جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے ….


Scan_Pic0128میرے لڑکپن کا زمانہ تھا جس وقت حسینہ معین کی ڈرامہ نگاری کی دھوم تھی ، ایک ڈرامہ ’ دھوپ کنارے ‘سبھی بے حد شوق سے دیکھتے تھے ۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی اس ڈرامے کے ٹیلی کاسٹ ہونے کے بعد گلیوں میں ایک سناٹا سا ہو جا یا کرتا تھا ۔ خیر ’دھوپ کنارے ‘ کا ٹائٹل سونگ مجھے اب بھی نہیں بھولتا جو معروف گلوکارہ نیئر ہ نور کی آواز میں تھا اور اسکا ایک بند تو کئی مناظر کے پس پردہ چلا کرتا تھا ، جو ڈرامے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا تھا ۔

رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراﺅں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے ۔

مجھے موسیقی سے لگاﺅ ویسے بھی تھا اور کچھ گانے کا شوق بھی تھا تو یہ مصرعے اب بھی مجھے اکثر کنگنانے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ شعور کی منازل طے کرنے کے ساتھ ساتھ فیض شناسی کا شوق بھی ہونے لگا ، جی ہاں وہی فیض احمد فیض جنہیں میں بیک وقت انقلابی بھی کہوں گی اور جدید ترقی پسند بھی ، تبدیلی لانے والا کمیونسٹ بھی کہوں گی اور سچا محب وطن بھی ۔ فروری کا مہینہ مجھے صرف محبتوں کے پیام بر شاعر فیض کی وجہ سے یاد آتا ہے کہ تیرہ فروری کو ان کا یوم ولادت ہوتا ہے ۔

وہی فیض جن کی شاعری آپ کو لامحدود وسعتوں میں لے جاتی ہے ، انسانی رویے ہوں ، ذہن و جسم میں جاری جنگ ، محبت ، رومانوی گیتوں کی کہانی ، ترقی پسندی ہو یا جدیدیت اور وطن کی محبت فیض ہر جگہ انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ بیٹھتے ہیں ۔ ’ نسخہ ہائے وفا‘ آج بھی اٹھا کر دیکھ لیجئے وہی سرور ملے گا جو آج سے د و سال پہلے پڑھنے کے بعد حاصل ہوا اور اگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو تو پھر شاید اب تک ہم فیض سے فیض یاب ہی نہیں ہو پائے ۔ اردو ادب کے بہت سے ناقدین کی نظر میں میر ، غالب اور اقبال کے بعد فیض ہی کا نمبر آتا ہے جو انسانی رویوں کو ایک ایسی زباں عطا کر دیتے ہیں جو ان کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی ان کو اب بھی اتنا ہی مقبول رکھے ہوئے ہے جتنا وہ اپنی زندگی میں تھے ۔ فیض ایک ایسے شاعر تھے جو بیک وقت کلاسیکی شاعر ی کا ٹچ بھی دیتے ہیں اور جدت کے پہلوﺅں کو بھی نظر انداز نہیں کرتے تھے، جہاں شاعری کمال کی ہے، وہاں نثر کے بھی بادشاہ ہیں ۔ فیض کچھ چھن جانے کے ڈر سے کبھی آشنا نہیں ہوئے جیسا کہ اس بند میں ہی دیکھ لیجئے ۔

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا ، کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے

13 فروری 1911ءکو پیدا ہونے والے فیض احمد فیض کے بارے میں مشہور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کا خیال ہے کہ فیض احمد فیض کی شاعری کو جو قبول عام ان کی زندگی اور بعد میں حاصل ہوا، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا ۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ جیسی بے داغ شخصیت ان کی تھی ویسی ہی ان کی شاعری بھی ہے ، بی بی سی کے مطابق ڈاکٹر علی جاوید نے بھی اس خیال کا اظہار کیا کہ فیض کے حوالے سے جتنے بھی سیمینار ہندی والوں نے کئے ہیں اتنے اردو والوں نے نہیں کئے ۔ فیض پنجابی ، اردو ، عربی اور انگریزی پر مکمل عبور رکھتے تھے ۔

ایک خبر یہ بھی فیض کے حوالے سے ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے فیض احمد فیض کی پچاس نظموں کا انگریزی ترجمہ شائع کیا جس کا انتخاب اور ترجمہ معروف شاعر ، مترجم اور دستاویزی فلموں کے خالق محمود جمال نے کیا ۔محمود جمال1967سے لندن میں رہائش پذیر ہیں اور 1986ءمیں پینگوئن نے جدید اردو شاعری کا جو انتخاب شائع کیا اسکے ایڈیٹر اور مترجم محمود جمال تھے ۔ خیر فیض کی نظموں کی کتاب کے دو حصے ہیں پہلے میں اردو متن ہے اور اس کے مقابل انگریزی ترجمہ ہے اور اس کے بعد دوسرے حصے میں اردو متن کو رومن میں دیا گیا ہے۔

فیض کے کچھ اشعار کو پڑھنے کے بعد بندہ ان میں کھو سا جاتا ہے ، لفظ خود بخود باتیں کرنے لگتے ہیں ، محبت کو زباں مل جاتی ہے۔ کچھ اشعار آپ سب کے ذوق کی نذر

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے ۔

جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم ، جو چلے تو جاں سے گذر گئے
رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا

مشتاق احمد یوسفی نے کہا تھا کہ ہم لوگ زندہ لوگوں کی تعریف نہیں کرتے ، یہ جملہ مجھے اس وقت یاد آیا جب سننے میں یہ آیا کہ ’ نیرودا آف اردو پوئٹری ‘ فیض احمد فیض کی یاد منانے کے لئے لاہور اوپن ائیر تھیئٹر میں فیض امن کمیٹی کی جانب سے 14 فروری کو فیض امن میلہ منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں میں مثبت فکر کو اجاگر کیا جاسکے ۔ شاید مشتاق احمد یوسفی ٹھیک ہی کہتے ہیں ….


Comments

FB Login Required - comments