ہماری نسل… تاریک گلی میں اندھا بھینسا کھیل رہی ہے


 پچھلے کتنے سالوں سے دیکھتے آ رہے ہیں کہ ہر حادثے کے بعد ایک گھمسان کا  رن سوشل میڈیا پر پڑتا ہے. جس میں ایک طرف فوج کی\"\" بے مثال قربانیوں کو  سراہنے والے لوگ ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان پر سوال اٹھانے والے . دونوں  اطراف اپنی اپنی دلائل میں ہر فن مولا ہیں. ایک طرف کا کہنا ہے کہ آرمی  نے اس قوم کو اپنا خون دیا ہے ساتھ ہی میں فوج کے جوانوں کی سخت ترین  حالت میں تصویریں شیر کی جاتیں ہیں. عرض ہوتی کہ شرم آنی چاہیے ان لوگوں  کو جو کہتے ہیں کہ فوج اس ملک کا آدھا بجٹ کھا جاتی ہے. دوسری طرف وہ لوگ  ہیں جو اپنے دلائل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم اس مسلے میں پھنسے ہی فوج  کی وجہ سے ہیں اب فوج نہ تو ہمیں ٹھیک سے بچا پا رہی ہے اور نہ ہی مستقبل  کی منصوبہ بندی کر پا رہی ہے. ان دونوں پارٹیوں کی لڑائی میں شاید ہی کوئی  یہ سوچتا ہو کہ آخر یہ دو نقطہ نظر پاے کیوں جاتے ہیں؟ اس خلیج کی آخر  اصل وجہ کیا ہے ؟

 مجھے باقی لوگوں کا تو نہیں پتا لیکن میرا اپنا خیال ہے کہ ہماری نسل  پاکستان کی شاید سب سےزیادہ الجھی ہوئی نسل ہے. نہ ہم تین میں ہیں نہ  تیرہ میں. شناخت کے بحران میں پھنسے ہوے ہم ایک عجیب کشمکش کا شکار ہیں  . اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو اس بحران کی داغ بیل ہمارے بچبن میں ہی ڈال دی  گئی تھی. مجھے یاد ہے کشمیر میں لڑنے والے مجاہدین جب پاکستان میں آتے تھے  تو ان کو بے انتہا عزت دی جاتی تھی یہ مجاہدین صرف مسجدوں میں جا کر  واعظ نہیں دیتے تھے بلکے جامعات میں بھی ان کو بڑے احترام سے دعوت دے کر  بلایا جاتا تھا . مجھے یاد ہے ہمارے ایک ہم جماعت نے ہم سے ایک لڑکے کا  تعارف یہ که کر کروایا کہ یہ مجاہد ہیں ابھی لڑائی سے واپس آے ہیں منصورہ  میں ٹریننگ لی ہوئی ہے . ہم سب بے حد متاثر ہوے اور اگلے کئی گھنٹے ان  سے ان کی شجاعت کے قصے سنتے رہے .

 اچھا زمانہ تھا ایک پی ٹی وی ہوا کرتا تھا بس. ہر رات خبرنامے کے بعد  کشمیر میں ہونے والے مظالم پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جاتی تھی ساتھ ہی  ساتھ فلسطین کا ذکر بھی ہوتا تھا . بتایا جاتا تھا کہ کیسے فلسطینی اپنے  جسم سے بم باندھ کر اسرائیلی فوج کو مزہ چکھا ہ رہے ہیں لا زوال  قربانی پیش کر رہے ہیں. بچگانہ ذھن تھا تو الٹے الٹے سوال بھی ذھن میں  آتے تھے. کسی دن پوچھ لیا کہ اسلام میں تو خود کشی حرام ہے تو یہ فلسطینی  ؟ جواب ملا یہ غاصب فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں عالموں نے ان کی خود کشی کو  حلال قرار دیا ہے. چپ ہو گئے اور کیا کرتے زیادہ سوالات کی اجازت بھی نہ تھی.

 پھر کچھ طالبان کا غلغلہ مچا. سنا کہ اسلام کے سچے محافظ افغانستان میں آ  گئے ہیں. حیران ہوے اور پوچھا کہ پہلے جو مجاہدین روسی فوجوں سے لڑ رہے  تھے وہ کیا تھے؟ جوابا ملا نہیں یہ صحیح والے مجاہدین ہیں. یہ حقیقی معنوں  میں اسلام نافذ کریں گے . سننے میں آیا کہ اسلام نافذ کرتے کرتے انھوں نے  ہزاروں سال پرانے بدھ مت کے مجسمے زمین بوس کر دیے ہیں کہ یہ کافرانہ  نظام کی نشانی ہیں. اس پر مستنصر حسین تارڑنے اپنی کتاب میں کچھ دکھ بھرا  ذکر کیا. ہمیں تارڑ صاحب کے مسلمان ہونے پر خاطر خوا ہ شک ھوا. خیر!  انٹرنیٹ تو تھا نہیں لیکن کچھ انگریزی اخباروں کی وساطت سے سننے میں آنے  لگا کے سچے مجاہدین نے عورتوں کے کام کرنے پر پدبندی لگا دی ہے. محرم کے بغیر گھر سے نکلنا ممنون ہے. اچھی خاصی پڑھی لکھی عورتیں اب نیلا شٹل کاک  برقع پہن کر سڑک پر بھیک مانگنے پر مجبور ہیں . یقین جانیے انسان نو  عمری میں بڑا جذباتی ہوتا ہے. میں یہ بات طنزیہ نہیں که رہی سچ ہے کہ  مجھے یقین تھا کہ یا تو یہ سب جھوٹ ہے یا یہی سچا اسلام ہے. دل میں ساتھ  میں کچھ خوف بھی بیٹھنے لگا کہ یہ والا اسلام کہیں پاکستان میں بھی نہ آ  جائے. یہ وہ وقت تھا جب کچھ اور سوالوں کا مروڑ بھی اٹھنے لگا ۔

اسی بارے میں: ۔  یہ کس کے لہو کی اشرفیاں ....

کچھ وقت اور گزرا اور کارگل کی جنگ شروع ہو گئی دل و جان پورے جذبے سے  آرمی کے ساتھ تھے . پھر سنا یہ آرمی نہیں بلکہ کچھ مجاہدین ہیں. شروع شرو  ع میں سب ٹھیک تھا لیکن پھر دیکھا کہ آرمی کے جوانوں اور مجاہدین کی  شہادت کی خبریں آنے لگیں. پاکستان نے لاشیں وصول کرنے سے انکار کر دیا.  انڈیا کا میڈیا شور مچاتا رہا کہ یہ پاک فوج کے جوان ہیں ہمیں پھر  بھی یقین نہ آیا. آخر امریکی حکومت سے درخواست کر کے جنگ بندی ہوئی. اس  کے بعد ایک دن پی ٹی وی پر ایک پروگرام دیکھا جس میں کرنل شیر خان کے  ساتھی اور خاندان والے کرنل صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے آے تھے. ساتھیوں  نے بتایا کے شیر خان گھاس کھا تے رہے لیکن پیچھے پلٹنے سے انکار کر دیا  شجاعت سے لڑتے رہے . بات سمجھ میں آنی بند ہو گئی کہ فوج تو وہاں تھی  نہیں یا تھی مجاہد تھے یا نہیں تھے. آخر سب کون تھے؟ کس کی ذمےداری تھی؟  بہت جوان شہید ہو گئے. کتنے ہی گھر اجڑ گئے. ماؤں کے بیٹے ، بیویوں کے  شوہر، بہنوں کے بھائی جا چکے تھے.  ابھی ہم پرانی الجھن سے ہی نہ نکلے تھے کہ نائن الیون کا سانحہ ہو گیا.  پہلے بتایا گیا کہ اسامہ بن لادن ہیرو ہے. پھر جب ٹی وی پر جلتے لوگ،  کھڑکی سے چھلانگیں مارتی عورتیں، اور روتے خاندان دیکھے تو کچھ یقین نہ  آیا. آخر معصوم لوگوں کو مارنے والا ہیرو کیسے ہو سکتا ہے؟ لوگ کہنے لگے  کہ امریکا یہی کچھ دوسرے ملکوں میں کرتا ہے اور ایسی سپر پاور کو ناکوں  چنے چبوانا ثواب کا کام ہے. پھر امریکا نے افغانستان پر حملہ کر دیا.  پاکستان میں سوگ کی کیفیت تھی. ہمیں سمجھ نہ آئ کہ ہم کیسے امریکا کو  ناکوں چنے چبوائیں تو ہم نے کے ایف سی کا بائیکاٹ کر دیا کہ امریکی  ریسٹورانٹ ہے ذرا ہمارے بغیر چل کر دکھاے. ہم اکیلے نہیں تھے بہت سو نے  کوکا کولا، پیپسی اور پیزا ہٹ سے منہ موڑ لیا. اچھے بھلے چلتے ریسٹورانٹ  ایک دم ویران ہو گئے.ہمارے ایک لبرل قسم کے ٹیچر تھے کلاس کے دوران اسی  موضوع پر کچھ بات ہوئی. وہ مسکرا دیے اور کہنے لگے \”بچوں کتنے دن تک  بائیکاٹ کرو گے اور کس کس چیز کا کرو گے؟\” ہم نے کہا \”اگر ہمیشہ بھی کرنا  پڑے.\” وہ معنی خیز انداز میں مسکرا دیے اور کچھ نہ کہا. کچھ ہفتوں بعد جب  ہم کے ایف سی میں چپکے سے زنگر پھڑکا رہے تھے تو سمجھ آیا ان کا مطلب کیا  تھا. اسی زمانے میں لاہور میں اے سے لے کر زیڈ تک بہت سارے ایف سی کھل  گئے، مکّہ کولا، اسلام کولا مارکیٹ میں آ گئی . لیکن قسم سے اتنا برا  ذائقہ تھا کہ ہمارا جذبہ ایمانی ایک دفع چکھنے پر ہی ٹھنڈا پڑ گیا.   سوالوں کا مروڑ تھا که اب بڑھتا ہی جا رہا تھا. اوپر سے کم بخت امریکا  بہادر نے ڈیزی کٹرگرانے اور ڈرون حملے شروع کر دیے . شکر ہے ہمارے نیوز  چینل کھل گئے تھے تو ان کی وساطت سے مدرسے پر \”غلطی\” سے گرنے والے بم سے  مرنے والے بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھیں. سمجھ نہ آیا یہ انسانی حقوق کا  چمپین آخر کر کیا رہا ہے ؟ اوپر سے ہماری حکومت آپا امریکا کے ساتھ تھی.  مرنے والے بھی مسلمان.. مارنے والے بھی. کل کے ہیرو… آج کے دشمن. پاکستان  سب سے پہلے؟ وہ تو ٹھیک ہے لیکن… پاکستان سے محبّت تھی لیکن اسلام کے  محافظ بھی ہم تھے. سمجھ نہ اتا تھا کس کا ساتھ دیں. پھر سنا پاکستان اوپر  سے امریکا کے ساتھ ہے اندر کچھ اور کہانی ہے . جب تھک ہار کر امریکی یہاں  سے نکل جائیں گے تو طالبان واپس پاور میں آ جائیں گے. دل کو یگ گونا سکون  ہوا . پھر طالبان کی حکومت ختم ہو گئی. جوق درجوق طالبان کو پاکستان لا کر  بسایا گیا. انٹرنیٹ کی کرامت سے ہم نے دیکھا کے طالبان کے جانے پر لوگ  افغانستان میں دیوانہ وار رقص کر رہے تھے. عورتوں نے اپنے برقعے جلا دیے  اور مردوں نے داڑھیاں منڈوان دیں. سچ تو یہ ہے کہ اندر سے ہمیں بڑی خوشی  ہوئی لیکن دل کچھ الجھن کا شکار بھی رہا کہ شاید ہمارا ایمان کمزور ہے.  ابھی تک پاکستان میں حالات خراب نہیں ہوے تھے لیکن پھر مسلے پڑنا شروع ہو  گئے . وہی کل کے ہیروہمارے مجاہدین .. انھوں نے وہی کام شروع کر دیا جو  وہ افغانستان میں کر رہے تھے. خود کش حملے معمول بن گئے اور اب عالم کہنے  لگے کہ یہ والے خوش کش حملے حرام ہیں. طالبان کےپاس اپنے عالموں کی فوج تھی  تو وہ بھی لگے رہے. احساس ھوا جب تک کسی کے بچے مذہب کے نام پر مرتے رہیں  تو حق کے نعرے مارنا آسان ہیں لیکن جب اپنے بچوں پر بات آتی ہے تو پتا لگتا  ہے احساس اور تکلیف کیا شے ہیں. ایمان تو ہمارا پہلے ہی کمزور تھا اوپر  سے سوالوں کا مروڑ پیٹ میں اٹھ رہا تھا تو اب ہم نے تفصیل سے پڑھنا شروع  کر دیا. بہت سی کتابیں چاٹ ڈالیں. انٹرنیٹ کی دنیا میں جا کر دیکھنا  شروع کیا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے ؟ متبادل رائےملی تو کچھ دماغ کھلا اور  ایسے ایسے دماغی جھٹکے لگے که عقل ٹھکانے آ گئی.  اس نسل کی یہی تکلیف دہ کہانی ہے. شناخت کے بحران کی یہی تاریخ ہے.

اسی بارے میں: ۔  پالیسی بدل گئی یا ہوائی چھوڑی ہے؟

دو منٹ  کے لئے سوچے. ایک 21-22 سال کا جوان جو ہمیشہ فوج اور مجاہدین کو اپنا  ہیرو سمجھتا رہا کیوں کہ اس کو بتایا گیا کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں.  دونوں اسلام کے محافظ ہیں . یہی ہمیں پڑھایا اور سکھایا گیا. کتابیں اٹھا  لیں، ٹی وی کے پرانے پروگرام دیکھ لیجیے، اور تو اور اس دہائی کا ادب اٹھا  کر دیکھ لیں. . توان میں سے ایک ہمارے ہیرو اور دوسرے یکایک دشمن کیسے ہو  گیے؟ ہمیں کہا گیا اب ہم الگ ہیں… ہم درست اور وہ غلط. لیکن کیا یہ  آسان ہے؟ کیا ہمارے اپنے اداروں میں سے اس کے خلاف آوازیں نہیں اٹھیں؟  کیا اس فلسفہ کے خلاف بغاوت نہیں ہوئی؟ جوانوں کو بتایا کہ اسلام کے  محافظ ہم مجاہدین کے بنانے والے ہم لیکن اب ہم دوسری طرف ہیں.. ان ہی کی  ماریں گے . جوان سوچتا ہے میں میں کس کی سائیڈ لوں؟ کون سچا کون جھوٹا؟  کچھ لوگ جو ہمیشہ اس فلسفے کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ان کو خاموش کر دیا گیا  متبادل راے ایک جرم بن گئی.  شاید کچھ لوگ سمجھ پائیں کہ یہی وہ بحران ہو جس سے ہماری نسل روز کی بنیاد  پر لڑتی ہے. اور کوئی نہیں ہے جو پوچھے کہ آخر اس کا حل کیا ہے ؟آخر ہم  قومیت یا مذہب سے میں سے کس کا انتخاب کریں؟ ہمیں تو بتایا تھا دونوں ایک  ہیں. کیا آج بھی دونوں ایک ہیں؟ یہاں مرنے والا بھی مسلمان مارنے والا بھی  مسلمان. خود کش حملہ کرنے والا بھی مسلمان اور اس کو روکنے والا بھی. میں  کس کو بہادر کہوں؟ جان تو دونوں دے رہے ہیں. یقین تو دونوں کے پختہ ہیں.  کچھ میرے جیسے بیوقوف کہتے ہیں بس کریں اب ملک کو سیکولر بنائیں تو لا دینیت کے فتوے لگ جاتے ہیں. ہاں ہندوستان میں مسلمان سیکولر ہونے کی بات  کریں تو وہ ٹھیک ہیں. ہم کدھر جائیں کس کو اپنا رہبر مانیں کس کی پیروی  کریں؟ سچ تو یہ ہے کہ سخت کنفیوژن ہے. تو ہماری نسل تین میں یا تیرہ میں..  کوے ہیں یا ہنس ؟ سوال کے جواب کی تلاش جاری ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔