان کے سامنے آ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ گنہ کو دوبارہ دےکھنے کی حسرت دل میں لئے دنیا سے چلے گئے۔
مٹی کی محبت، محبت ہے کہ ہوس۔۔کیا انسان کا زمین سے رشتہ اس بنیاد پہ ہے کہ یہ اسے اناج دیتی ہے یا آگ برساتے سورج، مینہ چھڑکاتے بادل، پورے چاند اور اندھی دھند میں اکٹھے گزارا ہوا وقت آدمی کو زمین سے باندھ دیتا ہے۔۔سمجھ نہیں آتا اس کا جواب کس سے طلب کروں ۔ ملا، پنڈت اور گیانی سے جو زمین کو کبھی مذہب کے حق میں اور کبھی مذہب کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ ساہوکار، آڑھتی اور کسان سے ، جو زمین سے نفع اور نقصان کا جوڑ جوڑتے ہیں یا بندھے ہوئے بیل، خوش باش کھلیان کھیلتے بچوں اور گئی عمر کے بوڑھوں سے جو اٹھتے بیٹھتے زمین کی محبت میں نہال ہوتے ہیں۔۔۔

ایک اور خط نواحی گاﺅں ندوکے کے مستری برکت نے لکھا ہے۔ شکستہ تحریر میں پینسٹھ برس گزر جانے کے باوجود لکھنے والے کا کرب صاف محسوس ہوتا ہے۔ خط کے اوپر ۶۸۷ لکھا ہے اور سلام کے بعد تمام رشتے داروں کے حال پوچھے گئے ہیں، نمبردار فوجا سنگھ کے سورگباش ہونے کا ملال اور ندوکے سے جانے والوں کا افسوس کیا گیا ہے۔ سردار بڈھا سنگھ، رتن سنگھ، ماکھا سنگھ، پنڈت جی مایا رام اور میلا رام کا حال دریافت کیا ہے اور آخر پہ اپنا پتہ تحریر کیا ہے۔ خط کے کونے میں لکھا ہے کہ ہم نے آپ کو بڑے شوق سے خط لکھا ہے آپ بھی بڑے شوق سے جواب دینا۔۔یہ ہمارا دوسرا خط ہے۔

\"\"اگلا اسٹیشن الہڑ کا ہے جس کے بعد ایک طرف چونڈہ ہے اور دوسری طرف بڑا پنڈ۔ دونوں جگہیں دو ملکوں کی فتح ، کامیابی اور طاقت کے تمغے ہیں۔ دےکھنے والی آنکھ مگر فتح، کامیابی اور طاقت کو نہیں دےکھتی بلکہ بدن چھیدتی گولی، راکھ ہوتے جسم اور آگ جلتی بستیوں کو دےکھتی ہے۔ عین ممکن ہے، طالب حسین باجوہ کا لڑکا فوج میں ہو، مستری برکت حسین نے مدرسے میں بچے داخل کروائے ہوں اور
گرودیال سنگھ کا بیٹا خالصہ پنتھ کا مان بڑھاتا ہو۔ پنجاب کی ہجرت عجیب ہجرت ہے، جو اس مٹی کو ایک دفعہ چھوڑتا ہے اسے زندگی میں دوسری بار بھی دیس نکالا ملتا ہے۔ یہی کسب ہے کہ ہر پنجابی کی زندگی میں ایک سینتالیس کے بعد دوسرا سینتالیس ضرور آتا ہے۔ یہاں سے راوی پار کر جانے والے کو دوسری ہجرت ۴۸۹۱ میں کرنا پڑی جب گورودوارے میں امن کی بجائے جنگ چھڑ گئی اور جو یہاں رہ گئے ان میں سے ہر شخص ہر روز ہجرت کا قصد کرتا ہے۔

نوٹ : گنہ کلاں کے بارے میں چھان پھٹک کے دوران سردار بلکار سنگھ باجوہ کی ایک یادداشت ملی اور متذکرہ بالا چند خط ملے۔ اس سفر کے کچھ حصے ان کی تحریر سے اخذ کئے گئے ہیں ۔ جلال پور کے آشفتہ سر داروغے کی طرح گنہ کلاں میں بھی ایک باجوہ تاریخ کی راکھی بیٹھا ہے۔ خدا امتیاز کو سلامت رکھے جس نے اس اسٹیشن کو زمین سے نکالا اور گوگل پہ ڈالا۔ رہی بات میری تو میرا تعلق، امن کی آشا سے نہیں کیونکہ آشائیں حکومتیں نہیں پیدا کرتی، لوگوں کے دلوں سے اٹھتی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “گنہ کلاں ۔۔۔۔ جاٹ فقیر کب ہوتا ہے؟

  • 10-02-2017 at 8:51 am
    Permalink

    حسن معراج نے ماضی کو حال سے خوب جوڑا ہے،اس دنیا میں ہجرت نےبڑی قعمیت دی ہے.فیقروں کی اس دنیا کے دکھ سب قوموں میں یکساں ہیں ،مگر اس کااحساس ہمارے مصنف نے بڑی خوبی سے قلم بند کیا ہے.
    حس معراج کی کتاب “ریل کی سیٹی”ایسی دلچسپ۔ تحریروں کا گل دست ہے

  • 10-02-2017 at 9:48 am
    Permalink

    حسن معراج نے ماضی کو حال سے خوب جوڑا ہے،اس دنیا میں ہجرت نےبڑی قعمیت دی ہے.فیقروں کی اس دنیا کے دکھ سب قوموں میں یکساں ہیں ،مگر اس کااحساس ہمارے مصنف نے بڑی خوبی سے قلم بند کیا ہے.
    حس معراج کی کتاب “ریل کی سیٹی”ایسی دلچسپ۔ تحریروں کا گل دستہ ہے

  • 10-02-2017 at 9:53 am
    Permalink

    حسن معراج نے ماضی کو حال سے خوب جوڑا ہے،اس دنیا میں ہجرت نےبڑی قعمیت دی ہے.فیقروں کی اس دنیا کے دکھ سب قوموں میں یکساں ہیں ،مگر اس کااحساس ہمارے مصنف نے بڑی خوبی سے قلم بند کیا ہے.
    حس معراج کی کتاب “ریل کی سیٹی”ایسی دلچسپ۔ تحریروں کا گل دست ہے

Comments are closed.